کچھ محبت کچھ بے بسی
انور سن رائے اور عذرا عباس دونوں پاس پاس بیٹھے ہوں تو ان کی میٹھی میٹھی نوک جھوک مزا دیتی ہے اور وہ بے پناہ محبت بھی جو ان کے تیکھے جملوں کے اندر سے ابلتی مچلتی محسوس کی جا سکتی ہے۔ دونوں تخلیق کار ہیں اور اپنے اپنے الگ تخلیقی وجود میں مست اور رُجھے ہوئے۔ ہم لکھنے والوں کو بھی ان دونوں کی پر خلوص محبت حاصل ہے۔ جب جب کراچی جانا ہوتا ہے اس تخلیق کار جوڑے کے ہاں ایک شام ضرور گزرتی ہے۔ عذرا عباس کی محبت کا مظاہرہ دیکھیے کہ پر بار وہ مولی کے پراٹھوں کا اہتمام کرتی ہیں۔
عذرا نظم و نثر جو لکھیں ؛ موضوعات کا انتخاب ہو یا خاص اسلوب اور سوچنے سجھانے کی سمت، وہ چونکا کر اس رُخ پر لے جاتی ہیں اور دور تک ساتھ لیے چلتی ہیں۔ 1981 ء میں ان کی ”نیند کی مسافتیں“ پڑھی تھی ؛ وہ پڑھنا بھی ایسا تھا کہ ہکا بکا یہ سوچ رہا تھا؛ اچھا یوں بھی شاعری کی جا سکتی ہے۔ تب سے اب تک نثر ہو یا شاعری، ان کی ہر کتاب ایک جھٹکا ضرور دیتی ہے۔ دو برس پہلے انہوں نے اپنی نظموں /نثموں کے چھ مجموعوں پر مشتمل کلیات ”اداسی کے گھاؤ“ عنایت کیا تو بہت سی نظمیں مجھے فکشن کی سی لگی تھیں ؛ تیز، تلخ اور تیکھی سطریں، کچھ بھی نہ چھپاتے ہوئے۔ تاہم ایک اداسی کی لہر شروع سے اخیر تک یوں چلتی گئی تھی جیسے آسمانی بجلی کا کوندا لپکتا ہے اور دور تک اندھیرے کو چیرتا چلا جاتا ہے۔
دو برس پہلے عذرا عباس نے اپنا کلیات عطا کیا تھا تو گزشتہ برس انورسن رائے بھی اپنا کلیات لے آئے۔ اس کلیات میں ان کے سب غیر مطبوعہ مجموعے تھے۔
گزشتہ برس ہم عالمی اردو کانفرنس کے لیے کراچی آرٹس کونسل میں تھے۔ ایک سیشن میں شرکت کے بعد ہال سے نکلے اور کافی پینے مندوبین کے لیے مخصوص کارنر میں جاکر بیٹھ گئے۔ ہال کے اندر تو ہم اپنی اپنی بات کہنے یا مقررین کو سننے میں مگن رہتے، ہال کے باہر اس کونے میں ادیبوں کی اور طرح کی محفل جمتی۔ یہاں کسی بھی موضوع پر کوئی بھی بات ہو سکتی تھی اور کھل کر قہقہے لگائے جا سکتے تھے۔ یہ ایسی محفل تھی کہ جس کا حصہ ہوتے ہی ہمیں انتظارحسین، مسعود اشعر، شمیم حنفی، ابوالکلام قاسمی اور آصف فرخی جیسے وقت کے پارچے پر اپنا نقش چھوڑ کر جانے والے یاد آ جاتے کہ کبھی وہ بھی ایسی بے تکلف نشستوں کا حصہ ہوا کرتے تھے۔
اس روز بھی کافی شاپ کے پہلو میں بچھی نشستوں پر وقفے وقفے سے احباب جمع ہوتے رہے ؛ اخلاق احمد، ناصر عباس نیر، سید کاشف رضا، اورنگ زیب نیازی، احمد شاہ، کشور ناہید، نورالہدیٰ شاہ، ، ضیا الحسن، اشفاق حسین، وسعت اللہ خان، افضال سید، تنویر انجم، فاطمہ حسن، عنبرین حسیب عنبر کس کس کا نام لیا جائے کہ سب ہی وہاں آ بیٹھتے تھے۔ جب عذرا عباس اور ہم وہیں تھے ؛ انورسن رائے ایک بوجھل جھولے کی تنیاں کندھے پر اٹکائے وہاں پہنچے اور اطلاع دی کہ ان کا کلیات چھپ کر آ گیا ہے اور ابھی ابھی اس کے چند نسخے ان کے ہاتھ لگے ہیں تو لے آیا ہوں۔ ہم سب دوست جیسے اسی کے منتظر تھے وہیں ہمیں اس اولین پر اگے سے کتاب عطا ہوئی۔ ثروت حسین، قمر جمیل اور افتخار جالب کو منسوب اسی ضخیم کتاب کو ”کچھ محبت، کچھ بے بسی“ کا نام دیا گیا تھا۔
بتاتا چلوں کہ ابھی یہ کتاب شائع نہ ہوئی تھی کہ اس کا مسودہ انور سن رائے نے کچھ دوستوں کو بھیج دیا تھا لہٰذا یہ کتاب چھپنے سے پہلے ہی میری پڑھی ہوئی تھی، سوائے ڈاکٹر سعادت سعید کے اس طویل مضمون کے، جو بعد میں کتاب کا حصہ ہوا تھا۔ میں نے موصولہ مسودے کی رسید انہیں ایک خط کی صورت میں یوں دِی تھی:
”پیارے انورسن رائے۔ آداب!
