اپنی بہترویں سالگرہ پر اپنے دوستوں کے لیے ایک ادبی تحفہ
جب مجھ سے ایک روایتی اور مذہبی دوست نے پوچھا
ڈاکٹر سہیل! کیسے مزاج ہیں؟
اور میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ
زندگی ایک محبوبہ کی طرح مہربان ہے
تو وہ خاموش ہو گئے۔ ان کی خاموشی پراسرار تھی۔
عین ممکن ہے ان کی زندگی میں جو محبوبہ آئی ہو وہ مہربان نہ ہو۔ اس نے ایک مشرقی اور روایتی محبوبہ کی طرح اپنے عشوہ و غمزہ و انداز و ادا سے بہت ظلم ڈھائے ہوں۔ ان کی محبوبہ جفا کش ہو۔ بے وفا ہو۔ اس نے انہیں ہجر کی تکالیف سے گزارا ہو اور ان کی راتوں کی نیند اڑائی ہے۔
یہ میری خوش بختی ہے کہ میری زندگی میں میری محبوبائیں بہت مہربان رہی ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ میری زندگی بھی ہمیشہ محبوبہ کی طرح مہربان رہی ہے۔
یہ جولائی کا مہینہ ہے اور جولائی میری سالگرہ کا مہینہ ہے۔ چونکہ میں انیس سو باون میں پیدا ہوا تھا اس لیے دو ہزار چوبیس میں میری بہترویں سالگرہ ہے۔
اس سالگرہ کے موقع پر جب میں اپنے ماضی کی طرف نگاہ دوڑاتا ہوں اور اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی کے صبح سے شام کے سفر کے تجربے ،مشاہدے، مطالعے، اور تجزیے سے اور شعور کی آنکھ کھلنے سے اب تک کیا سیکھا تو میرا دل کہتا ہے
"یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں”
اس سفر میں مجھے اتنی کامیابیاں نصیب ہوئیں کہ میں فیض کا یہ شعر گنگناتا رہا
فیض تھی راہ سر بسر منزل
ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے
اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ آپ کا فلسفہ حیات کیا ہے تو میں کہوں گا
انسان دوستی
اور یہ فلسفہ میں نے کئی بزرگوں اور کئی حوالوں سے سیکھا۔
میں یہاں اپنے فلسفیانہ سفر کے چند سنگ میلوں کا ذکر کرنا چاہوں گاْ تا کہ آپ اس سفر کے باقی حصے چشم تصور سے دیکھ سکیں۔
پہلا سنگ میل۔ بچوں کا احترام
میں جب بچہ تھا تو اپنی والدہ کے ساتھ گرمیوں کی چھٹیاں منانے پشاور سے لاہور آیا کرتا تھا جہاں چار مزنگ روڈ پر میری نانی اماں رہا کرتی تھیں۔ میری نانی سرور محبت کا سمند تھیں۔ وہ مجھ سے میری رائے پوچھا کرتی تھیں
سہیل بیٹا آپ دودھ پئیں گے یا جوس؟
دودھ
دودھ میں برف ڈال کر پئیں گے یا دودھ گرم کر کے پئیں گے؟
برف ڈال کر
رات کو نانی اماں پوچھتی تھیں
سہیل بیٹا آپ کمرے میں سوئیں گے یا چھت پر ؟
چھت پر
باقی رشتہ دار مجھ سے ایک بچے کا سا سلوک کرتے تھے لیکن میری نانی اماں مجھ سے ایک چھوٹے سے انسان کا سا سلوک کرتی تھیں۔ وہ مجھ سے میری رائے پوچھتی تھیں اور پھر اس رائے کا احترام بھی کرتی تھیں۔ اسی لیے میں ان کی بہت عزت کرتا تھا اور ان سے اتنا پیار کرتا تھا کہ جب میں نے اپنے اپنے افسانوں کا مجموعہ "دھرتی ماں اداس ہے”چھپوایا تو اس کا انتساب اپنی پیاری نانی اماں کے نام کیا۔
