نوجوان سیاسی دانشور بلاول بھٹو زرداری


’عمران خان کی پالیسیوں سے اختلاف تھا اور آگے بھی کرتا رہوں گا، لیکن تحریک انصاف ایوان اور کمیٹیاں نہ چھوڑے، آپ جائیں گے تو وہ خوش ہوں گے جو آپ کو یہاں دیکھنا نہیں چاہتے‘ یہ الفاظ تھے پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے جو انہوں آج انہوں نے قومی اسمبلی کے فلور پہ کی۔ آج ایک بار پھر نوجوان بلاول نے اپنے آپ کو کئی پرانے سیاسی بابوں سے بڑا مدبر، سمجھدار اور سیاسی، اسلامی، سماجی اور جمہوری رویوں میں اعلیٰ و ارفع ثابت کیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے 2018 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد ایوان میں اپنی پہلی تقریر سے ہی اشارہ دے دیا تھا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور دورِ حاضر کے سیاسی دانشور آصف علی زرداری کا بیٹا، باصلاحیت، اعلیٰ تعلیم یافتہ، اعلیٰ خاندانی، سیاسی، اخلاقی اقدار کا امین اپنی خاندانی عوامی روایات کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے پارلیمان کے میدان میں اتر چکا ہے۔

2018 میں بھی بلاول نے اپنی شاندار مدبرانہ تقریر سے اپنے ناقدین کو خاموش کرایا تھا تو آج بھی انہوں نے اپنے اوپر غیر مہذبانہ فقرے بازی کرنے، اخلاق سے گری ہوئی زبان استعمال کرنے والوں کو اپنے تدبر سیاسی شعور اور لاجواب کر دینے والے دلائل سے سر جھکانے پر مجبور کر دیا۔

نوجوان بلاول نے اس ماں کی گود میں تربیت پائی جس نے اپنی ساری زندگی ایسے اوچھے، نامناسب، انتقامی اور نفرت انگیز رویوں کے خلاف اخلاقی سیاسی اور جمہوری جنگ لڑ کر فتح حاصل کی۔ شہید رانی نے بلاول کی دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق اعلیٰ انسانی خاندانی اور سیاسی و اخلاقی رویوں کے مطابق تربیت کی۔

انہوں نے پارلیمنٹ میں اپنے پہلے خطاب سے ہی ثابت کر دیا کہ پاکستان کا مستقبل یہ حوصلہ مند، اعلیٰ تعلیم یافتہ، مہذب و با اخلاق سیاسی قائد ہے نہ کہ ایک ستر سالہ بدزبان، بداخلاق متکبر شخص جو تبدیلی کا چورن بیچ کر ، ملک کی مقتدر قوتوں کی آشیرباد سے اقتدار میں آیا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پہلے خطاب میں وزیر اعظم کو نہ صرف اپنا وزیر اعظم کہا بلکہ ان کو یاد بھی دلایا کہ آپ نے جن کو زندہ لاشیں اور گدھے کہا تھا آپ ان کے بھی وزیراعظم ہیں۔

آج بھی چیئرمین بلاول بھٹو نے اپنے اسی مدبرانہ تسلسل کو جاری رکھا اور تحریک انصاف کے اراکین کو مشورہ دیا کہ آپ اپنے جیل میں پڑے لیڈر کی رہائی کی جنگ عدالتوں میں بھی لڑیں تو عوام کے درمیان بھی، پارلیمان میں بھی اپنے لیڈر کے لیے کھل کر ڈٹ کر بات کریں مگر اس دوران آپ یہ مت بھولیں کہ آپ کے لوگوں نے آپ کو اپنے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے پارلیمان میں بھیجا ہے صرف ہلڑ بازی کرنے گالیاں دینے، پگڑیاں اچھالنے کے لیے نہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اپنی پرجوش تقاریر اپنی دانشمندانہ سیاسی حکمت عملی سے نہ صرف اپنے ناقدین کو بلکہ ملک کے بڑے بڑے تجزیہ نگاروں انٹیلیکچولز کو بھی یہ کہنے پہ مجبور کر دیا کہ بلاول ہی پاکستان کا روشن چہرہ اور تعمیر ترقی اور خوشحالی کا استعارہ ہے۔ نوجوان بلاول محض پینتیس برس میں ملک کے گھاگ ستر پچھتر برس کے بڈھے تجربہ کار سیاستدانوں کے مقابلے میں زیادہ سمجھدار اور با اخلاق سیاسی قائد بن کر ابھرے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے آج کی تقریر میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو بھی با اخلاق طریقے سے مخاطب کیا جو ہمیشہ ان کے لیے نازیبا گفتگو کرتے ہیں۔ بلاول نے علی امین گنڈاپور کو اخلاقیات، سیاسیات اور اسلامی شعائر کا وہ درس دیا جو شاید انہیں ورثے میں نہیں ملا۔