آپ کی نثموں /نظموں کے مجموعے ”کچھ محبت کچھ بے بسی“ کی پی ڈی ایف ملے کئی روز بیت چلے ہیں اور میں چاہتے ہوئے بھی ایک ہی ہلے میں نہ پڑھ پایا۔ کہہ لیجیے اس شراب کو جرعہ جرعہ اور ٹھہر ٹھہر کر پیا ہے اور شاید ان فن پاروں کو پڑھنے کا یہی مناسب قرینہ تھا۔ پھر یوں بھی تو ہے کہ کہنے کو یہ ایک مجموعہ ہے مگر اس میں آپ نے پانچ مجموعے یکجا کر دیے ہیں۔ گویا ایسا تخلیقی کام جو آپ سہج سہج زندگی بھر انجام دیتے آئے ہیں مجھے پڑھنا تھا۔ مجھے یہ فن پارے پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے میں شاعر کی اپنی زندگی میں داخل ہو رہا ہوں ؛یہ زندگی اور کچھ نہیں بے قرار رکھنے والی اور اذیت دینے والی دنیا ہی تو ہے۔
آپ کی نظمیں گزرے برسوں میں گاہے ماہے میری نظر سے گزرتی رہی ہیں مگر آپ کی شخصیت کاجو پہلو بالعموم میرے سامنے رہا وہ آپ کا فکشن نگار اور صحافی ہونا ہے۔ مجھے یاد ہے کوئی تین، ساڑھے تین دہائیاں پہلے آپ کا ناول ”چیخ“ پڑھا تھا۔ جی، وہی ناول جس میں ایک شاعر اور صحافی کو اٹھا لیا جاتا ہے اور اسے عقوبت خانے میں ڈال کر ایسے جرم کے اعتراف کے لیے تشدد کیا جاتا ہے جو اس نے کیا ہی نہیں ہوتا۔ اس کی چیخ سننے والا کوئی نہیں ہوتا مگر یوں ہے کہ آنے والے برسوں میں مجھے اس کی چیخ مسلسل سنائی دیتی رہی ہے۔
آپ کی شاعری کی طرف متوجہ ہونے سے پہلے دوسرا ناول ”ذلتوں کے اسیر“ بھی پڑھ لیا تھا۔ ایک ایسی عورت کی کہانی جس کی آنکھیں جنسی کشش کا جال پھینکتی تھیں اور وہ ایسے مردوں کے بیچ میں گھری ہوئی تھی جو ادب کی دنیا سے تھے وہ سب اسے معاشرے کی باغی روح سمجھتے تھے ؛ آج کے عہد میں کسی قدیم زمانے سے بھٹک کر آئی ہوئی روح۔ مجھے یاد ہے اُن دنوں یہ کہا جا رہا تھا کہ آپ کا یہ ناول سارا شگفتہ کی زندگی کو سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے یہ الگ بات کہ آپ اس کی تردید کرتے رہے۔
خیر، مجھے تو لگتا ہے کہ سارا شگفتہ جیسی شاعرہ کے علاوہ اس کی زندگی اور موت کو سمجھنے کے لیے امرتا پریتم کی ”ایک تھی سارا“ ، عذرا عباس کی ”درد کا محل وقوع“ ، اور فہیم شناس کاظمی کی مرتبہ ”کلیات سارا شگفتہ“ کے ساتھ ساتھ آپ کے ناول کو بھی پڑھ لینا چاہیے۔ (اس میں اب سعید نقوی کے سارا شگفتہ کی زندگی کو موضوع بناتا ناول ”ادھوری کہانی“ کا بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ )
آپ کے ہاں جو اصناف اور موضوعات کا تنوع رہا، یہ مجھے متوجہ کرتا رہا ہے، اور ان میں آپ کے تراجم بھی شامل ہیں ؛ جیسے علی احمد سعید امبرادونیس کی شاعری ”نیو یارک کے لیے ایک قبر اور دوسری نظمیں“ اور گیتانجلی شری کا ہندی ناول ”ریت سمادھی“ ؛یہ دونوں کتابیں مجھے آپ نے عنایت کیں۔ میں انہیں پڑھ کر یہ کہنے پر مجبور تھا کہ ترجمہ نگاری کے قریب بھی کسی ایسے فرد کو نہیں پھٹکنا چاہیے جس کے اندر آپ جتنا صبر، متن سے کمال درجے کی وابستگی اور زبان پر آپ جتنی دسترس نہ ہو۔ (سچ ہے کہ آپ ترجمے کو بھی تخلیق نو کا مقام عطا کر دیتے ہیں۔ )
