آئینے کے پیچھے چھپی لڑکی
میں اپنے باپ سے شدید نفرت کرتی ہوں۔ میری اس سے نفرت کا آغاز اس وقت ہوا جب میں نے ہوش سنبھالنا شروع کیا اور تب بہت زیادہ بڑھ گئی جب میں نے خود سے نفرت کرنا شروع کی۔ کوئی انسان اتنا بدصورت کیسے ہو سکتا ہے؟ اتنا کہ اس کے پاس اپنی اولاد کو ورثے میں دینے کے لیے کچھ نہ ہو سوائے بد صورتی کے! میں اس سے نفرت نہیں کرنا چاہتی لیکن کوئی خود کو کسی سے نفرت کرنے سے کیسے روک سکتا ہے؟ بالکل اسی طرح جیسے خود کو کسی سے محبت کرنے سے نہیں روک سکتا۔
میرے باپ کے پیلے پیلے لمبے دانت جو منہ بند کرنے پر بھی باہر جھانکنے رہتے ہیں جیسے جنگلی سور۔ اس کے سر مونچھوں اور داڑھی پر بال نہیں ہیں صرف ایک انتہائی باریک بھورا بھورا رواں ہے جس سے اگر کوئی غلطی سے بھی چھو جائے تو پورے جسم میں کراہت بھری جھر جھری دوڑ جاتی ہے جیسے کسی غلیظ لاغر چوہے کو چھو لیا ہو۔ اس کی گول گول آنکھیں اتنی باہر نکلی ہوئی ہیں جیسے دن میں جانے کتنی بار گرتی ہوں گی اور وہ انہیں واپس اٹھا کر رکھ لیتا ہو گا۔ اس کے کان۔ ان کی کوئی شکل نہیں ہے۔ اور چھوٹے اتنے کہ ان پر چٹکی بھی نہیں بھری جا سکتی۔ اس کا دبلا بتلا جسم اور اتنی بڑی توند کہ اس کا وزن سہار نے پر حیرانی ہوتی ہے۔ جب میں بچی تھی تو سب نارمل تھا۔ تب وہ میرا باپ تھا اور بس۔ اس وقت مجھے کیا معلوم تھا کہ خوبصورتی اور بدصورتی کیا ہوتی ہے۔ میں اس کے گھر لوٹنے پر خوشی سے اس کی طرف دوڑ جاتی تھی وہ مجھے اٹھا کر کندھے پر رکھ لیتا تھا اور پھر لا کر چارپائی پر پٹخ دیتا پھر اپنے بھدے ہاتھوں سے مجھے گدگدی کرتا اور میں چارپائی میں لوٹ پوٹ ہوتی رہتی۔ میں اسے ایک باپ کی طرح گھوڑا بناتی اور اس کی کمر پر سواری کرتی۔ اس کے پیٹ پر بیٹھ کر اچھلتی رہتی۔ وہ میرا منہ والہانہ چومتا رہتا جیسے ایک باپ چومتا ہے۔ تب وہ صرف ایک باپ تھا اور میں ایک بیٹی۔ لیکن پھر میں سمجھدار ہوتی گئی۔
میں اپنے باپ کو غور سے دیکھتی رہتی اور محلے کے دوسرے بچوں کے باپوں کو بھی۔ میں سمجھ نہیں پاتی تھی لیکن کچھ تھا جو میں اپنے باپ میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی اور کچھ تھا جو میں اس میں دیکھنا چاہتی تھی۔ اب میں بھاگ کر کبھی اس کی گود میں نا جاتی۔ وہ کئی کئی بار بانہیں پھیلاتا اور پھر کھسیانا ہو کر سمیٹ لیتا۔ کئی بار مجھے زبردستی اٹھانے کی کوشش کرتا لیکن میں مچلتی ہوئی کمرے میں چلی جاتی یا رونے لگتی تو وہ مجھے چھوڑ دیتا۔ اور پھر میں نے اس کی طرف دیکھنا بھی بند کر دیا۔ تب وہ بھی سمجھ چکا تھا۔ اکثر میری طرف پیٹھ کر کے بیٹھ جاتا۔ اب وہ گھر میں بھی چہرے کے گرد وہ چادر لپیٹنے لگا تھا جو وہ باہر جاتے ہوئے لپیٹتا تھا۔ وہ بڑھئی کا کام کرتا تھا۔ گھر سے نکلتے ہوئے ایک چادر اپنے چہرے کے گرد لپیٹ لیتا تھا اور ایک کالا چشمہ جس سے وہ اپنی ابلتی ہوئی آنکھیں ڈھانپتا تھا۔ میں بچپن میں کئی بار اس کی دکان پر اسے کام کرتا دیکھتی تو مجھے لگتا جیسے یہ چادر اور عینک اس کے جسم کا حصہ ہیں۔ اب وہ گھر میں بھی ایسے رہنے لگا۔ اس نے اپنا چہرہ تو مجھ سے چھپا لیا تھا لیکن میری نفرت کیسے کم ہو سکتی تھی جب تک میرا چہرہ میرے پاس تھا۔ مجھے ملی ہوئی وراثت۔
جب میں سمجھ بوجھ پانے لگی تو میں نے اپنے آس پاس سب کو مجھے دیکھ کر کھسر پھسر کرتے سنا۔ گلی محلے اور اسکول کے بچے مجھ پر ہنستے تھے۔ محلے کی عورتیں کہتیں کہ اپنے باپ پر گئی ہے کیا ہو جاتا اگر اپنی ماں پر چلی جاتی۔ میں اپنی پھوپھی سے سنتی آئی تھی کہ میری ماں خوبصورت تھی اور میری بڑی بہن بھی۔ لیکن مجھے نہ اپنی ماں یاد تھی اور نا اپنی بہن۔ میں ابھی چند مہینوں کی تھی جب میری ماں میری بڑی بہن کو لے کر کسی کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔ بدصورت مردوں کی خوبصورت بیویاں ایسا ہی کرتی ہیں۔ اور پھر میرے باپ جیسے مرد کے ساتھ کوئی عورت کیسے رہ سکتی تھی۔ میری ماں نے ٹھیک ہی کیا۔ میں سوچتی ہوں کہ اس نے میرا بیج بونے کے لیے میرے باپ کو قریب کیسے آنے دیا ہو گا! کاش وہ مجھے کوکھ میں رکھنے سے پہلے ہی بھاگ جاتی۔ میں کچھ سمجھدار ہوئی تو مجھے معلوم ہوا کہ میری خوبصورت ماں نے میرے بدصورت باپ سے شادی کیوں کی۔ جب کوئی عورت اپنے کسی عاشق کے ساتھ کوکھ ہری کر بیٹھے تو اس سماج کے غیرت مند کہلانے والے ماں باپ، میرے باپ جیسے ہی کسی محروم مرد کی محرومی میں پناہ لے لیتے ہیں۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ میری بڑی بہن خوبصورت کیوں تھی۔ وہ تو میری ماں کا جہیز تھی۔
ماں کے جانے کے بعد میری بے اولاد بیوہ پھوپھی ہمارے ساتھ رہنے لگیں۔ ہائے بے چاری! کیسا لگتا ہو گا اس کو اپنے بدصورت بھائی اور بھتیجی کے ساتھ رہ کر ۔ روز و شب یہی دو چہرے دیکھ دیکھ کر وہ انسانوں کا روپ بھول نہیں گئی ہوگی؟
