بہت بولتی ہو رضیہ!


جس رضیہ کا ذکر ہے وہ امریکہ میں رہتی ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ اب تک غنڈوں میں نہیں پھنسی۔ وہ جن غنڈوں سے نمٹتی ہے ان میں سی پیک سے زیادہ گھاگ چینی، مغرور کورین اور امیر مینائی کی معشوق جیسے مہذب مگر سفاک جاپانی شامل ہیں۔ اب آپ پوچھیں گے کہ امیر مینائی نے تو ساری عمر دس ہزار فیٹ کے فاصلے سے بھی کسی جاپانی کو اور شدید پردے کی وجہ سے گھر کے باہر کسی عورت کو بھی نہ دیکھا ہو گا۔ ان کی محبوبہ کی جاپانیوں سے کیسی مماثلت۔ جان لیں کہ یہ تال میل بس اتنا ہے کہ امیر مینائی نے کہا تھا نا کہ

وہ بے دردی سے سر کاٹیں اور میں کہوں امیر ان سے

حضور آہستہ آہستہ، جناب آہستہ آہستہ

یہ جاپانی بھی جب آپ کا سر کاٹنے لگتے ہیں تو آپ کو دس دفعہ کورنش بجا لائیں گے۔ جیل لگا کر کنگھی بھی کریں گے اور چہرے کا مساج بھی مفت میں کر دیں گے۔ یہ جاپانی ایسے مہذب اور رکھ رکھاؤ والے ہیں کہ ان کا پاسنگ بس آپ کو کراچی کے چند ہلاک شدہ اور چند گرفتار شدہ ٹارگیٹ کلرز میں ملتا ہے۔ وہ بھی جاپانیوں کی طرح اپنے مقتول کا قیمہ بنانے سے پہلے اس کی آخری خواہش پوری کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ واقف حال ایک ڈی آئی جی نے ہماری اکیڈمی میں زیر تربیت افسران کے سامنے یہ انکشاف کیا کہ اپنے ایک کارکن شاہد موٹے کو جب انہوں نے دغا بازی کے الزام میں پھڑکایا تو وہ بہن کی مہندی پر اس کی فرمائش پر فریسکو کی قلاقند لاتے ہوئے اٹھایا تھا۔ سر میں گولی مارنے سے پہلے اس کی آخری خواہش گولڈ لیف کا ایک سگریٹ، ماں کو فون، باپ اور بڑے بھائی سے معافی، یہ سب ہو گیا تو اس نے قلاقند منہ میں رکھی اور گولی سر کے پار ہو گئی۔

کراچی میں اپنوں کے ہاتھوں بے رحمی سے بوری میں بند ہوکے مرنے والا کون سا ارسلان ملک اور ایان علی کے مناکو جیسی مہنگی جگہ تعطیلات گزارنے کی خواہش کرتا ہے۔

رضیہ کے لیے بھی ہمارے دوست افضل رضوی کی طرح پہلی ملاقات میں دنیا کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے کہ وہ کیا کرتی ہے۔ افضل رضوی تو ہمیں پتہ ہے کہ سنی خواتین کے دل توڑنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔ اللہ نہ کرے آپ بھی وہ غلطی کریں جو ہماری دونوں کی دوست پیوما نے کی تھی۔ وہ معصومہ پہلی ملاقات میں کر یہ خطا کر بیٹھی تھی۔ ہمارے بیوروکریٹ ہونے کا اسے پہلے سے پتہ تھا۔ ہمیں اس نے یکسر نظر انداز کیا جس کا ہم نے بدلہ لینے کی یوں ٹھانی کہ جلا کہ راکھ نہ کردوں تو نام نہیں، گھر پر منعقد کھانے اور شراب کی محفل حسین میں اس نے آیت اللہ، مرجع خلائق۔ ولایت فقیہ سیدنا افضل رضوی سے پوچھا کہ وہ کیا کرتے ہیں تو اگلے پندرہ منٹ عالی مقام ہمارے جیسے سلفی، دیوبندی، وہابیوں کے جگر جان نے اپنا روٹی روزی کا دھندا سمجھانے میں صرف کر دیے۔ اگلے دن پیوما ہمیں کہنے لگی

