نِکا: زندگی کی پرتیں کھولتا ہوا انیس احمد کا ناول
ناول کو پڑھنے سے پہلے ہی قاری اس ناول کے عنوان سے چونک اٹھتا ہے۔ نِکا؟ ارے یہ تو کسی کردار کا نام ہے۔ ناول میں کیا ہے؟ قاری کو ناول کے نام سے کوئی مدد نہیں ملتی۔ اُسے تجسس رہتا ہے اور وہ خود سے سوال کرتا ہے کہ یہ کیسا ناول نگار ہے جس نے ناول کے بارے میں کچھ بھی ناول کے عنوان میں نہیں بتایا۔ ہمارے ہاں ناول کے عنوان سے ہی ناول کا بیانیہ تشکیل دینے کی روایت ہے۔ اُداس نسلیں، آگ کا دریا، راکھ، آخر شبِ کے ہمسفر، غروبِ شہر کا وقت، مٹی آدم کھاتی ہے وغیرہ یہ عنوانات اپنے آپ میں ایک مکمل بیانیے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اردو ناول کی ابتدائی روایت میں ڈپٹی نذیر احمد اور مرزا ہادی رسوا وہ واحد ناول نگار تھے جن کے بیشتر ناول کرداروں کے نام پر ہیں اور کرداروں کے دم خم پر ہی وہ ناول اردو ادب میں زندہ رہے۔ مادام بوواری، لولیتا، مسز ڈیلووے، اینا کرینینا کرداروں کے نام پر ناول کے نام کی روایت یورپین اور مغربی ناول نگاروں کے ہاں ملتی ہے۔ انیس احمد بھی اسی روایت پر قائم ہیں سو انہوں نے ناول کے عنوان کے سہارے بیانیے کی بنیاد نہیں رکھی۔
یہ ناول ایک غریب بستی کا امیر لینڈ اسکیپ ہے۔ جہاں غربت، مجبوری اور حالات کا جبر اپنی مکمل آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ یہاں سلامو لکڑہارا ہے جس کی کُل جائیداد ایک گدھا، ایک بکری اور میمنا ہے۔ جس کی بیوی امیر مائی ہے۔ جو سلامو کو ناشتے میں باسی روٹی، لسی اور بچی کھچی بھاجی دیتی ہے، سلامو، جس کا جی چاہتا ہے کہ ناشتے میں چائے بھی ہو مگر مہنگائی کے باعث چائے کی پُڑیا اس سے روز روز خریدی نہیں جا سکتی۔ اس لینڈ اسکیپ میں جنداں کا تندور ہے، رسولے کی نون مرچ کی دُکان ہے جس کی حیثیت پوری بستی میں بیٹھک کی سی ہے، دوپہر ہو یا شام یہاں رونق سی لگی رہتی ہے۔ ساتھ مولوی صاحب کی مسجد ہے، دینو کمہار کی دُکان ہے۔ دلاور موچی، گامو، بھاگ بھری، رانو، نازو، بچل، اور رامو، یہ کرداروں کی وہ دھنک ہے جو حالات کی دھوپ چھاؤں کے باوجود ناول کے آسمان پر آخر تک موجود رہتی ہے۔
سلامو اور امیر مائی کے ہاں دو لڑکے اور ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ نِکا جو سلامو اور امیر مائی کا پُوت ہے وہ پیر صاحب کی دُعا سے پیدا ہوا۔ اس بستی میں پیر بھی ہیں اور جاگیردار بھی۔ ایسی بستیوں میں جہاں غربت بستی ہے وہاں یہی پیر اور جاگیردار سرکار بھی ہیں اور خُدا بھی۔ اِن میں رعب و جلال ہے، نیچ کردار کی تمام خصلتیں ہیں وہیں ان میں کہیں کہیں ایک معصوم انسان بھی بستا ہے۔
