گارسیا مارکیز کی ذات، تخلیقات اور نظریات
لاطینی زبان کے مقبول، معزز اور معتبر ناول نگار گارسیا مارکیز کا نوجوانی کا خواب تھا کہ وہ ایک معرکتہ الآرا ناول لکھیں۔ انہوں نے کئی مختصر اور طویل کہانیاں رقم بھی کیں لیکن وہ اس لمحے کا انتظار کر رہے تھے جب ایک لکھاری کسی بڑی کہانی سے حاملہ بن جاتا ہے۔
وہ لمحہ اس وقت آیا جب گارسیا مارکیز اپنے خاندان کے ساتھ ایکاپولکو کے سفر پر روانہ ہو چکے تھے۔ سفر پر آگے بڑھنے کی بجائے وہ واپس لوٹ آئے اور سب کام چھوڑ کر ناول لکھنا شروع کر دیا۔
وہ ہر روز کچھ لکھتے اور قریبی دوستوں کو سناتے۔
کام نہ کرنے کی وجہ سے جب ان کی بیگم اور بچوں کو مالی تنگی کا سامنا ہوا تو انہوں نے کار بیچ کر سب رقم بیگم کو دے دی۔
ناول لکھتے
ایک مہینہ گزرا۔
تین مہینے گزرے۔
چھ مہینے گزرے۔
ایک سال گزر گیا لیکن ناول مکمل نہ ہوا۔
گارسیا مارکیز کی بیگم نے پہلے مالک مکان سے پھر دوستوں اور رشتہ داروں سے قرض لینے شروع کیے تا کہ گھر کا خرچ چلتا رہے۔
گارسیا مارکیز ہر روز بارہ بارہ گھنٹے لکھتے اور ایک ہی باب کو بار بار لکھ کر دوستوں کو سناتے۔
آخر اٹھارہ ماہ کی محنت، مشقت اور ریاضت کے بعد ان کا ناول مکمل ہوا جس کا نام انہوں نے
ONE HUNDRED YEARS OF SOLITUDE
رکھا۔ اس ناول میں انہوں نے ایک فرضی اور خیالی شہر ماکونڈو کی شروع سے آخر تک کہانی رقم کی ہے جو کئی نسلوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس ناول میں انہوں نے کولمبیا کے عوام و خواص کے مسائل پر تفصیلی اظہار خیال کیا ہے۔
گارسیا مارکیز کا ناول اتنا مشہور و مقبول ہوا کہ اس کا ان گنت زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ وہ ناول ادبی طور پر ہی نہیں معاشی طور پر بھی کامیاب ہوا جس سے ان کی بیگم کے سب قرض اتر گئے اور انہیں اپنے ادیب شوہر کے ادبی خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے میں مدد کی سماجی داد بھی ملی اور معاشی اجر بھی ملا۔
گارسیا مارکیز چھ مارچ انیس سو ستائیس کو کولمبیا کے ایک چھوٹے سے شہر ایراٹیکا میں اپنے والد گبرائیل گارسیا اور والدہ لوئیسا مارکیز کے گھر میں پیدا ہوئے۔ جب ان کے والد فارمیسسٹ بنے تو وہ اپنے بیٹے کو ان کی نانی نانا کے پاس چھوڑ کر ایک بڑے شہر بارنکوئیلا ہجرت کر گئے۔ گارسیا کے کرنل نانا نہ صرف ایک انقلابی تھے بلکہ ایک اچھے قصہ گو بھی تھے۔ گارسیا ماکرکیز کا کہنا تھا کہ ان کے نانا تاریخ اور حقیقت کی آنول سے جڑے ہوئے تھے۔ گارسیا مارکیز نے اپنے نانا سے بہت کچھ سیکھا اور ان کے حوالے سے ایک کہانی بھی لکھی۔ گارسیا مارکیز نے اپنے نانا کے ایک جملے کو بہت سراہا۔ فرماتے ہیں
YOU CANNOT IMAGINE HOW MUCH A DEAD MAN WEIGHS
گارسیا مارکیز کے بزرگ اور دانا نانا اپنے نواسے کو یہ درس دینا چاہتے تھے کہ کسی بھی انسان کا قتل انسان کے ضمیر پر بھاری بوجھ بن جاتا ہے۔
