وارث علوی: اردو کا چومکھا نقاد


ہندوستان کے اردو نقادوں میں ہمارے ہاں شمس الرحمن فاروقی کے بعد سب سے زیادہ، اور جائز، شہرہ شاید وارث علوی کا ہوا جو اپنے بے باک انداز، جارحانہ اسلوب اور تابڑ توڑ تنقید کی وجہ سے بدنامی کی حد تک مشہور تھے۔

ان کے ہاں تنقید صرف ادبی تنقید نہیں رہتی بلکہ باقاعدہ مار کٹائی اکھاڑا بن جاتی تھی۔ یہ نہیں کہ ان کے قلم سے کسی کی تعریف نہیں نکلی۔ ضرور نکلی مگر یہ کہ جس پہ مرتے اسی کو مار رکھنے میں انہیں ید طولی حاصل تھا۔ ایک جملے میں اگر کسی کو ہمالیہ چڑھاتے تو اگلے فقرے میں دھڑن تختہ بھی کر ڈالتے تھے۔ مثلاً شمس الرحمن فاروقی کے بارے میں ایک جگہ لکھا کہ

’فاروقی کو یہ کمال حاصل ہے کہ شعر ان کی انگلیوں کا لمس پاتے ہی اپنے معنی اگل دیتا ہے مگر یہ اس پہ قناعت نہیں کرتے بلکہ شعر کے حلق میں انگلی ڈال ڈال کر اس سے قے کرواتے ہیں‘ ۔

علوی نے ہر اچھے اور بڑے نقاد کی بلا لحاظ مروت اور بے امتیازِ مقام و مرتبہ تعریف بھی کی اور پھر بے نطق بھی سنائی ہیں۔ مگر راقم کو بطور خاص شمیم حنفی شمس الرحمن فاروقی اور وزیر آغا پر ان کے لکھے سے خاص رنج پہنچا۔ فاروقی نے تو چلیے افسانے کو شاعری سے پست کہہ کر انہیں ”اڑچھایا“ ہو گا حنفی اور آغا صاحب نہیں تو انہیں کبھی کچھ نہیں کہا تھا۔ حنفی اور آغا صاحب خاصے مختلف المزاج متبائن المنہاج اور حتیٰ کہ متضاد النتائج نقاد تھے مگر وارث علوی کی سرکار میں پہنچے تو انہیں ایک ہی طرح کی دھوون اور پٹخن کا سامنا کرنا پڑا جو میرا خیال ہے کہ وارث علوی کی طرف سے سراسر زیادتی تھی۔ مگر شمیم حنفی کا ظرف دیکھیے کہ ”جدیدیت کی فلسفیانہ اساس“ پر وارث علی کے گھمسان کے تبصرے کے باوجود ان سے ہمیشہ دوستی کا تعلق اور احترام کا رشتہ رکھا اور ان کے انتقال پر ہونے والے سیمینار میں دل کھول کر ان کی شان بیان تھی۔

زندگی کی لہر بہر سے بھرپور زندہ نثر لکھنے والے صاحبِ اسلوب وارث علوی کے قلم کی شگفتگی اور کاٹ داری انہیں عسکری اور سلیم احمد کا محلے دار باور کراتی ہے۔ مگر یہ نزدیکی صرف طرز اظہار کے کٹیلے پن، ترقی پسندی کے مقابلے میں فن کی بالادستی اور شعر و ادب میں حیات اور اس کے مسائل کی لازمی جھلک کے شعور پر اتفاق کی حد تک تھی۔ عسکری اور سلیم احمد کے ہاں تہذیب ثقافت کے مباحث جس تواتر وسعت اور گہرائی کے ساتھ آئے ہیں وارث علوی کے ہاں ان کی جگہ کم نکلی ہے۔ چست اور کٹاؤ دار جملہ لکھنا اگر انہوں نے سلیم احمد سے بھی سیکھا تھا تب بھی یہ بالواسطہ فیضِ عسکری ہی تھا مگر نہ جانے کیوں عسکری کی دبی دبی تعریف کے باوجود ان سے فقرے کا دو دھاری استعمال سیکھنے کا اعتراف انہوں نے کم ہی کبھی کیا۔

تیس ایک برس ادھر کی بات ہے کہ ان کی کتاب ”تیسرے درجے کا مسافر“ یا ”اے پیارے لوگو“ کے ابتدائی صفحات پڑھتے ہوئے راقم نے کتاب کے حاشیے پر لکھا کہ

’جملہ گھڑنے، بات بنانے اور پھر بے کھٹکے ٹھوک دینے کا یہ انداز وارث نے سلیم احمد سے اڑایا ہے‘ ۔ یہ تاثر لکھ کر ابھی دو چار صفحے ہی پلٹے تھے کہ خود اپنے قلم سے وہ یہ کہتے نظر آئے کہ

