ڈاکٹر خالد سہیل اور حامد یزدانی: آپ کی ادبی شناخت کیا ہے؟
آپ کی ادبی شناخت کیا ہے؟
ڈاکٹر خالد سہیل حامد یزدانی سے پوچھتے ہیں
ملاقات تو دراصل مسی ساگا کے ایک انڈین ریستوران میں ہونا طے پائی تھی مگر میرے اصرار پر اسے اونٹاریو جھیل کے کنارے واقع شہر برلنگٹن کے ایک افغان کباب ریستوران میں منتقل کر دیا گیا تھا اور یہ سب ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کی کمال شفقت کا نتیجہ تھا۔
شام ڈھلنے سے کچھ پہلے جب میں ریستوران کے پارکنگ لاٹ میں پہنچا تو ڈاکٹر صاحب وہاں موجود تھے۔ کپڑے سے بنا ایک موسم چشیدہ تھیلا ان کے دائیں کندھے پر جھول رہا تھا۔ میں سمجھ گیا کہ شِکم پُری کے ساتھ ساتھ آج ضرور کسی تازہ ترین کتاب کے توسط سے ضیافتِ طبع بھی ہونے والی ہے۔ ڈاکٹر صاحب متناسب قدم اٹھاتے ہوئے مجھ تک پہنچے، بھرپور مصافحہ کے ساتھ نِیم معانقہ کا مرحلہ بھی طے کیا اور بولے :
”قبلہ و کعبہ! آپ کی ریشِ مبارک تو اب بالکل نورانی ہو چلی۔ پہلی نظر میں تو میں آپ کو پہچان ہی نہیں پایا۔ خوب صورت لگ رہی ہے۔ واہ۔“
وہ یہ کہہ رہے تھے اور زندگی سے بھرپور ایک درویشانہ مسکان ان کے چہرے پر کھیل رہی تھی۔ اسی مسکان کے جِلو میں ہم ریستوران میں داخل ہو گئے۔ ایک خوش خُلق افغان ویٹرس نے ہمیں دروازے پر خوش آمدید کہا اور دائیں کونے میں آویزاں ٹی۔ وی سے کچھ فاصلے پر دیوار کے ساتھ والے میز تک لے گئی۔
”کیا خیال ہے؟ یہاں بیٹھنا چاہیں گے آپ؟“ اس نے نفیس انداز میں استفسار کیا تھا۔
”بالکل۔ بہت اچھی رہے گی یہاں نشست۔“ ڈاکٹر صاحب نے شکریہ کے انداز میں کہا تھا۔ ”آپ کچھ پینے کے لیے لے آئیے اور ہاں مینیو بھی۔“
” جی، ضرور۔ پینا کیا چاہیں گے آپ؟“ ویٹرس نے پوچھا تھا۔
”افغان ریستوران ہے تو کوئی افغان مشروب ہی چلے گا۔ میرے لیے ایک دُوغ لے آئیے۔“ ڈاکٹر صاحب نے دہی پودینہ والی ’فارسی‘ لسّی کا آرڈر دیتے ہوئے کہا تھا۔
” اور میرے لیے پانی۔“ میں نے خاتون کے پوچھنے سے پہلے ہی کہہ دیا تھا۔
ویٹرس رخصت ہوئی تو ڈاکٹر صاحب نے اپنی ادبی ’زنبیل‘ کھولی اور ایک نئی ’چمچماتی‘ کتاب اس میں سے نکال کر میری طرف بڑھا دی۔
”پُرسکون زندگی کی طرف سات قدم۔ مصنفین۔ ڈاکٹر خالد سہیل، ثمر اشتیاق“
میں نے سات افراد کے خاکے سے مزین سرورق پر سے پڑھتے ہوئے دہرایا تھا۔ اور ڈاکٹر صاحب کو ان کے تازہ ترین ”اشتراکی معرکہ“ پر مبارک باد پیش کی تھی۔
اتنے میں مینیو ہمارے سامنے آ گئے اور ہم نے کھانے کا آرڈر دیا۔ ویٹرس نے بتایا کہ کھانا بیس سے تیس منٹ میں تیار ہو جائے گا۔ ہمیں کوئی جلدی نہ تھی۔
