ہے ’گشت‘ کا جہان اور
چھوٹے سے ٹریولنگ بیگ کو کندھے کا زیور بنائے گھر کے اکلوتے ’صدر دروازے‘ کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں تو سب سے پہلے موبائل فون کے سمارٹ واچ میں وقت کی رینگتی ہوئی سوئیوں پر نگاہ ِ ناز ڈالتے ہیں۔ ایک پُرکشش اور چمک دار دن کا سوا بجنے والا ہے لیکن سورج سوا نیزے پر نہیں۔ ’کاتک‘ میں سورج بڑا ’بُردبار‘ ہوتا ہے۔ موبائل ہی کے سکرین پر دن جمعرات، تاریخ پچیس، مہینہ اکتوبر اور سال دو ہزار تئیس ڈسپلے ہو رہے ہیں، عیسوی کیلنڈر کے۔
اِسی پیٹرن پر اپنی ہجری تقویم میں ربیع الثانی کی تاریخ دس، سال چودہ سو پینتالیس جب کہ بکرمی جنتری میں کاتک کی تاریخ دو اور سال دو ہزار اسّی بنتا ہے۔ انسانی زندگی میں اوقات کے حساب کتاب کی اہمیت اپنی جگہ مسَلّم ہے۔ معلوم انسانی تاریخ سے پتہ چلتا ہے، کہ ہر دور میں کسی نہ کسی صورت وقت کی تقسیم کے پیمانے طے تھے۔ زیادہ تر اقوام چاند کے طلوع و غروب سے وقت کی تقسیم کرتی تھیں۔ محمد رضی الدین معظم صاحب اسلامی کیلنڈر کے موضوع پر لکھتے ہوئے ایک عرب موَرِخ کا حوالہ یوں دیتے ہیں۔
”تاریخ ایک مینار ہے اور شک و شبہ کو ختم کردینے والی تلوار۔ تاریخ سے حقوق میں امتیاز ہوتا ہے اور معاہدے طے کیے جاتے ہیں۔ ہر شے کی غایت تاریخ سے مقرر ہوتی ہے، ہر وقت ایک پیمانے کے عمل سے طے ہوتا ہے۔ دنیا کے کارناموں کا تعین، قوموں کے کاموں کا حساب، زمانوں کی حد بندی سن و سال و تاریخ سے ہی ہوتی ہے“ ۔ تحریر میں اوقات کے پیمانوں کا ذکر محترم ابوالحسن نغمی صاحب کی کتاب ’بتیس برس امریکہ میں‘ جا بہ جا پڑھا، ہر بار جس سے مستفید ہوئے۔ ہم بھی زندگی کے شام ڈھلے تبلیغِ دین کے بہانے گھر سے فرار ہونے کا ارتکاب کرنے کو ہیں۔ پہلا قدم اُٹھاتے ہیں تو سب سے پہلے اس کو اوقات کے سانچوں میں ڈالتے ہیں، تاکہ دلچسپی رکھنے والوں کے لئے اوقات کی مناسبت سے کسی نتیجے پر پہنچنا آسان ہو۔
اپنے ’شیش محل‘ جس میں خیر سے شیشہ کوئی نہیں، سے نکلتے ہوئے ایک دفعہ مُڑ کر بیگم کی گود میں تین مہینے کی نواسی پر نظرِ خطا ڈالتے ہیں وہ ہمیں دیکھ کر کچھ ہکلاتی مسکراتی ہے، اپنی بُزرگی کا تصوّر خود پر مسلّط کر کے ہم اُس کے ماتھے کا بوسہ لیتے ہیں گال چومتے ہیں، پیار و محبت کرتے ہیں اور پھر کسی فلمی ہیرو کی طرح مُنہ موڑ کر سپاٹ انداز میں دروازے کی طرف لپکتے ہیں۔ ایک ہچکی سی سُن کر دوسری بار مُڑ کر دیکھتے ہیں تو سوچوں کے بحرِبیکراں میں غرق اور سمندر جتنی گہرائی میں ڈوبی ہوئی بیوی کو بڑے سنجیدگی سے اپنی جانب پیش قدمی کرتے دیکھتے ہیں۔