بلاول بھٹو زرداری کی مختصر سیاسی زندگی اور عمران خان کی ان سے تین گنا بڑے سیاسی تجربے کا اگر موازنہ کریں تو نوجوان بلاول نے عمران خان کو ہر سیاسی محاذ پر مات دی ہے۔ بلاول نے اخلاقی رویوں میں بھی خان کو پچھاڑا ہے تو سیاسی اور جمہوری رویوں میں بھی دھول چٹائی ہے۔

عمران خان اقتدار میں رہتے اور اقتدار سے بے دخلی سے لے کر آج پابندِ سلاسل ہونے تک سوائے اپنی ہر کہی بات سے یوٹرن لینے، مخالفین کو گالیاں بکنے، ان کی نقلیں اتارنے، روزانہ کی بنیاد پہ متضاد سیاسی بیانات کے ذریعے ملک میں انتشار پھیلانے کے کچھ نہیں کر سکے۔ وہ بار بار اپنا سیاسی موقف تبدیل کرتے ہیں۔ کبھی اسٹیبلشمنٹ کو لتاڑتے ہیں تو کبھی ان کی منتیں ترلے کرتے پاؤں پکڑتے ہیں۔ ہر نیا دن ان کے سیاسی یوٹرنز سے لبریز ہوتا ہے۔ وہ نئی سیاسی شعبدہ بازی سے ہر نئے دن کے ابھرتے سورج کا استقبال کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ گالم گلوچ، کردار کشی، سیاسی افراتفری اور انتشار پسندی کی سیاست کو پسند کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے انہیں پاکستان کی معاشی و سیاسی ترقی خوشحالی، جمہوری استحکام اور امن و سکون سے کوئی خدا واسطے کا بیر ہو۔

ایک طرف علی امین گنڈاپور کی دشنام طرازی اور زبان درازی پہ ان کی جماعت کے دیگر قائدین معافیاں مانگتے پھر رہے ہیں تو دوسری جانب خان صاحب علی امین کے منفی انتشار پسند رویوں کی حمایت کر کے اسے مزید تقویت پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف علی امین گنڈاپور کے ریاست مخالف بیانیے اور صحافیوں خصوصاً خواتین صحافیوں کے لیے نازیبا گفتگو کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا بلکہ یہاں تک کہا کہ جن رہنماؤں نے معذرت خواہانہ رویوں کا اظہار کیا ہے وہ بزدل ہیں اور انہیں پارٹی میں نہیں ہونا چاہیے۔

دو روز کے دوران ہونے والی ہنگامہ خیز سیاسی اتھل پتھل کے بعد قومی اسمبلی اسپیکر نے انتہائی مثبت اور غیر جانبدارانہ اقدامات کیے اور گرفتار پی ٹی آئی رہنماؤں کے نہ صرف پروڈکشن آرڈرز جاری کیے بلکہ اسمبلی کے احاطے سے اراکین اسمبلی کی گرفتاری پہ سخت نوٹس بھی لیا۔

اسی مفاہمانہ رویے کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آگ پہ پانی ڈالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مہمانوں کی گیلری میں بیٹھے کالج کے نوجوانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ”جو نوجوان مستقبل کے معمار یہاں بیٹھے ہمارے رویے دیکھ رہے ہیں وہ یقیناً سیاستدان بننا نہیں چاہیں گے، انہیں شرمندگی محسوس ہو رہی ہوگی کہ یہ رویے ہیں ہمارے رہنماؤں کے جن کے ہاتھوں میں ہمارا مستقبل ہے“

چیئرمین بلاول نے کہا کہ ہم نے سیاست کو گالی بنا دیا ہے، اب ہمیں ہی یہ تاثر ختم کرنا پڑے گا، آئین کو بالادست بنا کر کیونکہ اس کے بغیر کوئی ادارہ نہیں چل سکتا۔ چیئرمین بلاول نے حکومتی اکابرین کو عمران خان والا سیاسی رویہ اپنانے سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمیں عمران والا کردار ادا کرنا ہے تو پھر آج عمران خان جیل میں ہے تو کل ہم جیل میں ہوں گے ”

بلاول بھٹو زرداری نے آج جس سیاسی فہم و فراست اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا یہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان کا سیاسی مستقبل روشن ہے۔ ایک مقبول عوامی جمہوری جماعت کے قائد، دنیائے سیاست میں شہادتوں، قربانیوں، وفاداریوں، جا نثاریوں کی تاریخ رکھنے والی قیادت اور اس کے سیاسی ورثے کے وارث نے پاکستان سے محبت، آئین کے احترام اور پارلیمان کی بالادستی پہ اپنے غیر متزلزل اعتماد کا واضح دو ٹوک اعلان کیا ہے جو کہ مستقبل کے گرم سیاسی ماحول میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے۔

Facebook Comments HS