میں کتاب کی ورق گردانی کرنے لگا تو ڈاکٹر صاحب گویا ہوئے :
”یہ کتاب آپ ہی کی ہے۔ آرام سے گھر جاکر پڑھ لیجیے گا اور مناسب لگے تو اپنی رائے بھی دیجیے گا۔ مگر جب تک کھانا نہیں آتا کیوں نہ آپ سے کچھ سوال جواب ہی ہو جائے؟“
سوال جواب! ؟ یہ سن کر ماضی میں دیے سارے امتحانی پرچے ایک ایک کر کے چشمِ تصور میں کُھلنے لگے تھے۔
”قبلہ و کعبہ، ادبی بات چیت مراد ہے میری۔“ ڈاکٹر صاحب نے شفاف عینک سے جھانکتی اپنی شریر آنکھوں سے غالباً میری بے چینی اور اضطراب کو بھانپ لیا تھا۔
” پھر بھی۔ سوال جواب تو سوال جواب ہی ہیں۔ میں ہمیشہ نروس ہوجاتا ہوں امتحانات اور انٹرویوز سے۔“ میں نے لڑکھڑاتے انداز میں کہا تھا۔
” چلیے، ایک سہولت آپ کو اور دیتا ہوں۔ جس سوال کا جواب دینے کو جی نہ چاہے اسے چھوڑ دیجیے گا۔ کیا خیال ہے؟“ وہ بولے۔
ڈاکٹر صاحب ایک ماہرِ نفسیات ہیں اور باتیں اگلوانے کے تمام موثر حربے جانتے ہیں۔ میں سوچنے لگا۔
”اچھا تو میں شروع کرتا ہوں۔“ یہ کہتے ہوئے انہوں نے دوغ کا ایک گھونٹ بھرا۔ گلاس واپس میز پر رکھا اور پہلا سوال میری طرف اچھال دیا۔
ڈاکٹر خالد سہیل:حامد یزدانی صاحب، اگر میں آپ سے پوچھوں کہ آپ کی ادبی شناخت کیا ہے؟ تو آپ کیا جواب دیں گے؟
حامد یزدانی: ڈاکٹرصاحب، میری ادبی شناخت یا پہچان اگر کوئی ہے تو وہ تو آپ ہی بتا سکتے ہیں یعنی یا تو کوئی دوست بتا سکتا ہے یا کوئی نقاد۔ میرا حال تو وہ ہے جو بلھے شاہ صاحب فرماتے ہیں نا
کیہہ جاناں میں کون!
ہاں، اگر شناخت مقام و مرتبہ کے تعین کے بجائے اصناف ِ ادب کے ضمن میں میری پسند اور ترجیحات کے بارے میں ہے تو میں کہہ سکتا ہوں کہ میں خود کو بنیادی طور پر ایک شاعر ہی خیال کرتا رہا ہوں۔ مگر مطالعہ میں نے نثر کا بھی برابر کیا اور وقفے وقفے سے کچھ نہ کچھ نثر پارے لکھے بھی۔ تاہم ایک مدت تک شاعری کا پلڑا بھاری رہا۔ ثبوت یہ کہ شاعری کے میرے مجموعوں کی تعداد پانچ ہے جو جلد چھے ہونے کو ہے جبکہ نثر میں تاحال افسانوں ہی کا ایک مجموعہ سامنے آیا ہے۔ اور پھر ویب سائٹ ’ہم سب‘ پر کالم اور ویب سائٹ ’مکالمہ‘ پر یاد نامہ اور دیگر نثری تحریروں کی اشاعت نے بھی میری نثر نویسی کو یک گونا اعتماد بخشا۔ افسانوں کے مجموعہ ”خالی بالٹی اور دوسرے افسانے“ کی زبان اور اسلوب کی بھی احباب نے ایسی عمدہ پذیرائی کی مزید لکھنے کی ہمت پیدا ہو گئی۔ اس ایک کتاب پر پاکستان کے تعلیمی اداروں میں کئی ایک تحقیقی مقالے مکمل ہوچکے اور آپ نے اس میں شامل افسانہ ”خاکی تھیلا“ کا جو ادبی نفسیاتی تجزیہ قلم بند کیا تھا وہ ’ہم سب‘ پر شائع ہو کر داد و تحسین حاصل کرچکا اور یہ میرا اعزاز ہے۔ اس کتاب کے بعد کچھ اور افسانے بھی ہوئے ہیں اور مضامین بھی۔ مضامین کا انتخاب تو اب آپ تک پہنچا ہی چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ میرے کیے ادبی انٹرویوز کی کتاب بھی ملاحظہ فرمائیں گے، ۔ ادھر منتخب بین الاقوامی نظموں کے اردو تراجم بھی کتابی صورت میں شائع ہونے والے ہیں۔ والد صاحب جناب یزدانی جالندھری کی یادوں سے مزین ایک نثری کتاب ان تصانیف و تالیفات کے علاوہ ہے۔ تو یہ کچھ کام ہے جو اب تک ہوسکا۔ مختصر یہ کہ آپ مجھے شاعر ادیب کہہ سکتے ہیں۔ شاید یہی میری ادبی پہچان ہو۔
خالد سہیل : کہنے کو تو آپ نے صحافت بھی کی اور درس و تدریس بھی۔ یہ شعبے میں لکھنے لکھانے سے متعلق ہی ہیں۔
حامد یزدانی: جی، درست فرمایا آپ نے۔ لیکن میں ابھی آپ کے پہلے سوال ہی سے باہر نہیں نکلا۔ اس میں ایک بات کا اضافہ کرنا چاہوں گا اور وہ یہ کہ میری تخلیقی زندگی میں جو قدرے تسلسل اور تواتر دکھائی دیتا ہے اس کا سہرا بہت حد تک آپ کے سر ہے۔ حال آں کہ اس حوالہ سے میری صورت حال آپ کے برعکس رہی ہے۔ مطلب یہ کہ میں نے اب تک منصوبہ بندی اور اوقاتِ کار کی پابندی کو ملحوظ رکھتے ہوئے کبھی نہیں لکھا۔ کبھی ایسی صورت بنی ہی نہیں۔ چناں چہ جب بھی، جتنا وقت میسر آیا وہ ادب کو دے دیا اور ظاہر ہے اسی لیے کتابوں کی اشاعت میں بھی طویل وقفے نظر آئیں گے آپ کو ۔ مگر آپ کی حوصلہ افزائی اور اشتراکِ عمل کی دعوت نے میری طبیعت کو یوں مہمیز کیا ہے کہ ایک ہی برس میں دو تین کتابیں بھی اشاعت پذیر ہو گئیں۔ اس لیے آپ سے تعلق خاطر اور ربط کو میں اپنے ادبی سفر میں ایک اہم سنگِ میل سمجھتا ہوں۔
خالد سہیل: بہت شکریہ کہ آپ ہماری ادبی دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ اس رابطہ اور دوستی پر طمانیت اور مسرت کا احساس ہمارا مشترکہ سرمایہ ہے۔
حامد یزدانی: مشترکہ سے مجھے یاد آیا کہ ہمارے مکتوبات کی ایک کتاب بھی تو ترتیب و تدوین کے حتمی مراحل میں ہے جسے ہم نے اپنے طور پر ”مشترکہ محبوبہ“ کا نام دے رکھا ہے۔
خالد سہیل ( قہقہہ بلند کرتے ہوئے ) : جی، بالکل وہ ’مشترکہ محبوبہ ”بھی ہے اور میرے ذہن میں کچھ اور منصوبے بھی‘ کلبلا ’رہے ہیں جن پر ہم مل کر کام کر سکتے ہیں۔ ان پر اگلی نشست میں تفصیلی بات کریں گے۔ فی الحال آپ مجھے یہ بتائیے کہ آپ ادب کے کس مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ بھی کہ اس مکتبِ فکر کی خصوصیات کیا ہیں؟