یاد رہے یہ وہ خاتون ہے جس کو ماضی بعید میں ہم ہنی بی سوہنی، پنکی اور سویٹی جی جیسے ادبی القابات سے نوازتے تھے اور اب منظور یا شاندانہ کی ماں کی حیثیت سے مقبول و موسوم ہے۔ ہم بڑے غور سے اُس کے پژمردہ مُکھڑے کا جائزہ لیتے ہیں وہ آنکھ کے پپوٹوں میں موجود آنسوؤں کو گال کے شگافوں میں عارضی سٹاپ اُؤر دیتے ہوئے بیک وقت کبھی دکھانے اور کبھی چھپانے کی کوشش میں مصروف لگتی ہے۔ چارو ناچار ہماری آنکھیں آپس میں چار ہوتی ہیں تو آنسو بجائے ٹھہرنے کے اس کے مغموم چہرے سے لڑھکتے ہوئے زمین بوس ہو جاتے ہیں اور پھر آنسوؤں کی ایسی لَڑی نکلتی ہے گویا سردی کی جَڑی جو ٹھہرنے کا نام لے نہ وقفے کا ۔
ہم اُس کے ہاتھ میں ٹِشو پیپر تھماتے ہیں گویا اِس ایکشن کا اور کیا، صرف یہی مداوا ہو سکتا ہے۔ وہ غصے میں میرا ہاتھ جھٹک کر ٹشو پرے پھینکتی ہے۔ ہم فوری طور پر اُس کے سر پر ہتھیلی رکھ دیتے ہیں،‘ تسلی کا ٹوکن ’جان کر ، اور نقلی سی گلوگیر آواز میں پوچھتے ہیں۔ ‘ کیوں روتی ہے، کیوں اتنی دُکھی ہے، منظورے دی ماں ’؟‘ تم جو بھگوڑے بن کر در در کا خاک چھاننے نکل رہے ہو، میرا کیا بنے گا، کالیا ’؟ وہ چیں برجبیں تُرکی بہ تُرکی‘ سوال ’کرتی ہے (نوٹ:شادی کے بعد ہمارے بھی کئی خوبصورت نِک نیم رکھے گئے تھے، اب یہ سلسلہ‘ کالیا ’کے کالک پر پہنچ کر مستقل طور پر ٹھہر گیا ہے ) اس کے بعد ہم دونوں کا مکالمہ آغاز پاتا ہے۔ بارِ خاطر نہ ہو تو اپنے لئے‘ ہم ’اور اُس کے لئے‘ وہ ’کا صیغہ استعمال کریں؟
ہم: کیا تم نہیں چاہتی کہ کچھ عرصہ کے لئے سہی، اِس گوانٹاناموبے کے قید سے ہمیں آزادی ملے اور خداوند کریم کی وسیع و عریض کائنات میں اپنی ’سویٹ ویل‘ کے مطابق گھومیں پھریں، کھائیں پئیں اور عیش کریں؟
وہ: (سمارٹ انداز میں اور اختصار سے کام لیتی ہوئی اور رونے کی آواز کو اور بات کے انداز کو بیک وقت آپس میں ’کانسالیڈیٹ‘ کرتے ہوئے ) لیکن تم تو کہہ رہے تھے کہ
دعوتِ تبلیغ میں چِلّہ پر جانا ہے، یہ گھومنے پھرنے اور عیش کی بات کہاں سے بیچ میں لے آئے ہو۔ میں تمہیں کہیں اور جانے نہیں دوں گی، (بین السطور، کہ عیش ویش نہیں کرنے دوں گی) ۔