ناول کی دُنیا میں قدم رکھنے سے پہلے ایک دروازہ ہے۔ یہ دروازہ ایک کردار کی خود کلامی ہے :
ناحق ہم جوگی، سنت، سادھو، صوفی، ملنگ سچ کے کھوج میں عمریں گزار دیتے ہیں۔ چالیس سے اوپر تو میں نے بھی گزار دیے۔ لیکن کیا ملا! سچ تو بچپن کی معصومیت کے ساتھ ہی ہم سے جُدا ہو جاتا ہے۔ سچ۔ جس کے ساتھ ہم پیدا ہوتے ہیں اور کھو دیتے ہیں۔ پھر زندگی بھر اسے تلاش کرتے رہتے ہیں۔ بنَوں میں، ویرانوں میں، کتابوں میں، آوازوں میں اور اپنے ہی جیسے انسانوں میں۔
یہ ناول کا وہ کردار ہے جس کے آگے پیچھے باقی تمام کرداروں کا تانا بانا ہے۔ کہانی فلیش بیک میں چلتی ہے جہاں اس کردار کا بچپن ہے، وہ صحرا کے ٹیلوں اور ٹوبوں میں ڈنڈے کے ساتھ سائیکل کا ٹائر جسے وہ پھیتا کہتا ہے وہ گُھماتا ہے۔ اپنی ہم جولی نازو کے ساتھ جانوروں کے ریوڑ چَراتا ہے۔ اس کردار کو بچپن سے جوگی بننے کا شوق ہے جو تبت اور کیلاش کی وادیوں میں رہتے ہیں۔ جوگی جو ہواؤں میں اُڑ سکتے ہیں۔ نِکا جو معصوم بھی ہے اور شرارتی بھی۔ وہ ہر ایک سے معصومیت سے تجسس بھرے سوال کرتا ہے۔
ناول جو کردار کی خود کلامی سے پروان چڑھتا ہے جس میں سچ کی تلاش، جوگی اور سادھو بننے کا ذکر ہے۔ کیا ایک عام شخص جوگی اور سادھو بن سکتا ہے؟ ہر انسان کی زندگی میں کچھ کڑوے سچ ایسے ہیں جنھیں قبول کر لینے والا آدمی جوگی بن سکتا ہے۔ کیا سچ کو اپنانے کے لئے اعلیٰ ظرفی چاہیے یا پھر معصومیت؟ نِکا جو پیر صاحب کی دعا سے دنیا میں آتا ہے۔ یہ پیر صاحب کی دعا کیا تھی؟ یہ وہ جنسی عمل تھا جو نِکے کی ماں امیر مائی کے ساتھ پیر جمال کرتا ہے۔ یہ بھید نکے کو معلوم ہو جاتا ہے۔ زندگی جب اُسے عزت دولت اور شہرت سے ہمکنار کرنا چاہتی ہے تو وہ اپنا بھید، اپنی حقیقی اوقات سرِ بازار رکھ دیتا ہے جہاں دُنیا اُسے قبول نہیں کرتی۔
یہ ناول زندگی کی بہت سی پرتوں کو ٹٹولتا ہے۔ کیا انسان اپنے آبا و اجداد کے مذہب کی طرف لوٹتا ہے؟ بھاگ بھری جو محبت اور حالات کے جبر کے باعث مذہب تبدیل کر لیتی ہے مگر مورتیوں کو طاق میں چُھپا کر رکھتی ہے، نِکا جو دادی کو طاق میں مورتیاں رکھتا دیکھتا ہے تو معصومیت سے سوچتا ہے دادی اتنی بڑی ہو کر بھی گُڈیوں کے ساتھ کیوں کھیلتی ہے۔ بھاگ بھری کا شوہر گامو جو مسلمان ہے وہ اس راز سے آشنا ہے۔ بھاگ بھری مرنے سے پہلے گامو سے کہتی ہے :
”تجھے یاد ہے نا گامو! سہاگ رات کیا کہا تھا میں نے تجھ سے۔ کیا وچن لیا تھا!“
گامو اس کا ہاتھ سہلاتے ہوئے کہتا ہے :
”ہاں یاد ہے بھاگو۔ تو کہتی تھی سیتا اگر اپنی آئی پر آ جائے تو دریا بھی اُلٹے چلنے لگیں۔“