 ”آئی، ڈی جو کچھ کیا وہ صحیح وقت پر افضل کے بڑوں نے کیا۔ حضرت تو بس مزے کرتے ہیں“ لیکن رضیہ بے چاری ایسی نہیں۔ اس کے نصیب میں پیار میں جلنے والوں کی طرح چین کہاں آرام کہاں۔ نیویارک میں وہ ایک طرح کی syndication کرتی ہے۔ اپنے سرمایہ کاروں کے ساتھ informal relationships (غیر رسمی تعلقات) جوڑ کر رکھنا اس کا کام ہے۔ وہ کسی ایک فرم کی ملازم بھی نہیں۔ وہ اپنے مراسم کے طومار میں سے Accel اور Sequoia Capital جیسیventure capital کی فرموں سے نت نئی ٹیکنالوجیوں کے لیے سرمایہ کھینچتی ہے۔ یہ فرمز سنجیدہ اور قابل فروخت ایجادات کے لیے سرمایہ حاصل کرتی ہے۔ کہہ رہی تھی کہ پچھلے ماہ تو سڑک پر ہی رہی، نہانا دھونا جہاں موقع ملا، سونا موٹلز میں اور کھانا سڑکوں پر، کوئی کانٹیکٹ کہیں تو کہیں کسی اور ریاست یا شہر میں۔ اگر آپ نے اچھی چست انگریزی کے شوق میں لی چائلڈ کے ناول پڑھے ہوں تو وہ اس کے مشہور کردار جیک ری چر جیسی ہے۔

رضیہ دیناج پور۔ بنگلہ دیش کی ہے اور عمری تیس برس۔ اردو، انگریزی، جاپانی، کورین، بنگالی ایسے بولتی ہے کہ خواب میں بھی کوئی گاہک مل جائے تو انہیں زبانوں میں گفتگو کرتی ہے ورنہ آپ تو جانتے ہیں خواب میں موقع ملتے ہی لوگ سنی لیون سے بھی ہماری اور گلوکار میکا سنگھ اور دل جیت دوسانجھ بھی ہماری طرح اپنی زبان میں ہی اسی تسی کرتے ہیں۔

وہ جن کے ساتھ آئی تھی وہ ہمیں بتا رہے تھے کہ برنس روڈ کے کسی مہاجر لڑکے کے چکر میں خودکشی بھی کی۔ مگر بچ گئی۔ وہ خبیث بالائی سندھ کے سیاست داں کی بیٹی سے شادی کر بیٹھا۔ پیچھے کراچی میں نالائق بھائی بہن کو سرکاری نوکری درکار تھی یہ کنگلی toiling بنگالن سندھ سرکار کے مگر مچھ جیسے جبڑے سے یہ شکار کیسے چھینتی۔ یہ کام تو صرف سندھی سیاست دان کی بیٹی ہی پکڑ کر دے سکتی تھی۔ بھائی پولیس میں اے ایس آئی اور بہن کسی پراجیکٹ میں سیٹ ہو گئی۔

رضیہ خود بھی دیکھنے میں اور تراش خراش میں بپاشا باسو جیسی ہے سمجھ نہیں آیا کہ یہ برنس روڈ دہلی کی بارہ مسالے کی چاٹ میں کہاں جا گھسی۔ باسط میاں کہنے لگے کہ وہ لونڈا دیکھنے میں بالکل رنبیر کپور لگتا تھا۔ ہم نے سوچا یہ دنیا بھر کی جو خواتین ہیں نا ان کی زندگی کی اکثر پیچیدگیاں اس وجہ سے ہیں کہ وہ اس mouse۔ trap کی گھمن پھیری میں خود کس کے جیسی دکھائی دیتی ہیں اور دوسرے کس کی طرح لگتے ہیں۔ یوں شیشہ، پیمانہ، مے بن کر میخانہ بن جانے، دوسروں جیسا لگنے اور کے چکر میں اور رنبیر کپور اور ورن دھاون جیسا ساتھی ڈھونڈنے میں برباد ہوجاتی ہیں۔ ان کو چاہیے کہ ہمارے اور ڈاکٹر شاہد مسعود جیسے ہمالہ خصال مردوں سے دل لگائیں پرانے لاکھ سہی پر اپنی جگہ پر کوہ گراں بن کر ٹھہرے ہوئے تو ہیں۔ ہمیں پرویز خٹک اور شیخ رشید کی طرح نہ دیکھیں بلکہ مولانا روم کی مثنوی مولوی و معنوی اور میر کا دیوان اور سمجھ کر ایسے پڑھیں کہ معرفت عشق پونی ٹیل سے گھسیٹ کر اس مقام تک لے جائے کہ

اک غزل میر کی پڑھتا ہے پڑوسی میرا

اک نمی سی میری دیوار میں آجاتی ہے

رضیہ کے بھائی کی بیٹی نے گریجویشن کیا تھا لہذا اس کی اس حرکت پر اردو میڈیم فیس بک والوں کی طرح لائک اور شیئر تو بنتا تھا۔ مل جل کر سب نے ایک پارٹی تھرو کی تھی۔ یہ سب اس بچی کے دس قریبی دوست تھے۔ ڈینٹسٹ گریجویٹ بنے تھے۔ ان کا کچھ دنوں بعد لوگوں کے منہ اور جیب میں ہاتھ ڈالنے کا پروگرام تھا۔ رضیہ خود بے چاری تھک کر دو سو میل کار چلا کر آئی تھی مگر گریجویشن کی تقریب میں نہ پہنچ پانے کا ازالہ یوں کیا کہ بریانی لانے کا جرمانہ اس پر پڑ گیا۔

