ڈاکٹر خالد سہیل اور حامد یزدانی: آپ کی ادبی شناخت کیا ہے؟


خالد سہیل: ہت شکریہ۔ آپ نے اپنی زندگی اور مزاج سے متعلق اتنی اہم باتیں بتائیں مجھے۔ بطور ایک نفسیات دان ایسے واقعات میں مجھے ہمیشہ سے دل چسپی رہی ہے۔ اچھا، آپ نے اپنی باتوں میں ابھی دیگر فنون کا تذکرہ کیا تو میرے ذہن میں یہ سوال آیا کہ فنون ِ لطیفہ کے بارے میں آپ کا تصور کیا ہے؟

حامد یزدانی: فنون ِ لطیفہ کو میں ایک کنبے کی طرح دیکھتا ہوں۔ بظاہر یہ مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ نام بھی مختلف ہیں مگر بنیادی خصائص مشترک ہیں۔ مثلاً ایک خصوصیت جو ان کو باہم مربوط کرتی ہے وہ اس کے نام ہی سے ظاہر ہے یعنی ’لطافت‘ ۔ فن کی یہ مختلف اصناف یا اقسام یا صورتیں اپنے اندر ’لطافت‘ کا عنصر رکھتی ہیں اور یہ لطافت احساس کے رنگوں سے اظہار کے زاویوں تک پھیلی محسوس ہوتی ہے اور اس کا بہت قریبی اور گہرا رشتہ ہے ’جمالیات‘ کے ساتھ۔ اور جیسا کہ میں نے ابھی عرض کیا کہ میں ادب میں ’جمالیات‘ کے مدرسہ کا طالب علم ہوں اس لیے مجھے تو یہ تمام فنون اپنے دل کے قریب محسوس ہوتے ہیں۔ وہ ڈرامہ یا فلم ہو، یا موسیقی اور پینٹنگ۔ اچھا، میں نے خود تو کبھی پینٹنگ نہیں کی مگر میرے دوست امجد علی بہت نفیس آرٹسٹ ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ اور دوست بھی ایسے رہے جن کے ساتھ مل کر میں نے پاکستان میں ہونے والی آرٹ کی نمائشوں اور تقریبات میں بہ شوق شرکت کی۔ اور پھر اپنی بیگم طاہرہ اور بنگالی شاعر دوست جاہد الحق کے ساتھ برطانیہ کے اور جرمنی سمیت یورپ کے مختلف میوزیم دیکھے، وہاں کلاسیکی اور جدید فن کاروں کا کام دیکھا۔ نیدر لینڈ میں فن گوخ میوزیم کی سیر کی، ان کی شہرہ ٔ آفاق پینٹنگز کو قریب سے دیکھا۔ ریمبراں کی شاہ کار پینٹنگ ’دی نائٹ واچ‘ کو بھی دیکھنے کا موقع ملا جس کا ماحول اور رنگوں کا انتخاب مجھے کسی اور ہی دنیا میں لے گیا۔ کینیڈا میں بھی یہ شوق پورا کرتا رہتا ہوں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ زرناب، عمید، اریب اور رابعہ ہمارے چاروں بچے آرٹ میں دل چسپی رکھتے ہیں کہ یہ شوق انھیں ان کی والدہ سے بھی ودیعت ہوا ہے جن کی بنیادی تعلیم آرٹ اور کرافٹ ہی کے شعبوں میں ہوئی۔ اور اب ہماری بیٹی رابعہ بھی موہاک کالج سے باقاعدہ اس فن کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ وہ اس میں واقعی گہری دل چسپی رکھتی ہیں۔ ان کا ’باتصویر‘ تعارف ممتاز پاکستانی دانش ور اور انسان دوست مفکر جناب عزیز الحق کی صاحب زادی محترمہ عظمیٰ عزیز کی ادارت میں ٹورانٹو، کینیڈا سے انگریزی زبان میں شائع ہونے والے ایک ثقافتی جریدہ میں حال ہی میں شائع ہوا۔ اور اب تو رابعہ بیٹی کو ان کے فن کے ضمن میں فرمائشیں اور آرڈر بھی موصول ہونے لگے ہیں۔

خالد سہیل: یہ تو واقعی خوشی کی بات ہے۔ وہ تعارف اور رابعہ کا کچھ کام میری نظر سے بھی گزرا ہے۔ میری طرف سے اس کی کامیابی کے لیے سیکولر دعا۔ مگر میرے سوال کا جواب شاید مکمل نہیں ہوا کیوں کہ فنون تو اور بھی ہیں۔