دوسرا سنگ میل۔ عورتوں کا احترام
جب میں دس سال کا تھا اور میری چھوٹی بہن عنبر پانچ سال کی تھیں تو ایک دن کھیلتے کھیلتے انہیں مجھ سے دھکا لگا۔ وہ زمین پر گر گئیں اور انہیں چوٹ لگی۔
شام کو جب میرے ابو امی عنبر اور میں کھانا کھا رہے تھے تو عنبر نے ابو جان سے شکایت کی اور کہا
سہیل بھائی نے مجھے گرایا تھا اور مجھے چوٹ لگی تھی اور خون بھی بہا تھا
ابو جان نے کہا کھانا کھانا روک دیں اور سہیل بیٹا آپ اپنی چھوٹی بہن سے معافی مانگیں
اس لمحے میری انا آڑے آئی اور میں خاموش ہو گیا
ابو جان نے کہا سہیل بیٹا جب تک آپ معافی نہیں مانگیں گے ہم کھانا نہیں کھائیں گے۔ چنانچہ میں نے اپنی انا اور اپنا تھوک نگلا اور کہا
عنبر مجھے معاف کر دیں
معافی مانگنے سے مجھے لگا کہ مسئلہ حل ہو گیا لیکن ایسا نہیں تھا۔
ابو جان نے عنبر سے پوچھا
عنبر بیٹا کیا آپ نے اپنے بھائی جان کو معاف کر دیا ہے
عنبر نے کہا۔ ہاں۔
اس ایک لفظ ہاں نے عنبر کی عزت نفس کو بڑھایا اور مجھے لڑکیوں اور عورتوں کا احترام کرنا سکھایا۔
عورتوں کے احترام نے ہی مجھے عمر بھر عورتوں سے دوستی کرنا بھی سکھایا۔
تیسرا سنگ میل۔ مزدوروں کا احترام
میں نے اپنے ابو جان عبدالباسط سے مزدوروں کا احترام کرنا بھی سیکھا۔ ابو جان فرمایا کرتے تھے سہیل بیٹا ہمیں ان ہاتھوں کا احترام کرنا چاہیے جو مزدوری کرتے ہیں بھیک نہیں مانگتے۔ چاہے وہ درزی کے ہاتھ ہوں بڑھئی کے ہاتھ ہوں یا موچی کے ہاتھ۔
ابو جان سب غریبوں کسانوں اور مزدوروں سے عزت سے پیش آتے تھے۔
ہماری گھر جو عورت کپڑے دھونے آتی تھیں ابو جان ان سے آپ کہہ کر بات کرتے تھے۔
ایک دن گھر سے جمعدارنی گزر رہی تھی تو ابو جان نے کہا۔
سہیل بیٹا! لوگ ان کو دیکھ کر منہ پر رومال رکھ لیتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ اگر شہر کے خاکروب احتجاجاً کام کرنا بند کر دیں اور سٹرائک پر چلے جائیں تو ایک ہفتے میں سارا شہر بدبودار ہو جائے۔
چوتھا سنگ میل۔ نوجوانوں کا احترام
جب میں ایڈورڈز کالج پشاور میں پڑھتا تھا تو ہمارے پرنسپل فل ایڈمنڈز جو آسٹریلین تھے ہمیں انگریزی ادب پڑھایا کرتے تھے۔ ایک دن کلاس میں کہنے لگے
میرا بیٹا ڈیوڈ لندن سے لوٹا ہے اس نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اس لیے میں بہت خوش ہوں
ایک طالب علم نے کہا
اب آپ اس کی شادی کریں گے اس کے لیے دلہن تلاش کریں گے
پرنسپل صاحب کے چہرے پر بزرگانہ مسکراہٹ پھیل گئی اور کہنے لگے
میرا بیٹا جوان ہے عاقل و بالغ ہے وہ اپنے لیے شریک حیات خود تلاش کر سکتا ہے اور اگر وہ اپنے لیے دلہن تلاش نہیں کر سکتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ابھی شادی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
