شاعرِ مغرب کے شہر میں: لندن تا برمنگھم (6)


”کون تھا ولیم شیکسپئر؟“ ہم دماغ کا دروازہ کھٹکھٹا کر ذہن سے سوال پوچھتے ہیں۔ پی ون کمپیوٹر کی طرح وہ ہلکی سی بونگی مار کر گُم ہو جاتا ہے، کچھ دیر بعد حاضر ہو کر بتاتا ہے، ”گوروں کا کوئی شاعر تھا، دسویں کلاس کے انگریزی کورس میں اُس کی روایتی نظم شامل تھی جس کی تشریح تم نے نری نقل کر کے لکھی اور امتحان میں سرخرو ہوئے۔“

اپنے کُند ذہن کو بات کرنے کا قرینہ ہے نہ سننے کا سلیقہ، کوئی اِن بلٹ فالٹ ہے اِس میں۔ آخر یہ نقل کی بات یاد دلانے کی کیا ضرورت تھی، ہم مارے شرم کے پانی پانی ہو گئے۔ مبلغ چار سو ساٹھ سال قبل پیدا ہونے والے اِس شاعر کے ساتھ ہماری بس اتنی سی شناسائی رہی ہے۔ برطانیہ میں اِس کے شہر اسٹارٹفورڈ آپان ایون پہنچتے ہیں تو خوش گوار حیرت ہوتی ہے کہ اُس کے نام پر تو یہاں زندگی میں چل چلاؤ اور گہماگہمی ہے، جہاں جہاں قدم رکھتے ہیں لگتا ہے جیسے وہ بھی یہی کہیں آس پاس موجود ہوں۔ برطانیہ میں تو ’ماضی بعید‘ بھی لوگوں کے ساتھ قدم بہ قدم چلتا ہے۔ یہ ہوتی ہے زندہ قوموں کی نشانی، وہ اپنے ماضی کو سبق سیکھنے کے لئے یاد رکھتی ہیں۔ اِس ہل چل میں ہم اُس اسکول کی تاریخی عمارت تک پہنچ جاتے ہیں جہاں یہ شخص علم سے بہرہ ور ہوا۔ اِس عمارت کو اب میوزیم کا درجہ حاصل ہے۔ ہم باہر سے عمارت کا طائرانہ جائزہ لیتے ہیں، لمبی انگڑائی لیتے ہیں، گہری سوچ میں مستغرق ہو جاتے ہیں۔ کتنا خوش قسمت تھا یہ شخص، کہ پیدائش سے بھی گیارہ سال پہلے 1553 ء میں اُس کے گھر کے آنگن میں ایک معیاری درس گاہ قائم ہوئی جو بادشاہ وقت یعنی کنگ ایڈورڈ ششم کی نگرانی میں پھلی پھولی اور ابھی تک قائم و دائم ہے۔ مان لیا کہ ماضی کو آئینہ کیوں کہا جاتا ہے اور اس میں مستقبل کا چہرہ کیسے نظر آتا ہے۔ لگ بھگ پانچ سو سال قبل ہمارے بُزرگوں نے کس حال میں زندگی گزاری ہوگی، ہمیں تو اپنے وطن میں سو سال قبل بھی گُھپ اندھیرا نظر آتا ہے چہ جائیکہ مبلغ پانچ سو سال قبل۔ آپس کی بات ہے ہمارے اسلاف کو تب ایسے مواقع میسر ہوتے تو کتنے شیکسپئر، کتنے جانسن جیسے نامی گرامی لوگ ہمارے ہاں بھی پیدا ہوتے۔ مگر اے بسا کہ آرزو خاک شد۔

پانچ ساتھیوں کا قافلہ سکول کے احاطہ میں واقع استقبالیہ کی جانب پیش قدمی کرتا ہے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ہر طرف شیکسپئر کے مداحوں کا رش ہے۔ سیاحوں کی چہل پہل ہے جس میں زیادہ تعداد طلباء اور اساتذہ کی ہے۔ اندرون و بیرون ملک سے آئے ہوئے طائفے قطار میں کھڑے انٹری ٹکٹ حاصل کر رہے ہیں۔ مبلغ دس گریٹ بریٹن پونڈ، نصف جس کے مبلغ پانچ پونڈ سکہ رائج الوقت بنتے ہیں، یعنی لگ بھگ پونے چار ہزار روپے فی کس۔ اِس رقم کا کوئی بیس فیصد ٹیکس کے مد میں سرکار کے خزانے میں جاتا ہے جب کہ باقی رقم اسی عمارت کی مرمت اور تزئین و آرائش پر خرچ کی جاتی ہے۔ ویسے برطانیہ میں کوئی بھی تاریخی عمارت یا پبلک پارک فی سبیل اللہ دیکھنے کا رواج نہیں۔ لندن میں کارل مارکس کی قبر کا دیدار کرنے کو دل چاہے تو مرضی آپ کی ہے، لیکن دس پونڈ دیتے ہوئے پاکستانی روپے کے ساتھ ضرب دینے کی کوشش مت کیجئے گا۔ یہ سنو، وہاں تو قبر کے لئے جگہ ریزرو کرانے کے لئے اپنی قومی خدمات کا بیانیہ دینا پڑتا ہے اور بتانا پڑتا ہے کہ بندہ متعلقہ کتنے پانی میں ہے۔

