ہجوم


ارے پگلی تو رو کیوں رہی ہے؟ بس کچھ دنوں کی بات ہے جب ہم اپنے پاکستان چلے جائیں گے۔ میں تجھے اس سے بھی سُندر گہنے بنوا دوں گا، پھر میں اور تُو پہلے کی طرح گھومنے جائیں گے۔ میں تجھے پاکستان کی سیر کرواؤں گا۔ افضل نے رحیمہ کے آنسوؤں کو پونچھا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔

وہاں کی ندیوں کا پانی بہت شفاف ہو گا، بالکل تیرے جیسے پھول وہاں کھلتے ہوں گے اور بہار کا موسم بہت پیارا ہوتا ہو گا۔ میں اور تم جھیل کے کنارے بیٹھ کر چاند کو دیکھا کریں گے۔ دن میں درختوں کی چھاؤں میں بیٹھا کریں گے۔ وہاں کی فضا پیار اور خلوص سے معطّر ہوگی۔ وہاں سیاہ اور سرسبز پہاڑ ہیں، ان پہاڑوں کے اندر سے میٹھے چشمے پھوٹتے ہیں۔ ہر طرف میرے اور تیرے جیسے لوگ ہوں گے۔

افضل خاموش ہو گیا اور کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ چند لمحوں بعد اس نے زیور اٹھائے اور باہر کی جانب چلنے لگا۔ اب یہی رہ گئے تھے؟ ایک دن آپ ہمیں بھی بیچ ڈالیں گے اس نئے وطن کے جنون میں! افضل دروازے پر رک گیا اور پیچھے مڑ کر دیکھا، یہ افضل کا بیٹا نعمان تھا جو متحدہ ہندوستان کا حامی تھا۔ بیٹا جب ہم اپنی قوم کے پاس چلے جائیں گے اور جب تم ایک آزاد اور اسلامی فضا میں سانس لو گے تب تم میرے اس فیصلے کی حمایت کرو گے۔ یہاں کون سا قید ہوں میں؟ یہاں بھی تو آزاد ہی گھوم رہا ہوں۔ نعمان کا لہجہ سخت ہو گیا۔ جب تک آزادی نا ملے تب تک انسان قید کو ہی آزادی سمجھتا ہے، لیکن تم دیکھو گے کہ ہم اپنی قوم کے پاس جائیں گے اور ایک آزاد قوم کے طور پر پوری دنیا میں ابھریں گے۔ افضل تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا باہر چلا گیا۔

گاؤں میں چھوٹے چھوٹے جلوس نکلے ہوئے تھے۔ کوئی پاکستان کے حق میں تھے تو کوئی پاکستان کے خلاف۔ افضل بھی ایسے ہی ایک جلوس کی قیادت کر رہا تھا۔ پرانے ماڈل کی ایک پک اپ جس پر سبز جھنڈیاں لگی ہوئی تھیں، چاروں طرف سفید کپڑا لپیٹا گیا تھا، جس پر سرخ رنگ سے آزادی، آزادی لکھا ہوا تھا۔ گاڑی کے آگے پیدل چلنے والے لوگ نعرے لگا رہے تھے ”پاکستان کا مطلب کیا لَا اِلٰہ اِلّا اللہ“ ، ”پاکستان، زندہ باد“ ۔ افضل کی گاڑی کے سامنے ایک نئی چمچماتی گاڑی آئی جس پر ایک مولوی صاحب سوار تھے، مولوی صاحب اور ان کے ساتھی سکھ، ہندو اور مسلمان متحدہ ہندوستان کے حامی تھے۔ افضل نے اپنے لوگوں کو رکنے کا اشارہ کیا۔

”آج تک آپ نے کبھی دیکھا ہو کہ مولوی صاحب کی تقریر سننے ہندو اور سکھ آئے ہوں؟“ لوگوں نے نفی میں جواب دیا۔ افضل نے گفتگو جاری رکھی۔ ”کبھی سنا ہو یا دیکھا ہو کہ مولوی صاحب قرآن و حدیث کا درس دے رہے ہوں اور یہ سکھ اور ہندو بیٹھ کر سن رہے ہوں؟ “نہیں!“ لوگوں نے جواب دیا۔

”یہ لوگ مولوی صاحب کو جھانسا دے رہے ہیں اور شرم کی بات یہ ہے کہ مولوی صاحب نے خود تو غلامی قبول کرلی لیکن اپنے ساتھ چند اور مسلمانوں کو بھی اس پر آمادہ کر لیا۔“ افضل کی تقریر سن کر دونوں طرف سے لاٹھیاں چلنے لگیں۔ نعمان نے شور سنا تو بھاگ کر آیا اور اپنے والد کو زبردستی گھر لے گیا۔ خدارا بند کریں یہ سب، ہم سب کا جینا بھی آپ نے مشکل کر دیا ہے۔ جاؤ اور جا کر اس مولوی کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔ میں تو اپنی قوم کی آزادی کے لیے آواز اٹھاتا رہوں گا۔ افضل نے غصے سے کہا اور اندر چلا گیا۔

رات کا وقت تھا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ کھیتوں میں لگے پھولوں کی خوشبو فضا کو معطر کر رہی تھی۔ کہیں کہیں جگنو بھی نظر آرہے تھے۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔ چاند بالکل سر پر تھا۔ افضل اکیلا چھت پر بیٹھ کر چاند کو دیکھ رہا تھا۔ افضل سوچ رہا تھا۔

”جلد ہی یہ چاند میں پاکستان میں دیکھوں گا، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ سب ایک ہی قوم کے لوگ ہوں گے، سب مل کر رہیں گے۔“بابا“ نعمان نے افضل کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔ نعمان کی آواز خاموشی کی دیوار پر گہری دراڑ کی طرح تھی۔ افضل خیالات کے پاکستان سے نکل کر اپنے گھر کی چھت پر پہنچ گیا، جو کہ متحدہ ہندوستان میں تھا۔

”بابا میں آپ کا دشمن نہیں ہوں مجھے آپ کی فکر ہے، اماں کی فکر ہے۔ دیکھیں ہم یہاں بھی تو آزاد ہیں۔ یہاں بھی ہم اذان دیتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں۔ یہاں ہماری زمین ہے، گھر ہے، سب کچھ ہے، وہاں ہم کیا کریں گے؟“

نعمان کی بات سن کر افضل خاموش رہا کیوں کہ اس موضوع پر پہلے بھی کئی مرتبہ گفتگو ہو چکی تھی۔ افضل نے خاموشی کو توڑا۔ ”بیٹا جو میں دیکھ رہا ہوں وہ تم نہیں دیکھ رہے۔ تم کیا سوچتے ہو مجھے اپنا گھر اچھا نہیں لگتا؟ لیکن بیٹا یہاں ہندوستان میں مسلمانوں کا مستقبل تاریک ترین ہے۔ آج نماز پڑھنے کی اجازت ہے، کل نہیں ہوگی۔ تب کیا کرو گے؟ ہمارا اپنا ملک ہو گا، ایک قوم ہوگی، اسلامی قوانین ہوں گے، ایک بار پاکستان چلے جائیں تمھارے ذہن سے یہ سب باتیں نکل جائیں گی اور یہ زمین، یہ گھر، یہ تو ویسے بھی فانی ہیں۔ کم از کم ہم اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل تو محفوظ کر لیں گے۔ اور اس کے لیے ایسے ہزار مکان بھی قربان ہوجائیں تو مجھے دکھ نہیں۔“ نعمان نے سر جھکا لیا اور چند لمحوں بعد اٹھ کر نیچے چلا گیا۔

بالآخر وہ دن آ گیا جب پاکستان کی علیحدگی کا اعلان کر دیا گیا۔ افضل اپنی قوم سے ملنے کے لیے بے چین تھا۔ ایسے لوگ جن کا نظریہ ایک ہو گا، جن کی فکر اسلامی ہوگی، جن کی آنکھیں اپنی قوم کے ہندوستانی بھائیوں کو دیکھنے کے لیے بے چین ہو رہی ہوں گی۔

”رحیمہ! نعمان! جلدی کرو، جلدی سے سامان باندھو، پاکستان جا رہے ہیں۔ ہماری قوم ہمارا انتطار کر رہی ہے، وہ استقبال کے لیے آگے کھڑی ہے۔“ نعمان نے بے بسی کی نگاہوں سے ماں کی طرف دیکھا۔ ”بیٹا جو بابا کہتے ہیں، مانو۔“

اتنے میں باہر سے گولیوں کی آواز آنے لگی۔ نعمان اور افضل چھت پر چڑھ گئے۔ سکھوں کی ایک ٹولی گھر کی طرف آ رہی تھی۔ ”جلدی سے اپنی ماں کو لے کر پیچھے کھیتوں کی جانب سے نکلو۔ سامان وغیرہ چھوڑ دو ۔“

افضل نے گھر کا دروازہ بند کیا اور پچھلے راستے سے نکل کر گھر والوں سے مل گیا۔ لمبی مسافت طے کرنے کے بعد انھیں پاکستان کا جھنڈا نظر آیا۔ ”بس رحیمہ ہم پہنچ گئے! تھوڑی ہمت کرو، وہ دیکھو وہ ہے ہمارا وطن! ہمارا پاکستان! ہمارے لوگ اور ہماری قوم!“

افضل، نعمان اور اس کی ماں پاکستان پہنچ گئے لیکن استقبال کرنے کوئی نہیں آیا۔ سامنے خیمے لگے تھے جن سے لوگوں کے کراہنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ کوئی چیخ رہا تھا۔ ”میری بچی کو ظالموں نے مار ڈالا۔“ کسی کے بچے خیموں کے باہر بیٹھ کے رو رہے تھے۔ جن کے ساتھ شاید ان کے ماں باپ نہیں تھے۔

”بیٹا سب ٹھیک ہو جائے گا۔ یہاں بیٹھو میں دیکھتا ہوں۔ اپنی ماں سے دور نہ ہونا۔“
افضل ایک کیمپ میں داخل ہوا۔ ایک شخص جس کی عمر تقریباً چالیس سال ہوگی، سر پر صافہ باندھے اور پرانا سا لباس پہنے، جس کی آستینوں پر خون لگا تھا۔ وہ ایک نوجوان کی پٹی کر رہا تھا جسے گولی لگی تھی۔ افضل بھوک سے نڈھال ہو رہا تھا۔ ”ارے بھائی بات تو سنو۔“

وہ شخص پیچھے مڑا اور سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔ ”میں ابھی ابھی پٹنہ سے آیا ہوں، میرے ساتھ میری بیوی اور بیٹا بھی ہے۔“ اس شخص نے خشک سے لہجے میں ’خوش آمدید‘ کہا اور پٹی کو گرہ لگانے لگا۔ ”جی بولو!“ کپڑے سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے اس نے استفسار کیا۔ ہمیں بھوک لگی ہے، کچھ کھانے کو ملے گا؟ اور باقی سب لوگ کہاں ہیں؟ لوگوں کا مجھے پتا نہیں لیکن کھانا مل جائے گا۔ کچھ بیچنے کے لیے ہے؟

افضل کو ایسا لگا جیسے اس نے کچھ غلط سن لیا ہو۔ ”نہیں، ہم مسلمان ہیں، ہم پاکستان آئے ہیں یہاں اپنی قوم کے پاس۔ وہ تو ٹھیک ہے لیکن، اس شخص نے جیب سے ایک ڈبیا نکالی جس میں انگوٹھی تھی۔ ”اس نے مجھے یہ دی ہے۔“ اس نے زخمی لڑکے کی طرف اشارہ کیا۔ افضل اپنی بھوک بھول گیا اور آہستہ آہستہ اپنے گھر والوں کے پاس گیا۔ افضل اپنے گھر والوں سے نظریں چرا رہا تھا۔ کیا ہوا؟ رحیمہ نے پوچھا۔ کچھ نہیں، بس تھوڑا صبر کرو۔ اچانک وہ دوبارہ بولا۔ ”وہ دیکھو ایک اور قافلہ آ رہا ہے۔ ہماری قوم ہمارے پاس آ رہی ہے۔

”قوم نہیں، ہجوم۔ لوگوں کا ہجوم آ رہا ہے۔ نعمان نے لکڑی سے زمین پر نشان لگاتے ہوئے کہا۔ ”وہ دیکھیں وہ مولوی صاحب جن سے آپ اس دن لڑ رہے تھے! قوم کا ایک نظریہ ہوتا ہے، اور مولوی صاحب متحدہ ہندوستان میں رہنا چاہتے ہیں، آپ پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں اور میں امن سے رہنا چاہتا ہوں، چاہے جہاں بھی رہوں۔ یہ قوم نہیں، یہ ہجوم ہے۔”

بیس برس پر لگا کر اڑ گئے۔ نعمان انگلستان چلا گیا تھا اور رحیمہ اسی رات بھوک سے مر گئی تھی۔ افضل اب اکیلا پاکستان میں رہ رہا تھا۔ اور انگلستان جانے سے قبل نعمان سے ہونے والی گفتگو کے حوالے سے سوچتا رہتا تھا۔

”بابا! میں تو شروع سے کہتا آ رہا ہوں یہ ہجوم ہے قوم نہیں۔ یہ وہ ہجوم ہے جو کسی ناسور کی طرح بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے خدارا اس بے ہنگم ہجوم سے نکلیں اور میرے ساتھ چلیں۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں جس دن یہ ہجوم قوم بن جائے گا میں آپ کو واپس آپ کے ملک لے آؤں گا۔ ”

افضل کرسی سے ٹیک لگائے خاموشی سے اوپر کی طرف دیکھ رہا تھا۔

Facebook Comments HS