ملکہ ترنم نور جہاں: گلوکارہ، اداکارہ اور فلم ساز
21 ستمبر 1926ء کو قصور میں پیدا ہوئیں، پیدائشی اور گھریلو نام اللہ و سائی تھا۔ ان کے خاندان کا تعلق فن موسیقی سے تھا۔ فن موسیقی کی تربیت کے لیے نور جہاں اور ان کی دو بہنوں کو ہندوستان کے فلمی صنعتی شہر ممبئی بھیج دیا گیا۔ وہاں انہوں نے ٹھمری، دھرپد اور خیال میں بہت جلد مہارت حاصل کر لی۔ وہاں نور جہاں نے آغا حشر کی زوجہ اور ممتاز گلوکارہ مختار بیگم کی شاگردی اختیار کر لی۔ مختار بیگم نے اللہ و سائی کا نام بے بی نور جہاں رکھ دیا۔
نور جہاں نے مختار بیگم کی شاگرد ہونے کا پورا حق ادا کر دیا۔ ساڑھی کو ساری زندگی کا پہناوا بنا لیا۔ ان کی طرح ہی ساڑھی کے پلو کو انگلی میں لپٹ کر گانا گاتی۔ ان کے ہی انداز نشست و برخاست کو اپنایا۔
نور جہان لاکھوں پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکن تھیں۔ ان کے مداحین نے انہیں ملکہ ترنم کا خطاب دیا۔ 5000 سے زائد فلمی گانے گائے۔ میڈم نور جہاں نے بہت سے ملی اور جنگی نغمات بھی گائے۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں انہوں نے بہت سے پنجابی اور اردو میں جنگی نغمے گائے جن میں سب سے زیادہ مشہور صوفی تبسم کا لکھا ہوا نغمہ، اے پتر ہٹا تے نہی و کدے، توں لبھدی پھریں بازار کڑے، تھا۔ ان کے متعلق ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فلمی صنعت کے آدھے گانے نور جہاں نے گائے اور آدھے گانے سنے۔ نور جہاں کو ہفت زبان گلوکارہ بھی کہتے ہیں۔ انہوں نے اردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بنگالی اور عربی زبان میں بھی گانے گائے۔ پاکستان کی پنجابی فلمیں نور جہاں کے نغمات کے بغیر ادھوری رہتیں۔ 1973 میں جشن کابل کے موقعہ پر انہوں براہ راست اپنی گلوکاری کا مظاہرہ کیا اور فلم ہونہار میں خمار بارہ بنکوی کا لکھا ہوا گانا جو ہم نے پیار سے دیکھا تو تم نے کیوں برا مانا گا کر جشن کابل کو لوٹ لیا۔
جب وہ امریکہ میں دل کا آپریشن کرانے گئیں تو ڈاکٹروں کو پتا چلا کہ یہ پاکستان کی مشہور مغنیہ ہیں تو ڈاکٹروں نے فرمائش کی کہ انہیں کوئی گانا سنائیں۔
نور جہان نے متحدہ ہندوستان اور پاکستان میں 50 فلموں میں کام کیا۔ چن وے سنتوش کے ساتھ ان کی پہلی فلم تھی جس نے بہت زیادہ کامیابی حاصل کی۔ دوپٹہ ان کی دوسری مشہور فلم تھی۔ جس کا گانا چاندنی راتیں آج تک کانوں میں رس گھولتا ہے۔ 1951ء میں میڈم نے اس فلم کا معاوضہ 6000 روپے لیا تھا۔
نور جہاں کی پہلی شادی 1942ء میں شوکت حسین رضوی کے ساتھ ہوئی جن سے ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ اعجاز درانی سے ان کی دوسری شادی 1970ء میں ہوئی۔ نور جہاں کو ہر قسم کی گائیکی میں مکمل مہارت حاصل تھی۔ وہ غزل، کلاسیکل، ہلکی پھلکی موسیقی اور فلمی گانے یکساں مہارت سے گاتیں تھیں۔ حکومت پاکستان نے میڈم کی فن موسیقی کی خدمات کے صلے میں ان کو تمغہ حسن کارکردگی اور تمغہ امتیاز عطا کئیے۔
