چالیس برس کا ساتھ


دونوں قبریں چالیس سال سے کھدی ہوئی تھیں اور اپنے مردوں کے انتظار میں تھیں۔ ہر سال بارش کے دنوں قبروں میں پانی بھر جاتا اور وہ ایک گڑھے کی شکل اختیار کر لیتیں۔ اندرونی حصہ جسے سل رکھنے کے لئے کاٹا گیا ہوتا زائل ہوجاتا۔ سل جسے قبر کے قریب ہی رکھا گیا ہوتا اس طرح کیچڑ میں دھنس جاتی کہ بارش کے بعد اسے نکالنا مشکل ہو جاتا۔ پچھلے چالیس سال میں چار بار نئی سلیں لائی گئی تھیں کیونکہ موسم کی شدت اور ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے وہ قابل استعمال نہیں رہتی تھیں۔ بارشیں ختم ہوتے ہی اکبر خان کے وفادار کارندے واپس قبروں کو ان کی اصل شکل میں لے آتے۔ یا نئی قبریں کھود دیتے۔

دونوں قبریں الگ الگ قبرستانوں میں کھودی گئیں تھیں۔ دونوں قبرستانوں کے درمیان 5 کلو میٹر کا فاصلہ تھا۔ ایک بابا جی صاحب قبرستان جو گاؤں کی مغربی سرحد پر واقع تھا جبکہ دوسری زیتون قبرستان میں جو گاؤں کے مرکز میں تھا جہاں چھوٹے کالے زیتون کے بے شمار گھنے درخت تھے۔ موسم آتا تو ساری قبریں زیتونوں سے کالی پڑ جاتیں اور گاؤں کے بچے انھیں قبروں پر سے چن چن کر کھاتے یہاں تک کہ ان کے منہ اندر تک کالے ہو جاتے۔

اکبر خان کو جب اطلاع ملی کہ اعظم خان اور رشیدہ دو دن بعد گاؤں آ رہے ہیں تو اس کا چہرہ غصے کے مارے سرخ ہو گیا۔ اس نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ قبروں کا از سرِ نو جائزہ لیں اور اسلحہ تیار رکھیں۔

حکم ملتے ہی کارندوں نے کھدی ہوئی قبروں کی شکلیں درست کر دی تھیں۔ لیکن رات بھر بارش کی وجہ سے دونوں کھدی ہوئی قبریں کئی بار پانی سے بھر چکی تھیں اور کارندے انھیں خالی کر چکے تھے لیکن بارش کسی طور رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ کارندوں نے ان پر ترپال بھی ڈال دی تھی لیکن پانی اس کے باوجود ترپال کے نیچے سے بہتا ہو قبروں میں داخل ہو رہا تھا۔

ریل گاڑی اپنی مخصوص آواز کے ساتھ تیزی سے دوڑ رہی تھی۔ رشیدہ اپنے کمپارٹمنٹ میں سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے ہچکولے لے رہی تھی۔ اس کے بال چاندی ہو رہے تھے جن میں چیدہ چیدہ کالی کھوٹ دکھائی دیتی تھی، جنہیں دیکھ کر محاورہ الٹنے کو جی چاہتا تھا کہ بال میں کچھ کالا ہے۔ اعظم خان رشیدہ کے سامنے والی سیٹ پر کھڑکی کا شٹر اٹھائے بیٹھا تھا۔ ٹھنڈی ہوائیں اندر آ رہی تھیں۔ اس کے بالوں پر بھی چونا پھر چکا تھا اور کالا بال ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل سکتا تھا۔ موسم سرما کا تھا، شام ڈھل رہی تھی اور ٹھنڈ بڑھتی جا رہی تھی۔ ہوا کا ایک تیز یخ جھونکا آیا اور رشیدہ کے گرد لپٹی گرم شال ڈھلک گئی۔ رشیدہ نے بڑبڑاتے ہوئے شال اپنے گرد لپیٹ لی۔

”کیوں اس سردی میں کھڑکی کھول رکھی ہے اعظم خان؟“
اعظم خان طنزیہ بولا
” سردی! کیسی سردی؟ یہ تو ایک پر لطف ہوا ہے بس۔“
رشیدہ نے بھی طنز پر طنز رکھا۔

” پر لطف ہوا! اچھا جی! اپنی صحت کی نازکی بھول گئے شاید؟ ہر سال تو معمولی سی ٹھنڈ سے سینہ جکڑ جاتا ہے۔ پھر بام کی ڈبیہ لیے پھرتے ہو، رشیدہ بیگم مالش کر دو۔“ رشیدہ ہنسنے لگتی ہے۔