ہم نے بہت کہا یہ بوجھ ہم اٹھا لیتے ہیں۔ کہنے لگی تم تو پرائے ہو، یوں للچائے ہو، جانے کس دنیا سے جانے کیوں آئے ہو۔ مہمانوں میں ایکتا شاہ اور اس کا میاں، دونوں ہندوستان کے۔ ایک ہندو ایک عیسائی مگر دونوں گجراتی۔ اور ہمارے عزیز باسط باپو۔ نیویارک میں لٹل اٹلی سے ہاتھ کی بنی آئسکریم لے کر آنا aن کے حصے میں آیا۔ رضیہ نے ایکتا کو لیا، ہمیں بٹھایا اور نیو جرسی جانے کے لیے باسط باپو کو گاڑی میں ٹھونسا، نیویارک کے جس مقام سے بریانی لینی تھی وہاں ہماری عزیزہ پہلے ہی اپنے تعلقات کی وجہ سے بکرے کا گوٹ میٹ صبح پہنچوا چکی تھیں۔ (یہ سب بکرے کے گوشت کو گوٹ میٹ کہتے ہیں۔ )

ایکتا کا تعلق جین مذہب سے ہے۔ ہندوستاں کے شاہ اور پٹیل گجراتیوں کی ایسی کمیونٹیز ہیں جن کا امریکہ میں خاصا اثر رسوخ یہ کاروبار اور پیشہ ورانہ ملازمت میں چھائے ہیں۔

ہندوستان کے گرہ منتری امیت شاہ اور ان کے قریبی ٹی از فن ٹاسٹک والے اسکواڈرن لیڈر ابھی نندن سب ہی جین ہیں۔ ان کے اگر اپنے محاورے کو سامنے رکھیں تو ان میں جو Indian۔ Indian ہیں وہ پاکستانیوں کو نیڑے نہیں لگنے دیتے۔ یہ وہ دیش بھگت (وطن دوست) ہیں جو بھارت کے تعصبات سمیت ترشول اور سنکھ لے کر یہاں امریکہ پہنچ گئے ہیں مگر وہ نسل جو امریکہ میں ہی پیدا ہوئی ہے۔ جسے اور ویزے کے حصول میں اور گرین کارڈ والے رشتے ہتھیانے میں ناکامی کا کشٹ (بوجھ اور دشواری) نہیں جھیلنا پڑا۔ یہ سب جنہیں دیسی تحقیر سے ABCD (American Born Confused Desi) پکارتے ہیں۔ ان کے ہاں یہ تعصب بہت کم دکھائی دیتا ہے۔ گجراتی ہوں تو یہ مذہبی تفریق کم ہوجاتی ہے۔ شاہ اور پٹیل دیگر مسلمانوں کو ناقابل بھروسا سمجھتے ہیں۔ مگر ہماری طرح میمن گجراتی ہوں تو آہستہ سے کہتے ہیں آپنو گجراتی چھے (اپنے والا گجراتی ہے).

ہم نے پوچھا کہ اب کی دفعہ یہاں نیویارک میں چینi بہت دکھائی پڑتے ہیں تو کہنے لگی۔ مال بہت آ گیا ہے۔ نیویارک میں جائیداد بہت خریدی ہے۔ وارلڈورف ایسٹرویا جو نیویارک کا بہت مشہور ہوٹل ہے وہ بھی چینی خرید چکے ہیں۔ چین کا Pregnancy Tourism بھی بہت زوروں پر ہے

ان کی چینیاں پانچویں مہینے pre natal belly bands باندھ کر پہنچ جاتی ہیں۔ امیگریشن کے وقت کاؤنٹر پر جھک کر کھڑی ہوجاتی ہیں تاکہ پیٹ کا ابھار دکھائی نہ دے اور پھر بچہ پیدا کر کے اس کا امریکن پاسپورٹ لے کر دوڑ جاتی ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب نیلا پاسپورٹ پکڑے یہ بچے امریکی شہری کے طور پر لوٹیں تو پورا چین چند برسوں میں امریکہ کی 51 ویں ریاست بن جائے اور امریکی صدر دو سال کے لیے کوئی امریکی بن جائے تو دو سال کے لیے کمیونسٹ پارٹی کا کوئی چینی ہو۔ سی پیک سے جو پاکستانی پریشان ہیں وہ جان لیں کہ نیویارک میں مالدار چینی چھا گئے ہیں اور ہماری طرف ان کے غربا اور مساکین کی یلغار ہے۔ وہ دن دور نہیں کہ ماموں کانجن اور کلر سیداں کی لڑکوں کے بیویاں اور گلگت کی لڑکیوں کے شوہر چینی ہوں گے۔ یاجوج ماجوج کی پیش گوئی جو سورة الانبیا کی آیت نمبر 96 میں یوں بیان ہوئی ہے کہ ”وہ وقت یاد رہے کہ جن یاجوج ماجوج کو کھلا چھوڑ دیا جائے گا اور وہ ہر رکاوٹ کو دھکیلتے ہوئے پہاڑیوں سے لڑھکتے ہوئے غول در غول دکھائی دیں گے۔“ سامنے آ جائے گی۔