میں نے اپنی صورت دیکھ کر کئی بار آئینہ توڑ دیا کہ آئندہ اپنی شکل نہیں دیکھوں گی۔ کئی بار آئینہ پلنگ کے نیچے، الماری تلے یا پرانے کاٹھ کباڑ کے نیچے دبا دیا۔ لیکن پھر کچھ دن بعد مجھے لگتا شاید میرے اندر کوئی بدلاؤ آ گیا ہو۔ شاید میری آنکھیں میرے چہرے میں بیٹھ گئی ہوں شاید میرے سر پر کچھ بال آ گئے ہوں۔ شاید میرے اونٹ جیسے لٹکے ہوئے ہونٹ کچھ بہتر ہو گئے ہوں، میرے کان انسانوں جیسے ہو گئے ہوں، لیکن ہر بار اپنا آپ پہلے سے زیادہ بھیانک لگتا اور میں پھر سے آئینہ دور پھینک آتی۔
میں اکثر بیٹھے بیٹھے تصور کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے اپنے نقش ٹھیک کرتی رہتی۔ اپنی ناک چہرے سے بار بار اوپر کی طرف کھینچتی اور مجھے لگتا میری ناک ستواں ہو چکی ہے۔ اپنی آنکھوں پر دونوں ہاتھ رکھ کر دباتی تو مجھے لگتا کہ یہ دونوں کٹوروں میں جا بیٹھی ہیں۔ اپنے باہر نکلے ہوئے لمبے دانتوں پر ایک خاص جگہ اپنی انگلیاں آری کی طرح چلاتی اور مجھے لگتا میرے دانت مکئی کے دانوں کی طرح ایک برابر ہو گئے ہیں۔ اپنے سر پر ہاتھ پھیرتی تو لگتا چھوٹے چھوٹے سخت سخت نئے بال اگ آئے ہیں۔ تب میں نا چاہتے ہوئے بھی آئینہ اٹھا لیتی۔ لیکن آئینہ دیکھتے ہی سب اپنی جگہ واپس آ جاتا۔
آٹھویں جماعت کے بعد ہی میں نے اسکول چھوڑ دیا تھا۔ بیک وقت اسکول کے اتنے سارے بچوں کی ہنسی نہیں سہہ سکتی تھی۔ وہ بھی بلا ناغہ! انہیں دنوں پھوپھی بھی گزر گئیں۔ اب گھر میں صرف میں اور میرا باپ رہ گئے۔ میں اپنے باپ کو دیکھے بغیر اس کا کھانا چارپائی پر رکھ دیتی۔ ہم دونوں کا سامنا کم ہی ہوتا تھا۔ وہ کبھی مجھے کسی چیز کے لیے آواز نا دیتا۔ خود پانی پی لیتا خود کپڑے اٹھا لیتا۔ جو سودا لاتا خاموشی سے چارپائی پر رکھ دیتا۔
میں اب 27 سال کی ہو چکی تھی۔ وہ کام پر چلا جاتا تو میں اکثر رو کر وقت گزار لیتی۔ وہ جاتے ہوئے چپ چاپ باہر نکل جاتا۔ کبھی دروازہ بند کرنے کا نہیں کہا نا اسے گھر میں اکیلی رہ جانے والی جوان بیٹی کی فکر تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی بیٹی کی عزت پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالے گا۔ میں گھر سے باہر نا نکلتی لیکن اگر نکلنا ہو جاتا تو محلے کے لڑکے ہنستے۔ میرے نام سے ایک دوسرے کو چھیڑتے۔ ایک اشارے سے کہتا ”تیری ہے“ دوسرا کہتا ”تیری ہے“۔
میں کمپاؤنڈ کے ہینڈ پمپ سے پانی بھرتے لڑکیوں سے سنتی رہی تھی کہ انہیں لڑکے چھیڑتے ہیں۔ اشارے کرتے ہیں۔ تحفہ قبول کرنے کا کہتے ہیں۔ ساتھ سیر پر لے جانا چاہتے ہیں۔ ہر لڑکی کے پاس کئی کہانیاں ہوتیں۔ لیکن مجھ پر سب لڑکے ہنستے تھے میرا مذاق اڑاتے تھے۔ کمپاؤنڈ میں لڑکیاں مجھ سے بہت کم بات کرتی تھیں۔ لیکن ان کی آپس کی گفتگو میں سنتی رہتی تھی۔ ان کی باتوں میں جوانی کے سارے رنگ سارے ذائقے موجود تھے۔ وہ ایک دوسرے کو موبائل میں فحش فلموں کے حصے دکھاتی تھیں۔ کالے گورے مردوں کے جسموں اور اعضا کی باتیں کرتی تھیں اور ان کے قہقہے کمپاؤنڈ میں گونجتے رہتے تھے۔ ان کی باتیں سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے۔ ان سب چیزوں سے انجان ہونے کے باوجود ایک عجیب سی لذت میرے کانوں کے راستے میرے اندر تک آ جاتی۔ ان کو بھی اگر کبھی کوئی اور موضوع نا ملتا تو سب میرے گرد جمع ہو جاتیں اور پھر جو ان کے جی میں آتا کہتی چلی جاتیں۔ ان کی ہر بات ہی تو مجھ پر صادق آتی تھی۔ ایک مذاق اڑاتے ہوئے پوچھتی کہ میں نے آج تک اپنے کسی آشنا کی کہانی نہیں سنائی۔
پھر محلے کے حسین لڑکوں کے نام میرے ساتھ جوڑ جوڑ کر ہنستی رہتیں۔ کبھی کبھی مجھے جنسی تعلیم دینے لگتیں۔ خالص مردوں کی چال ڈھال سے پہچان۔ ان کے جسمانی خد و خال۔ سینے کے بالوں کی اہمیت۔ مباشرت کے مختلف انداز۔ کس کس انداز سے مرد زیادہ حظ لیتا ہے۔ کس انداز سے عورت زیادہ لطف اندوز ہوتی ہے۔ مردوں کے مختلف اشاروں کا مطلب۔ عورت کن اطوار پر بغیر کچھ کہے سنے مرد کے دل میں اپنی جگہ بھانپ سکتی ہے۔ مرد کے کس اشارے کا جواب کس طرح اور کس اشارے سے دینا چاہیے۔ وہ یہ سب باتیں کیے جاتیں اور میں خاموش سنتی جاتی کیوں کہ میں بھی جانتی تھی کہ یہ سب باتیں میرے کس کام کی، اور وہ بھی جانتی تھیں کہ وہ یہ سب میرا مذاق اڑانے کو ہی کر رہی ہیں۔ ان میں سے ایک جو کئی لڑکوں سے متعلق اپنے وصل کے ذاتی تجربات بھی بیان کرتی تھی میرے کان میں آ کر بولتی۔ مرد لباس میں جتنا خوبصورت دکھتا ہے اس سے کہیں زیادہ بے لباسی میں حسین ہوتا ہے۔
وہ یہ سب باتیں کیے چلی جاتی لیکن مجھے معلوم تھا کہ میں صرف یہ باتیں سن سکتی ہوں۔ محلے کے سارے مرد، جوان اور بچے تو میرا مذاق اڑاتے تھے۔ بس محلے میں واقع ملک مشتاق کے بھینسوں کے باڑے کا ایک گوالا جو مجھ پر آج تک نہیں ہنسا ہو سکتا ہے اسے ہنسنا ہی نا آتا ہو یا یقیناً اسے مجھ پر ترس آتا ہو گا۔ جب وہ ایک عرصے تک مجھے دیکھ کر نا ہنسا تو میں نے سوچا کہ کیا وہ کبھی کوئی اشارہ بھی کرے گا۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ گھر کی چھت سے ملک مشتاق کے باڑے کا دروازہ اور تھوڑا سا صحن نظر آتا تھا۔ میں اسے چھت کی چاردیواری میں لگی جالیوں سے جھانکا کرتی۔ وہ ایک لمبا تڑنگا چوڑی چھاتی کا کوئی پینتیس سال کے لگ بھگ آدمی تھا۔ لیکن باڑہ دور بھی تھا اور دوسرا صرف دروازہ نظر آنے کی وجہ سے اس کی صرف اسی وقت جھلک نظر آتی جب وہ باڑے سے باہر جاتا یا پھر اندر آتا۔ وہ ہر وقت دھوتی اور قمیص پہننے رکھتا۔ میں نے اسے کبھی کسی اور لباس میں نہیں دیکھا۔ ایک دن جب میں نے باڑے کا صحن آگے تک دیکھنے کی خاطر اینٹوں پر چڑھ کر چاردیواری کے اوپر سے جھانکنا چاہا تو عین اسی وقت وہ سامنے دروازے سے اندر داخل ہوا اور مجھے دیکھ لیا۔ میں ایک دم اینٹوں سے نیچے اتر گئی۔ کچھ دیر توقف کے بعد میں نے جالیوں سے جھانکا تو وہ اب بھی وہیں کھڑا تھا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ میں جالیوں کے پیچھے ہوں اس لیے اس نے دیوار کے اوپر آنے کا اشارہ کیا۔ میں ایک دم سے واپس اینٹوں پر چڑھ گئی۔ اب اس نے نیچے باڑے میں آنے کا اشارہ کیا۔ میں انکار میں سر ہلانا چاہتی تھی۔ لیکن مجھے اپنا سر اتنا بھاری لگا کہ میں چاہ کر بھی نا ہلا سکی۔ وہ مسلسل نیچے آنے کا اشارہ کیے جا رہا تھا۔ میں اسے ہاتھ کے اشارے سے منع کرنا چاہتی تھی لیکن میرا ہاتھ نہیں اٹھ پا رہا تھا۔ میں نے یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا میرا سر ہل بھی پا رہا ہے یا نہیں اثبات میں سر ہلا کر دیکھنا چاہا اور وہ ہل گیا۔
دن کے 12 بجے کا وقت تھا۔ میرا باپ کام پر گیا ہوا تھا۔ میں چپ چاپ چھت سے اتری اور ملک مشتاق کے باڑے کی طرف روانہ ہو گئی۔ نا میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا نا میری سانس پھول رہی تھی نا میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور نا ہی مجھے پسینہ آ رہا تھا۔ کیوں کہ میں دنیا سے اپنا ستائیس سالہ انتقام لینے جا رہی تھی۔
میں باڑے کے دروازے پر پہنچی تو وہ پہلے سے دروازہ کھولے منتظر تھا۔ میرے اندر جاتے ہی اس نے دروازے کی کنڈی لگا دی۔ مجھے بازو سے مضبوطی سے پکڑ کر بولا۔
مجھے دیکھتی ہے تو ؟ بول؟ تو ہی رہ گئی مجھے دیکھنے کے لیے بد شکلی؟ بول کیا دیکھنا ہے تجھے؟
وہ مجھے بازو سے پکڑ کر اندر کھینچتا جا رہا تھا۔ اندر لا کر اس نے مجھے ہری مکئی کی کتر کی ڈھیری پر پھینک دیا۔
” بتا کیا دیکھنا ہے تجھے؟ بول؟ لے تو بھی کیا یاد کرے گی“ ۔ اس نے اپنی قمیض اتار دی اور اپنے پیروں پر گول گھوم گیا۔ ”دیکھ رہی ہے نا پھٹی آنکھوں والی؟“ وہ مجھے گندی گندی گالیاں دیتا رہا۔ مجھے بدصورتی کے طعنے دیتا رہا اور اپنا جسم دکھاتا رہا۔
”بس یا اور بھی دیکھنا ہے؟ دیکھ دیکھ“ اور اس نے دھوتی اپنے گھٹنوں سے اوپر تک اٹھا دی۔
