چاند بی بی، زندگی کا جنگل اور خواب کہانی


نیم جنگل نما انتہائی راحت انگیز شیریں کُنج میں ایک خواب نُما کیفیت میں رہتے آج چوتھا دن ہے اور میں اور میری جیسی درجن بھر زندگی کے دشت سے اکتائی سکون کی متلاشی روحیں اپنی اپنی روٹین سے باہر ”کہانیاں“ لکھنے کی خواہش سمیت یہاں موجود ہیں۔ جسے ایک جھوٹی سی جنت کا نمونہ کہا جائے تو جھوٹ نہ ہو گا۔

اس ری ٹریٹ کی اطلاع ایک انسٹا گرام میسیج سے ملی اور پھر رزق حلال اور نقشِ قدم لوح مقصود کے عین مطابق براستہ ہزارہ موٹروے اس قدیم برطانوی نوآبادیاتی افسر کے نام سے موسوم قصبے ایبٹ آباد لے آئے۔

یہاں ایک جہان سکون منتظر ملا۔ آغوش محبت وا کیے نائلہ داؤد ملیں نیک صورت نوجوان برگزیدہ مورت جیسی!

جسے ماں نے گھر بسانا، دل جوڑنا اور لفظوں سے سحر کرنا سکھایا۔ جس نے اپنا خوبصورت آشیانہ اپنی دیس دیس سے آئی مہمانیوں کے حوالے کر دیا جس کا لمز میں زیرتعلیم پوتا حسین اُسے پیار سے چاند بی بی کہ کر بُلاتا ہے اور سنایہ اُس کی بہن جو دن بھر سبز رنگ فضا، نیلو نیل آسمان، اور ٹھنڈے ٹھار چوبی برآمدے میں کسی ننھی پری کی مانند پھولوں کے گُلدستے بناتے نہیں تھکتی۔ نوجوان دوستیں عائشہ بھابھی، ارم خان اور حسینہ نے تواضع کی پرانی رویت کو کھانوں کی شکل میں زندہ رکھا۔

جس کے مہذب باورچی معدے کے راستے دل تک پہنچنے کے تمام لوازمات سے بخوبی آشنا ہیں۔
خاندانی نوادرات سے مزین لکڑی سے تعمیر شدہ یہ کاٹج ان میاں بیوی کا گرمائی مسکن ہے

اور ہم سب یہاں نوجوان، نئی نسل کی نمائندہ قلمکار فرحت اشتیاق سے تخلیقی قلم نویسی کی مشق کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ ( اُڈاری فیم)

یہ دن جو بارش کی جلترنگ، پرندوں کی چہکار اور بلند تر پائن اور دیار کے گہرے سبز درختوں سے چھن کے آتی ہواؤں کے درمیان خواب کی طرح گزرے۔ وہیں زندگی کے گھنے جنگلوں کی تلخ حقیقتوں کا بوجھ اٹھاتے مرد و زن، تیزی سے بدلتی معاشی اور سماجی اقدار، علمی شعور اور پاکستانی معاشرے کی بنتی بگڑتی ساخت سے وابستہ میڈیا اور ٹیکنالوجی کے اثرات پہ مبنی آپ بیتی اور جگ بیتی کا نہ ختم ہوتا سلسلہ بھی رواں رہا۔

راہ رواں بلکہ زنانِ علم و شوق کے قافلے میں نئے پاکستانی معاشرے کے فعال اور انتھک قابل مہرو قدر نام شامل ہیں

دردانہ، طلعت، عنبرین، مصباح، عروج، شہناز، سمیعہ، ہادیہ، ارم، یہ سب قومی سطح پہ اپنے اپنے شعبوں میں ممتاز حیثیت اور شناخت رکھتی ہیں۔ معاشرے میں حقیقی تبدیلی کی خواہاں ہیں اور اپنی کامل نیت کو قلم، کمپیوٹر اور کیمرے کی مدد سے پچیس کروڑ میں سے کم از کم نصف تک پہنچانے میں کوشاں ہیں۔

اس خطے کی جہاں کی ہم باسی ہیں اس قدر پُرانی تاریخ ہے کہ جس کی نظیر کہیں نہیں ہے۔ مرحوم محترم پروفیسر احمد حسن دانی کے مطابق پہلا انسانی نقش اسی دھرتی پہ دریافت ہوا۔ اور یوں پہلی کہانی بھی یہیں ایجاد ہوئی۔

جیسا کے نطشے نے لکھا عورت نصف خواب ہے اور یہی نصف خواب کہانی کی ابتدا ہے۔

کہانی گیان کو جنم دیتی ہے اور بُدھا کو نروان انہی قدیم زمینوں پہ بخشا گیا۔ وراثت کی حق طلبی کہانی کار کے حصے میں آئی۔

تدبر والے آگاہ ہیں کہ کہانی کا بوجھ بھی نصف گواہی کی طرح صنف نازک کا ورثہ بنا۔ اس خوبصورت یادوں سے بھری ملاقات کے بعد سے بس دو سوال تشنہ طلب ہیں

فرحت اشتیاق! کیا خوابوں سے کہانی کشید کی جا سکتی ہے؟ ایک مکمل کہانی!
جب خواب الگ الگ ہیں تو کہانیاں کیسے ایک جیسی ہو سکتی ہیں؟
مصباح خالد! کیا کہانی کو فلمانے سے دکھوں کا بوجھ دوسری نسل تک منتقل ہو پائے گا؟ شاید نہیں!

ھم نہ رہیں مگر کہانی لفظوں کے توسط سے ایک سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہے گی۔ زندگی کے جنگل میں روشنی اور حرکت کا ڈرامہ کبھی ختم نہیں ہو سکے گا!

ھم اور کتنی دیر ہیں تم اور کتنی دیر!

Facebook Comments HS