میڈم نور جہاں نے آج سے کئی برس پہلے فلم موسیقار میں تنویر نقوی کا لکھا ہوا یہ گانا جو صبیحہ خانم پر فلمایا گیا تھا، گا کر بتا دیا تھا کہ ’گائے گی دنیا گیت میرے سریلے رنگ میں نرالے رنگ میں‘۔ آج کے سوشل میڈیا دور میں فیس بک، یو ٹیوب انسٹا گرام اور دیگر ذرائع پر راتوں رات مشہور ہونے والے نوجوان گلوکار اور گلوکارائیں میڈم کے گائے ہونے گانوں اور نغمات کو گا کر اور ان پر ریاض کر کے میڈم کے بولے ہو الفاظ کو سچ ثابت کر رہے ہیں۔ میڈم کے گائے ہوئے بہت سے نغمات اور گانے پاکستان اور ہندوستان میں ری مکس اور ری میش کر کے کے تیار کئیے جا رہے ہیں جن کو گانے والے بہت مشہور ہو جاتے ہیں لیکن وہ ان تمام گانوں کی اصل گلو کارہ ملکہ ترنم کا نام نہیں بتاتے ہیں جو انتہائی بد دیانتی ہے۔
نیت شوق بھر نہ جائے کہیں، رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ، جدوں ہولی جئی لیندا میرا ناں کو نئے گلوکار بطور ریاض گاتے ہیں۔
فلم ات خدا دا ویر کے مشہور گانے جدوں ہولی جئی لیندا میرا ناں جسے تنویر نقوی نے لکھا تھا، اور یہ حبیب اور نغمہ پر فلمایا گیا تھا، کو سب سے زیادہ ری مکس اور ری میش کیا گیا ہے۔ انمول سیال اور نصیبو لال نے اس گانے کو ہو بہو میڈم کے انداز میں گایا ہے، لیکن انمول سیال نے اس گانے کے بول کو بہت اونچے سروں میں گا کر اس کی غنائی کیفیت ختم کر دی ہے۔ رنی چدر اور خدیجہ دلنواز نے اس گانے کو پوپ میوزک کے ساتھ ری میش کر کے گایا ہے۔ نورا فتحی نے کوکا کولا پلا دے کو بھی نئے انداز میں گایا ہے۔ شازیہ منظور نے بتیاں بجھائی رکھ دی اور مست ملنگ چا کیتی ای کو بھی دوبارہ گا کر شہرت حاصل کی ہے۔ ساحر علی بگا نے بھی کوک سٹوڈیو میں میڈم کا ایک گانا نئے انداز میں گایا ہے لیکن اصل گلوکارہ میڈم کا نام نہیں لیا ہے۔ حال ہی میں چاہت فتح علی خاں نے میڈم کے گائے ہوئے گانے اکھ لڑی بدو بدی کو ری مکس گا کر کروڑوں ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ ری مکس اور ری میش گانے اس لحاظ سے بہتر ہیں کہ یہ نوجوان نسل کو اپنے گم کردہ خزانہ موسیقی سے جوڑے رکھتے ہیں، تاہم ری مکس اور ری میش کرنے والوں کو اصل گلوکارہ یا گلوکار کا نام ضرور بتانا چاہیے۔
ملکہ ترنم 23 دسمبر 2000 ء کو 74 برس کی عمر میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں۔ وہ کراچی میں آسودہ خاک ہیں۔
مہدی حسن اور لتا منگیشکر کہتے تھے کہ ہم نے گانا گانا ملکہ ترنم سے سیکھا ہے۔
ممتاز گلوکار ترنم ناز میڈم نور جہاں کی باقاعدہ شاگرد ہیں۔

