مغرب کا فیض اور مشرق کا فیض
11 جون 786 عیسوی کی بات ہے عباسی خلیفہ ہارون رشید اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ تخت بغداد پر متمکن تھا کہ مکہ کے قریب واقع وادی الظاہر کے مقام فخ میں حکومت مخالف باغیوں اور عباسی سلطنت کے فوجی دستوں کے درمیان ایک مسلح مد بھیڑ ہو گئی جس میں عباسی فوج کو فتح ہوئی اور باغیوں کو راہ فرار اختیار کرنی پڑی ایک باغی سردار ادریس بن عبداللہ اپنے کچھ ساتھیوں سمیت مصر کی جانب فرار ہو گیا۔ مصر میں بھی اس کو پناہ نہ ملی اور وہ مزید شمال مغرب کی جانب آج کے مراکش کے علاقے میں پہنچ گیا۔
مراکش کے علاقے کو اس زمانے میں اور آج بھی عرب دنیا میں المغرب ہی کہا جاتا ہے اور عربی میں مراکش کا سرکاری نام المغرب ہی ہے۔ ادریس بن عبداللہ کے اس قافلے نے دریائے جواہر کے کنارے پڑاؤ ڈالا اور اسی وقت وہاں ایک بستی کی بنیاد پڑ گئی جس کا نام ”فیض“ رکھ دیا گیا اور دریا جواہر کو بھی دریا فیض کے نام سے پکارا جانے لگا۔ اسی طرح سے ”فیض“ کے شہر کو بغاوت کا ایک استعارہ کہا جا سکتا ہے۔ آج فیض مملکت مراکش کا دوسرا بڑا شہر ہے اور اس کی آبادی تقریباً 12 لاکھ ہے۔
لگ بھگ 1200 سو سال بعد 1951 میں مملکت خداداد پاکستان میں بھی بغاوت کی ایک کوشش طشت ازبام ہوئی۔ حکومتی بیان کے مطابق اس بغاوت کی سازش میں فوجی اور سویلین دونوں اقسام کے افراد ملوث پائے گئے۔ یہ بغاوت کی کوشش پاکستان کی تاریخ میں ”راولپنڈی سازش کیس“ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس بغاوت کا مرکزی کردار تو ایک فوجی جرنیل ہی تھا لیکن حیرت انگیز طور پر دیگر کے علاوہ ایک مرنجاں مرنج شاعر فیض کا نام بھی باغیوں کی فہرست میں درج تھا۔
یہ فیض تو دوہرے فیض تھے ان کا پیدائشی نام بھی فیض تھا اور شاعر ہونے کے حوالے سے ان کا تخلص بھی فیض تھا اور یوں یہ فیض احمد فیض کہلاتے تھے۔ اس بغاوت کی سازش کے سرغنہ جنرل اکبر خان قرار دیے گئے ان کے ساتھ ان کی بیوی بیگم نسیم اکبر کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ سازش کا الزام عائد کرنے والے بیگم نسیم اکبر کو اس کوشش کا بنیادی کردار قرار دیتے تھے۔ بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے دوسرے گورے کمانڈر انچیف جنرل گریسی نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ”مجھے اکبر پر ترس آتا ہے کہ ایک نفیس سپاہی، اپنی بیوی کی وجہ سے نقصان اٹھائے گا“ ۔
اس زمانے کا پاکستانی میڈیا بھی اکثر اس بات کا ذکر کرتا رہتا تھا کہ جنرل اکبر اپنی بیوی کے زیر اثر تھے۔ سرکاری حلقوں کا خیال تھا کہ بیگم نسیم اکبر بہت زیادہ اونچی اڑان، اڑنے والی خاتون تھیں اور وہ اپنے شوہر کو مختلف قومی معاملات میں مداخلت کرنے کی صلاح دیتی رہتی تھیں۔ بہرحال ہم بات کر رہے تھے فیض احمد فیض صاحب کی جو ناحق اس سازش میں شامل سمجھے گئے۔