ہم: آخر کیوں؟ کیوں؟ ایسی کون سی خطا ہم سے سرزد ہوئی ہے؟ کب تلک غلامی کا طوق گلے میں ڈالے زندگی جئیں گے۔ اب ہم سے مزید برداشت نہیں ہو پاتا۔ ہم پر نہیں اِس ٹیڑھی کمر پر رحم کیجئے، ہم اپنی کمر واضح طور پر ٹیڑھی کر کے اشارے سے اُسے دکھاتے ہیں۔
وہ: کیوں رحم کروں، آپ ہی ہماری واحد رعایا اور واحد محکوم قوم ہے۔ اب کس پر اپنا حکم چلے گا، کالیا؟
ہم: (آگے قدم بڑھاتے ہوئے ) اب ہمیں معاف فرمائیں اور اپنی ذات میں خود ہی انجمن بن جائیں، پلیز۔
وہ: ( مجبوری سے پُرسکون ہوتی ہوئی ) اتنا بتا دو ، جا کہاں رہے ہو؟
ہم: حوروں کی جستجو میں، جہاں بھی پہنچے۔ منزل کی طرف پہنچنے کے لئے قدم بڑھا رہے ہیں، ضروری نہیں کہ پہنچ بھی جائیں، تو جگہ کا نام کیا بتائیں۔
وہ: فلسفے چھوڑ، واپس کب آؤ گے؟
ہم: نہیں جانتے، یہ فیصلہ ہم نہیں کوئی اور کریں گے۔
وہ:کوئی اَتا کوئی پتہ؟
ہم نے بعض ٹرکوں کے ڈالے پر لکھا ہوا یہ ٹرکیلا شعر ضروری ترمیم کے ساتھ پڑھا۔
پتہ کیا خاک بتائیں مکان ہے لامکان اپنا
جہاں رکھا ’بستر‘ اپنا وہی سمجھا مکان اپنا
شعر سُن کر کچھ دیر کے لئے مہذب سی خاموشی چھا جاتی ہے۔ مطلب سمجھ میں آنے کے بعد یکایک اُن کی پیشانی پر کالے بادلوں کی گھٹائیں پھر سے ’گشت‘ کرتی ہوئی نازل ہونے لگتی ہیں۔ آہستہ آہستہ گالوں پر پھر سے آنسوں کی لڑیاں بننا شروع ہو جاتی ہیں، جیسے موسلا دھار بارش برس رہی ہو اور اُس کے قطرے ٹِپ ٹِپ ٹِپ زمین پر گر رہے ہوں، سو ہم بھی آنسوؤں کی نہر میں ڈبکیاں کھانے کود جاتے ہیں۔ آنسو زدہ چہرہ چھپا نے کے لئے ہم منہ کو دوسری طرف پھیرتے ہیں۔
اِس مرحلے میں اُس کی دھمکی آمیز چیخ ایک کان سے انٹری کرتے ہوئے دوسرے سے ایگزٹ ہوتی ہے، کہتی ہے۔ ”محلے دار خیبر خان کو اُس کی بیوی نے تبلیغ پر جانے کی صورت میں زہر کھا کر جہانِ فانی سے جہانِ لافانی کوچ کرنے کی دھمکی دی تھی لیکن یاد رکھ تم اگر تبلیغ کے علاوہ کہیں اور نَس گئے تو میں تم کو زہر دے دوں گی، سُنا تم نے؟“ ہم اُس کی فیصلہ کُن دھمکی سُنی اَن سُنی کر دیتے ہیں، سب کو گلو گیر آواز میں خدا حافظ کہتے ہیں اور گھر کے دروازے کو ، جسے پار کرنا ہمارے لئے انڈیا کا بارڈر پار کرنے سے بھی زیادہ مشکل ہو رہا تھا، بخیر و خوبی پار کرتے ہیں۔
ہو نہ دنیا میں کوئی ہم سا بھی پیاسا لوگو
جی میں آتی ہے کہ پی جائیں یہ دریا لوگو
ایک ہی شب ہے طویل، اتنی طویل، اتنی طویل
اپنے ایّام میں امروز نہ فردا لوگو
اب کوئی آئے تو کہنا کہ ”مسافر تو گیا“ ”
یہ بھی کہنا کہ ”بھلا اب بھی نہ جاتا لوگو“
(ابن انشاء)