یہ ادھر ادھر کی باتیں میں نے یوں کر لیں کہ پہلے انہیں آپ سے کہہ لینے کا موقع نہیں نکلا تھا۔ خیر ایک دو باتیں نظموں کی بابت جو آپ نے عطا کیں۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ اس طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ایک جلد میں مرتب کر دیا۔ آپ نے پی ڈی ایف بھیجتے ہوئے فرمایا کہ شاید یہ نظمیں مجھے اچھی لگیں اور مجھ سے باتیں کریں ؛ جب کہ واقعہ یہ ہے پیارے دوست یہ واقعی مجھ سے باتیں کرتی رہی ہیں بالکل ایسے ہی جیسے وہ کوئی کہانی کہہ رہی ہوں ؛ ایک مسلسل کہانی اور بیچ بیچ میں، کسی اذیت سہنے والے کی طرح سسکاریاں بھی بھرتی جاتی ہوں۔
مجھے لگا سطر سطر کوئی رمز تھی جو میرے دل کے دروازے پر دستک دیتی تھی۔ آپ کی ان نظموں میں کہیں الجھاوا نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ سب نظمیں ایک خبر کی طرح مجھ تک پہنچتی رہی ہوں ؛ اگر ایسا ہوتا تو ایک بار پڑھنے کے بعد میں انہیں دوبارہ نہ پڑھتا مگر لطف یہ ہے کہ میں انہیں بار بار پڑھنے پر خود کو مجبور پاتا رہا ہوں۔ آپ کے ہاں نظم کہنے کا ایسا قرینہ ہے کہ معنی سے بڑھ کر اس میں کچھ سمایا ہوا ملتا ہے اور اس کا اہتمام آپ بہت سہولت سے کر جاتے ہیں، جیسے آپ کوئی کہانی سنا رہے ہوں، اس میں ایک رمز رکھتے ہوئے اور ایسے رسیلے لہجے میں کہ سماعت مزید سننے کی اشتہا میں مبتلا رہے۔
زبان کو سادہ، سہل اور رواں رکھ کر کچھ کہنا اور اس میں احساس کی لپک رکھ کر تاثیر کی خوبی پیدا کر لینا ایسی غیر معمولی خوبی ہے جس نے ان نظموں کو بہت اہم بنا دیا ہے۔ شخصی آزادی، جنگ، امن، تشدد، مذہبی شدت پسندی، محبت، لاپتہ ہونے والے سیاسی کارکن اور صحافی اور خود شاعری اور اسے پڑھنے والے، یہ سب ایسے علاقے ہیں جو آپ کی توجہ بار بار کھینچتے رہے ہیں مگر ہر بار یہ نظمیں انسانی زندگی کی کسی نہ کسی نئی جہت کو مجھ پر کھولتی رہی ہیں۔
میں نے ابھی سے مجموعے کے چھپنے کا انتظار شروع کر دیا ہے۔ یہ کیسا پرلطف احساس ہے کہ میں اس مجموعے کی نظموں کو یوں پڑھ سکوں گا کہ کتاب کے ورق ورق کا لمس اپنی انگلی کی پوروں پر ہو اور نظریں سطر سطر پر ۔ اور میں اپنے احساس کو اس سطح پر لا کر پڑھ پاؤں گا جس سطح پر پہنچ کر آپ نے یہ رات کو نہ سونے دینے والی نظمیں تخلیق کی ہیں۔
عذرا عباس کو میری طرف سے اور یاسمین کی طرف سے آداب
آپ کا :محمد حمید شاہد، اسلام آباد ”