”ایک صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے سلیم احمد کے اسلوب کی نقل اڑائی ہے“ ۔

یہ بات کسی ایک ہی صاحب کی فرمائی ہوئی نہیں اور بھی بہت سے لوگوں کا یہی احساس ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ آگے وہ لوگوں کے اس خیال کی تائید یا تردید کرتے مگر اس کے بجائے انہوں نے سلیم احمد کے پرستاروں پر بس پھبتی کسنا مناسب سمجھا:

”ایسے لوگ سلیم احمد کو بعینہٖ انہی نظروں سے دیکھتے ہیں جن نظروں سے نوجوان لڑکیاں راجیش کھنہ کو اور مسلمان نوجوان دلیپ کمار کو دیکھتے ہیں۔“

اب راجیش کھنہ و دلیپ کمار اور سلیم احمد کے ڈیل ڈول، زلفوں کی لٹک یا انداز و اطوار میں وہ کیا مماثلت تھی جس کی بنا پر علوی صاحب کو یہ پھبتی سوجھی، یہ بات راقم آج تک نہیں سمجھ سکا۔ لیکن اس بات کی بہرحال خوشی تھی کہ اعتراف نہ کرنے کے باوجود سلیم احمد کے اسلوب کے قریب ہونے کا احساس ان کے اکثر قارئین کو ضرور تھا اور وہ خود بھی اسے جھٹلا نہیں سکے تھے۔ یہی نہیں بلکہ اکثر مضامین کے عنوان اور کتابوں کے نام رکھنے تک میں ان کے ہاں سلیم احمد کی چال نظر آتی ہے : تیسرے درجے کا مسافر، اے پیارے لوگو، خندہ ہائے بیچا، کچھ بچا لایا ہوں، پیشہ تو سپہ گری کا بھلا، فکشن کی تنقید کا المیہ، ادب کا غیر اہم آدمی، بورژوازی بورژوازی، لکھتے رقعہ لکھے گئے دفتر، سرزنشِ خار، ناخن کا قرض، گنجفہ باز خیال وغیرہ۔ مضامین کے عنوان رکھنے میں بھی یہی انداز ہے : مثلاً تذکرہ روح کی اڑان کا گندی زبان میں، قافیہ تنگ اور زمین سنگلاخ، ناول بن جینا بھی کوئی جینا ہے۔ کہیے ہمارے سلیم احمد کا نٹ وارث علوی کے دماغ منچ پر اپنے کرتب دکھا رہا ہے کہ نہیں؟

ادبی تنقیدی شعور، نثر کی تازگی و شگفتگی و وفور، بے پناہ قرات پذیری (readability) ، اطوار کی بے باکی، بے خوفی نڈر پن اور حتی کہ خوئے گوشہ گیری تک کی ان ظاہری مماثلتوں کے باوصف ان کی تحریر کو عسکری اور سلیم احمد سے جو شے قطعی طور پر فرسنگوں دور اور جدا کرتی ہے وہ عسکری اور سلیم احمد کے اسلوب کا سڈول ایجاز اور گٹھا ہوا اختصار ہے۔ سلیم احمد میں تو قدرے کم مگر عسکری کے ہاں اعجاز کی حد کو پہنچے ہوئے ایجاز و اجمال کے جو کمالات ہیں اس کی مثال اردو تنقید میں نایاب کے حکم میں داخل ہے۔ چھوٹے جملات، مختصر عبارات، تفصیل کے بجائے اشارات اور کم سے کم صفحات میں زیادہ سے زیادہ اور پیچیدہ ترین معانی کو وفور کے ساتھ بھر دینے کا جو ہنر عسکری نے ایجاد کیا اور اپنے افسانہ و تنقید میں نصف صدی تک مسلسل بے تکان برت کے دکھایا ہے اس کی کوئی نقل بعد کے کسی نقاد، کیا موافق کیا مخالف، سے آج تک ممکن نہیں ہوئی۔ یہ وہ شے ہے جس میں وارث علوی کاملاً کورے تھے۔ ان کا شعورِ نثر ایجاز کی جگہ اطناب، اختصار کی جگہ طوالت اور اجمال کے بجائے تفصیل کو ہنر جانتا تھا۔ اچھا اور عمدہ لکھنے میں تو انہیں کمال حاصل تھا مگر ’داستان روک‘ کر قاری کے اندر تجسس کو ابھارنے کے فن سے وہ قطعی ناواقف تھے یا کم سے کم اسے غیر ضروری ضرور سمجھتے تھے۔ وارث علوی کے اسلوب کا یہ واحد عیب ہے جو اگر نہ ہوتا تو اچھا تھا۔ فن کی باریکی، فنکار کی سادھوانہ لاتعلقی اور نقاد کی بے نیازانہ آزادی پر جتنا کچھ اور جیسا کچھ انہوں نے لکھا غضب کا لکھا ہے۔ لیکن اپنی طول نگاری پر بھی اگر وہ قابو پا لیتے تو قسم سے اور بھی غضب ڈھاتے۔ اپنے خاص انداز تحریر اور اسلوب پر عمومی اعتراضات سے وہ خوب آگاہ تھے مگر اس پر کسی قسم کی معذرت خواہی ان کے ہاں بالکل نہیں تھی۔ معترض کو منہ توڑ جواب دینے میں کبھی نہیں چوکتے تھے۔