ہم نے پوچھ لیا ان میں، جاپانیوں اور چینیوں میں کیا فرق ہے۔ رضیہ کہنے لگی چینی اور کورین بہت Nimble ہوتے ہیں۔ گھڑی کی سوئیوں اور فائی۔جی انٹرنیٹ جیسے۔ کورین اوائل مراسم میں بہت بدتمیز اور اجڈ لگتے ہیں مگر چونکہ کشمیریوں کی طرح ان کی نگاہ بھی اپنی ناک سے پرے نہیں جاتی۔ اس لیے دوسروں کو جلدی اپنے ماحول میں بسنے اور حلقے میں گھسنے نہیں دیتے۔ میمنوں اور گجراتی پٹیلوں کی طرح خاندانی روابط پر بہت زور ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ دنیا کے دو بڑی کمپنیوں کے مالکان یعنی سیم سنگ کے مالکChung Mong Hun اور ہن ڈائے کے مالک Chung mong koo آپس میں کزن ہیں۔

رضیہ کو چینیوں سے معاملات طے کرتے ہوئے اتنی ہی الجھن ہوتی ہے جتنی امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو ہوتی ہے۔ اپنے اس anxiety factor میں وہ چینی قوم کے لیے جن جذبات کا اظہار کرتی ہے اس میں واقفیت سے زیادہ بے یقینی اور ذاتی ناپسند کو زیادہ دخل ہے۔ ہمیں حیرت ہوئی کہ یہ گھبراہٹ اگر گورے امریکن عیسائی کو ہو تو سمجھ میں آتا ہے۔ یہ دیناج پور بنگلہ دیش کی سانولے سلونے رسیلے رسیلے گلاب جامن جیسی رضیہ نے امریکہ میں نسلی توازن برقرار رکھنے کے لیے گوریوں کی سائیڈ کیسے پکڑ لی یہ سمجھ نہیں آتا۔

وہ کہنے لگی کہ ان کم بخت چینوں کے ہاں Personal Space کی کوئی اہمیت نہیں۔ آبادی بہت زیادہ ہے۔ جو خوراک بھی مل جائے کھا جاؤ اور جہاں جگہ مل جائے وہاں گھس جاؤ۔ پہلی دفعہ بیجنگ گئی تو اسے یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ چینی ہر اس شے کو جس کی پشت آسمان کی طرف ہو اُسے کھا جاتے ہیں، سوائے ٹیبل کے۔ اُن کے ہاں ملاقات کے وقت صرف ہاتھ ملانے کو کافی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے برعکس کورین اور جاپانی اگر آپ کا زیادہ احترام کرتے ہیں تو ایسے جھک جائیں گے کہ ماتھا گھٹنوں سے لگا دیں گے ورنہ کمر کو ہلکے سے خمیدہ کر کے امراؤ جان کی طرح کورنش بجا لانا آداب کا حصہ ہے۔ ایسے موقع پر کسر رہ جاتی ہے تو بس اس بات کی کہ کہیں سے دل چیز کیا ہے آپ میری جان لیجیے کی سریلی صدا سنائی دے جائے۔ چینی، اہل پنجاب اور سندھ کی مانند بلند آواز سے گفتگو کے عادی ہیں۔ آپ انہیں میلوں دور سے بغیر فون کے سن سکتے ہیں۔ بلند آواز سے بولنے میں عوامی مقامات کی کوئی قید نہیں۔ اس کے برعکس جاپانی اور کورین ٹرینوں، بسوں، ہوائی اڈوں پریوں چپ سادھ لیں گے گویا وہ ہسپتال کے آئی سی یو میں پڑے ہوں۔

