عورت، لذّت اور گناہ


” عاتکہ! میں تمہیں بتا نہیں سکتی، کتنا مزہ آیا مجھے۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، میں یہی سوچتی رہی ہوں کہ ماں باپ کے منع کرنے اور کبھی کبھی تو مار کھانے کے باوجود لڑکیاں یہ کام کیوں کرتی ہیں؟ لیکن آج میں خود اس سے لطف اندوز ہوئی تو تھوڑی دیر کے لئے مجھے ایسا محسوس ہوا، جیسے میں جنت کی فضاؤں میں پرواز کر رہی ہوں۔ تب میں نے سمجھا کہ لڑکیاں ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ کے باوجود کیوں ایسا کر گزرتی تھیں۔ خدا کا شکر ہے مجھے کاشف جیسا شوہر ملا“ ۔

مروشہ اپنی سب سے گہری سہیلی عاتکہ سے موبائل فون پر محوِ گفتگو تھی۔ اُس مختصر سے عرصہ کے نشہ کو بیان کرتے ہوئے وہ ابھی تک سرشاری محسوس کر رہی تھی۔ سب سے نزدیکی سہیلی سے اپنا تجربہ شیئر کر کے وہ بہت خوش تھی۔

عاتکہ کی شادی مروشہ سے کئی مہینے پہلے ہی ایک مذہبی خاندان میں ہو چکی تھی۔ یونیورسٹی کی اعلیٰ تعلیم کے بعد وہ تو جاب کرنا چاہتی تھی لیکن اُس کے سسرال میں لڑکیوں کو جاب کرنے کی بالکل اجازت نہیں تھی۔ اب وہ وہاں بہت گھٹن محسوس کرتی تھی لیکن اس کا اظہار کرنے سے گھبراتی تھی۔ اُس نے مروشہ کی ساری بات سن کر اُس کے لئے خوشی کے جذبات کا اظہار کیا

” تم خوش قسمت ہو کہ تمہارا شوہر تمہارے احساسات کا اتنا خیال رکھتا اور اس قدر تعاون کرتا ہے“ ۔

” ہاں بھئی! وہ تو کہتے ہیں کہ اچھے میاں بیوی میں دوستی لازمی ہے۔ اگر دونوں میں دوستی نہ ہو تو محبت نہیں ہو سکتی اور محبت کی بنیاد بھی اُن کے نزدیک ایک دوسرے کا احترام اور تمام حقوق میں برابری ہے۔ ورنہ وہ اُسے سچی محبت نہیں مانتے“ ۔

دونوں سہیلیاں کالج سے لے کر یونیورسٹی تک چھ سال اکٹھی رہی تھیں۔ بہت دوستی تھی اُن میں۔ ہر حال میں ایک دوسرے کی مدد گار ثابت ہوتیں رہیں تھیں۔ مروشہ نے عاتکہ کی شادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ البتہ جب مروشہ کی باری آئی تو عاتکہ اپنی سسرالی پابندیوں کی وجہ سے ایسا نہ کر سکی تھی۔ لیکن وہ اپنی سہیلی کے لئے بہت خوش تھی کہ اُسے کاشف جیسا پیار کرنے والا ساتھی ملا۔

خود عاتکہ کے سسرال میں بیوی کے حصہ میں صرف فرائض ہی آتے تھے۔ حقوق کا ذکر ضرور ہوتا لیکن صرف باتوں تک۔ اُس کے خاوند نے اُسے سختی سے کہہ رکھا تھا کہ اگر اُسے کسی سہیلی کی غیر معمولی حرکت کا علم ہو تو فوراً اُسے بتائے۔ عاتکہ کو خاوند کے حکم کا پاس بھی تھا لیکن مروشہ کی یہ بات اُس نے ایک خوش کن واقعہ کے طور پر سنائی تھی۔ جبکہ اُس کے خاوند کے نزدیک یہ کوئی پُرلطف واقعہ نہیں تھا بلکہ بے حیائی اور فحاشی تھی۔ اُس نے فوراً بیوی کی تمام ایسی سہیلیوں کے خاوندوں کو، جو مروشہ کو بھی جانتی تھیں واقعہ کی منفی اثر انگیزی سے آگاہ کیا۔ اُس نے انہیں قائل کر لیا کہ اُن کی بیویوں کا مروشہ سے تعلق، معاشرے میں اُن کی عزت پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔

کاشف نفیس ایک سائنسدان تھا۔ اُس نے یورپ کی یونیورسٹیوں میں تعلیم پائی تھی۔ اُس کی ریسرچ سے اُس کی لگن کے پیشِ نظر اُسے امریکہ کی کئی یونیورسٹیوں میں جانے کی سہولت بھی ملتی رہی تھی۔ وہ سمجھتا تھا کہ عورتوں کو برابری کے حقوق دیے بغیر ہمارا ملک دنیا کی ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائے گا۔

