بارڈر سے مائکرو فکشن – تین کہانیاں


1- جان بچانے کی خاطر

جب یہ واقعہ پیش آیا، مجھے اُس پہاڑی سرحدی چوکی پر تعینات ہوئے ایک ماہ گزر چکا تھا۔ چوکی بلند پتھریلے پہاڑ کی ڈھلان پر بنائی گئی تھی۔ پوسٹ سے کوئی تین سو گز نیچے خشک برساتی نالہ تھا جس کا پاٹ کئی سو گز تھا۔ اس میں جابجا چھوٹے بڑے پتھر تھے۔

ہماری پوسٹ کے سامنے، نالے کے پرلے کنارے سے ایک ٹیکری بتدریج بلند ہوتی چلی گئی تھی۔ اس ٹیکری پر لگ بھگ ہماری پوسٹ جتنی ہی بلندی پر دشمن کی چوکی تھی۔ یوں سمجھ لیں کہ دونوں چوکیاں ایک دوسرے سے دور لیکن آمنے سامنے تھیں اور بیچ میں چوڑا گہرا نالہ جو بارش کی صورت میں بھر جاتا تھا۔

میں جون کے اواخر میں یہاں آیا تھا جب بیشتر برف پگھل چکی تھی۔ صرف بلند چوٹیاں برف کی سفید ٹوپیاں پہنے ہوئے تھیں یا پھر اُن ڈھلوانوں پر برف تھی جن پر براہِ راست دھوپ نہیں پڑتی تھی۔ برف پگھلنے پر کبھی کبھار سرحدی جھڑپیں شروع ہو جاتی تھیں۔ اکثر اوقات اِکّا دُکّا فائرنگ کے واقعات ہوتے رہتے تھے اسی لیے معمول سے زیادہ چوکسی کی پالیسی رائج تھی۔

برف پگھلتے ہی زمین نے سبز لباس زیب تن کر لیا۔ نالے کے دونوں کناروں پر گہری سبز گھاس اُگ آئی تھی۔ رنگ برنگے جنگلی پھول جولائی میں بہار کا نقارہ بجاتے تھے۔ مقامی باشندوں کے مویشی نالے کے آس پاس گھاس چرنے آ جاتے اور سرحد کی پروا کیے بغیر اِدھر سے اُدھر آتے جاتے رہتے۔

اُس دن سورج خوب چمک رہا تھا۔ میں کمرے سے باہر آیا۔ دشمن کی چوکی پر ایک نگاہ ڈالی اور نیچے نالے میں دیکھنے لگا جہاں خنک ہوا کے دوش پر گھاس اور پھول ہلکورے لے رہے تھے۔

یکایک میری نگاہ ایک مقام پر رُک گئی۔ چار کُتے ایک بچھڑے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ بچھڑا شاید بچھڑ کر اس طرف آ نکلا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے کُتوں نے اُسے گھیر لیا۔ یوں لگتا تھا وہ اسے چیر پھاڑ دیں گے۔ ایک کُتا آگے بڑھ بڑھ کر بچھڑے پر حملہ آور ہو رہا تھا۔ میں چند قدم نیچے اُترا، رائفل سیدھی کی اور ایک کُتے پر فائر کر دیا۔ وہ چیختا چلاتا لڑھک گیا۔ ابھی میرے فائر کی گونج ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ ایک اور فائر کی آواز سنائی دی۔ میں نے دشمن کی چوکی کی طرف دیکھا ایک شخص رائفل کے ساتھ نظر آیا۔

میں نے نیچے نالے میں ایک اور کُتے کو شست پر رکھ لیا۔ میرے فائر کرنے سے پہلے ہی وہ زمین پر لوٹنے لگا۔ میں نے جلدی سے چوتھے کُتے پر نشانہ باندھا اور ٹریگر دبا دیا۔ معصوم بچھڑا حیران نگاہوں سے چاروں طرف دیکھ رہا تھا۔ جب کہیں خطرہ نظر نہ آیا تو وہ گھاس چرنے لگ گیا۔

میں نے دشمن کی چوکی کی طرف دیکھ کر فوجی انداز میں شاباش کہنے کے لیے انگوٹھا بلند کیا اور نیچے کی طرف اشارہ کیا۔ جواب میں اس شخص نے دونوں انگوٹھے بلند کیے اور سیلیوٹ بھی کیا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے دشمن تھے لیکن ظالم کُتوں سے مظلوم بچھڑے کی جان بچانے کے لیے دوست بن گئے تھے۔
”بچھڑے کی ماں اُسے دیکھ کر کتنی خوش ہو گی“ میں نے سوچا۔ "ہم فوجیوں کی بھی تو مائیں ہوتی ہیں“ ساتھ ہی یہ سوچ آئی۔ ”دونوں طرف کے فوجیوں کی۔“

میں تین ماہ اُس پوسٹ پر رہا۔ آمنے سامنے کی دونوں چوکیوں کے بیچ فائرنگ کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا۔ مل کر جان بچانے کے عمل سے ہم شاید دوست بن چکے تھے۔

2- ریڈیو کشمیر کرگل

میں کارگل جنگ کے دوران میں ایک نہایت اونچی چوٹی پر دیدبان متعین تھا۔ مجھے کارگل شہر کا بیشتر حصہ نظر آتا تھا۔

گھڑی بھر کو گولوں کی دھن دھن اور گولیوں کی تڑ تڑ سے دھیان ہٹتا تو قدرتی نظارے نظر آتے۔ حسن اور اس قدر فراوانی کے ساتھ۔ اس حسن کار، سحر آفریں فضا میں جنگ جاری تھی۔

