صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 17 : اظہارِ عشق کا مسئلہ
”اور ہم نے محبت کو پہچان لیا اور اُس پر ایمان لائے جو خدا ہم سے رکھتا ہے۔ خدا محبت ہے اور جو محبت میں قائم رہتا ہے وہ خدا میں قائم رہتا ہے اور خدا اُس میں قائم رہتا ہے۔“ یوحنا 4 : 16
اس زمانے میں شاپنگ کا مرکز تلک چاڑھی ہی ہوتا تھا۔ جوتے، کپڑے، کتابیں غرض جو کچھ خریدنا ہو تلک چاڑھی پر مل جاتا تھا۔ اگر شاپنگ کرتے کرتے تھک جائیں تو کیفے یونٹی میں چائے پینے کے لیے بیٹھ جائیں۔ چاڑھی کے اوپری سرے پر ایک جانب فوکَس اسٹوڈیو تھا اور اس کے سامنے سڑک کی دوسری جانب باغبان جیولرز تھے جو حیدرآباد میں کھیلوں اور انعامی مقابلوں میں دیے جانے والے کپ، ٹرافیاں اور شیلڈ بنانے کے لیے مشہور تھے۔ میں جس سال یونیورسٹی میں اسپورٹس کمیٹی میں تھا تو ٹرافیاں خریدنے کے دوران باغبان جیولرز کے مالک ارشد چانڈیو سے دوستی ہو گئی۔ چناں چہ میں دانی ایل کو منگنی کی انگوٹھی دلانے کے لیے ارشد کے پاس لے گیا۔ جب ہم دکان میں داخل ہوئے تو وہ کسی گاہک کے ساتھ مصروف تھا۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے ہمیں انتظار کرنے کو کہا۔
باغبان جیولرز میں ہر طرف تیز ٹیوب لائٹس لگی ہوئی تھیں۔ چناں چہ پوری دکان روشنی سے جگمگاتی تھی۔ ہر طرف شو کیس تھے جن میں سونے کے زیورات جھلملا رہے تھے اور دیواروں پر شیشے کی الماریاں تھیں جن میں ٹرافیاں اور کپ سجے ہوئے تھے۔ چوں کہ اس زمانے میں چوری چکاری یا ڈاکا نہیں پڑتا تھا لہٰذا بندوق بردار سنتریوں کا رواج نہیں تھا۔ میں دانی ایل کے ساتھ ایک شو کیس پر جھکا ہوا مختلف انگوٹھیوں پر رائے زنی کر رہا تھا کہ پیچھے سے ارشد کے سلام کرنے کی آواز آئی۔
”بڑے زمانے کے بعد اِدھر کا رخ کیا،“ ارشد نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
” بس بھئی، صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے۔“ میں نے ارشد سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا، ”یہ میرے بچپن کے دوست ہیں دانی ایل۔“
”بڑی خوشی ہوئی آپ سے مل کر، میں ارشد چانڈیو ہوں،“ ارشد نے دانی ایل کی طرف ہاتھ بڑھادیا۔
”دانی ایل کو ایک انگوٹھی چاہیے،“ میں نے ارشد سے کہا۔
”ضرور، مگر کس قسم کی انگوٹھی؟“
”منگنی کی انگوٹھی،“ میں نے کہا۔
” مبارک ہو، ماشاء اللہ،“ ارشد نے ایک شوکیس کی طرف اشارہ کیا جس میں انگوٹھیاں تھیں اور بولا، ”ان میں سے کوئی پسند کر لیں۔ “
”مجھے تو سب ہی اچھی لگ رہی ہیں، آپ ہی کوئی پسند کر کے بتائیں،“ دانی ایل نے کہا۔
ارشد نے ایک انگوٹھی نکال کر دانی ایل کو دکھائی اور کہنے لگا، ”میں تو اپنی منگیتر کو یہ انگوٹھی دوں گا۔ اس میں تین ہیرے جڑے ہوئے ہیں۔ “
” اور قیمت؟“
” یہ لیبل پر تو بارہ سو لکھے ہوئے ہیں مگر دوستوں کے لیے ایک ہزار کی ہے۔“
” ایک ہزار؟“ دانی ایل نے چیخ کر کہا، ”سات سو روپے تو میری تنخواہ ہے۔ “
” کوئی بات نہیں، آپ دو سو روپے مہینہ ادا کر دیں، گھر کی ہی بات ہے۔“
”نہیں، دو سو روپے تو بہت ہیں، دو سو تو مجھے گھر بھی بھیجنے پڑتے ہیں۔ “
”ارشد، اگر گنجائش ہو تو دانی ایل سے سو روپے مہینہ لے لیا کرو،“ میں نے کہا۔