خصوصی کیسوں میں پانچ ہزار پونڈ جتنی کثیر رقم قبر ریزرو کرنے کے لئے ادا کرنا پڑتی ہے۔ خیر، تو ٹکٹ لے کر جیسے ہی ہم علامتی کلاس رومز کی جانب چل پڑتے ہیں، ویسے ہی ایک ملائم حسینہ دل دارانہ مسکراہٹ کے ساتھ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ با ادب و با ملاحظہ ہوشیار۔ پھر مترنم ہوتے ہوئے گویا ہوتی ہے، ”سَر، ہیز ایکسی لینسیز، کہاں سے قدم رنجہ فرما ہوئے ہیں؟“ اِس دلربانہ انداز کو الفاظ کا جامہ پہنانے سے تو ہم رہے، ہمارے پَر جلتے ہیں۔ جب اُسے پتہ چلا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں تو بڑی حیران بھی ہوئی اور خوش بھی یہ جان کر کہ پاکستان کے لوگ اتنے ادب شناس ہیں۔ دوشیزہ محترمہ تو مارے عقیدت کے ہم سے فوری طور پر بغل گیر ہونا چاہتی تھی لیکن ایک رقیب اِس عمل کے بیچ دیوارِ چین بن کر ”ایستادہ“ ہو گیا۔ وہ شاید اپنی یہ دلیل منوانے پر بہ ضد تھا کہ اِس عمل کے لئے پہلے سے کھڑے انسان کا حق پہلا ہے، بعد میں کسی ایرے غیرے کا۔ دوشیزہ اسی ٹاؤن کی رہائشی ہے، بس سیاحوں سے ملنا اُس کا فیشن ہے۔ وہ ہمارے ساتھ ساتھ سائے کی طرح آگے بڑھتی ہے، رسمی رہنمائی بھی کرتی ہے اور کچھ کچھ کافرانہ جلوے بھی دکھاتی ہے غیر ارادی طور پر۔

بازو کی ٹہنی پر جھولتا بدن اس کا
بھولے نہیں کبھی ہم والہانہ پن اس کا
جسم کے تناسب سے شاعری ٹپکتی ہے
میر کا اعجاز غزل اور بانکپن اس کا

اِس ماحول میں کلاس روم میں داخل ہونے کی خواہش کی نہ ہوتے ہوئے بھی ہم داخل ہوتے ہیں۔ طلباء کی طرح بینچوں پر بیٹھنے کی ہدایت ملتی ہے۔ مزید سیاح اندر آتے ہیں تو کلاس روم کھچا کھچ بھر جاتی ہے۔ سب کو ایک گتا اور کاغذ دیا جاتا ہے اور استادِ محترم ابتدائی کلمات کے بعد شیکسپئر کی ابتدائی زندگی اور اُس کے کام سے متعلق سرمن کی شروعات کرتے ہیں۔ وہ عمارت کی تاریخی اہمیت، اس کے طرزِ تعمیر اور قدیم زمانے کی تعلیمی روایات کے بارے میں بتاتے ہیں جو نہ صرف اُس وقت کی زندگی کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ یہ برطانیہ کی تعلیمی تاریخ کے اہم حصے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اُستاد محترم بات کرتے ہیں اور ہم لاشعور میں شیکسپئر کے متعین کردہ، زندگی کے سات مراحل کی شناختی پریڈ میں اُلجھتے ہیں، ہر مرحلہ میں خود کو ڈھلتا ہوا محسوس کرتے ہیں، حالتِ حاضرہ سے روپوش ہو کر۔ عالمِ بچپن، عالمِ بانکپن، عالمِ بلوغ، عالم ازدواج، اور عالمِ پچپنے سے ہوتے ہوئے عین عالمِ پیری کے ٹھکانے میں پہنچ کر ٹک جاتے ہیں۔

یہاں کی کلاس رومز آج بھی ویسے کی ویسے محفوظ ہیں۔ وہی فرنیچر، وہی بینچز، اور وہی اساتذہ کے لباس اور وہی بابے کے دور کا درسی ماحول۔ بعض قدیم کتابیں، نوٹ بکس اور دیگر تعلیمی مواد جو شیکسپئر کے زمانے میں استعمال ہوتے تھے، اب بھی محفوظ ہیں۔ لکڑی کا وہ بھاری بھرکم صندوق، جس کو اُس دور میں بینک کی حیثیت حاصل تھی، ایک کونے میں پڑا، عظمتِ رفتہ کی داستان سناتا ہے۔ اساتذہ اور طلباء کی قیمتی اشیاء اور دستاویزات کو محفوظ رکھنے کے لیے اس کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اِس کو وہی تین تالے اب بھی لگے ہیں، جن کی چابیاں تین مختلف اہل کاروں کے ساتھ ہوتی تھیں اور وہ بوقتِ ضرورت مخصوص اوقات میں ایک دوسرے کی موجودگی میں یہ تالے کھولتے اور بند کرتے۔ اس میں رکھی ہوئی اشیاء کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا تھا تاکہ کسی چیز کے ضائع ہونے یا گم ہونے کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے۔