اعظم خان شرارت سے جواب دیتا ہے۔

”ارے میں تو اب بھی مالش کی آرزو میں بام کی ڈبیہ ساتھ لایا ہوں اور کب سے کھڑکی کھولے بیٹھا ہوں لیکن یہ کمبخت سینے کی جکڑن ہے جو آ کر ہی نہیں دیتی۔“

رشیدہ بجتے دانتوں کے ساتھ،
”عمر ڈھل گئی پر چونچلے نہیں گئے۔ بند کر دو کھڑکی مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے۔“
اعظم خان قدرے پریشانی کے ساتھ شٹر گراتا ہے،
”رشیدہ بیگم تم تو واقعی ٹھٹھرنے لگیں! اتنی سردی لگ رہی ہے کیا؟“
رشیدہ اپنی شال لپیٹتے ہوئے۔

”اب اس بڑھاپے میں تو سردی ہی لگے گی نا۔ وہ وقت تو گزر گیا جب کڑاکے کی سردی میں پہاڑوں پر برف اکٹھی کرنے جاتے تھے۔“

اعظم خان بولا۔

”رشیدہ بیگم کیا یاد دلا دیا آپ نے۔ صبح اٹھتے ہی باقی تمام گھر سے بے خبر کیسی للچائی نظروں سے پہاڑوں کی چوٹیوں کو تکتے تھے جو برف سے سفید ہو چکی ہوتی تھیں۔ اور پھر گھر والوں سے ضد کرتے تھے کہ ہمیں برف لینے جانا ہے۔ اور پھر سب بچے اپنے گھروں سے برتن لے کر نکل پڑتے تھے۔“

رشیدہ شرارت کے ساتھ بولی۔
”اور تم ہمیشہ اپنی ماں کے جہیز کا پیتل والا جگ لے آتے تھے جس کا ہتہ ٹوٹ چکا تھا۔ اور سب بچے اسے بجائے جگ کے پیک دان کہتے تھے ”رشیدہ آنکھوں میں شرارت لیے ہوئے ہنستی ہے۔

اعظم شکوے کے انداز میں بولتا ہے
”کوئی اور کہتا نا کہتا پر تم اسے بار بار پیک دان کہ کر مجھے چھیڑتی رہتیں۔“
رشیدہ پیار سے بولی۔

”جگ کو پیک دان بول کر چھیڑا ضرور ہو گا۔ لیکن میری ساری محبتیں میری ساری چاہتیں بھی تو بس تمہارے لیے تھیں“ رشیدہ قدرے پریشان ہو جاتی ہے۔ پتہ نہیں ہم گاؤں لوٹ کر ٹھیک کر رہے ہیں یا نہیں! ”

اعظم خان فوراً ٹوکتا ہے۔
”بالکل ٹھیک کر رہے ہیں۔ چالیس سال اپنے گاؤں سے دور رہے ہیں اب اس عمر میں تو لوٹنا بنتا ہے“
رشیدہ روہانسی ہو کر
”لیکن یہ خبر تو کئی لوگوں سے ہم تک پہنچی کہ میرے چچا نے ہماری قبریں کھود رکھیں ہیں“
اعظم جذباتی ہوتے ہوئے۔

” رشیدہ کیا ہو گیا تمہیں؟ اب اس بڑھاپے میں وہ ہمیں قتل کرے گا؟ اس لیے کہ ہم چالیس سال پہلے بھاگ گئے تھے؟“ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ ارے ہم تو اپنی نواسی اور پوتا چھوڑ کر آئے ہیں (ہنسنے لگتا ہے ) اب کیا وہ ان چاندی کے بالوں والے ضعیفوں کو جان سے مارے گا؟ جو ویسے ہی قبر میں پاؤں لٹکائے ہوئے ہیں ”

رشیدہ پریشانی میں۔

” ٹھیک کہتے ہو۔ لیکن ایک عجیب دھڑکا سا ہے جو دل کو لگا ہوا ہے۔ میرا چچا بہت ظالم ہے۔ تمہیں یاد نہیں؟

جب تم نے مذاق میں میری طرف مرا ہوا سانپ اچھالا تھا اور میں ڈر کر چیخی تھی اور سامنے سے میرا چاچا آ گیا تھا۔ اس نے کیسے شہتوت کے درخت سے ہری ٹہنی توڑ کر تم پر چاروں طرف سے برسائی تھی؟ ہری ہونے کی وجہ سے وہ کیسے چھپاک کر کے تم پر برستی تھی۔ ”