”جیسی تمہاری مرضی،“ ارشد نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا۔
”اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ انگوٹھی مریم کی انگلی میں فِٹ آئے گی؟“ میں نے پوچھا۔
” اس کی فکر مت کرو، اپنی منگیتر کو لے آنا تو اس کی انگلی کا ناپ لے کر ٹھیک کر دیں گے،“ ارشد نے دانی ایل سے کہا۔
***
غرض یہ کہ منگنی کی انگوٹھی تو آ گئی۔ سوال یہ تھا کہ مریم کو پیش کیسے کی جائے۔ دانی ایل مریم سے کافی بے تکلف ہو چکا تھا بلکہ نوبت آپ سے تم پر پہنچ چکی تھی اور گفتگو میں قہقہے بھی لگتے تھے مگر جب بات اظہار عشق کی آتی تو دانی ایل کے گلے میں کانٹے پڑ جاتے، زبان لڑکھڑانے لگتی اور سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگتا۔
”یار، ایسا کر، مریم کو یہ انگوٹھی میری طرف سے تُو ہی دے دے،“ ایک بار دانی ایل نے مجھ سے کہا۔
” بے وقوفی کی باتیں نہ کر۔ اگر مریم کو میں نے یہ انگوٹھی اپنی طرف سے پیش کردی تو تُو کیا کرے گا؟“
”تو دوستی سے میرا ایمان اٹھ جائے گا۔“
”اگر تُو مسلمان ہوتا تو یہ مسئلہ نہ ہوتا۔ ہمارے یہاں تو لڑکے کے ماں باپ لڑکی کے ماں باپ کو شادی کی پیشکش کر دیتے ہیں تو ہمیں اظہار عشق کی فکر نہیں ہوتی۔“
” یار مذاق چھوڑ، سیدھی طرح مشورہ دے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔“
”میں نے تو تجھے مشورہ دے دیا۔ جب تک تو تین بول نہ بول دے اور وہ جواب میں چار بول نہ کہہ دے تب تک تُو شادی کی پیشکش کرنے کے متعلق سوچنا بھی مت۔“
” یہ مشورہ تو تُو پہلے بھی دے چکا ہے۔ کوئی نئی بات کر۔“
”نئی بات بھی یہی ہے۔ “
دانی ایل کا انکل شاہد کے گھر آنا جانا شروع ہو گیا تھا۔ کسی یہ کسی بہانے آ دھمکتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ میں کس وقت ٹیوشن ختم کرتا ہوں اور وہ مجھے کہیں لے جانے کے بہانے آ جاتا اور شام کی چائے میں شامل ہوجاتا۔ اس نے انکل اور آنٹی کو بھی اپنا مرید بنالیا تھا۔ انکل کا دل پسند موضوع راولپنڈی میں سیٹیلائٹ ٹاؤن کا پروجیکٹ تھا جس پر دانی ایل کام کر رہا تھا۔ وہ بڑے پیار سے راولپنڈی کا تذکرہ کرتے تھے کیوں کہ وہاں ان کا ننھیال تھا۔ وہ بچپن میں اسکول کی چھٹیاں اپنے نانا کے گھر گزارتے تھے جو راجہ بازار میں رہتے تھے۔ وہ جب بھی اپنی یادوں کو دُہراتے تو راجہ بازار میں چودھری کے مرغ چھولوں کا ذکر ضرور کرتے تھے۔ دانی ایل نے مریم سے بھی معاہدہ کر لیا تھا کہ چرچ جانے کے لیے خواہ مخواہ رکشہ لینا فضول خرچی تھی لہٰذا وہ ہر اتوار کو اسے اپنی اسکوٹر پر لے جائے گا اور واپس بھی چھوڑ دے گا۔ بچے بھی ”بھائی دانی ایل“ کے گرویدہ ہو گئے تھے کیوں کہ وہ آتے جاتے اُن سے چھیڑ خانی کرتا اور انہیں اپنے پاس بلا کر ان کی پڑھائی کے متعلق پوچھتا۔ غرض یہ کہ انکل شاہد کے گھر میں دانی ایل کا سکّہ چلتا تھا۔
مریم سے باتیں کرتے وقت وہ زمین و آسمان کے قلابے ملاتا تھا۔ وہ جب بھی اُس کے ساتھ ہوتا، اس کا ہاتھ بار بار اپنی پتلون کی جیب میں جاتا جہاں اس نے انگوٹھی کی ڈبیہ رکھی ہوئی تھی جسے وہ گھر سے نکلتے وقت جیب میں رکھ لیتا تھا تاکہ جب بھی اظہار عشق کرنے کا موقع ملے تو فوراً نکال کر مریم کو پہنا دے۔ مجھے ایک طرف تو اس پر غصّہ آتا تھا۔ آخر I love you کہنے میں کون سے ہل بیل لگتے ہیں جب کہ اسے مریم سے واقعی محبت تھی، مگر دوسری طرف مجھے اس پر رحم بھی آتا تھا۔
