فلم ،علم اور ہم


فلم، علم اور ہم۔ ۔ تبدیلی اور ارتقاء اس گولے کا سب سے بڑا سچ ہے جو لمحہ موجود میں پوری کائنات میں ہمارے لیے دستیاب صرف ایک ٹھکانہ ہے۔ اگر ہم معلوم تاریخ کا جائزہ لیں تو قدیم یونان سے لے کر عہد حاضر تک انسان کے رہن سہن میں ناقابل یقین تبدیلیاں آئی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ رینے ساں (جہاں سے علوم کے نئے در کھلے ) کے بعد ہمارے سوچنے کے انداز ہی بدل گئے ہیں۔ لیکِن پچھلے ایک سو سال اور خصوصاً پچھلے بیس پچیس سالوں میں تو دیو مالائی تبدیلی آ گئی ہے۔

جب سب کچھ بدلا تو تعلیم سے متعلق نظریات بھی بدل گئے۔ جن قوموں یا معاشروں نے تبدیلی کو گلے لگایا وہ آگے بڑھ گئیں جو طرز کہن پر قائم رہے وہ اب ہر تبدیل شدہ چیز کو اپنے خلاف سازش سمجھتے ہیں۔ تعلیم کا میدان ان قوتوں کا خصوصی ہدف ہے۔ اُن کے خیال میں 2024 میں 1824 یا 1924 کا طریقہ تعلیم ہی ہمارے بچاؤ کا واحد راستہ ہے۔ جب کہ حقیقت اس کے اُلٹ ہے۔ صدیوں سے تعلیم دینے کے لیے پتھر کی تختیاں، قلم کاغذ یا پھر لکڑی کی تختی کا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

آج کمپیوٹر نے اُن کی جگہ لے لی ہے اسی طرح تعلیم کے لیے لاتعداد غیر رسمی ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔ فلم انھی ذرائع میں سے ایک ہے۔ یہ ایک ایسا طاقتور میڈیم ہے جس نے بہت سے معاشروں میں تعلیم کا تصور ہی تبدیل کر دیا ہے۔ اس حوالے سے لازم ہے کہ یہ بات واضح کر دی جائے کہ فلم سے مراد ہمارے ہاں بنائی گئی بارہ مصالحے کی چاٹ بالکل بھی نہیں ہے جس میں مزاح، جنس، سسپنس، تشدد سمیت ہر چیز ہوتی تھی (اگرچہ ہمارے ہاں بھی سماجی شعور کے حوالے سے فلمیں بنی ہیں مگر وہ تعداد میں بہت کم ہیں )

تعلیم کے جدید رجحانات سے آگاہ احباب یہ بات اچھے سے جانتے ہیں کہ فلم کے بصری و سمعی اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔ لکھنے پڑھنے سے معذور افراد کو فلم کے ذریعے بہت سے پیغامات دیے جا سکتے ہیں۔ انڈیا میں تو اس حوالے سے بہت شاندار فلمیں بنی ہیں خود ہمارے ہاں بھی ایک ایسا وقت گزرا ہے جب سماجی شعور کو بڑھانے کے لیے فلمیں بنائی جاتی تھیں۔ (پہلی بھٹو حکومت کی طرف سے جہیز پر پابندی لگانے کے بعد فلم ”آج اور کل“ ، میں اسی مسئلے کو سامنے لایا گیا تھا۔ اسی فلم کے لیے عظیم فنکارہ نور جہاں کا گایا گیا نغمہ ”دُنیا والو جہیز کی لعنت آج تو ہے کیا کل بھی رہے گی“ ، آرٹ برائے زندگی کی بہترین مثال ہے ) ۔ اسی طرح انگریزی ادب کے طالب علم کے لیے شیکسپیئر کے ڈراموں کا مطالعہ لازم ہے لیکِن اگر وہ ان پر بنی فلمیں دیکھ لے تو اس کی انڈرسٹینڈنگ میں بے حد اضافہ ہو سکتا ہے (شیکسپیئر کے ڈرامے کامیڈی آف ایرر پر بنی انڈین فلم ”انگور“ ، اور ہیملٹ پر بنی ”حیدر“ ، بہترین مثالیں ہیں ) ۔ فلم کا صرف ثقافتی یا سماجی پہلو ہی اہم نہیں آج دُنیا بھر میں سائنس کے ہر شعبے پر بنی فلمیں عام دستیاب ہیں۔ اور یقیناً یہ سب کچھ آج سے نہیں ہو رہا 1920 اور 1930 کی دہائیوں سے فلم برائے تعلیم پر کام ہو رہا ہے۔ یوں بھی کافی عرصے سے فلموں کے میدان میں تخصیصِ ہو چکی ہے۔

