بھٹو صاحب کی پھانسی اور کچھ یادیں


یہ اپریل 1979 کی ایک صبح تھی، فیض آباد کالونی، خیر پور میرس، سندھ میں جب میں اپنے سکول پہنچا تو میرے سندھی استاد محترم جن کا نام ’محمد عرس‘ تھا بڑے مغموم، پریشان اور خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں اور وہ خلاف معمول خاموش تھے۔ کسی کو ڈانٹ نہیں رہے تھے، کسی کو مار نہیں رہے تھے، اور کچھ پڑھا بھی نہیں رہے تھے۔ ہمارے چھوٹے سے اسکول میں جو کہ ایک پرائمری سکول تھا جہاں جماعت پنجم تک تعلیم دی جاتی تھی، دو ہی کمرے تھے بڑی کلاس والے لڑکے ایک کمرے میں اور چھوٹی کلاسوں والے دوسرے کمرے میں بیٹھا کرتے تھے۔ چھوٹی کلاسیں پہلی جماعت سے لے کر تیسری جماعت تک اور بڑی کلاسیں چوتھی سے پانچویں تک تھیں۔ میں چھوٹی کلاس میں تھا غالباً میں دوسری جماعت میں ہوں گا۔

مجھے اتنا یاد ہے کہ میں بینچ پر بیٹھا اپنے استاد محترم کو پریشانی کے عالم میں دیکھ رہا تھا کہ وہ کیوں اتنے اداس ہیں، کیا ان کا کوئی عزیز فوت ہو گیا ہے یا ان کی امی کا انتقال ہو گیا ہے، اور اگر ان کا انتقال ہو گیا ہے تو وہ سکول میں کیا کر رہے ہیں؟ وہ کلاس کے باہر کرسی ڈال کر برآمدے میں خاموشی سے خلاؤں میں گھورتے رہے اور ان کی آنکھوں سے گاہے آنسو بھی گالوں کا سفر کرتے ان کا دامن تر کرتے رہے، پھر یہ آ نسو قوم کا دامن برسوں تک بھگوتے رہے۔ اس دن اسکول میں کوئی ہلا گلا نہیں تھا سب بچے استاد محترم کی وجہ سے خاموش اور پریشان تھے اور پھر چھٹی کے بعد خاموشی سے گھر آ گئے۔

گھر آ کر میں نے اپنی والدہ کو دیکھا تو والدہ بھی خاموش تھیں، میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟ سب لوگ چپ چپ کیوں ہیں؟ تو پتہ چلا کہ آج بھٹو صاحب کو پھانسی دے دی گئی۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ پھانسی کیا ہوتی ہے۔ تو میں نے کرید کر پوچھا کہ یہ کیا ہوتی ہے؟ پھانسی کس کو دیتے ہیں؟ یہ پھانسی کیوں دیتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ بس کسی انسان کو جب کسی جرم کی سزا کا سب سے اوپر والا درجہ دیا جائے تو اس کے گلے میں رسہ باندھ کے اسے لٹکا دیا جاتا ہے اور وہ اس وقت تک لٹکا رہتا ہے جب تک اس کی جان نہ نکل جائے۔ آج بھٹو صاحب کی جان نکل گئی، پھر وہ بھیگی آنکھوں کے ساتھ خاموشی سے اپنے کاموں میں لگ گئیں۔

شام کو والد صاحب دفتر سے تشریف لائے تو وہ بھی پریشان تھے خاموش تھے۔ گھر کی فضا بڑی مکدر تھی۔ مغرب کی نماز کے بعد عموماً کالونی میں رہنے والے سب بڑے مسجد کے باہر ایک چوک میں کھڑے ہو کے گپ لگایا کرتے تھے۔ اس دن بھی کچھ لوگ گپ لگانے کو کھڑے ہوئے تھے مگر کچھ لوگ اشتعال میں تھے کچھ لوگ کسی کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ کچھ لوگ پنجابیوں کے بارے میں کچھ کہہ رہے تھے۔ یہ دیکھ کر میں گھر واپس آ گیا آج میں سوچتا ہوں کہ میرے والدین جو کہ بھٹو صاحب کے بالکل بھی حق میں نہیں تھے، بھٹو صاحب کی پھانسی پر بہت دکھی تھے، خوش نہیں تھے کیوں؟ ان کا تو ایک ناپسندیدہ شخص جس کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا پھانسی پہ لٹکا دیا گیا تھا۔ اور وہ بہت برا آ دمی تھا، جو کہ مغرب زدہ تھا، جو کہ سیکولر ذہن کا تھا، جو کہ اسلام سے دور تھا، اس کی پھانسی پر میرے قدامت پسند مذہبی سے والدین کیوں مغموم تھے۔

پھر رفتہ رفتہ سندھ میں، میں نے ماحول، موسم، اور مزاج بدلتے ہوئے محسوس کیے ۔ سندھ کے مقامی لوگ ہمارے سندھی بھائی، بھٹو صاحب کی پھانسی یا قتل کا ذمہ دار ظاہر ہے جنرل ضیاء الحق کو سمجھتے تھے۔ جنرل ضیاء الحق چونکہ پنجابی تھے تو ان کی وجہ سے تمام پنجابیوں کو بھی ذمہ دار سمجھتے تھے اور سندھ میں رہنے والے مقامی، پنجابیوں سے تھوڑا سا فاصلہ رکھنے لگ گئے۔ وہاں کے مقامی لوگ اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ بڑا فطری عمل تھا، سندھی لوگ یہ سمجھتے تھے کہ بھٹو صاحب کی پھانسی میں پنجابیوں کا ہاتھ ہے اور اس طرح ایک پھانسی نے سندھ اور پنجاب کے درمیان دوریوں کی ایک ان دیکھی مگر شدت سے محسوس ہونے والی دیوار کھڑی کر دی۔

پھر میٹرک کے امتحان کے بعد میں اور میرا دوست نوید گھر کے دروازے کے باہر بیٹھے ہوئے دور اندھیرے میں ٹرین کو جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے جو کہ ہمارا پسندیدہ مشغلہ تھا تو والدہ صاحبہ پریشانی کی حالت میں آئیں اور انہوں نے کہا کہ جا کر ٹی وی تو دیکھو جنرل ضیاء الحق کا انتقال ہو گیا ہے، ہم بھاگے بھاگے ٹی وی کے پاس آئے اور ہم نے دیکھا کہ پاکستان ٹیلی ویژن پر جنرل ضیاء الحق کے انتقال کی خبر بالآخر نشر ہو چکی تھی۔ پھر پاکستان میں 1988 کے انتخابات ہوئے جس میں بے نظیر بھٹو جیت کر پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بن گئیں، اور ان کے وزیر اعظم بننے کے ساتھ ہی سندھ میں جو گھٹن اور تشکیک کا دور تھا وہ بتدریج ختم ہو گیا اور جمہوریت پھلنے پھولنے لگی۔ مگر جنرل ضیاء الحق کے ان گیارہ سالوں کا خراج جانے یہ قوم کب تک ادا کرتی رہے گی۔

Facebook Comments HS