باسط میاں جو آئس کریم سے لگے بیٹھے تھے، تنگ آ کر کہنے لگے کہ ’یار بہت بولتی ہو رضیہ‘ ۔ وہ کہنے لگے کہ دونوں یعنی کورین اور جاپانی اقوام میں collectivism یعنی اشتراک باہمی بہت ہے۔ جاپان میں یہ بات طے ہے کہ وہ آپ کی غلطیوں کو یہ کہہ کر معاف کر دیں گے کہ آپ ہمارے لیے ایک اجنبی قوم کے فرد ہیں نہ ہم آپ کو سمجھ پائیں گے نہ آپ ہم جاپانیوں کو سمجھ پائیں گے چلو مٹی پاؤ اور ٹکر کھاؤ۔ اس کے برعکس کورین آپ کو اپنا آپ سمجھانے میں اور آپ کی غلطیاں درست کرنے میں عمر صرف کر دیں گے۔ جاپان میں ایسا کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جاپانی صدیوں سے ایک ایسی قوم ہیں جس کا جغرافیائی وطن، زبان، مذہب، ثقافت ایک ہے۔ اتنی شدید ہم آہنگی آپ کو شاید ہی کسی اور قوم میں دکھائی دے۔

اس نقطے کو سمجھنا ہو تو ایک واقعے سے سبق لیں جو ہمیں، فیڈرل سیکرٹری سابق چیئرمین پی سی بی ہمارے مرشد ڈاکٹر ظفر الطاف سی۔ ایس۔ پی نے سنایا تھا۔ وہ دورے پر ٹوکیو جاپان گئے تھے۔ حیران ہوئے کہ ٹوکیو ٹائمز میں جاپانی وزیر اعظم کا روزمرہ کا ٹائم ٹیبل چھپتا تھا۔ میزبان سے پوچھا تو کہنے لگے کہ ہمارے وزیر اعظم کا وقت قوم کی امانت ہے، قوم کو پتہ ہونا چاہیے کہ وہ دفتر میں اپنا دن کیسے گزارتے ہیں۔ کس سے اور کیوں ملتے ہیں۔ ہم نے انہیں ایک Tenure عطا کیا ہے۔ اسے وزیر اعظم کو دیانت داری سے برتنا لازم ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو حیرت ہوئی کہ سونی کارپوریشن کے سربراہ کو ملاقات کے لیے دو منٹ کا وقت دیا گیا تھا جب کہ جزیزہ اوکی ناوا سے کسانوں کا ایک وفد جو ملنے آ رہا تھا اس سے ملاقات کے لیے پورے تیس منٹ مختص کیے گئے تھے۔ پوچھنے پر بتایا گیا کہ سونی کارپوریشن کے سربراہ کا لیول بہت ایڈوانس اور واضح ہو گا۔ وہاں بنیادی باتیں کرنے کا مسئلہ نہیں۔ بیرون ممالک سونی کارپوریشن کو کسی جگہ پر کوئی دشواری ہو گی۔ ہمارے وزیر اعظم وزیر خارجہ سے کہیں گے اور وہ سفیر کو کہیں گے کہ اس معاملے میں مقامی حکمرانوں سے بات کریں۔ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ کسانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ جاپان ایک جزیرہ ہے، ہم نہیں چاہتے کہ جنگ کی صورت میں اگر بحری محاصرہ (Naval Blockade) ہو جائے تو ہم تک غلے کی رسائی رک جائے۔ ایسی صورت میں ہمارے کسان ہی ہمارے لیے خوراک مہیا کریں گے۔ یوں ہم ان کی دل سے قدر کرتے ہیں۔ جاپانی وزیر اعظم ان کی ہر بات دھیرج سے اور توجہ سے سنیں گے اور مسئلے کا حل نکالیں گے۔ انہیں ہر قیمت پر زراعت کے پیشے سے وابستہ رہنے کی ترغیب دیں گے۔ ہمارا دو ایکڑ کا کسان اپنے بچے امریکہ پڑھا سکتا ہے۔

باسط باپو ان دنوں ایک ملازمت چھوڑ کر بیٹھے ہیں۔ انہیں تین ماہ کے لیے ان کے سابقہ ادارے نے تنخواہ اور جملہ الاؤنسز سمیت چھٹی دی ہے۔ یہ چھٹی ختم ہوگی تو وہ نئی ملازمت جس کے لیے ان کی بات چیت ہو چکی ہے۔ وہ جوائن کریں گے۔ اس طرح کی لازمی تعطیلات کو یہاں Garden Leave کہتے ہیں۔ ملازم استعفی دے یا کسی وجہ سے اسے نوکری سے فارغ کر دیا جائے تو یہ ممکن ہے کہ اس کی سابقہ ملازمت میں اس کی رسائی کمپنی کی اہم کاروباری معاملات تک رہی ہو یوں اس بات کا احتمال رہتا ہے کہ اس کا فائدہ اس کی نئی کمپنی کو پہنچ سکتا ہے۔ اس وجہ سے ایک سے تین ماہ تک اسے پابند کیا جاتا ہے کہ وہ اس دوران ملازمت نہیں کرے گا تاکہ اس کا کاروباری رازوں سے رسائی کا فائدہ نئی کمپنی نہ اٹھا سکے۔

