بیٹی پڑھاؤ۔ بیٹے کو انسان بناؤ

آج ایک ایسے موضوع پر لکھنے کا موقع ملا ہے جس پر لکھنے کے لئے جب قلم اٹھایا تو دماغ میں بے پناہ سوچوں کا انبار لگ گیا۔ جب لفظ ”بیٹی“ ادا کیا جاتا ہے تو دماغ کے کسی کونے میں وہ دور یاد آ جاتا ہے جب رسولﷺ کے دور سے پہلے زمانہ جاہلیت میں بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ ایسا سوچتے ہی روح کانپ اٹھتی ہے اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں لیکن آج بیسویں صدی کے دور میں بھی ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے ہم زمانہ جاہلیت سے باہر نکلے ہی نہیں۔
سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ آج بھی عورت کو ایک گوشت کا لوتھڑا یا پھر ایک موقع ہی سمجھا جاتا ہے ورنہ آج زینب جیسی بہت ساری بچیاں زندہ ہوتیں اور ایک خوشگوار زندگی گزار رہی ہوتیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے قانون کی بالادستی مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہے اور اس کا براہ راست اثر خواتین پر ہو رہا ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات عام سی بات ہو گئی ہے
دسمبر 2012 کو دہلی کی ایک بس میں ایک طالبہ جیوتی سنگھ کے ساتھ چھ درندوں نے جنسی درندگی کی۔ لوہے کے راڈ اندر ٹھونسے۔ پورا بھارت ہل گیا تھا کہ اب 2024، کولکتہ نہ صرف بھارت کی ریاست مغربی بنگال کا دارالحکومت ہے بلکہ دنیا کا ایک مشہور تاریخی شہر بھی ہے جہاں چند دن قبل ایک واقعہ ہوا، جس کے بعد مقامی سطح پہ احتجاج شروع ہوا۔ واقعہ یہ ہے کہ ریاست مغربی بنگال میں ایک ٹرینی ڈاکٹر ممیتا کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے بعد بدترین طریقے سے ان کی جان لے لی گئی، 31 سالہ خاتون ٹرینی ڈاکٹر ’مومیتا‘ جمعے کی شب اپنی ہاؤس جاب کی 36 گھنٹوں پر مشتمل سخت شفٹ کے بعد اسپتال میں خواتین کے لیے ’کامن روم‘ نہ ہونے کے باعث اسپتال میں موجود ایک سیمینار ہال میں ہی سو گئی تھی۔ جس کے بعد متعدد افراد کی جانب سے ان کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ ڈاکٹر مومیتا کی مسخ شدہ لاش وصول کرنے کے لیے ڈاکٹر مومیتا کے ماں باپ کو تین گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر مومیتا کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مقتولہ کی آنکھوں، چہرے، سر، بازو، ہاتھوں، ہونٹوں، ٹھوڑی، پیٹ اور شرمگاہ پر زخم پائے گئے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مقتولہ کے جنسی عضو کے اندر بھی زخم تھا جو Perverted Sexuality کی عکاسی کرتا ہے کہ مقتولہ کے اندر کوئی لوہے یا لکڑی کا آلہ ٹھونسا گیا۔ اگرچہ یہ درندگی بھی ایک انتہائی درندگی ہے تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق گلے کی ہڈی کے علاوہ مقتولہ کے جسم کی کوئی اور ہڈی ٹوٹی ہوئی نہیں تھی۔ رپورٹ کے مطابق کلکتہ کی اس زیرِ تربیت ڈاکٹر مومیتا کا سر فرش یا دیوار کے ساتھ پٹخا گیا اور بعد میں گلہ دبا کر قتل کر دیا گیا۔ گلہ دبانے سے ہی گلے کی ہڈی ٹوٹی۔ درندے کی دیدہ دلیری کا یہ عالم تھا کہ وہ یہ دل دہلا دینے والا جرم کر کے بھی گھر چلا گیا اور آرام سے سو گیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں سیمینار ہال میں چار مرد دکھائی دیے جن میں سے تین وہ تھے جن کے ہسپتال میں کوئی نہ کوئی قریبی رشتہ دار داخل تھے جبکہ چوتھا سنجے رائے تھا جو بلیو ٹوتھ بھی لاش کے پاس چھوڑ گیا۔ کلکتہ پولیس نے جب سی سی ٹی وی فوٹیج اور بلیو ٹوتھ کی بنیاد پر سنجے رائے کو پکڑا تو اس کے چہرے پر ناخنوں کے نشانات پائے گئے جو اس بات کا ثبوت تھے کہ مقتولہ نے اپنے بچاؤ کی خاطر ہر ممکن مزاحمت کی ہو گی۔ سنجے رائے نے نہ صرف دورانِ تفتیش اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے بلکہ پولیس افسران کو یہ بھی کہا ہے کہ مجھے پھانسی دے دو ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سنجے رائے نہ صرف پورن فلمیں دیکھنے کا عادی ہے بلکہ اپنی والدہ، بہن اور بیوی کو بھی جسمانی تشدد کا نشانہ بنا چکا ہے اور چند برس قبل اس کی ساس نے اس کے خلاف بیوی کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے پر پولیس کو ایک رپورٹ درج کروائی تھی۔
ٹرینی ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کے بعد ہیلتھ ورکرز کو بہتر تحفظ فراہم کرنے کے مطالبے کے لیے بھارت بھر میں ہزاروں ڈاکٹروں نے ہڑتال کر دی۔ فیڈریشن آف ریزیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر سرویش پانڈے نے کہا ہے کہ ملک بھر میں تقریباً 300,000 ڈاکٹرز اس احتجاج میں شامل ہو چکے ہیں اور ابھی مزید اس احتجاج میں شامل ہونے کی امید کرتے ہیں۔ اس وقت پورے ہندوستان میں اس دل دہلا دینے والے واقعہ کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹرز نے ہڑتال کر رکھی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر تین عورتوں میں سے ایک عورت جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہے۔
بھارت کے علاوہ پاکستان کی خواتین کے خلاف بھی جنسی زیادتی کا سلسلہ ہر سال بڑھ رہا ہے۔ روز کوئی نہ کوئی عورت یا معصوم بچی ان درندوں کی ہوس کا نشانہ بنتی ہے مگر آج تک کسی مجرم کو سزا نہیں ہوئی۔ خواتین کے خلاف جنسی زیادتیوں کے واقعات میں کمی کیوں نہ آ سکی یہ ایک اہم سوال ہے جو ہر انسان کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے۔ میں ان قانون اور انصاف کے ٹھیکیداروں سے ایک ہی سوال پوچھنا چاہوں گی، اگر زینب یا ڈاکٹر مومیتا کی جگہ آپ کی بیٹی ہوتی تو کیا تب بھی خاموش تماشائی بنے کھڑے رہتے؟ کیا تب بھی ان درندوں کو آزاد گھومنے دیتے؟ ہمارا نظام اتنا گل سڑ چکا ہے کہ اپنے ہی ملک میں انصاف مانگنے کے لیے خود مرنا پڑتا ہے یا پھر مار دیا جاتا ہے۔ ایک کڑوا سچ یہ ہے کہ خواتین دنیا کے کسی بھی کونے میں چلی جائیں مگر جنسی زیادتی کا نشانہ بنتی رہیں گی۔
اب خواتین باہر نکلتے ہوئے خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔ صرف ایک ڈاکٹر مومیتا نہیں بلکہ ہر عورت اپنے ذہنی سکون اور جسمانی سلامتی کے رسک پہ گھر سے باہر قدم رکھتی ہے، گھر سے باہر کی کیا مثال دوں کہ گھر کے اندر چھوٹی بچیاں بھی محفوظ نہیں ہیں۔
ہمارے یہاں لوگ ہاتھ اٹھا کر جھولیاں پھیلا کر رو دھو کر خدا سے بیٹا تو مانگ لیتے ہیں مگر ان کو انسان بنانا بھول جاتے ہیں، ان کو عورت کی اہمیت اور عزت کا درس دینا بھول جاتے ہیں، بیٹوں کی تربیت کرنا بھول جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا شروع سے ہی یہ المیہ رہا ہے کہ بیٹیوں کی بجائے بیٹوں کو زیادہ فوقیت دی جاتی ہے، بیٹا جو مرضی کر لے مگر اس کو کچھ نہیں کہا جاتا وہ تو لڑکا ہے یہ کہہ کر بات کو رفع دفع کر دیا جاتا ہے پھر یہی بیٹے بڑے ہو کر کوئی نہ کوئی کارنامہ ضرور سرانجام دیتے ہیں اور پھر معاشرے کے لیے شرم کا باعث بنتے ہیں۔
بیٹوں کی تربیت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت پر بھی زور دیں تاکہ اس حیوانوں سے بھرے معاشرے میں ان کا ہر سطح پر مقابلہ کر سکیں اور خود پر ہونے والے ظلم کا بہادری سے جواب دے سکیں۔


بے حد شکریہ