بھاگ بھری غشی کی حالت میں کہتی ہے :
”میں نے یہ بھی تو کہا تھا گامو کہ میں تو کیا اگر تو میری راکھ بھی پانی میں بہا دے تو چلتے دریا کا رُخ موڑ دے گی۔ بول گامو! بہا دے نا کیلاش سے آتے اس دریا میں اپنی سیتا کی راکھ۔ وچن دے گامو۔ بہا دے گا نا۔ پر جانتی ہوں تُو ایسا کرے گا نہیں۔ ایسا کون کرنے دے گا تُجھے اس بستی میں۔ مکت ہوئے بنا ہی ماٹی میں اُتار دے گا۔ جانتی ہوں۔ تُو نے پہلے کب میری کوئی بات مانی ہے۔“
اپنے اصل کلچر کی طرف لوٹنے کی خواہش کیا انسان میں مرتے دم تک رہتی ہے؟ اگر آدمی اور اُسکے مذہب کی جنم بھومی ایک ہو تو کیا اُس مذہب کی جڑیں انسانی نفسیات میں تادیر رہتی ہیں؟
کیا اپنی نسل سے محبت جائز اور ناجائز جنسی فعل کی بحث پر حاوی ہو سکتی ہے؟ نِکا جو پیر عظام الدین جمال زادہ اور امیر مائی کے مابین ہونے والے استحصالی جنسی عمل کے باعث پیدا ہوا ہے۔ پیر صاحب جو کمی کمین مریدین سے ہاتھ تک نہیں ملاتے، نفرت آمیز رویہ رکھتے ہیں مگر بھرے مجمعے میں امیر مائی کے ساتھ نِکے کو دیکھتے ہیں تو اُن میں شفقت سی اُمڈ آتی ہے۔ جس طرح وہ نِکے پر مہربان ہوتے ہیں اردگرد کھڑے مریدین حیران ہوتے ہیں مگر پیر صاحب کو اپنے رُتبے کا بھی پاس ہے اپنے ناجائز خون کو اپنا نہیں سکتے۔
”اللہ سائیں کی مرضی۔“ ۔ ناول کے کردار جب کسی بے بسی، حالات کے جبر اور انہونی واردات کا شکار ہوتے تو جواز دینے کے لئے کہتے ”اللہ سائیں کی مرضی۔ غریب ہی آخر ایسے جواز کیوں تراشتا ہے؟ کیا یہ لوگ اللہ سائیں کی مرضی کے سراب سے نکل آئیں گے؟ ناول کے کئی کرداروں کی جنگ اسی جبر کے ساتھ ہے۔
کہنے کو نِکا اس ناول کا مرکزی کردار ہے مگر ناول میں کردار نگاری اس درجے کی ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا کردار بھی اپنی کُلیت میں ایک مکمل مرکزی کردار بن جاتا ہے۔ کوئی بھی واقعہ یا منظر اپنی تمام تر تفصیلات کے باوجود قاری کو بور نہیں کرتا۔ انیس احمد کے ہاں کردار گفتگو کرتے ہیں چاہے وہ اپنے ساتھ بات کریں یا دوسرے کرداروں کی موجودگی میں بول چال کریں۔ اسی دوران کرداروں کی نفسیات قاری پر عیاں ہوتی ہے۔ یہ ناول کوئی تھرلر نہیں جہاں قاری تجسس کا شکار ہو کر صفحات پلٹتا ہے۔ یہ ناول ایک ایسی دُنیا ہے جہاں قاری اس کی تمام تر جُزیات کے ساتھ داخل ہوتا ہے اور ایک ایک منظر میں خود کو ناول کا کردار محسوس کرتا ہے اور اختتام پر ایک تاسف ہے کیونکہ ناول کے صفحات ختم ہو جاتے ہیں مگر کہانی کا اختتام نہیں اور وہ قاری کے احساسات اور تخیل میں جاری رہتی ہے۔