ہم جب بریانی لینے پہنچے تو ریستوراں کے کاؤنٹر پر منیجر خاتون مینا، بہت گوری اور کومل تھی۔ بوسے کی دعوت دیتے غنچہ ناشگفتہ جیسے کھلے ہونٹ، بے اعتبار انداز نگاہ سے عبارت اسٹار بک کی کافی کی رنگت جیسی آنکھیں اور آئی فون کی فیکٹری رنگ ٹون جیسی آواز اور انگریزی دراز قد، کھلے بوٹ نیک گلے سے اجلے شانے میں پیوست چمکیلا سیاہ برا اسٹریپ۔ ہم نے باسط باپو سے مردوں والی دو باتیں کیں۔ ایک تو ہم نے اپنے تئیں سرگوشی میں اسے کہا کہ اس کے اس وینس ڈی ملیو جیسے گورے اجلے عریاں شانے نشست جمانے کے لیے کراماً کاتبین (کاتب اعمال فرشتے) دونوں کا آپس میں بہت جھگڑا ہوتا ہو گا۔ دوسری ہمیں تو لگتا ہے کہ مس یونی ورس شمسیتا سین کی چھوٹی کزن ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آسام کے کسی ٹی اسٹیٹ کے گورے منیجر اور مقامی خاتون کے تعلقات کا شاخسانہ ہے۔ باسط کہنے لگا رضیہ کی واقف ہے۔

خود بھی ہمارا گجراتی میں تبصرہ سن چکی تھی کہنے لگی ”نا جی اسی پکے پنجابی آں۔ فیصل آباد دے“ معلوم ہوا کہ رانا ثنا اللہ کی محلے دار ہے۔ ہم نے سوچا تجھ سے مل لیتا تو کم از کم ماڈل ٹاؤن کے خون خرابے سے باز رہتا۔ بہت دکھ ہوا ہے کہ طاہرہ سید، محسن حقانی اور جنرل کرامت نیازی لاریب عطا عیسی خیلوی (ہالی ووڈ میں مشہور پاکستانی VFX artist جو گلوکار عطا عیسی خیلوی اور اداکارہ بازغہ کی صاحب زادی ہیں) جیسے تمام اچھے پنجابی ترک وطن کرچکے ہیں۔ اب بس شیخ رشید، خواجہ سعد رفیق اور چوہدری غلام حسین جیسے کھردرے پنجابی پیچھے رہ گئے ہیں۔

بتا رہی تھی کہ ڈالر کی اندھی محبت میں وہ پنجابی، اردو کے علاوہ انگریزی، ہسپانوی، گجراتی اور بنگالی اور معمولی سی چینی بھی سیکھ گئی ہے۔ باسط باپو نے انکشاف کیا کہ اس خاندان کے دو ریستوراں ہیں۔ دو بھائی ڈشکروں والے علاقے برونکس میں یہ ریستوراں چلاتے ہیں۔ یہ دو بہنیں یہاں مین ہیٹن میں دنیا آباد کیے بیٹھی ہیں، کچن کے ملازم سارے میکسیکن ہیں۔ سمجھ لو وہ امریکہ میں کراچی والے پٹھان ہیں مگر ویسے جھگڑالو اور میلے نہیں۔ دن میں ایک آدھ دفعہ نہا بھی لیتے ہیں۔

زیادہ تر غیر قانونی ہیں، کچن میں چھپ جاتے ہیں۔ ہم نے کہا ایک دو نے پاکستانی شلوار قمیص اور ٹوپیاں پہن رکھی ہیں تو کہنے لگی جینز پہن کر پراٹھا پوری اور سیخ کباب بناؤ تو وہ پیٹزا اور ہاٹ ڈاگ کا ذائقہ دیتے ہیں۔

مینا نے اعلان کیا کہ بریانی کے دم پر آنے اور اس کی پیکنگ میں پورا پونا گھنٹہ لگے گا۔ ان سے کہا آپ کی سائز کے آرڈر پر چائے آن دی ہاؤس ہے۔ رضیہ نے ہماری طرف اشارہ کر کے کہا کہ He only takes Dom Prignon Rose۔ یہ سن کر مینا نے ہمارے چہرے پر منڈلاتے معصومیت کے رنگ بدلتے بادل دیکھے تو باسط باپو کو کہنے لگی He is not your type۔ رضیہ نے کہا مینا کو دیسی شاعر اور شاہ رخ خان بہت اچھے لگتے ہیں۔ کسی دن شاہ رخ اگر گوری خان کو چھوڑ دے تو یہ اس سے شادی کر کے ہندوستان کی شہریت لینے میں جنرل رانی کے بھتیجے اور فخر عالم کے رشتے میں ماموں گلوکار عدنان سمیع کی طرح ایک منٹ نہیں لگائے گی۔