”کافی ہے؟ کہاں کافی ہو گا لٹکتے ہونٹوں والی! تجھے تو سب دیکھنا ہو گا نا؟ تو بھی کیا یاد کرے گی کہ کس سخی سے واسطہ پڑا تھا۔ لے دیکھ سب دیکھ“ ۔ اور اس نے اپنی دھوتی کھول کر ایک طرف رکھ دی۔ ”اپنا ہاتھ لا۔ یہ لے پکڑ۔ کیسا ہے؟ بول نا خنزیر جیسے دانتوں والی؟ تو بھی کیا یاد کرے گی کہ کس سخی سے واسطہ پڑا تھا۔ آج سب کر دیتا ہوں۔ اتار کپڑے۔“ اور پھر اس نے خود ہی میرے کپڑے اتار دیے۔ میری چولی کھولتے ہی میرے کپڑے سے بنے پستان نیچے آ گرے۔ وہ قہقہے لگا کر ہنسا۔
”ارے اندر بھی نقلی؟ گنجی! میں تو سمجھا تھا صرف شکل خراب ہوگی۔ لیکن کوئی بات نہیں۔ تو بھی کیا یاد کرے گی کہ کس سخی سے پالا پڑا تھا۔
”تھو تھو تھو“ وہ میرے چہرے پر تھوکے جا رہا تھا۔
وہ مختلف انداز سے آتا جا رہا تھا۔ میں کتر میں اندر تک دھنس جاتی تو وہ مجھے واپس نکال لیتا۔ ہری ہری تازہ مکئی کی کتر کی مہک کے ساتھ اس کے پسینے کی بو بھی شامل ہو گئی تھی۔ اس کو آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا۔ اس کا پورا جسم پسینے سے شرابور تھا لیکن وہ مسلسل حرکت کیے جا رہا تھا۔ مجھے لگتا جیسے کوئی خنجر میرے دل کو چھو کر آ رہا ہے۔
بول تعفن زدہ کتیا؟ اچھا لگ رہا ہے یا نہیں؟ تو بولتی کیوں نہیں؟ ہاں ہاں ہاں۔
اور پھر وہ اپنے باڑے کے کسی بھینسے کی طرح آوازیں نکال کر سکون میں آ گیا اور کتر پر ایک طرف ڈھلک گیا۔
”تو بھی کیا یاد کرے گی کہ کس سخی سے واسطہ پڑا تھا۔ یہ سب تجھے زندگی بھر دوبارہ نہیں ملنے والا۔ نا مجھ سے نا ہی کسی اور سے۔ میری طرح ترس کھانے والے مرد نہیں ملتے۔“
میں نے اپنے جسم سے کتر جھاڑا اور کپڑے پہن کر چپ چاپ باہر نکل آئی۔
انسانوں سے ملنے والی اتنی نفرت اور اپنی تمام بدصورتی کے باوجود کبھی میرے دل میں خودکشی کا خیال نہیں آیا تھا۔ لیکن پچھلے مہینے اور پھر اس مہینے ماہواری نا آنے سے مجھے ایسا کچھ سوچنے کا جواز ملا۔ میرے لیے کسی کا نطفہ اپنی کوکھ میں پالنا مشکل نہیں ہے۔ نا ہی میں ایک ماں کے روپ میں دنیا سے خوف زدہ ہوں۔ میں صرف اپنی اور اپنے باپ کی کہانی نہیں دہرانا چاہتی۔ میں نہیں چاہتی کہ اپنی اور اپنے باپ جیسی ایک اور بدصورتی دنیا کو دوں۔ میں ایک اور تماشا نہیں لگانا چاہتی۔ میں اپنا بچہ دنیا کی تفریح کے لیے دھرتی پر نہیں رکھ سکتی۔ اس لیے میں اس نتیجے پر پہنچی کہ نا صرف میں نیا تماشا نہیں لگاؤں گی بلکہ اپنا تماشا بھی اختتام پذیر کر دوں گی۔ اس لیے میں استری کا تار چھیل چکی ہوں بس پلگ دے کر ہاتھ میں پکڑنا باقی ہے۔
الوداع اے زندگی نام کے دکھ الوداع۔
الوداع اے میری روح میں بسنے والی بدصورتی الوداع۔


