رخصتی

مجھے یہاں دربار کے باہر بیٹھے ہوئے کئی ماہ ہو گئے ہیں۔ اگر کسی کے ہوش و حواس چلے جائیں تو کوئی بات نہیں پر میرے تو ہوش بھی ٹھکانے ہیں۔ میں بس چپ کر کے بیٹھی ہی رہتی ہوں۔ مجھے کسی سے کچھ نہیں مانگنا۔ ہاتھ پھیلاتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے۔ ساری زندگی بس یہی کام تو کبھی نہیں کیا۔ روکھی سوکھی، دال روٹی یا سبزی گوشت جو میسر ہوتا تو خوش ہو کر خود بھی کھاتے اور

Read more

بدلاؤ

میں اس وقت کوٹ ادو میں جاب کرتی تھی۔ ہاسپیٹل کے کوریڈور میں ایک خاتون ملی اور میرے گرد بازو لپیٹ لیا۔ ”چھومی۔“ اس نے والہانہ انداز میں کہا۔ میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔ پہچان نہ سکی۔ مگر خوش دلی سے مسکرائی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے آفس میں لے آئی۔ میں مسلسل اس کے چہرے پر نظر رکھے، پہچاننے کی کوشش میں مصروف تھی۔ اور دل ہی دل میں نادم بھی کہ مجھے یاد

Read more