عاتکہ کے خاوند کی ذاتی تشریحات کی بدولت، مروشہ کا اپنی گہری سہیلی سے کیا ہوا خوشی کا اظہار، دوسرے دن ہی اُس کے لئے آزار بننا شروع ہو گیا۔ سب سے پہلے یونیورسٹی کی ہی ایک اور دوست نے مروشہ کو کال کی۔ پہلے حال چال پوچھا، پھر اِدھر اُدھر کی باتیں کیں اور آخر میں اُسے ہر ایسے کام سے دُور رہنے کا مشورہ دیا، جس کا اظہار وہ عاتکہ سے کر چکی تھی۔

یہ سب سن کر مروشہ تو نروس ہو گئی۔ اُسے دکھ تھا کہ عاتکہ نے اُس کے اظہارِ خوشی کو ایسا رنگ دیا کہ اُس کی پرانی سہیلیاں بھی اُس کے کردار پر شک کر رہی ہیں۔ صرف ایک دن پہلے ملنے والی اُس کی ساری خوشی اس ایک کال سے غارت ہو چکی تھی۔

دوپہر کے بعد ایک اور سہیلی کا فون آیا اور شام کو ایک تیسری کا۔ سب ہی اُسے ڈھکے چھپے لفظوں میں بُرا بھلا کہہ رہی تھیں۔ یہ امر زیادہ باعث ِ آزار تھا کہ سب کو مروشہ سے تعلق رکھنے پر اپنی شادی شدہ زندگیاں خطرے میں نظر آ رہی تھیں۔ مروشہ نے انہیں صفائی دینے کی کوشش بھی کی لیکن کوئی اُس کی سننے کو ہی تیار نہیں تھا۔ اُسے غصہ بھی تھا اور پشیمانی بھی۔ اُس نے اب تک کئی بار عاتکہ کو کال ملائی تھی مگر دوسری طرف سے اٹینڈ ہی نہیں کی جا رہی تھی۔

کام کی زیادتی اُس دن کاشف کی گھر واپسی میں تاخیر کا باعث بن گئی تھی۔ مگر اُس کی آمد سے پہلے ہی مروشہ کی والدہ کا فون آ گیا۔ وہ سخت غصے میں تھیں۔ عاتکہ کے خاوند نے بیوی کے منع کرنے کے باوجود، انہیں کال کر کے اُن کی بے توقیری کی تھی۔ وہ بیٹی سے یہ پوچھے بغیر ہی کہ اصل واقعہ کیا ہے، اُس پر برس پڑیں

” تم نے تو ماں باپ کی عزت کا جنازہ ہی نکال دیا۔ تم شادی کے بعد اتنی بے شرم ہو جاؤ گی، میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ تمہارے ابّا تو بے چارے منہ چھپائے پھرتے ہیں“ ۔

کاشف کے گھر پہنچنے تک مروشہ کا دُکھ کے مارے بُرا حال تھا۔ ایک ذرا خوشی کی پرائیویٹ بات اپنی سب سے اچھی سہیلی سے کرنے کا یہ نتیجہ نکلے گا، اُس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ کاشف کو اُس کے رویّے سے کچھ تشویش تو ہوئی اور اُس نے جاننے کی کوشش بھی کی مگر مروشہ نے خود پر ضبط کیا اور کچھ نہیں بتایا۔

اگلے دن پہلے ایک ہمسائی آئی اور اُس کے جانے کے بعد تین اکٹھی ہو کر آ گئیں۔ مروشہ فکرمند تھی کہ ابھی تک تو یہ بات صرف اُس کی سہیلیوں تک پہنچی تھی، یہ اب اُس کے محلہ میں کیسے پہنچ گئی؟ کیا اُن کے شوہروں سے بھی رابطہ کیا گیا تھا؟

” دیکھو لڑکی! یہ شریفوں کا محلہ ہے۔ یہاں یہ فحاشی نہیں چلے گی۔ تم ہمارے مردوں کو ورغلانے کی کوشش کر رہی ہو۔ اگر تم نے آئندہ کے لئے پرہیز نہ کیا تو ہم یونین کونسل تک جائیں گے اور تمہیں یہ محلہ چھوڑنا پڑے گا۔ غضب خدا کا، جن مردوں نے تمہیں اس حال میں دیکھا تھا، اُن کی کیا حالت ہوئی ہو گی؟“ ۔

