نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں
پیاز کی محبت آرائیوں کے خون میں شامل ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ یہ مشترکہ محبوبہ ان کے درمیان رقابت کی دیوار کھڑی نہیں کرتی۔ آرائیوں کے تمام مکتبہ فکر بلا اختلاف اس کی زلف کے اسیر دکھائی دیتے ہیں۔
پیاز کے پیار میں ہمارے تقریباً تمام آرائیں دوست ہی دیوانے تھے، مگر چوہدری طاہر صاحب تو غلو کی حد تک پیاز پرست تھے۔ دوپہر کو ان کے کمرے میں کبھی جھانکتے تو وہ پیاز کی باس سے بھرا ہوتا تھا۔ موصوف پیاز کتر کر صاف ستھری پلیٹ میں سلیقے سے سجا رہے ہوتے تھے۔ پیاز سے مجنونانہ محبت میں اس حد تک دیدہ دلیر ہو چکے تھے کہ ہر قسم کے طعنہ و تشنیع کو ہنس کر سہ جاتے تھے۔ ہاں کبھی کبھار ضبط کا دامن ہاتھ سے چھوٹ بھی جاتا تھا مثلاً کبھی بازار میں پیاز کی بھری ریڑھی دیکھ کر ہم ایک نظر چوہدری صاحب کی طرف دیکھتے تو اُن کی آنکھیں غصہ سے شعلہ بار ہو چکی ہوتی تھیں۔
وہ تند و تیز لہجے میں کہتے ”کیا یہ ساری پیازیں ہم نے ہی کھانی ہیں باقی کوئی قوم پیاز نہیں کھاتی۔“ ”باقی قومیں صرف کھاتی ہیں آپ تو پیاز کی پوجا پاٹ کرتے ہو۔“ ہماری اس توجیہہ سے چوہدری صاحب کا پارہ مزید ہائی ہوجاتا۔ بحث و مباحثہ کا اختتام اس وقت ہوتا جب چوہدری صاحب اپنی اس معصوم محبت کا سر بزم اقرار کر لیتے۔
چوہدری طاہر ایک سب رنگ قسم کی شخصیت تھے اور رنگ بدلنے کے فن میں بھی پوری طرح ماہر تھے۔ انھیں زمانہ سازی کے تمام امور سے مکمل آگہی حاصل تھی۔ وہ اپنی جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی خوبیوں اور خامیوں کی پوری طرح پہچان رکھتے تھے۔ صاف ستھرے اور نفیس لباس کو پسند کرتے تھے۔ کھانے پینے کے معاملے میں حد درجہ محتاط تھے۔ دسترخوان پر ہم ابھی کھانے کا مومینٹم پکڑ رہے ہوتے تھے تو دوسری طرف چوہدری طاہر کھا پی کر اٹھ رہے ہوتے تھے۔
اپنے وزن پہ گہری نظر رکھتے تھے کہ سیر خوری سے مبادا اس میں کچھ اضافہ ہو جائے۔ اور سچ پوچھیں تو اس احتیاط کے خاطر خواہ نتائج بھی تھے کہ وہ ہم سب سے زیادہ فٹ اور چاق و چوبند دکھائی دیتے تھے۔ رہائشی کمرے کو صاف ستھرا رکھنے میں چوہدری صاحب کا کوئی ثانی نہیں تھا، مجال ہے کسی کونے میں گرد و غبار کا کوئی شائبہ بھی ہو یا کوئی شے بے ترتیبی سے دھری ہو۔ یعنی یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ حسنِ انتظام کو چلتا پھرتا نمونہ تھے۔