حامد یزدانی: بالکل ہیں۔ مثال کے طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ خطاطی اور آرٹ کی دیگر اقسام کا شاعری سے بھی بہت گہرا تعلق ہے۔ پاکستان میں صادقین اور اسلم کمال صاحب نے ان دونوں تخلیقی شعبوں کو قریب تر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے غالب اور اقبال کی شاعری کو اپنے فن سے دیکھنے کی شے بھی بنا دیا ہے۔ چارلس بودلیئر کی کتاب Fleurs du Mal میں ان کی پچیس نظموں کے ساتھ مجسمہ ساز اور فن کار آؤگست رودیں کی پچیس ڈارائنگز بھی شامل ہیں اور جرمن زبان کے آسٹرین شاعر رِلکے کہتے تھے کہ انہوں نے نظم کے مصرعوں کی کاٹ اور نفاست رودیں کے مجسموں سے سیکھی۔ کیوں کہ رودیں مجسمے بناتے ہوئے تفصیلات پر بہت توجہ دیتے تھے۔ گزشتہ دنوں ہی ہیملٹن کے ایک دفتر میں مجھے رودیں کی ان ڈرائنگز کے کچھ عکس دیکھنے کا موقع ملا جو انہوں نے انیس سو چھے میں فرانس کے شہر ماغسے میں بنائی تھیں اور جن میں کمبوڈیا کے شاہی رقاص اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ رودیں نے خاص کر ان کے ہاتھوں کی حرکات کو اپنے فن پاروں میں قید کیا ہے۔ یہ ڈیڑھ سو فن پارے انہوں نے محض ایک ہفتے میں بنا لیے تھے اور اس کے لیے انہیں طائفے کے پیچھے پیچھے دوسرے شہر بھی جانا پڑا تھا۔ خیر، یہ تو بڑے لوگوں کی باتیں ہیں۔ یہاں مجھے یہ اعتراف کرنے میں خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ خود میری کئی نظمیں پینٹنگز سے متاثر ہیں اور میرے شعری مجموعوں میں شامل ہیں۔

خالد سہیل:گائیکی اور موسیقی بھی تو شعر و ادب سے منسلک رہی ہیں۔

حامد یزدانی: جی ہاں۔ اس میں کیا شک ہے۔ شاعری اور گائیکی کا تعلق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ یہ قصہ یا چٹکلا آپ نے بھی سنا ہو گا کہ مہدی حسن صاحب نے فیض صاحب کی غزل گائی تو ہر محفل میں ان سے اسی کی فرمائش کی جاتی تھی۔ وہ کچھ اس طرح گائیک سے منسوب ہوئی کہ کسی نے پروگرام میں فیض صاحب سے اس غزل کی فرمائش کرتے ہوئے کہا کہ ’جناب، مہدی حسن والی غزل ہو جائے۔ ‘ اب تو خیر سوشل میڈیا، انٹر نیٹ وغیرہ عام ہیں وگرنہ ماضی میں تو بس سرکاری ریڈیو اور ٹی۔ وی ہی ہوتے تھے یا پھر اخبارات و جرائد۔ عام آدمی تک شاعری پہنچانے میں موسیقی اور گائیکی کے فنون نے قابلِ ذکر کردار ادا کیا۔

تو ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح یہ فنون ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ ایک ہی رشتے میں پروئے ہوئے، ایک ہی کنبے کے افراد کی طرح، شانے سے شانہ ملائے کھڑے محسوس ہوتے ہیں۔

خالد سہیل: اچھا، یہ تو معلوم ہو گیا کہ آپ تو ان فنون کے قدردان ہیں مگر مجھے ایک بات بتائیے۔ اگر آپ سے کوئی یہ کہے کہ شاعری، موسیقی اور رقص گناہ ہے تو آپ اسے کیا کہیں گے؟

