(12) گرانڈ پیانو: صلیبیں اپنی اپنی
”تم بگل کی آواز کے ساتھ خداوند کی ستائش کرو۔ بربط اور ستار کے ساتھ اُس کی مدح سرائی کرو۔ دف کے ساتھ اور ناچتے ہوئے اُس کی ستائش کرو۔ تار دار سازوں اور بانسلی کے ساتھ اُس کی مدح سرائی کرو۔ بلند آواز والے جھانجھ کے ساتھ اُس کی ستائش کرو۔ اونچے آواز والے جھانجھ کے ساتھ اُس کی مدح سرائی کرو۔“ زبور 150 : 3۔ 6
پادری پال ان دنوں شیر خوار بچوں کی طرح قلقاریاں مار رہے تھے کیوں کہ ان کی جماعت کے ایک پرانے ممبر نے جو کئی سال پہلے کوئٹہ منتقل ہو گیا تھا انہیں خط لکھا تھا کہ اسے ایک گرانڈ پیانو مل گیا ہے جو اس نے چرچ کے لیے خرید کر ٹرک پر لدوا دیا ہے۔ چار روز پہلے یہ پیانو پہنچا تھا جسے پرانے آرگن کی جگہ نصب کرنا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ٹرک پر ڈرائیور اور کلینر کے ساتھ ایک اور صاحب کوئٹہ سے آئے تھے جن کا نام عبدالمنان تھا اور ان کا پیشہ پیانو کو نصب کر کے ٹیون کرنا تھا۔ پیانو کے تاروں کو ریاضی کے اصولوں پر کسا جاتا ہے اور جب کی بورڈ کے کسی نوٹ پر انگلی کی پور ماری جاتی ہے تو ایک چھوٹا سا لکڑی کا ہتھوڑا تار پر پڑتا ہے جس سے تار جھنجھنا جاتا ہے۔ اگر پیانو کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جائے تو وہ بے سُرا ہو جاتا ہے اور اسے دوبارہ ٹیون کرنا پڑتا ہے۔
جب دانی ایل نے انہیں منان صاحب کہہ کر پکارا تو انہوں نے اسے سمجھایا کہ منان خدا کا نام ہے اور اس کے ساتھ ہمیشہ عبدل لگایا جاتا لہٰذا دانی ایل انہیں عبدالمنان صاحب کہتا تھا۔ ان کے سفید بالوں اور چہرے کی جُھریوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ خاصے عمر رسیدہ ہیں۔ لمبی ڈاڑھی اور شیو کی ہوئی مونچھیں اُن کے خاصے مذہبی ہونے کی علامت تھیں۔ صبح ہی صبح آ جاتے اور سورج غروب ہونے تک کام کرتے۔ ان کے پاس پی آئی اے کا سبز رنگ کا بیگ تھا جس میں جائے نماز اور دوپہر کا کھانا ہوتا تھا۔
جب پہلے روز ان کی ملاقات پادری پال سے ہوئی تو انہوں نے پوچھا کہ اگر ان کی اجازت ہو تو وہ وہاں نماز پڑھ لیا کریں۔ پادری پال نے ہنس کر کہا کہ وہ اللہ میاں سے پوچھ لیں اور اگر اسے کوئی اعتراض نہ ہو تو پڑھ لیا کریں۔ چناں چہ وہ قربان گاہ کے برابر ہی اپنا جائے نماز بچھا لیتے، اور ظہر اور عصر کی نماز چرچ میں ہی پڑھتے تھے۔ انہوں نے بچپن ہی سے اپنے والد کی دکان میں کام کرنا شروع کر دیا تھا جہاں موسیقی کے آلات بکتے تھے اور ان کا کام پیانو کو ٹیون کرنا تھا۔
انہوں نے لکڑی کے وہ کریٹ کھولے جن میں پیانو کے پارٹ پیک کیے گئے تھے اور جب انہوں نے ایک ماہر مستری کی طرح سارے حصوں کو جوڑ کر پیانو کی شکل دی تو معلوم ہوا کہ وہ 9 فٹ لمبا تھا اور اس نے قربان گاہ کی بائیں جانب تقریباً پورا اسٹیج گھیر لیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ کنسرٹ کوالٹی کا پیانو تھا جو اسٹیج پر پورے آرکیسٹرا کے ساتھ بجایا جاتا ہے۔ اس کی آواز عام پیانو کے مقابلے میں کافی گہری اور بلند ہوتی ہے۔
پیانو کے تمام حصے جوڑنے اور اسے اسٹیج پر کھڑا کرنے میں عبدالمنان صاحب کو دو دن لگے اور پھر مزید دو دن اسے ٹیون کرنے میں لگے۔ وہ سارا دن آنکھیں بند کیے بیٹھے ایک ایک نوٹ کو کئی بار ہلکے سے جھٹکا دیتے اور اس سے پیدا ہونے والی آواز کو سنتے۔ خدا نے ان کے کانوں کو یہ صلاحیت دی تھی کہ وہ ہر آواز کو سن کر اس کی باریکی کا سُر کے ساتھ مقابلہ کر سکتے تھے۔