میں نے نوجوانوں کی رائے کا احترام اپنے پرنسپل سے سیکھا۔
پانچواں سنگ میل۔ اقلیتوں کا احترام
جب میں ایک ٹین ایجر تھا اور میڈیکل کالج میں پڑھتا تھا تو میرے ایک دوست احمدی تھے۔ جب انہوں نے مجھے بتایا کہ لوگ ان سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ ان کے گھر کے آگے کوڑا پھینکتے ہیں تو میں بہت دکھی ہوا۔ میں نے سوچا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے عقیدے کا احترام کریں تو ہمیں دوسروں کے عقیدے کا بھی احترام کرنا چاہیے۔
میں نے اپنے دوست سے اقلیتوں کے عقیدے کا احترام سیکھا۔
چھٹا سنگ میل۔ انسانوں کا احترام
وہ پہلے ادیب جو انسان دوست تھے اور جن سے میں نے سب انسانوں کا احترام سیکھا وہ سعادت حسن منٹو تھے۔ منٹو نے انیس سو سینتالیس کے حادثات کے بارے میں بہت سے افسانے تحریر کیے۔ ایک افسانے میں لکھتے ہیں
آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ ایک لاکھ مسلمان جنت میں گئے اور ایک لاکھ ہندو واصل جہنم ہوئے۔ آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم نے دو لاکھ قیمتی انسانی جانیں کھو دیں۔
ساتواں سنگ میل۔ انسان دوستی
جوں جوں میری زندگی کا تجربہ مشاہدہ مطالعہ اور تجزیہ بڑھتا گیا توں توں میں نے رنگ نسل زبان مذہب اور قومیت سے بالاتر ہو کر انسانوں سے دوستی کرنا سیکھا اور جانا کہ انسان کا کردار باقی سب خصوصیات سے زیادہ اہم ہے۔
مارٹن لوتھر کنگ نے بھی اپنی مشہور تقریرI HAVE A DREAM میں فرمایا تھا کہ میں اس دن کا خواب دیکھ رہا ہوں جب میرے بیٹوں کو جسم کی رنگت کی بجائے کردار کی عظمت کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا۔
چین کے انسان دوست دانشور کنفیوشس نے سب سے پہلے انسانیت کو یہ سنہری اصول سکھایا کہ دوسرے انسانوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو جیسا کہ تم چاہتے ہو وہ تمہارے ساتھ کریں۔
اب جبکہ میں بہتر سال کا ہو گیا ہوں اور اپنی زندگی کی شام تک پہنچ گیا ہوں میں نے اپنی مہربان محبوبہ زندگی سے یہ سیکھا ہے کہ ہم سب انسانوں کا ایک دوسرے سے انسانیت کا اٹوٹ رشتہ ہے۔ ہمارے دشمن بھی ہمارے دور کے رشتہ دار ہیں کیونکہ ہم سب دھرتی ماں کے بچے ہیں۔
یہی میرا انسان دوستی کا فلسفہ ہے اور یہی فلسفہ میری ذاتی ’سماجی اور ادبی زندگی میں میرے لیے مشعل راہ ہے۔
اسی فلسفے کی جھلک آپ کو میری غزلوں نظموں افسانوں اور کالموں میں دکھائی دے گی۔ اسی لیے میں کہتا ہوں
میری تخلیقات انسانیت کے نام میرے محبت نامے ہی تو ہیں۔



دعا ہے کہ آپ کو اللہ تعالی مزید کئی سال ایسی ادبی کاوشیں ماہ جولائی میں لکھنے کی استطاعت دے اور ہم اس سے مستفید ہوسکیں۔ آمین