اس موقع پر باسط نے جو چار سو ڈالر کی شمپیئن کی بوتل ہمارے اکاؤنٹ میں ڈال دی اس حوالے سے پر ہمیں صادقین کی ایک رباعی یاد آ گئی، صادقین کی پینٹنگز بھیانک، خطاطی قابل قدر اور رباعیات نسبتاً غیر معروف مگر دل کش ہیں۔

انگشت جس وقت یہ ڈائل کو گھما دیتے ہیں

وہ فون پر ہیلو کی صدا دیتے ہیں

محبوب کے والد جو کہیں آپ کا نام

احباب میرا نام بتا دیتے ہیں

ریستوراں میں مینا کے پاکستانی ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی تھا کہ ٹی وی پر چینل نائنٹی ٹو دکھائی دے رہا تھا اور میڈیا کے عزادار روف کلاسرا اور عامر متین خوش رنگ ٹائیاں لٹکا کر زبانی سینہ کوبی میں مصروف تھے۔ درد کے اس دورانیے میں ٹاک شو کی خاتون موڈریٹر سوز خوانی کرپشن میں اپنی برمے جیسی چبھتی ہوئی آواز سے سماعت کے پردے چاک کر کے دے رہی تھیں۔ ہم نے نگاہ ڈالی تو گاہکوں کی رہنمائی کے لیے دو عدد ایسے نوٹس بھی دکھائی دیے جن سے ہر امریکی ریستوراں محروم ہوتا ہے۔ یہ بد تہذیب جسارت صرف فیصل آباد والے ہی کر سکتے ہیں۔ پہلا نوٹس تھا۔ ادھار بند ہے (سوری) اسی کے نیچے درج تھا کہ ہماری طرح کیٹرنگ کے لیے ایڈوانس پہلے سے جمع کرایے۔ انگریزی میں ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے پے منٹ نہ تسلیم کرنے کا اعلان تھا۔ اس سے ٹیکس میں بچت ہوتی ہے۔

گریجویٹ پارٹی میں لوگ تھے۔ سب سے باتیں ہوئیں، ہمیں وہاں بھی دکھی کرنے درگا پور مغربی بنگال کی جایا لکشمی آئی تھی۔ اس سے ہماری گپ شپ یوں ہوئی کہ وہ باسط باپو کو پہلے سے جانتی تھی۔ چھوٹے شہر کی لڑکی جب نیویارک شہر میں پہنچی تو تنہائی کی وجہ سے زچ ہو کر Disorient ہو گئی ایسے میں اس عام سی شکل و صورت کی لڑکی کو ایکواڈور کا بریڈ پٹ جیسا ریکارڈو مل گیا۔ وہ پانی کے جہاز سے اتر کر فلوریڈا سے بھاگ لیا تھا۔ یہ وہاں درگا پور سے نیویارک شہریت کی لاٹری میں پہنچی تھی دونوں کچھ دن ساتھ رہے اور شادی کرلی اسی وجہ سے اسے یہاں قدم جمانے کا آسرا ہوگیا۔ دو سال شادی کے بعد ریکارڈو کو کوئی حسین و جمیل لبنانی لڑکی مل گئی تو اس نے جایا کو چھوڑ دیا۔ بے چاری نے تین سال فل ٹائم ہسپتال میں جمعدارنی کا کام کیا۔ اسے یہاں آج کل Hospital House keeping کہتے ہیں گو اس میں بستروں کی چادریں بدلنا اور medical waste کو ہٹانا بھی شامل ہوتا ہے مگر یہ بے چاری کالج اور گھر کی قربت میں فرش ہی mop کرتی رہی۔ پڑھائی کے دوران جز وقتی یہ خدمات سرانجام دیں۔

اس نے اب نرس کا کورس کیا ہے۔ خوش تھی۔ ہم نے کہا طلاق کے بعد زندگی کیسی تھی۔ وہ کہنے لگی میں نے پہلے مہینے ایکLabrador Retriever پال لیا۔ ہسپتال پانچ بجے آنا ہوتا تھا۔ سردی وہ بھی نیویارک کی اس میں میں چار بجے اپنے کتے کو ایک گھنٹے واک کراتی تھی۔ واپسی پر ایک گھنٹہ ہم دونوں جاگ کرتے تھے۔ والدین ریکارڈو سے شادی پر ایسے ناراض ہوئے کہ اب بھی گفتگو کا سلسلہ بحال نہیں ہوا۔ بتا رہی تھی کہ پہلے ہسپتال اور اب کالج سے آن کر دونوں کھانا کھا کر ٹی وی دیکھ کر سو جاتے تھے۔ کپل شرما کا کامیڈی شو ”اور Game of Thrones دونوں کے یعنی کتے اور مالکن کے پسندیدہ شوز ہیں۔ کتے کو گیم آف تھرونز زیادہ پسند ہے۔ رضیہ نے ہم سے کہا کہ اس کے کتے کا نام تو پوچھ لو۔ ہم نے ضد کی تو شرمانے لگی جیسے ہم نے گاؤں کی کسی لڑکی سے بوائے فرینڈ کا نام پوچھ لیا ہو جب باسط میاں نے ڈرایا کہ وہ خود نہیں بتائے گی تو وہ بتا دیں گے تو وہ شرما کے کہنے لگی کتے کا نام“ ڈالر” ہے۔ ہم نے کہا اس نام کو رکھنے کی کوئی خاص وجہ تو آہستہ سے جواب دیا ”When he is around I always feel safe and rich“