پادری پال نے دانی ایل کو عبد المنان کا انچارج بنا دیا تھا اور آج اسے ٹیسٹ کرنا تھا کہ سارے سُر ٹھیک کام کر رہے ہیں یا نہیں۔ دانی ایل نے میرے ساتھ پروگرام بنایا کہ شام تک عبدالمنان صاحب پیانو اس کے حوالے کر دیں گے تو ہم دونوں چرچ جاکر اسے ٹیسٹ کریں گے۔ مجھے تو خیر پیانو کی اے بی سی بھی معلوم نہیں تھی مگر کمپنی دینے کی خاطر اس کے ساتھ چلنے کا وعدہ کر لیا۔
***
چھ ماہ قبل جب بشیر چاچا کی رجمنٹ کا تبادلہ کھاریاں کینٹ ہو گیا تو دانی ایل بیراج کالونی میں کرائے کے گھر میں منتقل ہو گیا تھا۔ اس گھر میں دانی ایل کے علاوہ دو اور کرائے دار تھے جو اسی کی کمپنی میں کام کرتے تھے۔ ان میں سے ایک کا نام ندیم تھا جس سے میری خاصی بے تکلفی ہو گئی تھی۔ دبلا پتلا، پھرتیلا اور روزانہ شیو کرنے کا عادی تھا۔ اسے کھانا پکانے کا اتنا شوق تھا کہ کسی دوسرے کو باورچی خانے میں گھسنے نہیں دیتا تھا۔ دانی ایل کا کام صرف برتن دھونا اور چھٹی کے دن صفائی کرنا تھا۔ تیسرے کرائے دار انجم صاحب تھے جو کافی سینئر تھے، بڑی باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے۔ ندیم اور دانی ایل کی دیکھا دیکھی میں نے بھی انہیں انجم بھائی کہنا شروع کر دیا اور انہوں نے میرا نام عزیزِ من رکھ دیا۔
میں پروگرام کے مطابق دانی ایل کے گھر پہنچ گیا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا اور سامنے ہی برآمدے میں انجم بھائی اپنے بستر پر لیٹے ہوئے حسب معمول کوئی کتاب پڑھ رہے تھے۔
”آؤ آؤ عزیز من،“ انہوں نے اپنے بستر کے برابر بچھی ہوئی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔ یہ کرسی ہمیشہ بچھی رہتی تھی جس طرح مریضوں کے بستر کے ساتھ عیادت کرنے والوں کے لیے بچھائی جاتی ہے۔
”یہ لوگ کہاں غائب ہو گئے؟“ میں نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
”ندیم تو اپنے کسی دوست سے ملنے کے لیے گئے ہیں اور دانی ایل میرے لیے نکّڑ کی دکان سے سگرٹ لینے کے لیے گئے ہیں۔ آتے ہی ہوں گے،“ انہوں نے جواب دیا۔
”میں نے سوچا تھا کہ ندیم ہوں گے تو چائے ملے گی۔“
”بالکل چائے ملے گی۔ ندیم چائے بنا کر اس تھرموس میں بھر گئے تھے، باورچی خانے سے ایک کپ نکال لو،“ انہوں نے میز پر رکھے ہوئے تھرموس کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ میں اٹھنے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ دانی ایل پہنچ گیا۔
”سوری یار، مجھے دیر ہو گئی۔ بس میں پانچ منٹ میں آیا،“ دانی ایل نے سگرٹ کا پیکٹ اور باقی بچے ہوئے پیسے میز پر رکھتے ہوئے کہا اور اپنے کمرے میں کپڑے بدلنے کے لیے چل دیا۔
”جلدی کرنا یار، رکشے کا میٹر چل رہا ہے۔“
”عزیزِ من، تم جب تک چائے پیو،“ انجم بھائی نے تھرموس کی طرف اشارہ کیا۔
”چھوڑیں انجم بھائی، اب دیر ہو گئی ہے،“ میں نے جواب دیا، ”ہمیں ذرا جلدی پہنچنا ہے۔ “
جب دانی ایل اور میں چرچ پہنچے تو عبدالمنان صاحب اپنی جائے نماز لپیٹ کر اٹھ رہے تھے۔
”میں تو اب پوری طرح مطمئن ہوں، آپ ذرا چیک کر لیں،“ انہوں نے دانی ایل سے کہا۔
دانی ایل نے اسٹول پر بیٹھتے ہوئے آستینیں چڑھائیں اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنسا کر بازوؤں کو پھیلایا۔ یہ اس کا پیانو بجانے سے پہلے انگلیوں کی ورزش کرنے کا طریقہ تھا۔