حامد یزدانی: جانے آپ کیوں مجھ سے ایسے مشکل مشکل سوال پوچھ رہے ہیں۔ ادب کا مکتبِ فکر، اس سے میرا تعلق اور پھر اس مکتبِ فکر کی خصوصیات۔ اب خیال آتا ہے کہ سوشیالوجی اور سوشل ورک یعنی سوشل سائنسز کے دو مضامین میں ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے کے بجائے ایک ایم اے اردو ہی کر لیتا تو فرفر جواب دے دیتا آپ کے اس سوال کا ۔ مگر آپ دیکھ رہے ہیں نا کہ مجھے رُکنا پڑتا ہے، سوچنا پڑتا ہے، تب کہیں جا کر جواب بنا پاتا ہوں۔ شاید اس لیے کہ یہ سوالات میرے نزدیک تھیوریٹیکل سوالات ہیں جن میں ادبی اصطلاحات اور زمرہ جات یا کیٹیگریز کی مدد سے بات واضح کی جاتی ہے جبکہ میں نہ مدرس ہوں اور نہ ادب کا نقاد و محقق۔ میں بھلا کیا کہوں! میں تو بس تھوڑا بہت لکھتا ہوں۔ تو آپ مجھے پریکٹشنر کہہ سکتے ہیں۔ جو مسئلہ کا عملی حل تو نکال لیتا مگر حسابی کلیّہ کو ازبر کرنا ضروری نہیں سمجھتا یا اس کی اہلیت ہی نہیں رکھتا۔ ڈاکٹر صاحب، مکتبِ فکر کو انگریزی زبان میں شاید سکول آف تھاٹ کہتے ہیں۔ اردو میں فکری روایت کہہ سکتے ہیں۔ یاد آیا، شان الحق حقی صاحب نے لغات میں اس کا ترجمہ مدرسہ ٔ فکر کیا ہے۔ تو میں سوچتا ہوں کہ کہیں اس سے مراد ادبی دبستاں تو نہیں۔ کیوں کہ فارسی میں دبستاں مدرسہ ہی کو تو کہتے ہیں۔ جیسے ہمارے ہاں دبستان ِ لکھنو یا دبستانِ دہلی کا ذکر ملتا ہے۔ اس رُخ سے دیکھیں تو میں ’دبستان ِ لاہور‘ کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کروں گا۔
خالد سہیل: تو یہاں ضمناً میں یہ استفسار کرتا چلوں کہ اس دبستاں میں آپ کس کس کو شامل دیکھتے ہیں؟
حامد یزدانی: بے شمار نام ہیں۔ مثلاً سید عابد علی عابد، علامہ تاجور نجیب آبادی، حفیظ جالندھری، احسان دانش، ناصر کاظمی، فیض، عبدالحمید عدم، احمد ندیم قاسمی، ظہیر کاشمیری، حبیب جالب، یزدانی جالندھری، قیوم نظر، زیبا ناروی، ذوقی مظفر نگری، قتیل شفائی، عبدالعزیز خالد، منیر نیازی، شہرت بخاری، انجم رومانی، کلیم عثمانی، مظفر وارثی، شہزاد احمد، حفیظ تائب، خورشید رضوی، سجاد باقر رضوی، انیس ناگی، جیلانی کامران، افتخار جالب، جاوید شاہین، کشور ناہید، خالد احمد، نجیب احمد، ابرار احمد، غلام حسین ساجد، سراج منیر، جعفر بلوچ، خالد علیم، نوید صادق اور کتنے ہی اور ایسے توانا شعرا کے نام لے سکتا ہوں میں۔ اسی طرح بہترین نثر نگاروں کی بھی ایک طویل فہرس ہے جن میں افسانہ نگار بھی شامل ہیں اور نقاد و محقق بھی جیسے سعادت حسن منٹو، انتظار حسین، حجاب امتیاز علی، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، احمد ندیم قاسمی، انور سجاد ڈاکٹر، سلیم اختر، ڈاکٹر آغا سہیل، ڈاکٹر سہیل احمد خان، ڈاکٹر انور سدید اور ان کے ہمارے ہم عصر لکھاریوں کی پوری کھیپ آجاتی ہے جن میں سے ڈاکٹر ضیا الحسن اور ڈاکٹر امجد طفیل تو خیر میرے زمانۂ طالب علمی کے دوست ہیں۔