لیکن شومئی قسمت دیکھیے کہ انھیں جو روم میٹ ملے وہ ان احتیاطوں اور نفاستوں سے بالاتر ایک بالکل مختلف شخصیت تھے۔ خالد مجید گاذر کی طبیعت میں بے ترتیبی اور سہل انگاری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ دونوں کی عادات و اطوار میں شرق و غرب کا بُعد تھا جس کی وجہ سے ان دونوں کا مشترکہ کمرہ امریکہ اور میکسیکو کی سرحد کا نمونہ پیش کرتا تھا۔ ایک نفاست و نُدرت میں لپٹا ہوا منقش رومال اور دوسرا آلکس اور تن آسانی سے بوجھل پرانا لحاف۔
اختلاف طبع کی اس کیفیت نے دونوں کے بیچ بَیر کی ایک نا نظر آنے والی دیوار استوار کردی تھی۔ دونوں ایک دوسرے سے کِھنچے کِھنچے سے رہتے تھے۔ باہمی دلچسپی کا کوئی ایک بھی ایسا امر نہیں تھا جس پر یہ دونوں یکساں سوچ رکھتے ہوں۔ طبیعتوں کے اس اختلاف کا شاخسانہ تھا کہ بات بے بات ہلکی پھلکی کھٹ پٹ چلتی رہتی تھی۔ کمرے کی صفائی کے معاملے پر ایک دن میں نصف درجن بار لڑائی معمولی بات تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو آہستہ آہستہ سمجھ تو گئے تھے، لیکن اپنی اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور و بے کس تھے۔ خالد مجید گاذر کی طبیعت میں دریاؤں کا سا سکون اور سکوت تھا جبکہ چوہدری طاہر اِٹھلاتے بَل کھاتے چشموں کی طرح سبک سر اور شوخ۔
سال بھر کی ٹریننگ کے عین وسط میں چوہدری طاہر کو بخار نے آ لیا اور وہ بھی ٹائیفائیڈ جیسا نامراد بخار۔ بس پھر کیا تھا علاج معالجے کے ساتھ احتیاط اور پرہیز کا پورا خیال رکھا جانے لگا۔ کالج انتظامیہ کی طرف سے ہمدردی کا مظاہرہ کیا گیا اور انھیں پی ٹی اور پریڈ جیسی مشقت بھری سرگرمیوں کے دوران ریسٹ دے دیا گیا۔ علاج معالجہ اور پرہیز کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور چوہدری صاحب رو بصحت ہونے لگے۔ لیکن موصوف کو پی ٹی اور پریڈ جیسی تھکا دینے والی مشقوں سے کنارہ کش رہنے کی ایسی لت پڑ گئی کہ بیڈ ریسٹ کا دورانیہ ختم ہو جانے پر بھی وہ اپنی حاضری لگوانے کے بعد پریڈ گراؤنڈ کے کسی ایک کونے میں بیٹھ جاتے اور پریڈ کے اختتام پر سست قدموں سے اپنے کمرے کی طرف لوٹ جاتے۔ اس آمدورفت کے دوران وہ اپنی بدن بولی سے یہ تاثر دینے کی بھرپور کوشش کرتے کہ ابھی علالت سے ان کی جان پوری طرح نہیں چھوٹی۔
کچھ گھاگ قسم کے بیچ میٹس چوہدری صاحب کی ان حرکات و سکنات پر گہری نگاہ رکھے ہوئے تھے۔ انھوں نے جب یہ دیکھا کہ چوہدری صاحب کی بیماری زلفِ یار کی طرح دراز تر ہوتی جا رہی ہے تو انھیں مذاق سوجھا۔ وہ جب بھی چوہدری صاحب کے قریب سے گزرتے تو جماعت کی شکل میں بآواز بلند نعت خوانی شروع کر دیتے ”لگیاں نیں موجاں ہُن لائی رکھیں سوہنیا“ چوہدری صاحب نعت کے پردہ میں چھپے طنز کے نشتر سے بری طرح گھائل جاتے۔ رقیبوں کے وار خاموشی سہ جانا ان کی فطرت میں تھا ہی نہیں سو وہ جوابی وار یہ کہتے ہوئے کرتے ”جیہڑیاں موجاں میریاں لگیاں نیں میری دعا ہے مولا تہاڈی ساریاں دیاں لاوے“ اور پھر دل ہی دل میں بے شمار بددعائیں دیتے ہوئے اپنے ہاسٹل کی طرف چلے جاتے۔
