دہشت گرد شہزادہ۔ 1973 کا آئین مسکراتا ہے


dr tehreem javaid

راجہ انور کی تصنیف کردہ ”دہشت گرد شہزادہ“ پڑھنا شروع کی تو کہیں کہیں یقین ہی نا آیا کہ پی پی پی جن بتوں کو سر پہ اٹھائے پھرتی ہے وہ کبھی اس قدر کھوکھلے بھی تھے۔ یہ کتاب بنیادی طور پہ ذوالفقار علی بھٹو کے صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو کے کابل میں گزرے شب و روز کا احاطہ کرتی ہے۔ پاکستانی لیفٹ کے نوجوان کیسے بھٹو کے دکھائے خوابوں کے اندھے تعاقب میں مرتضیٰ کے ُچنے تابوتوں میں اترتے رہے اور ہر تابوت کے ساتھ مرتضیٰ اپنے تئیں اقتدار سے ایک منزل اور قریب ہوتا رہا۔

جیالوں کی راجہ انور سے مخاصمت قابلِ فہم ہے کیونکہ بھٹو خاندان آج تک خود کو دنیاوی مفادات سے بے نیاز مولائیوں کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ دہشت گرد شہزادہ اسی طلسم کو توڑتے ہوئے بین الاقوامی ایجنسیوں کے فنڈز کے مرہونِ منت مرتضیٰ بھٹو کے شاندار لائف سٹائل کی طرف لے کر چلتی ہے جو اس مالِ مفت سے اپنے الذوالفقار کے فدائین کو ایک بوند دینے کا روادار نہیں تھا۔ شاہ نواز تک کی حیثیت ایک گارڈ کی تھی جسے اپنی اعصابی کمزوری کے باوجود میر بابا کی سیکورٹی پہ مامور کیا گیا تھا۔

"نوجوان انصافیوں” کے لیے یہ تاریخی حقائق جاننا اس لیے بھی ازحد ضروری ہے کہ جو فدائی کارروائیاں الذوالفقار بھٹو کی پھانسی کے بعد کرتی رہی اسی قسم کا بچکانا پن 9 مئی کو نظر آیا۔ اگر ان تاریخ سے نا بلد جوانوں کو کسی نے یہ بتایا ہوتا کہ مرتضیٰ ان سب دہشت گرد حملوں کے باوجود کبھی سیاست میں کوئی کامیابی حاصل نا کر سکا اور آخر کار اقتدار کی خاطر اسے بی بی بے نظیر کی طرف ہی دیکھنا پڑا۔ کیا المیہ ہے کہ امریکہ کے آگے نا جھکنے والے بھٹو کی بیٹی کو اقتدار کی خاطر امریکی سینیٹرز سے ہی راہُ رسم بڑھانا پڑی۔

پاکستان کے حکمران خاندانوں کی بے حسی اور لاتعلقی ُکھل کر کئی مناظر میں سامنے آتی ہے۔ جس بھٹو خاندان کی خاطر مڈل کلاس نوجوان اپنے اور اپنے گھر والوں کی زندگیاں داؤ پہ لگا رہے تھے اسی بھٹو کے دونوں بیٹے ان نوجوانوں کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کے پھینک رہے تھے۔ جس سلامت اللہ ٹیپو نے مرتضیٰ کی خاطر نا صرف طیارہ تک اغوا کر لیا بلکہ طارق رحیم جو بھٹو کا سابق اے ڈی سی رہ چکا تھا اسے بھی بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اسی ٹیپو کو مرتضیٰ نے مرنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا۔

مظلومیت کے استعارہ بھٹو خاندان کا یہ سپوت اپنے کارکنان کو اپنا تابع فرمان رکھنے کی خاطر ایک کی بیوی کے اسقاطِ حمل تک چلا گیا کیونکہ وہ اپنے خاوند کو مرتضیٰ کی مطلوبہ گواہی کے لیے راضی نہیں کر پا رہی تھی۔ دوسرے بدنصیب راجہ انور کی قبر ُکھدوانے کے ساتھ ساتھ اس کی ماں کو بھی اس کی فرضی موت کی اطلاع دے دی گئی جو یہ برداشت نا کر پاتے ہوئے چل بسی۔

اقتدار کی غلام گردشوں میں چلتے اس کھیل میں یہ دیکھ کر آپ کو حیرت ہو گی کہ جس شخص نے بھی اپنا سب کچھ بھٹو کے نظریے پہ قربان کیا۔ بھٹو برادران نے اس کا اتنا ہی استحصال کیا۔ قیوم بٹ، اعظم چوہدری اور ایسے کئی کرداروں سے کیا گیا ناروا سلوک آنکھوں میں آنسو لے آئے گا۔ گوجرانوالہ کے پر جوش انقلابی شاعر کی داستانِ عبرت زیادہ ہی چشم کشا ہے۔ ناگی ان آٹھ لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے بھٹو کے لیے خود کو آگ لگائی۔ واحد ناگی بچ سکا۔ جلے ہوئے جسم پہ 24 کوڑے کھا کر افغانستان مرتضیٰ کے پاس پہنچا۔ مرتضیٰ نے اس وفا کا کیا خوب صلہ دیا کہ ننگا کرا کر تقریباً ذبح کروا دیا۔ جان بچاتا ایران پہنچا جہاں قید کر دیا گیا۔

خاندانی سیاست دانوں کی اس خطے میں مقبولیت بدترین ذہنی غلامی کی عکاس ہے اور کارکن قیادت سے قربت کے نشے میں ہر غلط کو ٹھیک ثابت کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ بھٹو اور عمران کے تقابل میں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عمران نے خاندانی سیاست کو جس درجے تک گالی بنا دیا ہے پنجابی اربن کلاس اب کسی بلاول اور مریم کو قبولنے پہ تیار نہیں ہے۔ بظاہر خاندان کو پارٹی سونپنے کی جو غلطی بھٹو سے شروع ہوئی تھی وہ بتدریج ُسدھرنے کا وقت آ چکا ہے۔ آپ لاکھ دھائیاں دیں کہ ٹکٹس علیمہ خانم نے دیے اور عمر ایوب بشریٰ بی بی کی پراکسی ہے۔ انصافی اس چورن کو کھا کر مست ہے جو عمران خان صاحب اسے چٹا چکے ہیں۔

ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مرحوم مرتضیٰ کی ُدختر اپنی پھوپھی کو اس سب کا موردِالزام ٹھہراتی رہیں حالانکہ ان کے والد صاحب کوئی جمہوری کام تو کبھی کر ہی نا سکے بلکہ اپنے خاندان اور پارٹی میں بھی جمہوریت نہیں چاہتے تھے۔ ان کا ذہن یہ ماننے سے ہی انکاری تھا کہ بھٹو کی جانشین اس کی بیٹی بھی ہو سکتی ہے۔ یہی ذہنی مسئلہ آخر اس شہزادے کو پھر وہاں تک لے آیا کہ سینکڑوں کارکنوں کو موت کے منہ تک پہنچانے والا مرتضیٰ بھٹو خود اپنے ہی خون میں نہا کر راہیِ عدم ہوا۔

Facebook Comments HS

One thought on “دہشت گرد شہزادہ۔ 1973 کا آئین مسکراتا ہے

  • 21/07/2024 at 2:09 شام
    Permalink

    What a fine summary and conclusion….am impressed

Comments are closed.