آج کی فلم مارکیٹ میں آپ کو ہر طرح کی فلم دستیاب ہے۔ کامیڈی، ہارر، لو، کارٹون، بچوں کی فلمیں۔ تعلیمی فلمیں جو بھی آپ کا ذوق ہے آپ کے لیے فلم حاضر ہے۔ ہمارے لیے اس حوالے سے ایران، روس، جرمنی، لاطینی امریکہ وغیرہ میں ہوئے کام پر بات کرنا مشکل ہے گو کہ اب ان ملکوں کی فلمیں بھی انگلش سب ٹائٹلز کے ساتھ دستیاب ہیں۔ مگر ہم ہولی وڈ، انڈیا اور پاکستان کی فلموں پر بات کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے ہولی ووڈ کی بنی ڈسٹن ہوفمین کی فلم ”ہیرو“ ، ایک مثال ہے جس کی بنیادی تھیم ہی یہی ہے کہ عام سا انسان بھی ہیرو ہو سکتا ہے۔ انڈیا کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان کی فلم ”تارے زمین پر“ ، ایک دوسری بہترین مثال ہے جس میں بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت میں حائل ایک نفسیاتی پرابلم کو ڈسکس کیا گیا ہے۔ ایسی فلمیں ہزاروں ہیں جن کو یہاں زیر بحث لانا نا ممکن ہے۔

اپنے معاشرے کے حوالے سے اس طالب علم کی عاجزانہ رائے ہے کہ ہم ایک طویل عرصہ سے سٹیٹ آف ڈینائل۔ یعنی حالت انکار میں ہیں۔ فلم یا شو بز سے وابستہ افراد ہمارے لیے تفریح طبع کا باعث تو ہیں مگر ہم حقیقتاً اُنھیں ایک گھٹیا درجہ کی مخلوق سمجھتے ہیں بلکہ بہت سے خود راستی کے شکار افراد اُنھیں باعث گناہ سمجھ کر سیدھے راستے پر لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان سب دوستوں کو یہ بات سمجھانا بہت ضروری ہے کہ فلم آج کے دور کا ایک طاقتور ترین میڈیم ہے۔ اس کے کثیر الجہتی استعمال کی طرف توجہ دی جانی چاہیے۔ اگر ہر اچھے پرائیویٹ سکول میں طلباء کو دُنیا کا ادب عالیہ یا فلموں سے روشناس کروایا جاتا ہے تو سرکاری سکولوں کے معزز اساتذہ کو بھی اب اپنے رویوں میں لچک پیدا کرنا چاہیے۔ اساتذہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے معصوم لوگوں سے اتنی سی التجا ہے کہ زندگی کے ہر پہلو کو جنس کے پیمانے سے نہ نا پیں۔ آنے والے وقتوں کی چاپ سنیں۔ ٹیکنالوجی کا بڑھتا طوفان سب کچھ اُلٹ دینے کے درپے ہے۔ خود کو تبدیل کریں ورنہ ڈائنو سارز کے انجام کے لیے تیار رہیں۔

Facebook Comments HS