کوسنے اور بددعائیں دینے میں چوہدری صاحب بہت ورسٹائل تھے اور اس کا دائرہ کار صرف دشمنوں تک محدود نہیں تھا بلکہ ان کے قریبی احباب بھی کبھی کبھار اس کا شکار بن جاتے تھے۔ وہ وجاہت رانا اور خالد مجید گاذر کو کتاب بینی میں مصروف پاتے تو کہتے ”تم دونوں جتنی مرضی دوڑ دھوپ کر لو، رہنا تم نے پولیس میں ہی ہے، 25 من دال کھا کر ہی اس محکمہ سے ریٹائرڈ ہونا ہے۔“ حسنِ اتفاق دیکھیے کہ چوہدری صاحب کی بددعا زدہ یہ دونوں حضرات محض ایک سال کے عرصے میں بالترتیب ڈپٹی ڈسٹرکٹ افسر اور لیکچرار سلیکٹ ہو کر پولیس کو خیرباد کہہ گئے۔
دوران ٹریننگ ہمارے ساتھ کچھ ایسے ٹرینیز بھی تھے جو فریش سیٹس پر سب انسپکٹر بھرتی ہو کر آئے تھے اور انہیں محکمہ پولیس کا ذرا بھی تجربہ نہیں تھا۔ جبکہ ہم محکمانہ سیٹس پر بھرتی ہو کر آئے تھے اور کچھ نہ کچھ وقت پولیس میں گزار چکے تھے۔ چوہدری طاہر اور ہمارا شمار اس دوسری قبیل کے لوگوں میں ہوا تھا۔ پرانے لوگوں کی طبیعتوں میں کسی قدر ٹھہراؤ اور صبر کا مادہ زیادہ تھا، یا یوں کہہ لیں کہ کہ وہ ڈھیٹ زیادہ تھے۔
جبکہ نئے لوگ جلد باز اور شکایتی رویے کے حامل تھے۔ چوہدری صاحب کو نئے بھرتی شدہ سب انسپیکٹرز سے خدا واسطے کا بیر تھا۔ وہ ان کی حرکتیں دیکھ کر ناک منہ چڑھاتے اور کبھی کبھار تو آگ بگولا ہو جاتے بالکل اُن بوڑھوں کی طرح جو نسل نو کی حرکتوں کو دیکھ کر کبیدہ خاطر ہوتے رہتے ہیں۔ ہم انھیں یہ کہہ کر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ”جاندی کرو چوہدری صاحب! اجے نواں نواں امبیاں تے بُور۔“
چوہدری صاحب نجی محفلوں میں کھل کر گفتگو کیا کرتے تھے مگر کلاس روم میں ان کا رویہ نہایت محتاط ہوتا تھا۔ تقریبا تمام اساتذہ کی عزت کرتے تھے مگر پولیس اسٹیشن ریکارڈ کیپنگ پڑھانے والے استادِ گرامی سے کچھ بد دل رہتے تھے۔ وہ محترم سر بھی پولیس اسٹیشن میں موجود 25 رجسٹر اور ان کے ذیلی حصوں کا اکثر زبانی ٹیسٹ لیا کرتے تھے، جو چوہدری صاحب سمیت ہم سب کے لیے امر باعث تکلیف تھا۔ ایک دن انہوں نے کلاس روم میں داخل ہوتے ہی حکم صادر فرمایا کہ تمام لوگ کتابیں بند کر دیں اور اپنی نشستوں سے کھڑے ہو جائیں۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے ٹیسٹ لینا شروع کر دیا۔ معدودے چند سکہ بند شاگردوں کے یہ ناگہانی ٹیسٹ سب کے لیے بلائے جان تھا۔ چوہدری صاحب نے استادِ محترم سے نگاہ بچا کر ذرا سی کتاب کھولی اور نظر پھیرنا شروع کر دی۔ مگر زیرک استاد کی عقابی نگاہوں سے خود کو بچا نہ سکے۔ استاد کے ہاتھ میں وائٹ بورڈ مارکر تھا، انہوں نے تاک کر نشانہ مارا اور مارکر سنسناتا ہوا چوہدری صاحب کے سینے پر لگا۔ چوہدری صاحب اس اچانک حملے سے بری طرح سٹپٹا گئے اور پوری کلاس میں قہقہے گونجنے لگے۔ یہ وار چوہدری صاحب کا سینہ تو چھلنی نہ کر سکا مگر روح کو بری طرح گھائل کر گیا۔ بس پھر کیا تھا مذکورہ استادِ ذی وقار کے پیریڈ سے قبل اور مابعد چوہدری صاحب کی زبان سے ان کی شان اقدس میں وہ کلمات نکلتے تھے کہ الحفیظ و الامان۔
چوہدری طاہر صاحب خود کو سکہ بند اور گھاگ تفتیشی افسر قرار دیتے تھے۔ جس کے اثبات میں ان کے پاس ڈھیر ساری مثالیں موجود تھیں۔ مثلاً بلوچستان کے دور افتادہ پہاڑی علاقے سے خطرناک اشتہاری مجرم کو گرفتار کر کے منطقی انجام تک پہنچانے کے قصے کو وہ اپنی پروفیشنل زندگی کا نقطہ عروج قرار دیتے تھے۔ چوہدری صاحب کی بہادری کا یہ لازوال قصہ ہم نے اتنی بار سنا کہ ہمیں جزئیات سمیت مکمل یاد ہو چکا تھا۔
ویسے اس بات میں کوئی دو رائے نہیں تھی کہ چوہدری صاحب ہم چار پانچ دوستوں کی ٹولی کے سب سے زیادہ قابل، تجربہ کار اور زیرک پولیس افسر تھے۔ انھیں مثل رائٹنگ اور تفتیش کا گہرا تجربہ بھی حاصل تھا۔ اپنے اس تجربے کو انھوں نے فیلڈ کے ساتھ ٹریننگ میں خوب استعمال کیا۔ مثلاً چیف ڈرل انسٹرکٹر پولیس ٹریننگ کالج سہالہ انسپکٹر غلام رسول للہ صاحب کے دوست کی بھینس کی رقم کا قضیہ حل کروانے کے چکر میں چوہدری صاحب نے بہت فائدہ اٹھایا اور ڈھیر سارا ریسٹ بھی لیا۔ للہ صاحب درویش صفت انسان تھے، وہ پوری پریڈ کے دوران چوہدری صاحب کو سٹیج پر بلا کر کھڑا کر لیا کرتے تھے محض اس لیے کہ وہاڑی کا یہ نوجوان سب انسپکٹر بھینس کی رقم والا معاملہ حل کروا دے گا۔ مگر تا دم پاسنگ آؤٹ وہ مسئلہ جوں کا توں ہی رہا، سی ڈی آئی صاحب کے دوست کو بھینس کی رقم مل سکی نہ بھینس۔
یہ ساری باتیں اپنی جگہ مگر کبھی کبھی چوہدری طاہر صاحب کو اس وجہ سے داد دینے کو جی چاہتا ہے کہ پانچ چھ دوستوں کی اس ٹولی کا ہر ممبر تھانہ پولیس کی نوکری چھوڑ کر دائیں بائیں نکل گیا۔ مثلاً بندہ ناچیز ٹریننگ کالج چلا آیا، عثمان رضا نے موٹر کے پولیس جوائن کر لی وجاہت حبیب اور خالد مجید نے محکمے کو ہی خیرباد کہہ دیا مگر چوہدری صاحب عزم و ہمت کا استعارہ بن کر آج بھی تھانہ ڈیوٹی میں مصروف کار ہیں۔ کئی بار ایسے ایچ او تعینات ہونے کے علاوہ انچارج انوسٹی گیشن کے فرائض بھی سر انجام دے چکے ہیں۔
یہ چوہدری طاہر صاحب کے ساتھ گزرے ایک سال کے دوران پیش آنے والے واقعات کا ہلکا سا عکس ہے۔ آج بھی چوہدری طاہر، خالد مجید گاذر، وجاہت حبیب رانا، شہباز اور عثمان رضا جیسے دوستوں کا خیال آتے ہی پولیس کالج سہالہ میں گزرے ہوئے ایک سال کی تلخ و شیریں یادیں دماغ کے پردے پر گھوم گھوم جاتی ہیں۔