آج اگست 2024 میں پاکستان کے حکومتی ایوانوں میں ایک اور فیض کا نام گونج رہا ہے۔ ان کا پورا نام لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ہے۔ یہ پاکستان کے سب سے بڑے جاسوسی ادارے آئی۔ ایس۔ آئی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ 13 اگست 2024 کو پاکستان کی فوج کے ایک اعلامیے کے ذریعے یہ اعلان کیا گیا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کو فوجی تحویل میں لے کر ان کے خلاف فیلڈ کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ اس گرفتاری کے اعلان کے فوراً بعد پاکستان کے ایک جغادری اینکر جو آج کل عمران خان کی محبت میں سرشار ہیں، وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا کہ اس گرفتاری کا سب سے زیادہ فائدہ تحریک انصاف کو ہو گا کیونکہ تحریک انصاف فیض حمید کی ہدایت پر عمل کرنے پر مجبور تھی اور فیض کی ہدایات عموماً بغاوت کے مترادف ہوتی تھیں اور اب تحریک انصاف فیض کے اثر سے آزاد ہو گئی ہے۔
یہ اینکر دوسرے دن جیو نیوز کے پروگرام میں یہ کہتے ہوئے بھی پائے گئے کہ فیض حمید نے 9 مئی کے واقعات کی منصوبہ بندی کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ اس کے دو دن بعد عمران خان نے یہ فرمایا کہ فیض حمید ایک قومی اثاثہ تھے جو ضائع کر دیا گیا۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں، کہ یہ جو زبان زد عام تھا کہ بشری بی بی کے قبضے میں جن ہیں تو اس جن کا نام فیض حمید ہی تھا۔ کہا جاتا ہے حکومت اور فوج کی موجودہ قیادت کے خلاف تمام منصوبہ بندی عمران خان، بشری بی بی اور فیض حمید کا تکون ہی تشکیل دیتا تھا۔ تحریک انصاف کی موجودہ قیادت اور پیروکار اس پر عمل درآمد کرتے تھے۔ پی ٹی آئی کے ایک سابق رہنما علیم خان راوی ہیں کہ عمران خان پوری طرح اپنی بیگم بشری بی بی کے زیر اثر تھے اور وہ کئی میڈیا انٹرویو میں ببانگ دہل کہہ چکے ہیں کہ میری مرشد بشری بی بی ہیں۔ بشری بی بی کے موکل کا کردار جنرل فیض ادا کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ جنرل فیض جو خفیہ قومی اور بین الاقوامی معلومات قبل از وقت بشری بی بی کو فراہم کرتے تھے، بشری بی بی عمران خان کو وہی معلومات اپنی کرامت کے طور پر گوش گزار کر دیتی تھیں اور اس طرح عمران خان، بشری بی بی کو ایک ”پہنچی ہوئی بزرگ“ سمجھنے لگے تھے۔ ”راولپنڈی سازش کیس“ اور ”نو مئی کی بغاوت“ میں عورت کے کردار میں بھی ایک حیران کن حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔
المغرب (مراکش) کا شہر فیض بغاوت کا استعارہ تو ضرور ہے لیکن یہ ایک مثبت استعارہ ہے کہ باغیوں نے ایک نیا شہر تخلیق کر ڈالا جو آج 1200 سال بعد بھی قائم و دائم ہے۔ میرے دیس میں فیض آباد دھرنے سے لے کر جناح ہاؤس لاہور پر فیض، عمران اور بشری بی بی کے تکون کے تخلیق کردہ روبوٹس کے حملے تک تباہی ہی تباہی ہوئی اور اب بھی فیض کی زہریلی بارش جاری ہے اور یہ اس وقت تک ہوتی رہے گی جب تک اس منصوبہ ساز کی ریشہ دوانیوں سے فیضیاب ہونے والے تمام افراد قانون کے شکنجہ میں نہ آجائیں۔