***
چرچ کی پشت پر ایک کمرہ تھا جس میں ایک آفس کی میز اور کرسی، اور اس کے سامنے تین کرسیاں تھیں۔ اس کمرے کو پادری پال اپنے آفس کے طور پر استعمال کرتے تھے جہاں وہ اپنے خطاب کی تیاری کرتے اور ان لوگوں سے ملتے جو ان سے نجی مشورہ کرنے کے لیے آتے تھے۔ اس دن وہ اپنے کام میں منہمک تھے۔ ان کے خطاب کا موضوع تھا خوش اخلاقی، جس کی مثال کے طور پر وہ ایک منظر تشکیل دے رہے تھے۔ فرض کریں کہ آپ کہیں پیدل جا رہے ہیں اور سامنے سے آپ کو ایک شخص آتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ سر جھکائے کچھ سوچتا ہوا چلا آ رہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسے کوئی پریشانی لاحق ہے۔ جب وہ آپ کے برابر سے گزرتا ہے تو سر اٹھا کر آپ کی طرف دیکھتا ہے۔ آپ مسکرا کر اسے سلام کرتے ہیں۔ اس کے چہرے پر اچانک مسکراہٹ آجاتی ہے اور وہ آپ کے سلام کا جواب دیتا ہے۔ آپ گزر جاتے ہیں اور اس کی مسکراہٹ قائم رہتی ہے۔ کچھ دیر کے لیے وہ اپنے مسئلے کو بھول جاتا ہے اور جب دوبارہ اس کا دھیان اپنے مسئلے کی طرف جاتا ہے تو موڈ تبدیل ہونے کی بنا پر اس کا حل بھی اسے نظر آنے لگتا ہے۔ اس کا سارا دن ہشاش بشاش گزرتا ہے اور یہ سب آپ کی ایک چھوٹی سی مسکراہٹ کے طفیل ہوا ہے جس کا انعام آپ کو اگر اس دنیا میں نہیں تو آخرت میں ملے گا۔
پادری پال لکھنے میں مشغول تھے کہ انہیں چرچ کا دروازہ کھلنے کی چَڑچَڑاہٹ سنائی دی۔ انہیں یاد آیا کہ انہوں نے کئی بار سوچا تھا کہ گھر سے تیل لا کر دروازے کے قبضوں میں ڈال دیں گے تاکہ وہ چَڑچَڑاہٹ ختم ہو جائے مگر وہ ہمیشہ گھر سے نکلتے وقت بھول جاتے تھے۔ انہوں نے گھڑی دیکھی تو اس دن کی سروس میں ابھی ایک گھنٹہ باقی تھا۔ ”ضرور دانی ایل ہو گا،“ انہوں نے سوچا۔ دانی ایل ان کا بے حد مخلص رضاکار تھا اور لوگوں کے آنے سے پہلے چرچ پہنچ جاتا تھا تاکہ اگر کسی کام میں پادری پال کو کوئی مدد چاہیے تو موجود رہے۔
”گُڈ مارننگ، فادر،“ پادری پال نے سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے مریم کھڑی مسکرا رہی تھی۔
”آؤ آؤ بیٹی، گُڈ مارننگ،“ انہوں نے کرسی کی طرف اشارہ کیا، ”تم اتنی جلدی کیسے پہنچ گئیں؟“
”دانی ایل آ رہا تھا، میں اسی کے ساتھ آ گئی۔“ اتنے میں دانی ایل نے دروازے سے جھانکا اور سلام کر کے سامنے آ گیا۔
پادری پال نے اپنے کاغذات کو اُلٹ پُلٹ کر دیکھا اور ایک کاغذ نکال کر دانی ایل کو دیتے ہوئے کہا، ”آج ہم یہ دو گیت گائیں گے۔“
اس کاغذ پر پادری پال نے گیتوں کی کتاب سے ان دونوں گیتوں کے صفحہ نمبر لکھ دیے تھے۔ دانی ایل سروس شروع ہونے سے پہلے ان گیتوں کو ایک نظر دیکھ لیتا تھا تاکہ ان کی موسیقی ترتیب دے سکے۔
جب وہ دونوں کمرے سے نکلے تو پادری پال کی نظریں ان کی پشت پر تھیں اور ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ مریم پچھلے کئی اتوار سے دانی ایل کے ساتھ ان کے چرچ آ رہی تھی اور دونوں مل کر ہال میں صفائی کرتے تھے۔ ”اچھا جوڑا رہے گا،“ انہوں نے سوچا اور مسکرا کر اپنے کام میں محو ہو گئے۔

