سب مرد نہیں مگر ہمیشہ ایک مرد ہی!


بہتر سالہ نحیف عورت جو نانی / دادی بھی ہے لوگوں کے ہجوم میں عدالت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس عورت کو نوے بار ریپ کیا گیا ہے اور اعتراض کرنے والوں کے پاس کہنے کے لیے ان جملوں میں سے کوئی جملہ بھی نہیں ؛

اکیلی باہر کیوں گئی؟
رات دیر تک باہر کیوں رہی؟
ہنسی کیوں؟
مختصر لباس کیوں پہنا؟
سنسان جگہ کیوں گئی؟
اسے سوچنا چاہیے تھا وہ عورت ہے۔ احتیاط کرتی۔
مرد روبوٹ تو نہیں ہوتے نا۔

کیسے کہیں یہ سب کہ عورت تو باہر کہیں گئی ہی نہیں، کسی سے ملی بھی نہیں، کسی کو دیکھا ہی نہیں، کسی کی طرف دیکھ کر ہنسی بھی نہیں!

یہ عورت ریپ ہوئی ہے اپنے گھر میں، اپنے بیڈروم کے بستر پہ اور جاگتے ہوئے نہیں بلکہ گہری نیند میں!

جناب فرانس میں رہنے والے اُدھیڑ عمر شوہر نے وہ کر دکھایا ہے کہ ریپ کی تاویلات گھڑنے والے سر پکڑے بیٹھے ہیں کہ کیا کریں اب؟ پہلے کی آئیں بائیں شائیں کا ٹھکانہ تو ردی کی ٹوکری ٹھہرا۔

دس برس پہلے کی بات ہے کہ موصوف سٹھیا گئے لیکن سٹھیائی عقل کا نزلہ گرا بے چاری بیوی پر۔ ساٹھ باسٹھ برس کی عمر، بیٹے بیٹیوں، داماد، بہو، نواسے پوتے زندگی میں موجود۔

ایک ایسی ویب سائٹ جسے پانچ لاکھ لوگ ہر مہینے دیکھتے ہیں پہ اشتہار دیا کہ آئیے اور دام دے کر جنسی تعلق بنائیے میری بیوی سے۔ سوچئیے کس قدر عجیب و غریب اشتہار ہے۔ کوئی صحیح الدماغ ہوتا تو کچھ سوچتا؟

لیکن جناب کیوں زور دیتے دماغ پہ؟
پہنچ گئے جنسی تعلق بنانے۔ چھبیس سے لے کر پینسٹھ برس تک کے نوے مرد۔ ہر شعبہ زندگی سے تعلق۔

رات ہوتی۔ اجنبی مرد آتا۔ دام چکاتا۔ شوہر انہیں بیڈروم میں چھوڑ کر آتا جہاں پینسٹھ ستر برس کی بڑھیا گہری نیند سو رہی ہوتی۔ یہ گہری نیند ان دواؤں کے زیر اثر ہوتی جو کسی نہ کسی بہانے شوہر نے بیوی کو کھلائی ہوتیں اور بیوی بے ہوش ہو جاتی۔ اسی بے ہوشی میں اجنبی مرد بڑھیا سے جنسی تعلق قائم کرتا اور شوہر کیمرہ آن کرتے ہوئے ریکارڈنگ شروع کر دیتا۔ اجنبی فراغت کے بعد رخصت ہوتا اور شوہر بیڈروم میں واپس آ کر بیوی کے ساتھ لیٹ جاتا۔

بیوی صبح اُٹھتی تو برا حال ہوتا۔ کبھی جسم میں درد تو کبھی ویجائنا سے خارج ہوتا بدبو دار مادہ۔

دس برس میں بڑھیا متعدد بار ڈاکٹروں کے پاس اپنی بگڑتی صحت کی شکایت لے کر گئی۔ اس کے اعصاب جواب دے رہے تھے اور گائنی کے مختلف مسائل کا سامنا تھا جن کی کوئی وجہ ڈاکٹرز کو سمجھ نہیں آتی تھی۔ آخر میں یہ سوچا گیا کہ شاید اس کی یادداشت جواب دے رہی ہے۔

