پاکستان میں شدت پسندی کا بڑھتا ہوا رجحان


گزشتہ دنوں بین الاقوامی میڈیا پر ایک اندوہ ناک واقعہ رپورٹ ہوا۔ خبر کے مطابق صوبہ ’خیبر پختون خواہ‘ کے ضلع سوات کی تحصیل مدین میں سیر کے لیے آئے ہوئے ایک 36 سالہ نوجوان کو پولیس اسٹیشن کے اندر قتل کرنے کے بعد لاش کو آگ لگا دی گئی۔ اطلاعات کے مطابق بد نصیب سیاح سیالکوٹ سے چھٹیاں گزارنے کے لیے وادیِ سوات میں آیا ہوا تھا۔ وہ وہاں کے ایک پر فضا پہاڑی مقام مدین کے مقامی ہوٹل میں رہائش پذیر تھا کہ اس کا ہوٹل کے مالک سے کرائے کے معاملے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا اور ہوٹل کے مالک نے اس کو سبق سکھانے کا گھناؤنا منصوبہ بنا لیا۔

اس نے پولیس کو اطلاع دی کہ ایک شخص جو اس کے ہوٹل میں رہائش پذیر ہے قرآن کے اوراق جلا رہا ہے۔ یہی اطلاع اس نے انتہا پسند مذہبی جماعت کے مقامی سربراہ کو بھی دی۔ پولیس موقع پر پہنچی اور نوجوان کو پولیس وین میں بٹھا کر پولیس اسٹیشن لے گئی۔ پولیس کا عملہ اس بات کا ادراک نہ کر سکا کہ توہین مذہب کا معاملہ بدترین صورتِ حال اختیار کر سکتا ہے۔ اور یہ کہ ایسے شخص کی جان بچانے کے لیے اس کو کسی خفیہ مقام پر منتقل کرنا چاہیے۔

اس اثناء میں مساجد میں اشتعال انگیز اعلانات ہونے لگے۔ پولیس ابھی تھانے پہنچ کر مذکورہ نوجوان سے پوچھ گچھ کر رہی تھی کہ ڈھائی تین سو افراد پر مشتمل ایک مشتعل جتھہ تھانے کی عمارت میں داخل ہو گیا اور نوجوان کو ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرنے لگا۔ پولیس کی طرف سے مزاحمت پر تھانے کے اندر لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔ جس میں آٹھ افراد زخمی ہوتے ہیں۔ بالآخر مشتعل جتھہ نوجوان کو پولیس سے چھین لینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ بد نصیب اور بے قصور نوجوان کو تھانے کے اندر گولی مار کر ہلاک کرتا ہے، میت کو برہنہ کرتا ہے، گھسیٹ کر باہر سڑک پر لاتا ہے اور تیل چھڑک کر آگ لگا دیتا ہے۔ اب تھانے کے باہر ہزاروں افراد کا ہجوم جمع ہو چکا ہے۔ جو فخر سے نعرے لگا رہے ہیں۔ اور کسی ٹی وی چینل کا رپورٹر جس کے عقب میں جلتی ہوئی لاش کے گرد ہجوم نظر آ رہا ہے، مقامی زبان میں چیخ چیخ کر اعلان کر رہا ہے۔ ”آئندہ بھی جو ایسا کرے گا اس کے ساتھ یہی سلوک ہو گا۔“ آخری خبریں آنے تک کسی کے خلاف پرچہ درج نہیں ہوا تھا اور نہ ہی کوئی ایک شخص بھی ایسا سامنے آیا ہے جس نے مقتول کو قرآن کی بے حرمتی کرتے ہوئے دیکھا ہو۔

پاکستان میں توہین مذہب کے نام پر کھلی دہشت گردی کا یہ اکیلا واقعہ نہیں ہے۔ ماضی قریب میں سرگودھا، خوشاب، جڑانوالا، ننکانہ صاحب، رحیم یار خان، سیالکوٹ اور عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے واقعات بہت پرانی باتیں نہیں ہیں۔ شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ریاستی قوانین بھی نادیدہ طور پر شدت پسند جتھوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ ان قوانین میں سب سے سخت توہینِ مذہب کا قانون ہے جس میں جھوٹا الزام لگانے کی کوئی سزا نہیں ہے۔