Facebook Comments HS

اقبال دیوان

ہمارے جگر جان ،اقبال دیوان پہلے کبھی افسر ہوتے وہ بھی ایسے کوئی خاص نہیں بس چھوٹے موٹے۔اللہ نے عزت رکھی ۔ اللہ بخشے خیر سے ریٹائر ہوگئے۔ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے اس طرح کہ کاموں میں۔ ایک بات اچھی ہے کہ میمن ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے کبھی دل نہیں چرایا اور دھندے کو دھرم نہیں جانا۔ ان دنوں گزر اوقات کے لیے ایک آرٹ اسکول میں مصوری سیکھنے جاتے ہیں۔فگر ڈرائینگ اور واٹر کلر میں دل چسپی ہے گوآتے دونوں ہی نہیں۔ مگر خوش ہیں کہ ہیں تو کسی کی نگاہ میں۔اولاد امریکہ یورپ بلاتی ہے مگر وہ راج کپور کی طرح گا کر ٹرخا دیتے ہیں کہ جینا یہاںمرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں۔ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں کروں گا کیا اگر ہوگیا ناکام ، بس سایہ دیوار ہے یہیں رہنے دو۔

iqbal-diwan has 123 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

3 thoughts on “بہت بولتی ہو رضیہ!

  • 28/06/2024 at 4:34 شام
    Permalink

    ابھے نندن جب گرفتار ہوا تو ونگ کمانڈر تھا اور اب مولا خوش رکھے گروپ کیپٹن ہوچکا ہے۔ اسکواڈرن لیڈر کہنا ایسا ہی ہے جیسے ڈی ایس پی کو سب انسپکٹر کہدیا جائے۔
    بپاشا باسو سے یاد آیا کہ اگر وہ جو گانا تھا۔ زبان پہ لاگا لاگا رے نمک عشق کا۔ وہ پچھلے دنوں بڑا یاد آیا۔
    اور یاد اس لئے آیا کہ اس کے ایک منظر میں بپاشا نے پولیس والے سینیئر افسر کی توپی چھین کر سر پر رکھ لی اور سی سی کرتی خود نہ مری ہمیں ماردیا۔
    اور یہ منظر مجھے اس وقت یاد آیا جب ہمارے پنجاب میں بھی ایک صاحبہ نے پولیس کی ورد ی اور ٹوپی پہن کر تصویر کھنچوائی تو مجھے سی سی کرتی بپاشا یاد آگئی۔ سچ تو یہ ہے بپاشا بنگالی ہے لیکن ۔۔۔

    • 28/06/2024 at 6:20 شام
      Permalink

      ویسے تو کنہیائوں اور ایسے معاملات پر آپ کی رائے اور بات صائب ہوگی لیکن یہاں کچھ چوک ہوگئی

      جنرل رانی کے بھتیجے اور فخر عالم کے رشتے میں ماموں ……. گلوکار عدنان سمیع کی طرح ایک منٹ نہیں لگائے گی۔

      جنرل رانی کی بہن کی بیٹی نورین (اگر وہ ان کی اپنی چھوٹی بہن نہ ہوئی تو) کی شادی ارشد سمیع سے ہوئی تھی۔ یوں جنرل رانی ارشد کی خلیا ساس تھیں۔ عدنان جنرل رانی کی بھانجی کا بیٹا تھا یوں نواسہ ہوا۔ عروسہ اور نورین آپس میں کزن ہیں۔ تو ان کے بچے بھی آپس میں سیکنڈ کزن کہلائیں گے یعنی عدنان اور فخر عالم آپس میں سیکنڈ کزن ہیں نا کہ ماموں بھانجے۔

  • 28/06/2024 at 6:26 شام
    Permalink

    ثروت ولیم کو ایک زمانے میں متاثرین کلاسرا ۔۔۔۔ چیٹر باکس کہتے تھے لیکن آُ نے بھی شان دار نام دیا۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تحریر کم از کم پانچ سال پرانی ہے۔ 92 والوں نے عامر متین اور پھر کلاسرا کو عرصے پہلے نکال دیا تھا۔ پھر ایک عرصۓ تک چچا کپی عرف ہارون رشید نے ثروت کو برداشت کیا ۔ اب شاید پھر عامر متین لوٹ کر آچکے ہیں۔

Comments are closed.