جن نوے مردوں نے بڑھیا کو ریپ کیا انہوں نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ شوہر بیوی کو ریپ کیوں کروا رہا ہے؟ ریپ کے دوران بڑھیا بے ہوش کیوں ہوتی ہے؟

قصبے میں رہنے والے بہت سے مرد ایسے تھے جنہوں نے ریپ تو نہ کیا مگر وہ یہ جانتے تھے کہ ویب سائٹ پہ بڑھیا کا شوہر اسے بیچنے کے لیے اشتہار لگاتا ہے۔ کسی بھی مرد نے اس غیر اخلاقی اور غیر قانونی سرگرمی کو رپورٹ نہیں کیا۔

تین ہفتے پہلے پولیس نے کسی اور الزام میں شوہر کی تفتیش کی اور اس دوران جب اس کا لیپ ٹاپ کھولا گیا تب دل ہلا دینے والی وڈیوز سامنے آئیں جن میں گیزل پلیکاٹ بے ہوش نظر آئی اور نوے مرد اسے ریپ کرتے پائے گئے۔ پولیس نے پلیکاٹ کو گرفتار کر لیا جس نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی بیوی گیزل کو پچھلے دس برس سے پیسے لے کر ریپ کروا رہا ہے۔

پولیس یہ اعترافات لے کر گیزل کے پاس پہنچی اور اسے بتایا گیا کہ وہ نوے بار ریپ ہو چکی ہے اور اس کی بگڑتی حالت کی وجہ بار بار بھاری مقدار میں سلا دینے والی گولیاں اور نوے افراد کا جنسی تعلق ہے۔

گیزل پلیکاٹ کو یہ آفر کی گئی کہ شوہر اور اکیاون افراد جو پہچانے جا چکے ہیں پر بند عدالت میں مقدمہ چلایا جائے مگر گیزل نے یہ آفر ٹھکراتے ہوئے مقدمے کو پبلک کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ان افراد کا کیا دھرا دنیا کے سامنے آ سکے۔

گیزل نے کہا۔ یہ سب میں ان عورتوں کے نام پہ کر رہی ہوں جنہیں کبھی مظلوم نہیں سمجھا گیا ”

مسٹر پلیکاٹ نے عدالت میں کہا کہ ہاں میں ریپسٹ ہوں جیسے اس عدالت میں موجود سب لوگ۔ یہ سب جانتے تھے اور انہوں نے اس کے خلاف کچھ نہیں کیا۔

اپنی بیوی کے متعلق کہا۔ وہ اس کی مستحق نہیں تھی۔ پچاس سالہ شادی شدہ زندگی میں میں نے چالیس برس اس سے پیار کیا اور دس سال بہت برا۔

وکیل دفاع نے پلیکاٹ پر حملہ کرتے ہوئے پوچھا تم یہ سب پبلک میں سنتے ہوئے اتنی پرسکون کیسے نظر آ رہی ہو؟

بہتر سالہ پلیکاٹ نے کانپتی ہوئی آواز میں جواب دیا۔ اپنے لیے نہیں بلکہ ہر اس لڑکی اور عورت کے لیے جسے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مجھے سمجھ آتی ہے کیوں ریپ ہونے والی عورتیں عدالت میں نہیں جاتیں؟ ہم انہی کو نشانہ بنا کر ان پہ زہر اُنڈیل دیتے ہیں جو مظلوم ہوتی ہیں۔

گیزل مزاحمت کا استعارہ بن چکی ہیں اور ان کے حق میں فرانسیسی عورتیں جو جلوس نکال رہی ہیں ان پہ کچھ اس طرح کے سلوگنز دیکھنے کو مل رہے ہیں

ہم سب گیزل ہیں!
سب مرد نہیں مگر ہمیشہ ایک مرد ہی!

یہ انوکھا واقعہ ان لوگوں کو سوچنے کی دعوت دے رہا ہے جو ریپ کی توجیہات گھڑتے ہوئے عورت کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔
ریپ تشدد ہے، جنسی سکون نہیں!

Facebook Comments HS