سیکس ایجوکیشن

سیکس انسان کی بنیادی ضرورت ہے، اور انسان ہی کی نہیں بلکہ تمام انواع و اقسام کے حیوانات کی بھی۔ مگر کیسی حیرت ہے کہ یہی انسان خلائی مدار اور دیگر سیاروں کا درجہ حرارت تک معلوم کرنے کے لیے عالمگیر تحقیقی مقالے اور کروڑوں کانفرنسیں کروانے کو سائنس کی ترقی سمجھتا ہے۔ مگر اول الذکر فطری ضرورت سے متعلق کوئی ایک لفظ بھی کہہ دیا جائے تو سماج، ثقافت، غیرت، مذہب اور شرم کے سارے بیانیے تلملا اٹھتے ہیں! ایسی کوئی بھی تحریر لکھنے کے بعد اکثر مذہبی دوست برہم ہوتے ہیں اور مشرقی تہذیب کی پروردہ سہیلیاں اسے بے ہودگی سمجھتی ہیں۔
جو عمل ہم سب کی و جہِ تخلیق ہے اس پر اور اس سے منسلک کسی محرک پر بات کرنا بھی آگ پے چلنے کے برابر تو ہے، مگر وہیں ملک میں لواطت کے خفیہ واقعات، پورن دیکھنے کے اعداد و شمار، مردانہ کمزوری کے جابجا لگے اشتہار، مشت زنی کا عام العوام ہونا، میریٹل ریپ، سہاگ رات اور ورجنٹی کا لازم ملزوم رشتہ، مباشرت کی جمالیات مفقود اور جنسی فرسٹریشن کے نتیجے میں نوجوانوں میں بڑھتی انزائٹی، ان سب حقیقتوں سے کوئی کتنا منہ چھپائے، کتنے دبیز پردوں کے پیچھے جائے!
اگر کسی بچے اور بچی کے لیے Helium اور Xenon کے ”s“ اور ”p“ آربٹس کی تعداد یاد رکھنا ضروری ہے تو فطری انزال کی ٹائمنگ یا اوقات پر بات کیوں نہیں کی جا سکتی۔
اگر نویں دسویں کی بیالوجی میں مینڈک اور خچر کی پیدائش کا جنسی عمل سمجھایا جاسکتا ہے تو انسانی جان کی پیدائش پر بات کیوں نہ کی جاوے۔
اگر (a+b+c) 3 کے فارمولے سمجھنا لازم ہیں تو گڈ ٹچ بیڈ ٹچ کی حدود و قیود یاد کروانا ضروری کیوں نہیں۔
جوان ہوتے لڑکے ْ لڑکی کی زندگی خود لذتی کے ”گناہ کبیرہ“ کا احساس ندامت لیے ذہنی خلفشار میں گزر جاتی ہے اور لڑکیاں ماہواری کے خون کو چھپاتی اور درد کو سہتی رہ جاتی ہیں مگر ان کے لیے اس سب زیادہ مسٹر چپس کو یاد رکھنا ضروری ہے!
کسی حیادار مذہبی نوجوان کی شادی ہو جائے تو اسے بھی عورت کی جسمانی ساخت اور سیکس کے تقاضے سمجھنے کے لیے پورن دیکھنا پڑتا ہے اور عورت تو اس پدر شاہی معاشرے میں پہلے ہی اک کھلونا ہے سو اس کی جنسی لطافت کا خیال کرنا ہی بے سود ہے!
سو آپ سکول، کالجز میں جب تلک سیکس ایجوکیشن کا نصاب لاگو نہیں کریں گے تب تلک آپ کے بچے دن میں کلاس کے آخری بینچوں پر اپنے ہم جماعتوں سے ”جنسی مائیتھولوجی“ کی تھیوری سمجھیں گے اور رات کو اس تھیوری کا پریکٹیکل کریں گے!
یونہی سلسلے چلتے رہنے میں تباہی ہے، انزائٹی ہے اور ذہنی خلفشار ہے دوستو، سوچیے گا۔

