باجی نصرت کا دوسرا نکاح
آج پھر باجی نصرت کا فشار خون بلند ہو گیا۔ آج پھر انھیں اسپتال ایمرجنسی لے جانا پڑا۔ آج پھر ان کے پانچ اور چھ سالہ بچوں نے ماں کو تڑپتے دیکھا۔ آج پھر ان کی رات ماں کے انتظار اور باپ کی یاد کے ساتھ گزری۔ آج پھر اس پچیس سالہ تمکنت نے گھر میں وہی پرانی بات کی۔ آج پھر اس کو آپا بلقیس سے ڈانٹ پھٹکار سننے کو ملی۔ آج پھر گھر کے مرد لاتعلق رہے اور اسے خشمگیں نظروں سے دیکھتے رہے۔
چار برس پہلے باجی نصرت اس وقت بیوہ ہو گئیں۔ جب ان کی دو اولادوں میں سے چھوٹا ایک سال کا تھا۔ اور وہ خود چھبیس کی۔ بھائی قاسم کو موت جیسے بھی آئی۔ پیارے اور سہارے کو ساتھ لے گئی۔ اور غم خواروں میں رہ گئے باجی نصرت اور ان کے دو کم سن بیٹے۔ جانے والا واحد کفیل تھا۔ لیکن مناسب روزگار تھا۔ اگر بے فکری نہیں تھی تو عسرت بھی نہیں تھی۔ گھر کا نظام مناسب چلتا تھا۔ خود یتیم رہا تھا اس لئے بچوں میں جان تھی۔ چار افراد خوش تھے۔
گھر کے دائیں طرف کی دیوار سگے چچا کے مکان سے جڑی تھی۔ اور محبت ایسی کہ ایک دوسرے کی طرف جانے کے لئے کبھی بیرونی دروازے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ اندر دروازے کھلتے۔ بھائی قاسم کا باپ اس کا یہ چچا ہی تھا۔ جس کی اپنی سات اولادیں تھیں۔ دو بیٹیاں، پانچ بیٹے۔ اور بھائی قاسم کو ملا کر آٹھ۔ جو ان سب میں بڑا تھا۔ اور واحد شادی شدہ بھی۔
پھر بھائی قاسم اچانک ہی زبردستی، ٹھنڈی یخ رات اور برستی بارش میں سڑک پر حادثے کا شکار ہو کر چلا گیا اور پیچھے رہ گئی باجی نصرت۔ جس کی زندگی میں مانو تو یہی چند سال اطمینان سے گزرے تھے۔ میکے میں ان کے علاوہ دو شادی شدہ بہنیں تھیں۔ والدہ شادی سے پہلے اور والد شادی کے دو سال بعد دنیا سے رخصت ہو گیا۔ یعنی پیچھے دیکھنے کو کچھ بچا نہیں تھا۔ چار سال انتظار کے بعد وہ دونوں صاحب اولاد ہوئے تھے۔ اور ابھی تو ماں، باپ بننے کی خوشی جینا ہی شروع کی تھی کہ بیوگی نے ان کی اور یتیمی نے ان کے بچوں کی زندگی مشکل کر دی۔
چچا نے کچھ بھتیجے کی محبت میں، کچھ زمانے میں ناک اونچی رکھنے کو اور کچھ گھر میں سہولت کو باجی نصرت اور بچوں کی کفالت کی ذمہ داری لے لی۔ چچا کی بچیاں کالج جاتی تھیں، بیوی، وہ خود اور دو بڑے لڑکے روزگار پر، باقی جامعات میں۔ مددگار رکھنے کی نہ نیت تھی نہ ارادہ۔ اس لئے باجی نصرت اور ان کی اولاد کے سردی، گرمی کے دو دو جوڑوں اور روٹی، پانی کے عوض جز وقتی ملازمہ مل گئی۔ اس کے ساتھ تین کمروں کا وہ مکان بھی چچا کے لئے آسرا تھا جو باجی نصرت کے زیر استعمال تھا۔ اور ان کی عیال داری میں بڑی پناہ گاہ۔ دوسرا باجی نصرت کے پاس پلٹ کر جانے کو کوئی کمزور سہارا تھا نہ خود کوئی بہتر تعلیمی ڈگری یا ہنر۔ جس کے بل بوتے پر خود آسرا کرتیں۔ کم ہمتی اور کم اعتمادی تیسرا پہلو تھا جو ان کی راہ میں رکاوٹ تھا۔
تمکنت نے باجی نصرت کو پہلی بار چہلم کے ختم پر دیکھا تھا۔ اجڑی، غم زدہ، پریشان، بچوں کو ساتھ لگائے۔ وہ (تمکنت) بھائی قاسم کی پھپھو کے بیٹے (کزن) کی بیوی تھی۔ وفات کے وقت کسی ناگزیر وجہ کے باعث پہنچ نہیں پائی تھی۔ علاوہ ازیں کسی بڑے عہدے پر فائز تھی۔ خانگی اور دفتری ذمہ داریاں اس کی ایسی ملاقاتوں کو محدود کرتیں۔ خیر! وہ ذہنی طور پر باشعور تھی، معاشی طور پر مستحکم، درد دل اس کی اضافی خوبی تھی جس سے اس کا ہر واقف کار آشنا تھا۔ ان باتوں پر بھی بات کرتی جس کی جرات عموماً نہیں کی جاتی۔