خالد سہیل: واہ۔ یہ تو آپ نے بہت سے نام ایک ساتھ ذکر کر دیے۔ مگر دیکھیے، وہ مکتبِ فکر والا میرا سوال جو تھا اس کا جواب شاید ابھی مکمل نہیں ہوا۔
حامد یزدانی: جی، جی۔ میں عرض کرتا ہوں۔ دیکھیے، مکتبِ فکر سے اگر آپ کا اشارہ قدامت پسندی اور جدیدیت یعنی کلاسیکی روایت بمقابلہ جدت پسندی، یا داخلیت، معروضیت اور خارجیت کے تصورات پر مبنی ادبی تحریکوں اور رجحانات کی جانب ہے تو میں صاف کہوں گا کہ میں نے کبھی کوئی نظم، غزل، افسانہ یا مضمون ان رجحانات یا ان کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر نہیں لکھا۔ ایک بات اور، ادیب میں عملیت پسندی اور ادب میں افادیت، مقصدیت اور منشوری نعروں جیسے عناصر کے بجائے میں ادب پارے میں جمالیات کو بنیادی خیال کرتا ہوں۔ یوں دیکھیں تو میں روایت پسند ہی قرار پاؤں گا مگر کیا میری تخلیقات اتنی روایتی ہیں کہ ان میں نئے اسالیب و موضوعات جگہ نہیں پاتے؟ اس کا ٹھیک ٹھیک جواب میرے پڑھنے والے ہی دے سکتے ہیں۔ مجھے اب تک سینئر اور نوجوان لکھاریوں اور ناقدین کی طرف سے جو تاثر ملا ہے اس میں نہ روایت سے غیرمشروط وفاداری کا حوالہ ملتا ہے اور نہ جدت پسندی کی چوٹی سر کرنے کی کسی عجلت کی نشان دہی کی گئی ہے۔ شاید میرا حرف ان دونوں وادیوں کے بین بین سفر کر رہا ہے۔ جہاں کوئی سماں جی کو بھاتا ہے یہ وہیں پڑاؤ ڈال دیتا ہے اور پھر اگلی منزل کی جانب روانہ ہوجاتا ہے۔ کچھ ایسا سوچتا ہوں میں۔
خالد سہیل: اچھی بات کہی آپ نے۔ اور سوچنا تو تخلیقی عمل کا بنیادی جزو ہے بلکہ اسی سے تو نئے امکان کے دریچے کُھلتے ہیں۔ اچھا، یہ بتائیے کہ آپ کے ذہن میں ایک کامیاب ادیب کا کیا تصور ہے؟
حامد یزدانی: ڈاکٹر صاحب، کامیابی اور ناکامی، خوشی اور غم جو ہیں میں تو انہیں ریلیٹِو یا اضافی اصطلاحات یا تصورات سمجھتا ہوں۔ اس کا درست تعین تو محسوس کرنے والا ہی کر سکتا ہے۔ اور ان احساسات کی عمومی تعریف یا حدبندی مجھے کبھی ممکن نہیں لگی۔ ہاں، درسی تحقیقات کے لیے ہم سماجی علوم میں بھی ان کی آپریشنل تعریفیں طے کرلیتے ہیں تاکہ ہم اپنی تحقیق کے نتائج کو شماریاتی معیارات پر پرکھ سکیں مگر ان کا مقصد بس وہیں تک ہوتا ہے۔ ان کو ہر شخص یا ہر صورتِ حال پر منطبق نہیں کر سکتے۔ کامیابی کی صورت بھی کچھ ایسی نہیں ہے کیا؟ ایک شاعر نام نہاد بین الاقوامی مشاعرہ میں سینکڑوں افراد سے واہ واہ پانے کو اپنی شاعری کی کامیابی قرار دیتا ہے جبکہ دوسرا کسی ایک شخص کو یا سِرے سے کسی کو بھی نہ سنا کر اطمینان محسوس کرتا ہے۔ میں نے فیض صاحب کے ہم عصر بعض شعرا کو یہ کہتے سُنا کہ فیض صاحب کم از کم مشاعرہ کی حد تک تو ناکام شاعر تھے۔ وہ بتاتے تھے کہ کس طرح فلاں فلاں مشاعرے میں ان کی غزلوں کو فیض صاحب سے کلام سے زیادہ داد ملی کیوں کہ فیض صاحب دھیمے سے انداز میں پڑھا کرتے تھے۔ میرا عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ شعرا خود کو کامیاب ہی تو سمجھتے تھے۔ تو کیا واقعی وہ کامیاب تھے؟ وقت ہمیں ان کے دعویٰ اور احساس کی صداقت کی گواہی فراہم نہیں کرتا۔ اگر شہرت اور عوامی پذیرائی کو کامیابی کا معیار قرار دیں تو ہمارے مجید امجد صاحب کو کس کھاتے میں ڈالیں گے؟ اور اب سوشل میڈیا کے ’ٹِک ٹاکر‘ شعرا کی کھیپ نے کامیابی کے کچھ اور ہی معیارات تراش لیے ہیں۔ ہم تو لکھنے لکھانے کو ایک طرح سے درویشانہ سی سرگرمی ہی سمجھتے آئے ہیں۔ جس میں حرف و اظہار اور احساسات و خیالات سے تعلق استوار کیا جاتا تھا اور اسی سے محبت کی جاتی تھی۔ کامیابی سے مراد اگر باقاعدہ لکھنا اور شائع ہونا ہے تو بھی اس کا اطلاق سبھی پر کرنا مشکل ہے۔ سو، جب تک کامیابی کی تعریف پر اتفاق نہیں ہوتا اس وقت تک اس کے تصور پر کیا بات کی جائے! مثلاً میں اور آپ کہیں گے کہ جناب یزدانی جالندھری اور جناب عارف عبدالمتین کامیاب لکھاری تھے لیکن کئی لوگ اس بات سے اتفاق نہیں کریں گے۔ آپ فن کے دوسرے شعبوں میں بھی دیکھ سکتے ہیں کی دنیا میں کتنے ہی آرٹسٹ ایسے گزرے ہیں جنہیں ان کی زندگی میں پہچانا ہی نہیں گیا اور ان کے چلے جانے کے برسوں بعد ان کے کام کو سراہا گیا۔ تو اپنے دور میں کیا وہ کامیاب فن کار تھے؟
خالد سہیل: ہاں، یہ بات سوچنے کی ہے اور اس بھی بات ہونی چاہیے۔
حامد یزدانی: آپ کی بات سے پہلے میں ایک بات اور ذکر کردوں ڈاکٹر صاحب۔ کام یابی اور ناکامی کے ذکر سے لامحالہ میرا ذہن ایک بچے کی طرح امتحان یا میچ کی طرف چلا جاتا ہے۔ تو اگر کامیابی یا ناکامی کے تعین کے لیے امتحان کی مثال استعمال کریں تو لازم ہے کہ کوئی ممتحن بھی ہو اور میچ سمجھیں تو امپائر یا ریفری بھی ہو فیصلہ کرنے کو ۔ یہ سب تصادم نہ بھی ہو مسابقت ضرور ہے اور میں طبعی طور پر تعاون کا قائل ہوں قدیم ریڈ انڈین قبائل ’ہوپی‘ اور ’زونی‘ کی طرح۔ ویسے کبھی میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ فن کار کی کامیابی شاید یہی ہو کہ اس کا فن وقت اور زمانے کی حدود و قیود کو پار کر جائے یعنی وہ آنے والے زمانوں سے بھی مخاطب ہو۔ یا کم از کم اندر سے خود ہی مطمئن ہو اپنی کارکردگی پر اور اگر ایک دیانت دار تخلیق کار خود اپنے کام سے کلّی طور پر مطمئن ہو جائے تو میں اسے کام یاب ہی سمجھوں گا۔ چلیے، جلدی سے میں اپنی زندگی کا ایک واقعہ آپ سے شیئر کر لیتا ہوں۔ جیسا کہ بخوبی جانتے ہیں کہ میں خاصا کم گو اور کم آمیز واقع ہوا ہوں اور یہ اوصاف، جیسے بھی ہیں، قبلہ والد صاحب سے وراثت میں پائے ہیں۔ سو، مجھے عزیز بھی ہیں۔ اب سنیئے وہ واقعہ۔ میں ان دنوں پنجاب یونی ورسٹی لاہور میں ایم اے سوشیالوجی کا طالب علم تھا جب میرے ادبی دوستوں نے بوجوہ مجھے حلقہ ٔاربابِ ذوق لاہور کے انتخابات میں جائنٹ سیکرٹری کے عہدہ کے لیے لڑنے پر راضی کر لیا۔ اپنی طبعی مردم گریزی کے باعث مجھے نہیں لگ رہا تھا کہ یہ کوئی اچھا تجربہ رہنے والا ہے۔ مگر جب میدان میں اتر گیا تو مقصد کے لیے جی جان سے کام کیا۔ میں اور سیکرٹری شپ کے امیدوار پروفیسر سعادت سعید صاحب صبح سے رات گئے تک لاہور بھر میں پھیلے شعرا ادبا اور ناقدین و محققین کے گھروں اور دفتروں کے چکر لگاتے۔ حلقہ کے اراکین سے ملتے تو ان کی تخلیقات پر بھی سرسری بات ہوتی، پھر ہم اپنا انتخابی منشور بیان کرتے۔ انتخاب کی تاریخ یاد دلاتے اور فہرس میں درج اگلے رکن کے ٹھکانے کی طرف موٹر سائیکل دوڑا دیتے۔ ان رابطوں میں جہاں سعادت سعید صاحب کی تجدیدِ ملاقات ہوتی وہاں میرا تعارف ہوجاتا۔ اس ایک ماہ کے اندر میں جتنے ادیبوں سے ملا پھر کبھی عمر بھر نہ مل سکا۔ اس وقت کا ہر اہم لکھاری حلقہ کا رکن تھا۔ ان سب سے بالمشافہ ملاقات، تعارف اور بات چیت کے وہ مواقع واقعی نادر تھے۔ ڈاکٹر صاحب، الیکشن کا دن آیا، پاک ٹی ہاؤس میں ووٹنگ ہوئی، جاوید شاہین الیکشن کمشنر تھے۔ شام ڈھلے نتیجہ کا اعلان ہوا اور میں الیکشن ہار گیا تھا۔ مگر یقین جانیے جتنی کام یابی مجھے اس ناکام الیکشن کے ذریعے حاصل ہوئی اس کا مقابلہ کوئی کام یابی کیا کرے گی! انتخابی مہم کے دوران میں سینئر اور نوجوان لکھاریوں اور فن کاروں سے ملاقاتیں، افراد کے طرزِ عمل، اخلاق اور ان کی تازہ ترین تخلیقات سے استفادہ، کیا کچھ نہیں حاصل ہوا مجھے۔ اور پھر ایسے ادبی دوست مل گئے جو تادیر ساتھ رہے۔ اس کے بعد میں نے مسلسل دو بار الیکشن جیتا بھی مگر میں یہی سمجھتا ہوں کی وہ کام یابیاں بھی اس پہلی ناکامی سے سیکھے ہوئے سبق کا حاصل تھیں۔ اس دوران میں مجھے اپنی کم گوئی اور کم آمیزی کی عادات پر بھی کام کرنے کا موقع ملا جو بعد ازاں بہت کام آیا۔ تو اب آپ ہی بتائیے کہ کیا وہ ناکامی میرے لیے کام یابی کی نوید نہ تھی؟
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