گارسیا مارکیز نے اپنے نانا سے انسان دوستی کا فلسفہ سیکھا۔ اور زمانہ طالب علمی سے ہی بائیں بازو کی سوشلسٹ تحریک میں شامل ہو گئے۔
گارسیا مارکیز کو نوجوانی سے ہی ادب کا شوق تھا۔ انہوں نے وکالت کی تعلیم چھوڑ کر ایک صحافی بننا زیادہ پسند کیا۔
گارسیا مارکیز نے جن ادیبوں کو سراہا ان میں کافکا، بورخیز، ورجینیا وولف اور ولیم فوکنر سر فہرست ہیں۔
گارسیا مارکیز نے جب اپنے سوشلسٹ خیالات کا اظہار کیا اور امریکی استعماریت کے خلاف آواز بلند کی تو امریکہ نے ان پر اپنے دروازے بند کر دیے اور انہیں امریکہ کا ویزا دینے سے انکار کر دیا۔ یہ علیحدہ بات کہ وقت کے ساتھ ساتھ گارسیا مارکیز اور ان کے ناول کی مقبولیت اتنی بڑھی کہ امریکی صدر بل کلنٹن نے ان پر امریکہ آنے کی پابندی ہٹا دی بلکہ اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ گارسیامارکیز کا ناول ان کا پسندیدہ ناول ہے۔
گارسیا مارکیز نے جہاں اپنی بچپن کی محبوبہ مارسیڈیز بارچا سے شادی کی اور دو بیٹے روڈریگو اور گونزیلا پیدا کیے وہیں ان کے اپنی جوانی کی محبوبہ سوزینو کارٹو سے بھی رومانوی تعلقات قائم رکھے جو میکسیکو کی ایک نامور لکھاری تھیں۔ سوزینو سے ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام اندرا کاٹو ہے جو میکسیکو کی ایک مقبول فلم میکر ہیں۔
گارسیا مارکیز کی ان گنت کہانیوں میں سے جو کہانیاں بہت مقبول ہوئیں وہ مندرجہ ذیل ہیں
ONE HUNDRED YEARS OF SOLITUDE 1967
CHRONICLE OF A DEATH FORETOLD 1981
LOVE IN THE TIME OF CHOLERA 1985
گارسیا مارکیز کو انیس سو بیاسی کا ادب کا نوبل انعام ملا۔
گارسیا مارکیز کی تخلیقات میں جس خصوصیت کو سب سے زیادہ سراہا گیا وہ
MAGICAL REALISM
طلسماتی حقیقت نگاری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس انداز تحریر نے بیسویں صدی کے جن ادیبوں کو متاثر کیا ان میں سلمان رشدی بھی شامل ہیں۔
گارسیا مارکیز کو اپریل دو ہزار چودہ کو ہسپتال داخل کیا گیا کیونکہ ان کی صحت بہت خراب تھی۔ چند دنوں کے بعد وہ 87 برس کی عمر میں سترہ اپریل دو ہزار چودہ کو نمونیا کی وجہ سے دار فانی سے کوچ کر گئے۔
ان کی وصیت کے مطابق گاریسا مارکیز کے جسد خاکی کو آگ کے حوالے کر دیا گیا۔
گارسیا مارکیز تو اس دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن ان کی کہانیاں رہتی دنیا تک زندہ رہیں گی۔ ان کے ناول ادب دوستوں کے لیے قیمتی ادبی تحفے ہیں۔
ادب کا جو بھی سنجیدہ قاری ان کی کہانیوں کو پڑھتا ہے وہ ان کہانیوں کے سحر سے نہیں نکل پاتا کیونکہ وہ کہانیاں اپنے اندر ایک جادوئی اثر رکھتی ہیں۔ گارسیا مارکیز کا کہنا تھا کہ ان کی کہانیوں کا جادو ان کی نانی کی دین ہے جو انہیں بچپن میں پریوں، جنوں اور خیالی دنیاؤں کی حیرت انگیز کہانیاں سنایا کرتی تھیں اور وہ ان کہانیوں کے سحر میں کھو جاتے تھے۔



بہترین و معلوماتی تحریر۔ بہت بہت شکریہ پیارے ڈاکٹر صاحب