ریڈیو ہر کوئی سنتا تھا۔ گولہ باری میں وقفہ آتا تو سب ایک جگہ جمع ہو کر خبریں اور گانے سنتے۔
ہمیں سب سے نزدیک کارگل تھا لہٰذا میڈیم ویو پر کارگل ریڈیو کی نشریات سب سے صاف سنائی دیتیں۔
”یہ ریڈیو کشمیر کرگل ہے۔ شبیر حسن سے خبریں سنیے“
ہر روز شام کو اس چینل سے جنگ میں کام آنے والے بھارتی فوجیوں کے نام نشر کیے جاتے۔
”لانس نائک گوردت سنگھ، سپاہی محمد عزیز، گرینیڈیر انیس احمد، نائک سجاد علی، سپاہی آتما رام۔“

میری پوسٹ پر بحث چھڑ گئی۔ دو گروہ بن گئے۔ ایک کا خیال تھا کہ بھارت کی طرف سے لڑتے ہوئے مارے جانے والے مسلمان فوجی شہید ہیں۔ دوسرے گروہ کا خیال تھا انہیں شہید نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کفار کی فوج کا حصہ ہیں۔ پہلا گروہ کہتا کہ وہ اپنے علاقے، اپنے وطن کا دفاع کرتے ہوئے مارے جا رہے ہیں لہٰذا شہید ہیں۔ اس قصے میں خاص بات یہ تھی کہ ریڈیو کے اناؤنسر انہیں شہید ہی کہتے تھے۔

اگلے دن ایک سپاہی میرے پاس آیا ”سر، دس بیس گولے ریڈیو کی عمارت پہ گرا دیں تاکہ یہ بحث ہی ختم ہو جائے۔ عمارت نظر آتی ہے یہاں سے۔ وہ ہے سامنے۔

۔ ۔
3- گلوبل سٹیزن

بلوچستان کے دورافتادہ شہر دالنبدین میں تعینات ہو کر میں اکیلا سا ہو گیا۔
دن تو میں دفتر میں کاٹ لیتا تھا لیکن شام کو تنہائی مجھے بری طرح کاٹتی۔

میرے سرکاری کوارٹر سے متصل ایک وسیع میدان تھا۔ تفتان بارڈر کے راستے آنے والے یورپی ملکوں کے ”کاروان“ اسی کھلے میدان میں عارضی پڑاؤ کرتے تھے۔ یوں سمجھ لیں کہ اس اتفاق کے طفیل میری کچھ شامیں خوشگوار ہوجاتی تھیں ورنہ وہی ریتلی ہوائیں اور کمرہ بند تنہائی۔

جس ٹرک کو کاروان کہا جاتا ہے اس پر مکمل گھر بنا ہوتا ہے۔

کسی کاروان میں پوری فیملی ہوتی تو کسی میں محض دو تین مرد یا عورتیں۔ کبھی کوئی جوان یا عمر رسیدہ جوڑا بھی آ جاتا۔ میں ان سیلانی سیاحوں کی چھوٹی موٹی ضرورت پوری کر دیتا، راستے یا خریداری سے متعلق معلومات فراہم کر دیتا یوں ہماری دوستی ہو جاتی۔ شام کو وہ لوگ چائے کافی پر مدعو کر لیتے اور میرا وقت اچھا گزر جاتا۔ وہاں کئی ملکوں کے لوگ آتے تھے۔ کسی کی انگریزی شستہ تو کسی کی شکستہ۔ میں خاصی گرم جوشی سے میزبانی کرتا اور ملک ملک کے حالات سے آگاہ ہوتا۔ جس دن کوئی کاروان نہ آتا، میں اُداس ہو جاتا۔

اُس دن جو کاروان آ کر رُکا اُس میں ایک خاتون تھیں۔ نقوش برصغیری لیکن انگریزی حد درجہ صاف۔ وہ خاصی عمر رسیدہ ہونے کے باوجود چاق و چوبند تھیں۔ میں پھلوں کی ٹوکری لے کر کاروان میں چلا گیا اور ہماری گفتگو شروع ہو گئی۔ وہ انگلستان سے تنہا، کاروان چلاتے ہوئے، پاکستان آئی تھیں اور آگے کئی ملکوں میں جانے کا ارادہ رکھتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ شوہروں سے اُن کے چار بچے ہیں لیکن رہتی وہ اکیلی ہیں۔

”تو آپ کا تعلق انگلینڈ سے ہے؟“
میرے اِس سوال پر وہ یک دم خاموش ہو گئیں۔ کافی دیر بعد بولیں۔
”پتہ نہیں۔“ اِس جواب پر میرا خاموش رہنا ہی مناسب تھا۔

”میں دنیا کی شہری ہوں۔ سارے ملک میرے اپنے ہیں لیکن میں کہیں کی نہیں۔“ میں اُن کا رنگ بدلتا اُداس چہرہ دیکھتا رہا۔ کافی دیر بعد وہ بولیں۔

”جب میں پیدا ہوئی تو ہندوستانی تھی لیکن میں سلطنت برطانیہ کی رعایا بھی تھی۔ سات سال کی عمر میں مجھے بتایا گیا کہ میں پاکستانی ہو گئی ہوں۔ 31 سال کی ہوئی تو مجھ سے پوچھے بغیر میری شناخت بنگلہ دیشی کر دی گئی۔ میں گھبرا کر کینیڈا جا رہی۔ وہاں مزید اُلجھ گئی تو انگلینڈ آ بسی۔ مجھے انگلستان کی شہریت ملی تو گویا میں انگریز بن گئی۔ بس ایک دن میں نے شناخت کے گورکھ دھندے پر لعنت بھیجی اور دنیا کی شہری بن گئی۔ یو نو گلوبل سٹیزن۔“

Facebook Comments HS