اعظم بات ملاتا ہے۔

”ہاں! اور تب تم میری حالت دیکھ کر اور زیادہ رونے لگی تھیں۔ اور اپنے چاچا سے بولے جا رہی تھیں“ اعظم کو مت مارو ”۔

رشیدہ بولی۔
”اور میرا ظالم چاچا کیسے مجھے کھینچتا ہوا گھر لے گیا تھا؟“
اعظم بولا۔

”لیکن تمہارے چاچا نے مجھے انعام بھی تو دیا تھا۔ جب تم ندی میں ڈوبنے لگی تھیں اور میں نے تم کو بچا لیا تھا۔ وہ بھی پورے 50 روپے۔ اس دن ہمارے گھر مرغ پلاؤ بنا تھا۔ جیسے عید کا دن ہو۔ بس اب کسی طرح یہ رات کٹ جائے ہم صبح سویرے مردان میں ہوں گے۔ اور اگلے گھنٹے اپنے گاؤں میں۔ چالیس برسوں میں کتنا کچھ بدل گیا ہو گا!“

رشیدہ پریشانی میں بولی
” جیسے جیسے رات ڈھل رہی ہے مجھے تو گھبراہٹ ہو رہی ہے“
اعظم جذباتی ہو کر۔

”اگر ہم 70 سالہ بوڑھوں کو مار کر ان لوگوں کے دلوں کو سکون ملتا ہے تو مارنے دو۔ مٹی تو اپنے گاؤں کی نصیب ہو جائے گی۔“

رشیدہ بیگم خاموش ہو گئی اور آنکھیں موند کر ماضی کو یاد کرنے لگی۔ اعظم خان کے ساتھ بتایا ہوا بچپن جب وہ دن بھر ساتھ کھیلتے تھے۔ لڑکپن اور پھر جوانی۔ وہ دونوں بچپن سے ایک دوسرے پر جان دیتے تھے۔ جوان ہوئے تو ساری آزادی ختم ہو گئی۔ تب ایک دوسرے کی جھلک دیکھنا بھی مشکل ہو گیا۔ ایسے میں اعظم خان نے اپنے ماں باپ سے رشیدہ کا رشتہ مانگنے کی بات کی تو اس کے باپ نے اسے دوبارہ ایسی بات بھی زبان پر لانے سے منع کر دیا۔ کیوں کہ رشیدہ گاؤں کے خان کی بیٹی تھی اور اعظم خان ایک دہقان کا۔ لیکن جب اعظم اپنی ضد پر اڑا رہا

تو اس کے ماں باپ اس کی تسلی کے لیے رشیدہ کے گھر چلے گئے۔ رشیدہ کے باپ اور چاچا نے نہ صرف رشتے سے انکار کیا بلکہ ان کی تذلیل بھی کی۔ تب اعظم اور رشیدہ کے پاس بھاگ جانے کے سوا کوئی راستہ نا بچا۔ رشیدہ رات کی تاریکی میں گھر سے نکلنے کا منظر سوچ ہی رہی تھی کہ اس کی آنکھ لگ گئی۔ رشیدہ کی آنکھ تب کھلی جب اعظم نے ہلا کر کہا اٹھو صبح ہو گئی ہے۔ ہم مردان میں ہیں اور گاڑی اسٹیشن پہنچے والی ہے۔ رشیدہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ جس گھڑی کے آنے سے وہ رات بھر خوف زدہ تھی وہ آن پہنچی تھی۔ ٹرین اسٹیشن پر رکی تو وہ بوجھل قدموں سے اعظم کے ساتھ اتری اور پلیٹ فارم کی بنچ پر بیٹھ گئی۔ اعظم بھی اس کے برابر میں بیٹھ گیا۔ رشیدہ سرگوشی کے انداز میں بولی۔

” اعظم! کیوں نہ ٹکٹ لے کر اگلی ٹرین سے واپس لاہور لوٹ جائیں؟“
اعظم بولا۔

” انسان اپنے انجام کی طرف خود چل کر جاتا ہے۔ اگر ہمارا انجام یہی ہے تو بھی ہمیں آگے بڑھنا ہی ہو گا۔ محبت امتحان ہی کا دوسرا نام ہے۔ اور ہم پہلے کسی امتحان سے پیچھے ہٹے ہیں جو اب ہٹیں گے؟ دنیا محبت اور عشق کی لازوال داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ کیا عجب ہے کہ ان میں ایک داستان ایسی بھی شامل ہو جائے جو آج تک کسی نے نا سنی ہو۔ محبت میں جان دینے والے ستر سالہ بوڑھے! ہم بوڑھوں کے لرزتے وجود شہید ہو کر محبت کی راہ پر چلنے والوں کا حوصلہ بنیں گے۔“