حامد یزدانی: میں ان فنون کو کس نظر سے دیکھتا ہوں یہ تو میں ابھی عرض کرچکا۔ رہی بات ان کی حلّت و حرمت کی تو یقین مانیے، مجھے جاننے والا یعنی کوئی ’اپنا‘ تو یہ بات کہے گا ہی نہیں۔ یعنی ایسی بات کہنے والا ضرور کوئی ’غیر‘ ہی ہو گا۔ تو میں اپنے دل کی بات اس سے کیوں کہوں؟ اور جیسا کہ آپ جانتے ہی ہیں کہ گناہ و ثواب اور حرام و حلال کے پیمانوں کا تعلق ایمان و عقائد سے ہے جو میرے نزدیک مقدس ہیں اور میں انھیں موضوع ِ بحث بنانا پسند نہیں کرتا۔ ہاں، میں سوال کرنے والے اپنے مہربان سے یہ ضرور کہوں گا کہ وہ مذکورہ اصنافِ لطیف سے دامن بچاتے ہوئے بہ خوشی اپنے پسند کے اور پُر از ثواب مشاغل سے دل بہلائیں۔ انہیں یہ کہہ کر میں آرام سے بیتھوون کی کوئی سمفنی یا سائمن اور گارفنکل کا گایا سدا بہار نغمہ ” Mrs. Robinson“ سننے میں مشغول ہو جاؤں گا۔
خالد سہیل: سُننے میں ویسے یہ افغان موسیقی بھی بُری نہیں۔ کیا خیال ہے؟

حامد یزدانی:بہت میٹھی ہیں یہ دھنیں۔ مجھے ویسے بھی دیس دیس کی شاعری اور موسیقی سے لطف اٹھانے کا شوق ہے۔

اس سے پہلے کہ ڈاکٹر صاحب میری بات پر کچھ تبصرہ کرتے ویٹرس آن پہنچی تھی۔ اسے جاننا تھا کہ کھانا کیسا تھا اور یہ بھی کہ کیا ہم کچھ گرم پینا چاہیں گے؟

ہم دونوں نے زعفرانی چائے پینے کی خواہش ظاہر کی۔ میٹھا کھانے کی عادت سے مجبور میں نے اسے دو عدد فریش کریم پیسٹریاں لانے کا بھی کہہ دیا۔ جس پر ڈاکٹر صاحب کھلکھلا دیے تھے۔ میں نے وضاحت کی کہ میں وہ دونوں اکیلا نہیں کھاؤں گا بلکہ ان کے ساتھ شیئر کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

”پھر ٹھیک ہے۔“ انہوں نے کہا تھا اور پھر سوال جواب کی جانب لوٹ آئے تھے۔

خالد سہیل: حامد یزدانی صاحب۔ آپ ایک شاعر، ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سوشیالوجسٹ اور سوشل ورکر بھی ہیں۔ گویا عملی طور پر معاشرے میں سرگرم ہیں۔ میں پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ ایک شاعر، ادیب اور دانش ور اپنے سماج میں کیا کردار ادا کرتا ہے یا کر سکتا ہے؟

حامد یزدانی: ڈاکٹر صاحب، تخلیق کار بھی کسی نہ کسی سماج کا حصہ ہوتا ہے۔ تو ظاہر ہے کہ اس سماج کی کی صورتِ حال اس کے بھی سامنے ہوتی ہے۔ وہ بھی سماج کی عطا کردہ سہولیات اور مشکلات میں سے حصہ پاتا ہے۔ تو بحیثیت شہری کے اس کی بھی وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو کسی بھی شہری کی ہو سکتی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ اپنی زندگی دو سطحوں پر جی رہا ہوتا ہے۔ ایک بار زندگی کے شب و روز انسانی دنیا میں گزارتا ہے اور دوسری بار اپنے تخیل کی دنیا میں۔ تخیل یا فکر کی دنیا میں انسانی دنیا کے واقعات سماجی جبر اور حدود کے تعینات سے ماورا ہو جاتے ہیں اور وہ انہیں اپنی مرضی سے مختلف سمت میں موڑ سکتا ہے اور مختلف نتائج بھی نکال سکتا ہے۔ اس دنیا کا گویا وہ ”خلاق“ ہوتا ہے۔ جب باہر کی دنیا میں شاید اسے اس قدر آزادی کبھی حاصل نہیں ہوتی۔ وہاں اسے لگی بندھی زندگی جینا ہوتی ہے۔ کسی اور کے لکھے قوانین کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔ ایک سچا فن کار اس امر کا شعور رکھتا ہے کہ وہ کسی فرضی خلا میں نہیں رہ رہا بلکہ ایک ٹھوس حقیقی دنیا میں زندگی کر رہا ہے اور ظاہر ہے اس دنیا اور اس پر بسنے والے اسی کی طرح کے دوسرے انسانوں بلکہ پیڑ پودوں اور دیگر جان

