عظمیٰ گل کی کتاب ’اسیرِ وفا‘ کی تقریبِ رونمائی

عظمیٰ گل کئی برسوں سے ایک قومی اخبار میں کالم لکھ رہی ہیں۔ حال ہی میں ان کے ان کالموں کا مجموعہ ’اسیرِ وفا‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ فیکٹ فورم کے زیرِ اہتمام، اکیڈمی ادبیات پاکستان میں کتاب کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا۔ سینئر سفارتکار عبدالباسط صاحب نے صدارت کی۔ حاضرین کی ایک بڑی تعداد میں جہادِ کشمیر اور افغانستان سے منسلک معروف شخصیات، ممتاز دانشور اور صحافی شامل تھے۔ ایک شاندار تقریب کے انعقاد پر فورم کی چیئرپرسن عائشہ مسعود، سیکرٹری خالد مصطفیٰ سمیت فورم کے دیگر ممبران مبارک باد کے مستحق ہیں۔ تقریب میں ازکارِ رفتہ سپاہی کو ازراہِ کرم اظہارِ رائے کا اعزاز بخشا گیا۔ اقتباسات پیشِ خدمت ہیں۔
”ممتاز امریکی مصنف ڈینئل مارکی نے اپنی کتاب No Exit from Paksitan میں جنرل حمید گل اور ان کے ساتھیوں کو ان عوامل میں شامل کیا کہ جن کی بناء پر امریکہ پاکستان کو نگرانی کے بغیر تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔ ڈینئل مارکی جنرل حمید گل کو ایک ایسا مغرب مخالف اور پین اسلام ازم کا داعی پاکستانی قرار دیتا ہے کہ جو اسلام کو ہمہ وقت خطرات میں گھرا ہوا دیکھتا ہے۔ امریکی مصنف کے مطابق جنرل گل کی سرپرستی میں ہی طالبان، اسلامی جماعتوں اور جہادی تنظیموں کا ایک ایسا گٹھ جوڑ وجود میں آیا کہ جن میں کوئی ایک عنصر کسی بھی وقت پاکستان اور بھارت کو جنگ کے دہانے پر لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری طرف ایک بہت بڑی تعداد میں پاکستانی ہیں جو جنرل حمید گل کو ایک سچا مسلمان، مجاہد اسلام اور سٹریٹیجک ڈیپتھ کے نظریے کا خالق ایک ایسا نڈر پاکستانی جرنیل قرار دیتے ہیں کہ جس نے خطے میں ایک مسلم بلاک کے قیام کا خواب دیکھنے کی جرات کی۔ اور اسی کے نتیجے میں کہا جاتا ہے کہ جب ان کی باری تھی تو امریکہ ان کی بطور سپہ سالار تعیناتی میں آڑے آیا۔
اہلِ علم کے مطابق تاریخ کے مطالعے کا درست اسلوب وہ ہے کہ جس میں تاریخی واقعات اور ان واقعات سے جڑی شخصیات کے رویوں کو سیاق و سباق میں دیکھا جا تا ہے۔ دیکھا جاتا ہے کہ جب فیصلہ ساز ایک خاص دَور میں فیصلے کر رہے تھے تو اس وقت مسائل و مصائب کی نوعیت کیا تھی۔ چنانچہ ہر تاریخی فیصلے کو اس کے مجموعی پسِ منظر میں دیکھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ہر معاملے کو شخصیتوں کے رومان یا نفرت میں مبتلا ہو کر انفرادی رحجانات اور تعصبات کی نظر سے دیکھنے کی روش کی بناء پر متھس جنم لیتی ہیں۔
دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے پر تاجِ برطانیہ امریکی امداد کا محتاج بن چکا تھا۔ دنیا امریکی دَور میں داخل ہو رہی تھی۔ چین کی آزادی کی جنگ لڑنے والے ماؤ سمیت دنیا کی تمام محکوم قومیں آزادی کے لئے امریکہ کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ امریکی کیمپ میں جانے کا ہمارا رویہ ہماری قومی بقاء کو لاحق انہی خطرات سے نبرد آزما ہونے کی ( اب تک جاری) کاوش کا نتیجہ تھا کہ جنہیں ہم اپنی perrenial quest کہہ سکتے ہیں۔ کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضے کو بقاء کی اس دائمی جدوجہد سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ممتاز مؤرخ ڈاکٹر عائشہ جلال کا خیال ہے کہ متعدد اندرونی، علاقائی اور بین الاقوامی محرکات کے باہم جبر نے ہی پاکستان کو امریکی کیمپ میں جانے پر مجبور کیا۔ سرد جنگ کے دور میں ہمارے ہاں اقتدار فوج کے ہاتھ میں آنے کے بعد ’aid and security nexus‘ کے معروف استعماری ہتھیار کے ذریعے امریکیوں کے لئے ہمارے ساتھ معاملات طے کرنا آسان ہو گیا۔ یاد رہے کہ یہی وہ دور تھا جب سی آئی اے نے کئی مسلم ممالک میں عوام کے مذہبی جذبات کے استحصال کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے ’عسکریت‘ کے فروغ اور انہی نظریات پر کار فرما کئی مذہبی تنظیموں کی پشت پناہی کا آغاز کیا تھا۔ ہمارے ہاں ایک معروف مذہبی سیاسی جماعت کا ’پولیٹکل اسلام‘ بھی اسی دور میں امریکی مفادات سے ہم آہنگ ہو گیا تھا۔
سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بھٹو حکومت قائم ہوئی تو یہی وہ دور تھا جب عائشہ جلال کے مطابق ’عرب اسرائیل جنگ، عربوں کی جانب سے تیل کی سپلائی پر پابندیوں اور جہادی تنظیموں کی امریکی سرپرستی جیسے عوامل کے نتیجے میں‘ عالمی اسلامائیزیشن ’خطے میں جڑیں پکڑ چکی تھی۔ چنانچہ وزیرِ اعظم بھٹو جب بظاہر امریکی استعمار کے خلاف برسرِپیکار تھے، تو وہیں پاکستان اور سی آئی اے کی مشترکہ سرپرستی میں کابل یونیورسٹی میں گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود جیسے نوجوان، اشتراکیوں کے خلاف مسلح دھڑے بندی میں مصروف تھے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ خطے میں وہ رویے کہ جنہیں اب اسلامی عسکریت پسندی کہا جاتا ہے، عام تاثر کے برعکس اس کی بنیاد جنرل ضیاء الحق کی افغان پالیسی اور جنرل حمید گل جیسے سٹریٹیجک ڈیپتھ کے خالقوں کے منظر عام پر آنے سے بہت پہلے خود امریکی سرپرستی میں رکھی جا چکی تھی۔
ہم نے لگ بھگ ساری جنگیں کشمیر کے مسئلے پر لڑی ہیں۔ تاہم افغانستان سے روسی انخلاء جب قریب تھا تو اکتائے ہوئے کشمیریوں نے جب از خود بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا تو ہم حسبِ معمول اپنے معاملات میں الجھے ہوئے تھے۔ بہت دیر بعد اس معاملے کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔ 1988 ء سے 1999 ء تک کی کشمیریوں کی جدوجہد، حریت کی سنہری حروف میں لکھی جانے والی داستانوں میں سے ایک ہے۔ 1999 ء میں کارگل کے مس ایڈوینچر کے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ ہندوستان اور امریکہ قریب آ گئے اور سٹریٹیجک اتحادی بن گئے۔ مارچ 2001 ء میں دو ملکوں کے درمیان ’سٹینڈ آف‘ کے خاتمے کی خاطر مشرف نے قوم سے خطاب میں ہندوستان کا ایک بہت بڑا مطالبہ مان لیا تو سینئر صحافی اور ڈان اخبار کے سابق مدیر ضیاء الدین صاحب بے اختیار بولے، ’اب ہمیں کشمیر کو اگلے پچاس برسوں کے لئے بھول جانا چاہیے۔ ‘ کشمیریوں نے مگر آج روز تک یہی ثابت کیا ہے کہ ان کی جدوجہد اس امر کی محتاج نہیں کہ کوئی انہیں یاد رکھتا ہے یا بھول جاتا ہے۔
بھارت کی جانب سے لاحق تمام تر سلامتی کے خطرات کے باوجود بھارت سمیت کسی بھی ملک سے نفرت کو ہماری نفسیات کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ تاہم کسی عالمی کشمکش کے تناظر میں ہمیں خطے میں spoiler کا کردار ادا کرنے سے روکنے کی خاطر بنائی جانے والی پالیسیاں دیرپا ثابت نہیں ہو سکتیں۔ ضروری ہے کہ خطے میں امن کی کوئی بھی خواہش ہمارے اپنے قومی مفادات کے تابع ہو۔
1961 ء میں صدر ایوب امریکی دورے پر گئے تو ان کا شاندار استقبال ہوا۔ امریکی صدر کینیڈی اور ان کی بیگم نے معمول سے ہٹ کر پاکستانی مہمان کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام، وائٹ ہاؤس کی بجائے اس تاریخی عمارت میں کیا جو کبھی پہلے امریکی صدر جارج واشنگٹن کی رہائش گاہ ہوا کرتی تھی۔ اسی عشایئے میں خطاب کرتے ہوئے صدر ایوب خان نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان امریکہ کا Most allied ally ہے۔ اسی جارج واشنگٹن نے کہ جس کے نام سے یہ عمارت منسوب تھی، 1797 ء میں بطور صدر اپنے الوداعی خطاب میں کہا تھا، ’وہ قومیں جو خود کو دوسری طاقتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں، آزاد رہنے کا حق کھو دیتی ہیں۔ ‘ ’


It was already decided by Jinnah that between USA and Communist blocs, Pakistan is going to be a natural ally of USA & Britain due to follower of at least same God
Isphahani was already reported in USA as Ambassador during Jinnah tenure
Liaqat visits to USA were definitely a complete stamp on our tilt for American against Soviets. However, the final stamp was made in1954 when Pak Ambassador to USA, Bogra was selected as PM by Gov General Ghulam Md. Various defence pacts before him and during his tenure were final
At one hand we crib and curse Americans however, we forget that we successfully fought
or defend war against India in 1965 with the help US weapons we get in free (except giving Listening Post at Badaber)
PAF cannot fight or defend Pakistan without F86 / F104 / C130 / T-33/37 and B-52 Bombers and Americans state of the art low level and high level Radars
Whatever we had before Asghar Khan in British Air Chief eras were nothing but junk
Even today our proven ace aircraft is F16-Block-52