باجی نصرت سے اس کی دوسری ملاقات سال بعد چچا کے بیٹے کی شادی پر ہوئی۔ نکاح ہو رہا تھا کہ سجی سجائی باجی نصرت آنا فانا بے ہوش گئیں۔ کیا پریشانی بنی؟ کیسے ہوش میں آئیں؟ کتنی دوڑ لگی؟ الگ قصہ ہے لیکن سمجھو آدھے گھنٹے میں نچڑ گئیں۔ اگلے دن ولیمے پر بھی شریک نہ ہو سکیں کہ طبیعت بار بار بے حال ہو رہی تھی۔ فشار خون بلند ہوتا۔ چہرہ لال بھبھوکا اور وہ ہاتھوں میں۔ پہلی دفعہ تو اتفاق لگا لیکن اس کے بعد دور و نزدیک میں کسی کی طرف سے بھی رشتہ پکا ہونے، منگنی یا شادی کی خبر ملتی تو باجی نصرت کی جان کے لالے پڑ جاتے۔
بعض دفعہ خود تمکنت کو دیکھنے کو ملا۔ کئی بار ایسی خبریں گھر پہنچ جاتیں۔ خود اگلے تین سالوں میں چچا کے دو بیٹوں کے بر دکھاوے اور برات پر کم و بیش ایسے ہی نظارے دیکھنے کو ملے۔ تب سے تمکنت جب بھی آپا بلقیس (چچی) سے ملتی۔ باجی نصرت کے دوبارہ نکاح کروانے کا تذکرہ کرتی۔ ابتدا میں آگے سے چچی سنی ان سنی کر کے خاموشی اختیار کر لیتیں۔ بات پلٹ دیتیں۔ لیکن تمکنت کے بار بار کی تکرار پر بالآخر ان کی چپ لاوے کی طرح پھٹی۔
اور تمکنت کو شرم و حیا کا سبق ملنے لگا۔ بڑوں کی موجودگی میں ایسی باتوں پر ناراضگی کا اظہار ہونے لگا۔ باجی نصرت پر کیے جانے والے احسانوں کا تذکرہ ہونے لگا۔ پیٹ کی ضرورتیں پوری ہو رہی تھیں۔ اور کیا چاہیے تھا؟ تمکنت کے کہنے پر کہ کھانے، پینے کے علاوہ بھی ضرورتیں ہوتی ہیں۔ کئی اخراجات ہاتھ پر رقم کا تقاضا کرتے ہیں۔ خود مختاری اور اپنے گھر کی آزادی بھی انسانی خواہش ہے۔ دوسراہٹ، ساتھی، غم گسار کی تمنا جذباتی اور فطری تقاضا ہے۔
اس کی ایسی دلیلوں پر تو وہ کانوں کو ہاتھ لگاتیں۔ توبہ استغفار کرتیں۔ تمکنت کا شوہر بھی اس کا حامی تھا۔ یوں رفتہ رفتہ بات آپا بلقیس سے گھر کے مردوں تک چلی گئی اور ہر دم نیا ہنگامہ اور ملامتی نظریں۔ خاندانی روایات کی یاددہانی اور برادری میں ناک کٹنے کا بہانہ۔ ساتھ ہی باغی ہونے کی مہر۔ جس کا سامنا تمکنت اور اس کے شوہر کو ہر بار ملنے پر کرنا پڑتا۔ اور یوں چھ سال بیت گئے۔
اور آج کا دن آ گیا۔ جب آپا بلقیس کے بیٹے کا نکاح ہے۔ گھر پھر مہمانوں سے بھرا پڑا ہے۔ اشتہاء انگیز کھانوں کی خوشبوئیں، پھولوں کی مہک، قہقہوں کا طوفان ہر طرف ہے۔ اور چچی اور چچا کے تو پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے۔ جیسے ہفت اقلیم کی دولت ہاتھ لگی ہو۔ کیونکہ بیٹے کا غم ان کے دل پر زخم لگا رہا تھا۔ اس کی بے رنگ زندگی نے ان کی زندگی کے سب رنگ سفید کر دیے تھے۔ اس کی تنہائی نے ان کی گھر کی رونقیں ختم کر دی تھیں۔
دو ماہ پہلے اس کی بیوی کا انتقال ہو گیا تھا۔ اور آج اس کی دوسری شادی ہو رہی تھی۔ جوان جہاں مرد بھلا کیسے اکیلا رہتا؟ اس لئے ادھر دولہا جب دلہن لانے کو گھر سے نکل کر گاڑی میں بیٹھ رہا تھا۔ ادھر گھر کے اندر باجی نصرت پھر ہوش سے بیگانہ فرش پر گری پڑی تھی۔ اور بڑا سا سوالیہ نشان تمکنت کے سامنے تھا کہ پکی روٹی، دھلے اور استری کپڑے تو آپا بلقیس کے بیٹے کو بھی مل رہے تھے۔