داروں حتٰی کہ قدرتی ماحول کے مسائل بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں اور وہ ان تمام امور پر سوچتا ہے اور اسے سوچنا بھی چاہیے اور پھر وہ حتی الوسع اس میں عملی اقدام بھی کرتا ہے۔ یہاں بات اسباب و وسائل کی دست یابی کی بھی آجاتی ہے اور شخصی مزاج اور ترجیحات کی بھی جس کے تحت وہ ان معاملات میں اپنے اقدامات کی حدود متعین کرتا ہے۔ دیکھیے، ترقی پسند ادب اور مدافعتی اور احتجاجی ادب سارے کا سارا سماج کی تبدیلی کے پیغام پر مبنی ہے۔ اب وہ کس حد تک قابل قبول اور قابلِ عمل ہے۔ یہ دوسری بات ہے۔ اعلیٰ انسانی اقدار ہمیشہ سے اچھے لکھاریوں کو عزیز رہی ہیں جن میں زندگی کا احترام، شخصی آزادی، آزادیٔ اظہار، مساوی حقوق، عدم جارحیت، باہم اشتراک ِ عمل اور اختلافِ رائے کا اختیار وغیرہ سب شامل ہیں۔ ادیب سماجی کیا سیاسی جماعتوں کا حصہ بھی رہے اور اب بھی ہیں۔ اور ان کی تحریکوں کے منشور ان کی تخلیقات سے بھی جھلکتے ہیں اور اپنے ہم خیال افراد پر اثر انداز بھی ہوتے ہیں۔ مجھے اس سب سے انکار بھی نہیں مگر میں بس یہ چاہتا ہوں کہ تخلیق میں ’لطافت‘ اور ’جمالیات‘ کے عناصر بہرحال رہنے چاہئیں۔ محض نعروں کو باوزن لکھ دینے سے مصرع یا شعر نہیں بنتا۔ پیغام جتنا بھی اہم ہو اگر شعر میں شعریت ہی عنقا ہے تو اسے ادب میں شامل کیسے کریں گے؟ بس اتنی سی بات ہے۔ فن کار کو بیک وقت کم از کم دو دنیاؤں میں جینا ہوتا ہے اور اس کی مجموعی کارکردگی کا انحصار بھی اسی بات پر ہوتا ہے کہ وہ ان دونوں کو کس حُسن و خوبی کے ساتھ یک جان کرتا ہے اور کیسے دونوں کا حق ادا کرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب، سچ بات یہ ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ میں اس گفتگو کا حق ادا کر پایا ہوں یا نہیں۔ آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ کس ’پریشاں خیال‘ دوست سے مکالمہ رہا آج۔

خالد سہیل : نہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ نے اپنے خیالات مجھ سے شیئر کیے اور میرے سوالوں کا دل جمعی اور دیانت داری سے تفصیلی جواب دیا۔ شکریہ

حامد یزدانی :میں بھی آپ کا شکرگزار ہوں۔

سوال و جواب مکمل ہونے تک میں ڈیڑھ پیسٹری پر ہاتھ صاف کرچکا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے بخوشی بقیہ آدھی پر ہی اکتفا کیا۔ ہم نے چائے ختم کی اور ریستوران سے باہر نکل آئے۔

”اچھا تو ، قبلہ و کعبہ۔ چلتے ہیں۔ ڈیڑھ گھنٹے کا سفر ہے وہٹبی تک۔ بہت اچھا لگا آپ سے مل کر اور باتیں کر کے۔“

ڈاکٹر خالد سہیل اپنی ”درویش“ لائسنس پلیٹ والی کار کا دروازہ کھولتے ہوئے کہہ رہے تھے۔
”شکریہ ڈاکٹر صاحب۔ مجھے بھی اچھا لگا۔ جلد اگلی ملاقات ہوگی۔“ میں نے ادب اور اشتیاق سے کہا تھا۔
ڈاکٹر صاحب کی کار رخصت ہوئی تو میں بھی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔

دو رویہ برقی قمقمے پارکنگ لاٹ کو روشن کیے ہوئے تھے۔ وسط اگست کا تمتماتا سورج دُور جھیل کے پار اتر چکا تھا۔ شفق کے رنگ بھی ماند پڑ چکے تھے۔ سر پر آسمان صاف تھا۔ ستاروں پر میں نے غور ہی نہیں کیا مگر چاند؟

’چاند کہاں رہ گیا آج؟‘ ۔ میں نے ایک نظر آسمان کی طرف دیکھا تھا۔
’چاند کے بغیر آسمان کی شناخت کتنی مختلف ہوجاتی ہے! ‘
یہ سوچتے ہوئے میں نے کار سٹارٹ کردی تھی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2