ٹیچر کی زبان کی روانی تو خیر ہماری سمجھ دانی کے سپیڈومیٹر سے مطابقت نہیں رکھتی تھی، اس لئے سمجھ کیا خاک آتی۔ تاہم کچھ اپنے پلے سے تاریخ کے اوراق کھنگالنے میں کیا مضائقہ ہے۔

ویلیم شیکسپئر سولہویں صدی کے ڈرامہ نگار، شاعر، اور اداکار تھے۔ انگریزی ادب ان کے ذکرِ خیر کے بغیر ادھورا ہے۔ انہوں نے اٹھارہ سال کی عمر میں اٹھائیس سالہ خاتون سے شادی کی، جس سے تین بچے پیدا ہوئے۔ وہ زیادہ تعلیم یافتہ بھی نہ تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی لندن اور اپنے آبائی شہر سٹریٹ فورڈ میں گزاری۔ تاریخ پر نظر رکھنے والوں کا دعویٰ ہے کہ اگر وہ لندن نہ جاتے تو عام آدمی ہوتے۔ ابتدائی عمر میں انہوں نے رومانی مزاحیہ اور تاریخی ڈرامے تحریر کیے۔ ان کے ڈراموں سے مزاح و محبت کے ساتھ ساتھ معاشرت کی تربیت اور اصلاح ہوتی تھی۔ ان کی نظمیں شاعری کی بلندیوں کو چھوتی ہیں اور انسانی حیات کا حسین امتزاج پیش کرتی ہیں۔ ان کی کئی تصنیفات کا تمام اہم زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ 62 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہونے والے ویلیم شیکسپئر برطانیہ کے قومی شاعر ہیں، یعنی شاعرِ مغرب۔

بعض محققین اور ناقدین اس چوٹی کے ادیب سے متعلق ابہام کا شکار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے کوئی خاص حوالہ جات یا معقول ریفرینسز موجود نہیں جن سے ثابت ہو سکے کہ شیکسپئر اتنے بلند پایہ شاعر و ادیب تھے۔ ان حلقوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ شیکسپئر کے لندن میں گزارے گئے بیس سال کے عرصے کا کوئی ثبوت ہی موجود نہیں۔ بہرحال ہمارا اِس سے کیا لینا دینا، ہم نے تو سیر کرنی تھی کر لی اور جو دیکھا، سُنا، پڑھا وہ آپ تک بھی پہنچا دیا۔ ہاں ہم اُس ہنس مکھ اور مستانہ گورے کو دیر تک یاد رکھیں گے جو ہر اُس لمحے ہمارے سامنے آ کھڑے ہوتے جب ہم کہیں تصویر لینے کا ارادہ کرتے۔ وہ ٹیڑھے ہو کر ہاتھ سے مخصوص تصویری سٹائل بناتے، بتیسی نکالتے اور ہمیں تصویر لینے کے دوران مسکرانے پر آمادہ کرتے۔ شوخی، بزلہ سنجی، اور عجز و انکساری بہ حیثیتِ مجموعی گوروں کا قومی مزاج ہے۔ ویسے گلہ تو بنتا ہے، شاعرانِ مشرق و مغرب کی باتیں تو ہم کرتے رہتے ہیں لیکن اپنے ’شاعرِ شمال‘ دوست اور میزبان کی شاعری پر دماغ نہیں کھپاتے، جو شیکسپئر کی طرح نسلی اور ثقافتی امتیاز کے خلاف ہے۔ اُس کی پشتو شاعری سُن کر آدمی ششدر رہ جائے۔ اس کی پشتو نظم کا ایک بند ملاحظہ ہو:

سہ پختون سہ ملا سہ جولا او سہ ڈم
زہ دہ ہیچ چا پہ نوم امتیاز نہ منم
برہمن شودران دا نومونہ فضول
ووم انسان یم انسان او انسان بہ زہ یم
ھغہ دنگ دغہ چیت ہغہ تور دغہ سپین
پہ ما ٹول دی ڈیر گران یو زامن دہ آدم
زہ دہ ہیچ چا پہ نوم امتیاز نہ منم۔
ترجمہ:
کوئی اگر پختون ہے، ملا ہے، جولاہا یا ڈوم ہے، مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔
میں کسی کی نسل یا پیشہ کے حوالے سے کسی قسم کے امتیاز کا قائل نہیں ہوں۔
برہمن اور شودر، یہ سارے نام فضول ہیں۔
ہم انسان تھے، انسان ہیں اور انسان ہی رہیں گے۔
وہ بالا قد اور یہ چھوٹے قد کا مالک، وہ کالا اور یہ گورا
میں سب کو قدر و منزلت کا حامل سمجھتا ہوں کہ ہم سب ایک ہی آدم کی اولاد ہیں۔
میں کسی کے نام پر کسی قسم کے امتیاز کا قائل نہیں ہوں۔
(جاری ہے )


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments