برزخ یوٹیوب سے ہٹ گیا، کیا ذہنوں سے مٹ پائے گا؟
پچھلے دس پندرہ سال میں زمانے نے برق رفتاری سے ترقی کا سفر طے کیا ہے، یہ ترقی نہ صرف سائنس اور تکنیک کے شعبہ میں ہے بلکہ انسان کے پہناوے، خوراک اور زندگی گزارنے کے طریقوں پر بھی اثر انداز ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ترقی کے ساتھ انسانی اقدار اور اخلاقیات نے تنزلی کا سفر طے کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ انسانی اقدار کو دیمک کی طرح چاٹ جانے والے عناصر معاشرے میں پہلے بھی موجود تھے، برائیوں کا وجود پہلے بھی تھا اور ہر طرح کے فتنے بھی دنیا میں پائے جاتے تھے، فرق یہ ہے کہ پہلے ان گناہوں کی شہرت کے اسباب کم تھے، لوگ رات کے اندھیرے میں گناہ کرتے اور انہیں چھپاتے، پھر ہم نے ترقی کرلی اور ہم نہ صرف دن دھاڑے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر فخر سے اس کا پرچار بھی کرتے ہیں۔
گناہ کا جواز پیش کر کے اسے جائز یا وقت کا تقاضا کہہ دینا آسان ہے۔ اور میں ترقی کے اس انداز پر ان تمام لوگوں کو داد پیش کرتی ہوں جنہوں نے آہستہ آہستہ باریک چالیں چل کر اس زہر کو معاشرے میں اور نوجوان نسل کے ذہنوں میں اتارا ہے۔ کئی سال پہلے فلموں کا واحد موضوع محبت تھا، لڑکے اور لڑکی کے بیچ ہونے والی محبت، جس میں وہ کسی بھی حد کے پابند نہیں تھے، اور ایک دوسرے کے لئے وہ سب کر سکتے تھے جو کبھی نہ کیا ہو، محبت کو ایک آسمانی فلسفہ بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا جو انتہائی غیر حقیقی ہے۔
لیکن اس کے اثرات آج بچے بچے پر نظر آ رہے ہیں، سالوں کی اس برین واشنگ کو والدین تفریح کی طرح بچوں کے ساتھ دیکھتے رہے اور آج ایسی کوئی لڑکی نہیں جسے کسی لڑکے سے ایسی آسمانی محبت نہ ہوئی ہو۔ اور تو اور کئی شادی شدہ خواتین بھی اپنے شوہروں سے اسی لئے خوش نہ رہ سکیں کہ وہ ان سے فلمی ہیرو کی طرح محبت نہ کرسکے۔ پھر ایک دور چلا ٹی وی ڈراموں کا جو اب اختتام پذیر ہے چونکہ وہ اپنے مقاصد حاصل کر کے ایک قدم اوپر جانے کی تیاری میں ہے، ان ٹی وی ڈراموں نے ہر طرح سے یہ باور کروایا کہ خاندانی نظام مسائل کی جڑ ہے، عورت یا تو بے انتہا مظلوم ہے یا بے حد ظالم، کوئی بھی عورت اور مرد اپنی شادی شدہ زندگی سے خوش نہیں، اور یہ تعلق صرف درد سر ہے جس میں ذمہ داریاں، بندشیں اور سمجھوتے کے سوا کچھ نہیں۔
اگر آپ کا عالمی میڈیا پر نشر ہونے والے مواد سے کبھی واسطہ پڑے تو اب ان کے ڈراموں میں یہ بات کھلے عام دکھائی جا رہی ہے کہ ایک عورت کے جذبات صرف ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے اس لئے مردوں سے سچے پیار کی توقع نہ کریں اور کسی عورت میں ہی اپنا ہم زاد تلاش کریں۔ اور عالمی میڈیا سے مراد مغرب نہیں برصغیر ہے۔ یوں یہ کہنا بالکل حیران کن نہیں کہ اگلے چند سالوں میں ہم جنس پرستی ایک عام بات ہوگی، اور کیوں نہ ہو جبکہ عالمی طاقتیں دنیا کو بربادی کی طرف لے جانے کی ہر ممکن کوشش کر ہی ہیں۔
ان کا سب سے بڑا ہتھیار الیکٹرانک میڈیا ہے۔ اب تک لوگ اس بات پر واویلا کر رہے ہیں کہ مرد عورت اور عورت مرد کی طرح کیوں جینا چاہتے ہیں، کچھ عرصے میں یہ بات بھی عام ہو جائے گی کہ دنیا کے کچھ علاقوں میں انسان کتے اور بلی بن کر رہ رہے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ وہ دراصل اندر سے جانور ہیں، اس کے لئے وہ مختلف سرجریز کرواتے ہیں جو انہیں ظاہری طور پر جانور جیسا دکھنے میں مدد کرتی ہیں لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ وہ اندر سے انسان ہی ہوتے ہیں، اسی طرح کوئی مرد یا عورت سینکڑوں سرجریز بھی کروا لے صرف ظاہری طور پر کچھ اور دکھ سکتا ہے لیکن اس کی جنسی شناخت اور جسمانی نظام نہیں بدل سکتا، لیکن عالمی طاقتوں نے کئی سالوں کی محنت کے بعد لوگوں کا نکتہ نظر اور اب ان کا رویہ اور سوچ بھی کا فی بدل دیا ہے۔
عالمی طاقتیں ایسا کیوں کرنا چاہتی ہیں اس کی تفصیل پھر صحیح، فی الحال سوچنے کی بات یہ ہے کہ رہتی دنیا تک ایسے کئی فتنے سر اٹھاتے رہیں گے، ہم انہیں روک نہیں سکتے، کیونکہ ان کا ہونا اور ان کے ساتھ آنے والی بربادی طے ہے، اگر ہم کچھ کر سکتے ہیں تو وہ یہ کہ اپنی اولاد اور اپنے آس پاس رہنے والے بچوں کو اس سے کیسے بچائیں۔ اب سوال یہ کہ اس سے کیوں بچائیں یہ تو انسان کا بنیادی حق ہونا چاہیے کہ جیسے چاہے جئے، تو ہم مذہب کی لاٹھی سے زمانے کی بھینس کو ہانکیں گے، مذہب کو ایک طرف رکھیں کیونکہ مذہب کے ٹھیکیدار خود مدارس میں یہی سب کرتے پائے جاتے ہیں۔
اس لئے مذہب کو دلیل نہ بنائیں۔ حال ہی میں بننے والا پاکستانی ڈرامہ کئی دنوں سے سرخیوں میں ہے، غیر ملکی میڈیا نمائندگان نے کہا ہے کہ 9 اگست کو پاکستانی یوٹیوب سے ڈرامہ ہٹا دیا جائے گا، کافی پاکستانی اس بات سے خوش ہیں یہ سمجھے بغیر کہ 6 اگست کو آخری قسط نشر ہو چکی ہے یوں اس کا ہٹایا جانا یا نہ ہٹنا برابر ہے، سوال یہ ہے کہ اس مواد کے ہٹنے سے کیا ہو گا؟ کیا ہم نے اپنی گھریلو اقدار اتنی مضبوط کرلی ہیں کہ ہمارے بچوں کو عالمی میڈیا سے کوئی خطرہ نہیں؟
کیا ہمارے بچے مذہب کی دلیل کے علاوہ بھی ان چیزوں کو غلط سمجھتے ہیں؟ کیا ہم نے اپنے بچوں سے اس بارے میں بات کی ہے؟ ہم دشمن کو حملہ کرنے سے نہیں روک سکتے، وہ وسائل اور طاقت میں ہم سے بہت زیادہ ہیں لیکن ہم اپنے ارد گرد ایک سیسہ پلائی دیوار ضرور کھڑی کر سکتے ہیں جس کی آڑ میں ہماری نسلیں محفوظ رہ سکیں اور جس کی بنیاد کھوکھلی نہ کی جا سکے، کیسے؟ اپنے بچوں کو سچ بتا کر اور سب سے ضروری انہیں دین کی حدود کے علاوہ بھی روشن خیالی سے اس کے نقصانات بتا کر۔
جس طرح انٹرنیٹ فحش مواد سے بھرا پڑا ہے اس ہی طرح ایسی تحقیق اور علمی مواد سے بھی بھرا ہے جہاں اس قبیح عمل کے خلاف کئی دلائل موجود ہیں۔ جو پڑھ کر عموماً لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گہ لیکن دراصل اس زہر کا تریاق بھی زہر ہی کی طرح ہے۔ آکسفورڈ اکیڈمک کی ایک تحقیق کے مطابق 93 فیصد ہم جنس پرست عورتیں کسی مرد سے جنسی تعلق ضرور قائم کرتی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ جنسی تعلقات کی اصل تسکین اسی طرح ممکن ہے۔ راچسٹر یونیورسٹی برائے میڈیکل سائنس اور کیتھولک ایجوکیشن ریسورس سینٹر جیسے مشہور تحقیقی اداروں میں کی جانے والی تحقیق سے یہ ثابت ہے کہ ہم جنس پرستی نہ صرف ذہنی صحت متاثر کرتی ہے بلکہ ایسے افراد میں جنسی بیماریوں کی شرح بھی بیس سے پچیس فیصد زیادہ ہوتی ہے، ان تحقیقات میں حتی الامکان یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ میڈیکل سائنس کے اعتبار سے بھی یہ ایک غیر فطری عمل ہے، جو انسانی جسم اور ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ہم جنس پرستوں کی سب سے زیادہ شرح امریکہ اور اسرائیل میں ہے پھر بھی امریکہ کے قومی ادارہ برائے صحت کی تحقیق کے مطابق یہ صرف ایک ذہنی بیماری ہے، اس ذہنی بیماری کی جڑ کیا ہے؟ ٹوٹے ہوئے گھر، منتشر خاندانی نظام، زنا، جذباتی نا آسودگی اور محرومیاں جو انسان کو اپنی شناخت بھلا کر ایسے وسوسوں میں ڈال دیتی ہیں۔ آج بھی کئی گھروں میں کھانا مائیکرو ویو میں گرم نہیں کیا جاتا، لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے کینسر ہونے کا خطرہ ہے، لیکن ہر وہ چیز بہت سہولت سے زندگی کا حصہ بن جاتی ہے جو نفسیاتی الجھنوں کا خطرہ بنتی ہے۔
مشرقی معاشروں میں یہ بھی عام ہے کہ انسان کو بچپن ہی سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، چاہے وہ اس کی ظاہری شخصیت کے بارے میں ہو، چاہے اس کے عادات و اطوار کے بارے میں، اس طرح بچوں کے ذہن میں یہ احساس گھر کر لیتا ہے کہ وہ جیسے ہیں کافی نہیں ہیں، وہ اپنی کمیوں کوتاہیوں کو اپنانے اور سدھارنے کے بجائے خود کو کسی اور روپ میں ڈھالنا چاہتے ہیں۔ ہمارے بچے سارا دن سوشل میڈیا پر جن انفلوئنسرز کو دیکھتے ہیں وہ بھی اسی بات پر زور دیتے ہیں۔
ہمیں اپنے بچوں کو اتنی حکمت دینی ہے کہ وہ جو ہیں بہترین تخلیق ہیں۔ ان کی ناک بغیر سرجری کے بھی ٹھیک ہے اور ان کا قد بھی۔ انہیں اپنا مقابلہ اسکرین پر نظر آنے والی کسی کی جھوٹی زندگی اور دھوکے سے کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں ان کے سامنے ایک بہترین ازدواجی زندگی کی مثال بننا ہے کہ کیسے ایک عورت کی جذباتی ضرورتیں اس کے شوہر کی محبت سے ہی پوری ہو سکتی ہیں اور کیسے ایک مرد کی زندگی کو اس کی بیوی مکمل کرتی ہے۔
جب یہ اقدار سچی اور مضبوط ہوں گی انہیں دنیا کا ہر جھوٹ سمجھ آ جائے گا۔ ایک دوسرے کی مدد کریں کہ ہم اپنا خاندانی نظام کو مضبوط کرسکیں اور ہر اس چھوٹی چیز سے گریز کریں جو بڑے خطرات کی وجہ بنے۔ کیونکہ یہ دنیا اب فتنوں کا برزخ ہے۔ اور کوئی بھی بیرونی کوشش اتنی زور آور نہیں ہونی چاہیے کہ ہماری اقدار کی بنیاد ہلا سکے۔