تینوں ہمسائیوں کی باتوں کا لُبِ لباب یہی تھا۔

مروشہ کو حیرت ہو رہی تھی کہ کیسے صرف عاتکہ سے کی ہوئی چھوٹی سی بات، اُس کے لئے ایک گناہِ کبیرہ کا الزام بن کر اُس کے سارے محلے میں پھیل گئی ہے۔ محلے والیوں کی باتیں سن کر وہ بہت پریشان ہو گئی تھی۔ اُس نے کاشف کو کال کر کے جلدی گھر آنے کو کہا۔

کاشف تک پہلے ہی ساری خبر پہنچ چکی تھی۔ وہ دوپہر کو ہی گھر آ گیا۔ قبل اس کے کہ وہ مروشہ سے اصل مسئلہ جاننے کی کوشش کرتا، گیٹ کی گھنٹی بجی۔ کچھ محلے دار مرد حضرات ایک مولوی کے ساتھ کاشف سے ملنے آئے تھے۔ کاشف نے انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور چائے کی پیش کش کی۔ انہوں نے چائے پینے سے انکار کر دیا۔ الزامات اُن کے بھی وہی تھے جو محلہ دارنیوں کے تھے۔ کاشف نے مروشہ کی طرف سے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔ تب جا کر انہوں نے جان چھوڑی۔

اُن لوگوں کو بھیج کر کاشف اندر آیا تو مروشہ نے رو رو کر بُرا حال کیا ہوا تھا۔ کاشف کے پوچھنے پر مروشہ نے ہچکیوں کے دوران اصل بات بتا دی۔ ”میں نے آپ سے اجازت لی تھی اور میں اپنے صحن میں تھی۔ ہمارے صحن میں آس پاس سے کسی کی نظر نہیں پڑتی۔ پھر میں نے سارے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ کسی نے مجھے دیکھا بھی نہیں۔ یہ سب سنی سنائی پر مجھے الزام دے رہے ہیں“ ۔

کاشف نے اُسے تسلی دی۔ ”مجھے یقین ہے، تم نے کچھ بھی غلط نہیں کیا۔ تمہاری غلطی یہ ہے کہ تم نے عاتکہ کو اپنی خوشی میں شامل کر لیا۔ تم یہ بھول گئیں کہ وہ اس وقت کس ماحول میں جی رہی ہے۔ اُس کے سسرال والوں نے اُس پر کتنی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ پھر اُس نے آگے جہاں جہاں بات پھیلائی، سب نے اپنے اپنے ترجمے کر لئے۔

” میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ عاتکہ میرے ساتھ ایسا کرے گی“ ۔

” وقت، حالات اور ماحول کے ساتھ خیالات بھی بدل جاتے ہیں۔ ہمیشہ ہمیشہ کچھ بھی اور کوئی بھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ عاتکہ نے کس سے اور کیا بات کی؟ پھر آگے بات سے بات بنانے والوں نے اس کا کیا بنا ڈالا؟ اور ہاں! یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی خواہشات کی تکمیل کرتے ہوئے، اپنے ماحول، قانون اور کلچر کا بھی احترام کریں“ ۔

” لیکن میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔ بارش برسنی شروع ہوئی تو میرا دل مچل اُٹھا۔ میں بچپن سے ترسی ہوئی تھی۔ میرے گھر والوں نے مجھے کبھی بارش میں نہانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اُس وقت میں گھر میں بالکل اکیلی تھی۔ میں نے آپ کو کال کی، آپ سے اجازت لی اور بارش میں نہانے لگی۔ آپ کو بھی پتہ ہے کہ آس پاس کے کسی بھی مکان سے ہمارے صحن میں نظر نہیں پڑتی۔ پھر میں نے پورے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ میں نہا رہی تھی اور مجھے بہت مزہ آ رہا تھا۔ اتنا لطف میں نے آج تک کسی کام میں محسوس نہیں کیا تھا۔ مگر لوگوں کے لئے، میرے اپنے ہی صحن میں نہانے کی اس لذّت کی خبر بھی ایک گناہِ کبیرہ بن گئی“ ۔

عاتکہ کو پورے ایک ہفتہ کے بعد موقع ملا کہ وہ کہیں گھر سے باہر جا کر کسی دوسرے نمبر سے مروشہ کو کال کرے اور اصل معاملے سے آگاہ کر کے معافی مانگ سکے۔

کیونکہ عاتکہ نے تو اپنے شوہر کو وہی بتایا تھا جو اصل واقعہ تھا مگر اُس کے شوہر نے فون پر سب سے یہی کہا کہ مروشہ بارش میں ننگی نہا رہی تھی اور وہ بھی اپنی چھت پر۔ جہاں نہاتے ہوئے اُسے آس پاس کے کئی مردوں نے دیکھا تھا۔

Facebook Comments HS