ایمن آباد، احمد بشیر اور بشریٰ انصاری


پچھلے سال فروری میں لاہور کے الحمرا ہال میں ’لاہور لٹریری فیسٹیول‘ کا انعقاد کیا گیا۔ میں بھی ہمدم دیرینہ کے ہمراہ جا پہنچا۔ فیسٹیول میں ایک سیشن بشریٰ انصاری کے ساتھ تھا جس کا نام تھا ’احمد بشیر کا کنبہ‘ ۔ احمد بشیر صاحب کی بیٹیاں اور نواسی زارا بھی موجود تھیں۔ مجھے ممتاز مفتی یاد آ گئے جنہوں نے احمد بشیر کا ذکر اپنی تحریروں میں بڑی محبت کے ساتھ کیا ہے۔ مفتی صاحب احمد بشیر کو پیار سے ’مانی‘ کہا کرتے تھے۔ مفتی صاحب کی دوستی احمد بشیر، اشفاق احمد، بانو قدسیہ اور قدرت اللہ شہاب کے ساتھ تھی۔ مفتی صاحب احمد بشیر کو انتہائی خوبصورت اور وجیہ انسان سمجھتے تھے، اور ان کا ذکر انہوں نے اپنی سرگزشت میں خوب کیا۔ احمد بشیر اپنی طرز کے ایک انتہائی اکھڑ، نڈر، اور صاف گو صحافی تھے اور یہ صفات آج کل تو عنقا ہیں۔ طبعا بائیں بازو کے تھے، بھٹو صاحب کو بہت پسند کرتے تھے، اپنی افتاد طبع کے باعث حکمران طبقے میں ہمیشہ نا پسندیدہ ہی رہے

احمد بشیر کی کچھ تحاریر کو یونس جاوید صاحب نے اکٹھا کر کے ایک کتاب کی صورت میں چھاپا جس کا نام ’جو ملے تھے راستے میں‘ ہے، یہ پڑھنے کی چیز ہے ضرور پڑھیے گا۔ مگر میرا تعارف احمد بشیر کے ساتھ ممتاز مفتی نے کروایا اپنی مشہور زمانہ خود نوشت ’الکھ نگری‘ میں۔

احمد بشیر 24 مارچ 1923 کو ایمن آ باد میں پیدا ہوئے، شیخ برادری سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے والد کپڑے کا کاروبار کیا کرتے تھے، اور شیخوں کے محلے میں رہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا بھی روایتی طور پر اپنے باپ دادا کے پیشے کو اپنا لے، مگر ان کا بیٹا روایت شکن تھا، گو گھر والوں نے خاندان میں شادی بھی کروا دی مگر وہ ما نی کی افتاد طبع کی وجہ سے کامیاب نہ ہو پائی۔ جس میں کچھ ہاتھ مفتی جی کا بھی تھا جنہوں نے مانی کی والدہ کو سمجھایا کہ یہ تجربہ کامیاب نہیں ہونے والا۔ دوسری شادی بشریٰ انصاری کی والدہ (محمودہ) مودی سے ہوئی۔ جلد ہی احمد بشیر نے ایمن آباد کو خیر آباد کہہ دیا، سری نگر سے بی اے کرنے کے بعد فلمی اداکاری میں قسمت آزمانے بمبئی چلے گئے، اداکاری میں تو موقع نہ مل سکا، مگر مختلف فلمی رسالوں میں لکھنا شروع کر دیا تلاش روزگار میں کبھی کراچی تو کبھی لاہور کی خاک چھانی۔

جن دنوں بمبئی میں تھے، کرشن چندر کے گھر رہائش پذیر رہے، پاکستان بن چکا تھا، حالات سخت خراب تھے، اور مسلمانوں کے لئے وہاں رہنا بہت مشکل تھا، ان دنوں راجکمار جو کہ خود ابھی فلمی دنیا میں پاؤں جمانے کی جد و جہد میں مصروف تھے، احمد بشیر پر بہت مہربان رہے اور ان کی مالی مدد بھی کرتے رہے اور بالآخر انہیں کچھ رقم ادھار دے کر لاہور کی طرف عازم سفر کیا۔ پاکستان آ کر مختلف اخبارات سے منسلک رہے، جن میں روزنامہ امروز، مساوات، مسلم، اور فرنٹیئر پوسٹ قبل ذکر ہیں۔ احمد بشیر نے شاندار شخصی خاکے بھی لکھے جن میں کرشن چندر، ممتاز مفتی، مولانا چراغ حسن حسرت اور دوسرے مشاہیر شامل ہیں۔ ان کا ناول بطرز خود نوشت ”دل بھٹکے گا“ بھی ان کی شاندار تخلیق ہے۔

طبیعت میں تنوع تھا، فلمی ہدایت کاری کی باقاعدہ تربیت حاصل کی اور 1969 میں ایک فلم نیلا پربت بھی بنائی، جو کہ شاندار فلاپ تھی جس نے انہیں مزید قلاش کر دیا۔ ان کی بہن پروین عاطف تھیں، جو کہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ عاطف کی بیگم تھیں، یہ وہی مشہور زمانہ بریگیڈیئر عاطف ہیں جو پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بھی رہے۔ احمد بشیر نے بیٹیوں بشریٰ، نیلم، اسما، اور سنبل کی تربیت بیٹوں کی طرح ہی کی، ٹی وی اور میڈیا میں اپنا شاندار مقام قائم رکھے ہوئے ہیں، بشریٰ نے ٹی وی بشریٰ انصاری تو چار دہائیوں سے ان گنت پروگرامز اور ڈرامہ سیریلز کیے جن میں ففٹی ففٹی، شو شا، آنگن ٹیڑھا اور بہت سے لازوال پر گرامز۔ انور مقصود اور معین اختر کے ساتھ مل کر جو شہ پارے تخلیق کئیے وہ لازوال ہیں، انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی بھی ملا۔ جب کہ بعد میں اسما اور سنبل بھی اس میدان میں آ گئیں۔ جبکہ نیلم احمد بشیر ایک جانی مانی لکھاری ہیں۔ احمد بشیر کی اب تیسری نسل اور میڈیا میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا رہی ہے

ایمن آباد کا یہ سپوت 24 دسمبر 2004 کو جگر کے سرطان کی وجہ سے 81 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گیا

Facebook Comments HS