”آئیے ہم ہال کے مختلف حصوں میں کھڑے ہو کر آواز کی کوالٹی چیک کریں گے،“ عبد المنان صاحب نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
ہم دونوں اسٹیج سے اتر آئے اور ہال کی پشت کی طرف چل دیے۔ جب دانی ایل نے ایک دُھن چھیڑی تو عبدالمنان صاحب رکے اور پیچھے مڑ کر دیکھا۔ پھر سر جھکائے موسیقی کے چند بار سن کر مسکراتے ہوئے بولے، ”یہ دانی ایل بھی کمال کا لڑکا ہے۔ اس نے سی میجر میں باخ کے پریلیوڈ سے ابتدا کی ہے۔ پیانو کی ٹیوننگ کو چیک کرنے کے لیے میں بھی یہی دھن استعمال کرتا ہوں کیوں کہ یہ تقریباً پورے کی بورڈ کا احاطہ کرتی ہے۔“
” میں تو موسیقی سے بالکل نابلد ہوں،“ میں نے کہا۔
” یہ ایک اور ہی دنیا ہے اور اگر آپ اس میں داخل ہوں گے تو اسی کے ہو رہیں گے۔“
”جی!“
” باخ کی یہ دھن آہستہ آہستہ بہتے ہوئے دریا کی مانند ہے جس میں ارتعاش نہیں ہے۔ اسے سنتے ہوئے سکون کا احساس ہوتا ہے،“ وہ سر جھکائے میرے ساتھ چلتے رہے۔ وہ باتیں تو مجھ سے کر رہے تھے مگر ان کے کان پیانو پر لگے ہوئے تھے، ”اس دھن کو اگر آنکھیں بند کر کے سنیں اور اپنے سانسوں کی رفتار کو کم رکھیں تو آپ کو احساس ہو گا کہ آہستہ آہستہ ایک موج کے بعد دوسری موج چلی آ رہی ہے اور آپ پر مراقبے کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ “
عبدالمنان صاحب مجھ سے باتیں کرتے ہوئے پورے ہال میں گھومتے رہے، ہر کونے پر کچھ دیر رکتے اور غور سے موسیقی سنتے۔ جہاں جہاں ہم رکے موسیقی کا حجم یکساں تھا اور اس نے پورے ہال کا احاطہ کیا ہوا تھا۔ اس کے برخلاف پرانے آرگن کی آواز پچھلی سیٹوں تک تو پہنچتی ہی نہیں تھی۔ آخر جب ہم واپس اسٹیج کی طرف پہنچے تو دانی ایل اتر کر ہمارے ساتھ آ ملا۔
” کیوں بھئی، کیا خیال ہے؟“ انہوں نے دانی ایل سے پوچھا۔
”کیا بتاؤں سر، میں نے تو ایسے پیانو کو زندگی میں پہلی بار چھوا ہے اور میرے پاس اپنی کیفیت بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ “
”اور میں نے بھی آپ کو پہلی بار سنا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ پیانو صرف آپ کے لیے بنایا گیا ہے۔ میں ریورنڈ پال سے درخواست کروں گا کہ آپ کے سوا کسی اور کو اسے نہ چھونے دیں۔“
” آپ کی ذرّہ نوازی کا شکریہ۔“
” اب اجازت دیجیے،“ عبدالمنان صاحب نے مسکرا کر مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھا دیا۔
”آپ کا قیام کب تک ہے؟“ میں نے پوچھا۔
”کل رات کو بولان میل سے نکل جاؤں گا۔“
وہ رٹز ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے جو چرچ سے پیدل کے فاصلے پر تھا۔ انہوں نے اپنا بیگ اٹھایا اور خداحافظ کہہ کر نکل گئے۔
”یار، اتنا زبردست پیانو میں نے آج تک نہیں دیکھا،“ دانی ایل نے کہا اور وہ پھر اسٹیج پر چڑھ کر اسٹول پر جا بیٹھا۔
” وہ جو تو موزارٹ کی ایک دھن بجا تا ہے، وہی ٹرائی کر ۔“
”چل تو بھی کیا یاد کرے گا،“ دانی ایل نے آستینیں چڑھاتے ہوئے کہا، ”موزارٹ کی سمفنی نمبر 40 تیری نذر۔“
میں چرچ کے بیچوں جاکر بیٹھ گیا۔ وہ دھن ایسی تھی جسے سُن کر جسم کی بوٹی بوٹی تھرکتی تھی۔ میرے ہونٹوں پر بے اختیار ہندوستانی فلم کا وہ گانا آ گیا جو اُس دھن پر بنایا گیا تھا:
اتنا نہ مجھ سے تُو پیار بڑھا
کہ میں اِک بادل آوارہ
کیسے کسی کا سہارا بنوں
کہ میں اِک بے گھر بے چارہ