کراچی میں کتاب ملی تو میں نے ارادہ باندھ لیا تھا کہ اسے پھر سے پڑھوں گا لیکن ہوا یہ کہ میں اسے ایک ہی ہلے میں نہ پڑھ پایا اور اس سارے عرصے میں یہ ہاتھ بھر کے فاصلے پر رکھی ان کتابوں میں رہی جنہیں مجھے بار بار دیکھنے کی طلب ہوتی رہتی ہے۔ میں وقفے وقفے سے پڑھتا رہا ہوں اور اس درد اور اذیت کو محسوس کرتا رہا ہوں جسے جھیلنے اور زندہ رہنے کے لیے انور سن رائے کو انسان کی بہ جائے خار پشت ہونا پڑا ہے۔ جی، ایک چھوٹا سا چوہا جس کی پیٹھ پر کانٹے ہوتے ہیں ؛ کہہ لیجیے کنڈیلا چوہا یا سہہ۔
ایسا انور سن رائے نے ”میری محبت اور میری بے بسی“ کا عنوان جما کر اپنے پیش لفظ میں خود کہہ رکھا ہے۔ یہ خار پشت بچپن کے زمانے میں میرا دیکھا ہوا ہے۔ گرمیوں کی چھٹیاں ہوتیں تو ہم اپنے گاؤں چکی چلے جاتے تھے۔ وہاں اپنے آپ کو مصروف رکھنے کے بہت کچھ تھا۔ بنھیوں میں نہانا، جھڑ بیریوں کو جھاڑ جھٹک جھولیاں بھرنا، خربوزے کے کھیتوں میں گھس کر مرضی کے دانے توڑنا مکے کی ضرب سے اسے توڑ کر آدھا کھانا اور باقی وہیں پھینک دینا۔
درختوں پر چڑھ کر شہد اتارنا یا طوطوں کے بچے پکڑنا اور چلچلاتی دھوپ کی پروا کیے بغیر ایک التباس میں دور وہاں نکل جانا جہاں پانی کی طرح لہر لہر اوپر اٹھتا محسوس ہوتا تھا مگر وہاں پہنچنے پر یہ سراب آگے نکل جاتا تھا۔ تو یوں ہے کہ ایک دوپہر میں نے وہیں ایک کھیت کنارے اسے دیکھا تھا۔ قریب جاتے ہی اس کی پشت پر کانٹے تن گئے تھے اور جب ہم میں سے کسی نے ایک شاخ کے ٹکڑے سے اسے ضرب لگائی تو وہ اپنے آپ میں سمٹ کر گیند جیسا گولا بن گیا تھا۔
ہمیں ایک دلچسپ کھیل مل گیا تھا۔ ہر ایک نے جھٹ پٹ قریب ترین درخت کی شاخ توڑ لی اور چھمک لے کر اسے گھیر لیا۔ ہم جس طرف چاہتے چھمک یا جوتے کی ضرب لگا کر اسے اس طرف لڑھکا سکتے تھے۔ جب ہم ایسا کرتے کرتے تھک کر ایک طرف بیٹھ جاتے اور کچھ وقت گزر جاتا تو جیسے گولا پھیلنے لگتا تھا اور خارپشت سر نکال کر باہر جھانکنے لگتا تھا۔
انور سن رائے کا کہنا ہے کہ خارپشت پس ماندگی، بے بسی اور اپنے آپ میں چھپ کر خود کو محفوظ سمجھنے کا استعارہ ہے۔ یہ اپنے آپ میں چھپنے کا ہی نہیں اپنی پشت کے کانٹوں سے یا وجود کو گولا بنا کر مزاحم ہونے کا بھی استعارہ ہے۔
انور سن رائے کی تخلیقی دنیا وہ فکشن ہو یا یہ نظمیں خار پشتوں، مظلوموں، معتوبوں کی دنیا ہے اور مزاحمت کاروں کی دنیا بھی؛ یہی ہماری اپنی دنیا ہے۔
” اپنی زمین پر زندہ رہنے کے لیے
ہم صرف لاپتہ ہو سکتے ہیں
اپنی زمین پر
نامعلوم سمت سے آتی ہوئی گولی
کسی سے پوچھے بغیر ہمیں پہچان لیتی ہے ”
۔ (اپنی زمین پر )
۔
”جب تک میں بولا نہیں تھا
مجھے توڑا نہیں جا سکا تھا
جب تک ٹوٹا نہیں تھا
مجھے زمین میں دبایا نہیں جا سکا تھا
جب تک میں اگا نہیں تھا
مجھے کچلا نہیں جا سکا تھا۔ کاٹا نہیں جا سکا تھا۔ کھایا نہیں جا سکا تھا
لیکن اب کچلا جا چکا۔ کاٹا جا چکا ہوں، ۔ کھایا جا چکا ہوں بار بار
یہ کھیل ختم ہونے والا ہے
یقین نہیں آتا
۔ ۔ (میں )
۔