یاد رہے کہ توہینِ مذہب کا قانون برطانوی سامراج نے 1860 میں ہندو مسلم فسادات روکنے کے لیے بنایا تھا۔ 1947 میں مملکت پاکستان کو یہ قانون ورثے میں ملا مگر اس میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی۔ 1956 ء میں جب پہلا آئین بن گیا تو بھی توہینِ مذہب کا قانون جوں کا توں رہا۔ حتیٰ کہ 1973 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک کا پہلا جمہوری آئین بنایا تو بھی یہ قانون جوں کا توں رہا۔ اس قانون کو تقویت اس وقت ملی جب 1974 میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے مذہبی پیشوائیت کے دباؤ کے زیرِ اثر آئینی ترمیم کے ذریعے جماعتِ احمدیہ کو غیر مسلم قرار دے دیا۔

آگے چل کر توہینِ مذہب کے قانون کو فوجی آمر صدر جنرل ضیاء الحق نے اس زمانے میں مزید سخت کیا جب وہ انیس سو اسی کی دہائی میں امریکہ کے اشارے پر روس کے خلاف جنگ کے لیے مجاہدین تیار کرنے کے لیے پاکستان میں اسلامی شریعت نافذ کر رہے تھے۔ ضیاالحق نے توہین مذہب کا قانون مزید سخت کرتے ہوئے اس کی سزا، موت مقرر کر دی تھی۔ 1980 سے قبل توہینِ مذہب کی سزا ایک یا دو سال قید تھی۔

تبدیل شدہ قانون کے نفاذ کے بعد ماضی قریب تک توہینِ مذہب کے 2000 سے زیادہ مقدمات درج ہوئے۔ جب کہ 88 افراد کو قانون کا سامنا کرنے سے پہلے جتھوں نے قتل کر دیا۔ جنرل ضیاءالحق کے اقتدار کے خاتمے کے بعد تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی حکومتیں یک بعد دیگرے پاکستان میں حکومتیں بناتی رہیں مگر توہینِ مذہب کے قانون کو تبدیل نہیں کیا۔ حتیٰ کہ 1999 سے 2008 تک ملک پر جنرل پرویز مشرف کی مطلق العنان حکومت بھی مسلط رہی مگر انہوں نے بھی نہ تو اس قانون کو ختم کیا اور نہ نظر ثانی ہی کی۔

اس تاریخی کوتاہی کی بظاہر دو وجوہات نظر آتی ہیں : سیاسی مصلحتیں اور حکمرانوں کے دل میں شدت پسند مذہبی جتھوں کا خوف۔ جس کی ایک مثال سابق گورنر پنجاب کا قتل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ارباب اقتدار خواہ وہ وزیرِاعظم پاکستان ہوں یا وزیرِ اعلٰی خیبر پختون یا وزیرِ داخلہ، کسی صاحب بہادر نے سوات کے وقوعہ پر کوئی خاص نوٹس نہیں لیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عام لوگ معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے، اپنے حریف کو نیچا دکھانے کے لیے اور دوسروں کو بلیک میل کرنے کے لیے اس قانون کا ناجائز استعمال کر نے لگے ہیں۔

آج کل پاکستان میں توہین ِ مذہب کا الزام لگانا بہت آسان ہو چکا ہے۔ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ توہینِ مذہب کی وجہ سے قائم 80 فی صد مقدمات سنی سنائی گواہیوں پر قائم ہیں اور مجرمان جیلوں میں پڑے پڑے سڑ رہے ہیں۔ اگر اسی واقعے کو لے لیں تو ابھی تک کسی کو معلوم نہیں کہ مقتول نے قرآن کے اوراق جلائے بھی تھے کہ نہیں۔ اس الزام کا ایک بھی چشم دید گواہ میسر نہیں۔

بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ارباب اقتدار مذہبی جتھوں کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں اور معاشرے میں ایسے الزامات لگا کر کسی کی جان لینا بہت آسان ہو چکا ہے۔ مگر یہ تو صرف ایک آئس برگ ہے۔ جو صرف بیس فی صد نظر آ رہا ہے اس سے خطرناک وہ اسی فی صد ہے جو نظر نہیں آ رہا۔ اور وہ ہے شدت پسند ذہنیت۔ شدت پسند ذہنیت ملک میں شدت پسندی اور جتھہ راج کو فروغ دے رہی ہے۔ اس ضمن میں تشویشناک بات یہ ہے کہ معاشرے میں شدت پسندی کا یہ ناسور پچھلی چند ایک دہائیوں سے ایک تواتر سے بڑھتا جا رہا ہے۔

ہمارے معاشرہ افغان جنگ سے قبل ایک روادار، امن پسند اور کسی قدر روشن خیال معاشرہ تھا۔ ہمارے دیس میں شدت پسندی اور انتہا پسندی کا آغاز 1980 کی دہائی میں اس وقت ہوا جب ہم پاکستان میں مجاہدین ِ اسلام کی اسمبلی لائن بنا کر افغانستان میں امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے۔ اس سے اگلی کہانی نہایت تکلیف دہ ہے۔ مختصراً یہ کہ جب پشاور میں ہمارے 133 بچے ذبح ہوئے اور اس کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تو ہمیں معلوم ہوا کہ شدت پسندوں کی سرپرستی کرنا گھر میں سانپ پالنے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

مگر پالیسی ساز اشرافیہ نے اس سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ بلکہ گزشتہ سیاسی دور میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کی باتیں بھی سننے میں آتی رہی ہیں اور تحریکِ لبیک پاکستان جیسی شدت پسند مذہبی جماعت کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے نہ صرف مضبوط کیا گیا بلکہ ایک بڑی سیاسی جماعت کو کمزور کرنے کے لیے انتخابات کے لیے بھی تیار کیا گیا۔ اب ٹی ایل پی نے بھی پاکستان میں وہی کام شروع کر دیا ہے جو ٹی ٹی پی نے پشاور میں کیا اور پاک افغان سرحد پر اب بھی کر رہی ہے۔

سوات کا واقعہ دنیا بھر میں کم و بیش ایک سو ٹی وی چینلز پر دکھایا گیا ہے۔ اس صورت حال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے غیر محفوظ ماحول میں کون سرمایہ دار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کرے گا؟ ایسی خبریں سن کر کون سا دیوانہ پاکستان میں سوات جیسی خوبصورت وادیوں کی سیر کرنے کا رسک لے گا؟ اور سب سے بڑھ کر کون سا مہذب ملک پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کو فروغ دینا پسند کرے گا؟

اس سے قبل کے شدت پسندی کا جن قابو سے باہر ہو جائے، نیشنل سیکورٹی کمیٹی سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز بیٹھ کر فیصلہ کریں کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کو آزاد، روادار اور پر امن پاکستان دینا چاہتے ہیں یا طالبان کا افغانستان دینا چاہتے ہیں۔ اگر وہ اپنے بچوں اور پھر ان کے بچوں کو ایک امن پسند، روشن خیال اور محفوظ پاکستان دینا چاہتے ہیں تو ملک میں کچھ اقدامات کرنے کی فوری ضرورت ہے :

ریاستی ادارے اور سیاست داں خلوص نیت سے ملک سے شدت پسندی کے خاتمے کا عہد کریں۔
ریاستی ادارے شدت پسند مذہبی جماعتوں کی سر پرستی ترک کر دیں۔

قانون سازی کے ذریعے شدت پسند مذہبی نظریات رکھنے والی جماعتوں پر سیاست کرنے اور الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی جائے۔

اس وقت توہینِ مذہب کا جھوٹا الزام لگانے کی قانون میں کوئی سزا مقرر نہیں۔ حکومت اور پارلیمنٹ توہینِ مذہب کے قانون پر نظر ثانی کرے اور اس قانون میں جھوٹے الزام کی سخت سے سخت سزا مقرر کرے۔

اگر بر وقت اقدامات نہ کئے گئے تو پاکستان میں شدت پسندی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا رہے گا۔

Facebook Comments HS

One thought on “پاکستان میں شدت پسندی کا بڑھتا ہوا رجحان

  • 29/06/2024 at 7:49 شام
    Permalink

    A balance overview of the situation. Great

Comments are closed.