رشیدہ کچھ دیر توقف کے بعد مثبت خیالات کا اظہار کرنے لگتی ہے۔

میں سوچ رہی ہوں کیا پتہ سب کچھ اس کے الٹ ہو۔ کیا معلوم گاؤں کے لوگ ہار پھول لیے ہمارے استقبال کے لیے کھڑے ہوں۔ کیا پتہ گاؤں والوں نے میرے چاچا کو بھی لعنت ملامت کی ہو کہ چالیس سال بعد اتنے ضعیفوں کو مار کر اس کی غیرت کو کیا تسکین ملے گی۔ کیا پتہ میرے نوے سالہ چاچا کو اپنے عاقبت کا خیال آ جائے۔ کیا معلوم پچھلے چالیس سال میں محبت کے بارے میں اس کا نقطۂ نظر بدل گیا ہو۔ ہو سکتا ہے جب وہ ہمیں مارنے لگے تو اس کی ہمت جواب دے جائے اور وہ اپنی رائفل کا رخ زمین کی طرف کر دے؟ ”

اعظم بات آگے بڑھاتا ہے

”ہاں رشیدہ بیگم ایسا بالکل ہو سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ گاؤں کا ہر ہر فرد ہمیں ایک ایک کر کے گلے لگائے۔ ہو سکتا ہے ان سب کی آنکھوں میں خوشی کی چمک ہو۔ ہو سکتا ہے وہ ہمیں بتائیں کے وہ ہمارے لیے دعائیں کرتے رہے ہیں۔“

رشیدہ بولی۔

”اور اعظم خان! گاؤں میں مہمان نوازی کا کتنا رواج ہے! ہو سکتا ہے ہمارے 15 دن کے قیام کے دوران روزانہ ایک ایک گھر ہمیں دعوت پر بلائے۔ اور وہ دعوت کے بعد ہم سے ہماری داستان سننا چاہیں۔ گاؤں کے بزرگوں کو تو ہمیشہ سے محبت کی داستانیں سننے کا شوق رہا ہے۔ ہمارے باپ دا دا بھی تو یوسف خان شیر بانو، ٫ آدم خان درخانئی ’نمرو تاج محمد۔ کی داستانیں سنتے آئے ہیں۔ یہ سب رومانوی داستانیں کیسے نظم کی گئیں اور کیسے مختلف گلوکار ان کو گاتے رہے۔ مجھے یاد ہے کہ میرا باپ اور دادا جب نمرو تاج محمد کی کیسٹ لگاتے تھے تو کسی بچے کو بولنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ اور میرا چاچا! وہ تو قصہ ہمیشہ اکیلے میں سنتا تھا تاکہ کوئی مخل نا ہو۔“

کچھ دیر کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی۔ وہ دونوں پلیٹ فارم کی بنچ پر بیٹھے رہے۔ پھر اعظم نے خاموشی سے کپڑوں کا بیگ اور دوسرا سامان اٹھایا۔ رشیدہ بنچ سے اٹھی اور وہ دونوں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اسٹیشن سے باہر آ گئے۔ باہر آ کر انہوں نے ایک ٹیکسی روکی اور گاؤں کے لیے روانہ ہو گئے۔

ادھر رشیدہ کے چاچا اکبر خان نے رات میں دونوں قبریں بھی تازہ کروا دی تھیں اور اپنے آدمیوں کو کلاشنکوف دے کر گاؤں کے داخلی راستے پر بٹھا دیا تھا۔

اعظم اور رشیدہ ٹیکسی میں بنا کوئی بات کیے ایک دوسرے کو خالی خالی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ ان دونوں کے پاس بولنے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا نا زبان سے اور نا آنکھوں سے۔ ٹیکسی گاؤں کے داخلی راستے پر پہنچی تو اکبر خان کے آدمیوں نے اسے روک لیا۔ ڈرائیور کو نکال کر باہر کھڑا کیا۔ اور پھر صبح کی خاموشی کو گولیوں کی آواز چیرنے لگی۔ پہلے اعظم خان کے سینے میں تین گولیاں اتریں اور پھر رشیدہ کے۔ دونوں لاشیں فوراً ہی تدفین کے لیے تیار کر دی گئیں۔ اعظم خان کو بابا جی صاحب قبرستان میں دفنایا گیا اور رشیدہ کو 5 کلو میٹر دور زیتون قبرستان میں اور یوں چالیس برس سے اپنے مردوں کی منتظر قبروں کا انتظار ختم ہو گیا۔

Facebook Comments HS