ذیل کا اقتباس ذرا طویل ہے لیکن خود اعتمادی، بے نیازی، بے باکی، وفور و خروش، خود شناسی اور دبنگ بلند آہنگی سے مملو مگر بے جا انکسار سے یکسر خالی اس اقتباس میں ہمارے دلاور نقاد کے جیالے لب و لہجے، انداز گفتگو اور تیکھے تیوروں کے وہ سارے رنگ موجود ہیں جن سے وارث علوی کے انداز بیان کا مرقع تیار ہوا ہے۔ ملاحظہ کیجئے :

ایک نوجوان بزرگوار فرماتے ہیں ’وارث علوی وغیرہ کو کوئی تو سمجھا سکتا ہے کہ تنقید کی زبان کا کیا معیار اور نمونہ ہے۔ اور کچھ نہیں تو خلیل الرحمن اعظمی، وحید اختر، وزیر آغا اور فاروقی وغیرہ کی تنقیدی تحریریں سامنے ہیں۔ ‘

نہیں صاحب! کوئی مجھے سمجھا نہیں سکتا۔ وہ جو سمجھانے آتے ہیں پوپلے منہ سے باتیں کرتے ہیں، کیونکہ انھوں نے اپنے تمام دانت اکھڑوا لیے ہیں۔ نقاد کو شریف بنانے والے تمام ہتھ کنڈوں سے میں واقف ہوں۔ بچھو کا ڈنک نکال لیجیے وہ صرف ایک لعاب دار کیڑا رہ جاتا ہے۔ میں اُن لوگوں میں سے نہیں ہوں جو گندے دنوں کا قصہ معطر زبان میں سناتے ہیں اور روح کے جہنم زار کا بیان خس خانوں کی زبان میں کرتے ہیں تا کہ نفاست پسندوں میں نفیس کہلا سکیں۔ میں جانتا ہوں کہ بیوقوفوں پر تنقید ممکن نہیں، انھیں صرف بے نقاب کیا جا سکتا ہے اور بے نقاب کرنے میں نقاد کو جو ابلیسی لذت ملتی ہے اس کی تلچھٹ پر میں نے بھی قناعت نہیں کی، جام پر جام لنڈھائے ہیں۔ غیظ و غضب محرکِ فکر و خیال ہے اور اس سر چشمہ پر شرافت اور مصلحت کی دیوار چننے کا کام میں نے دوسروں کے سپرد کر رکھا ہے۔ میں جب ڈھائی تولے کے شاعر کو سورما اور تنقید کے بونے کو باون گزا کہنے سے انکار کرتا ہوں تو لوگ میری زبان کو غیر مہذب کہتے ہیں۔ کاش وہ یہ بھی دیکھتے کہ فلک سیر تخیل کی معجز نمائیوں کا ذکر میں کس وفور شوق سے کرتا ہوں۔ اس وقت انہیں پتہ چلتا کہ وہ جس کی نفرت بھی عمیق اور محبت بھی عمیق ہے اس کے مغلظات بھی شدید اور اس کے ملفوظات بھی شدید ہوتے ہیں۔ ادب کا ذکر بھی ذکر یار کی طرح حسین و دل آویز ہونا چاہیے اسی لیے مجھے مکتبی تنقید کا جارگون ٹھنڈے ہاتھ کا مصافحہ اور بیمار مولوی کا وعظ معلوم ہوتا ہے۔ جب ذہن ہجومِ فکر اور دل وفورِ جذبات سے لرزتا ہو تو فروغ مے کا اثر اسلوب کے رنگِ رخسار پر دیکھا جا سکتا ہے۔ سکہ بند محبوس حسینہ کی مانند نئے افکار اور نئے جذبات کی شوخ نگاہی کی تاب نہیں لا سکتی ایسے لوگ کوثر و تسنیم میں دھلی ہوئی زبان لکھ سکتے ہیں کیونکہ فردوس کے یہ چشمے ذکر پاک کے لیے مناسب سہی لیکن جامہ اہرام کے دھبے دھونے کے کام کے نہیں۔ میں تنقید کے ہونقوں کی مانند بے سروپا جملے نہیں لکھتا لیکن میں تنقید کے بقراطوں کی طرح اس خوش فہمی میں بھی مبتلا نہیں رہتا کہ میرے قلم سے نکلا ہوا ہر جملہ اپنے جبڑوں میں علم و عرفان کا سو کینڈل پاور کا بلب دبائے طلوع ہو رہا ہے۔ یہ انکسار نخوتِ پنہاں کا نقاب نہیں بلکہ ثمر ہے اپنی ذات پر اعتماد کرنے کا۔ گو میری ذات کی قیمت چھ پیسے سے زیادہ نہیں۔ میں یہ قیمت جانتا ہوں اسی لیے ایوانِ ادب میں صدر نشینی کو للچائی نظر سے دیکھے بغیر صفِ نعلین میں اپنی جگہ ڈھونڈ نکالتا ہوں، لیکن جہاں بیٹھتا ہوں خود اعتمادی اور بے نیازی سے بیٹھتا ہوں۔ اور جانتا ہوں کہ جو ہم نشیں ہیں وہ صدر نشینوں کو للچائی نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور نہیں جانتے کہ صدر الصدور کی چوتڑوں کے نیچے علم و ادب کی شمعوں کا چراغاں نہیں ہو رہا ہے۔ بے وقوف انکسار کو کمزوری اور بے نیازی کو احساس کمتری سمجھتا ہے۔ اتنا نہیں سمجھتا کہ رشک وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں آدمی اس چیز کی طلب کرتا ہے جو اس کے پاس نہیں اور دوسروں کے پاس ہے۔ جس زبان اور جس اسلوب کی مجھے ضرورت نہیں وہ میرے لیے قابلِ رشک بھی نہیں چاہے وہ فاروقی کا ہی اسلوب کیوں نہ ہو۔ ایک صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے سلیم احمد کے اسلوب کی نقل اڑائی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ ایسے لوگ سلیم احمد کو بعینہ، انہی نظروں سے دیکھتے ہیں جن نظروں سے نوجوان لڑکیاں راجیش کھنہ کو اور مسلمان نوجوان دلیپ کمار کو دیکھتے ہیں۔ یعنی حمق کی حد کو پہنچی ہوئی پرستش۔ آدمی کا ادب سے تعلق بھی ایک باشعور اور ذہین آدمی کا تعلق ہوتا ہے۔ کچی کنواریوں کا عشق نہیں۔ ایسے لوگوں کی تنقیدیں سپاس ناموں، تقریظوں، تعزیتی تجویزوں اور تہنیتی تقریروں سے آگے نہیں بڑھتیں، اور ہمارے یہاں ان چیزوں کی دھوم دھام ہے۔ دوسری بات یہ کہ میں یہ قبول کرتا ہوں کہ کلیم الدین احمد اور سلیم احمد مجھ سے بڑے نقاد ہیں۔ منجملہ دوسری وجوہات کے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مجھے جن لوگوں کا سابقہ ہے وہ ان لوگوں سے بہت چھوٹے ہیں جن کا سامنا ان دو حضرات کو تھا۔ بڑے لوگ شیر کا شکار کرتے ہیں۔ مکھیاں مارنے کے لیے اللہ تعالیٰ مجھ جیسے تیسں مار خانوں کو جنم دیا ہے۔
اس اقتباس پر میں سوائے اس کے اور کوئی تبصرہ نہیں کرتا کہ اس میں سے کے بعض تیوروں کے پیچھے عسکری کے جملے بولتے دکھائے جا سکتے ہیں۔ وارث علوی کی نظری تنقید کے اصل جوہر سیاست اور سماج کے نرغے میں گھرے ادب کی خود مختاری پر لکھتے ہوئے کُھلتے ہیں جس کا ایک نمائندہ اور دبنگ اظہار ان کا مضمون ”ضیق النفس اور بھونپو“ ہے جبکہ ان کی عملی تنقید کی جودت فکشن پر لکھتے ہوئے عیاں ہوتی ہے۔ اس ضمن میں ان کی ”فکشن کی تنقید کا المیہ“ ، ”جدید افسانہ اور اس کے مسائل“ اور بیدی و منٹو پر ان کی کتابیں دیکھنے سے ہوتا ہے۔ (یہ اور بات ہے کہ منٹو پر ایک شاندار کتاب دے کر بھی وہ منٹو شناسی کی ان سرحدوں سے کم ہی باہر نکل سکے ہیں جو محمد حسن عسکری نے 1949۔ 1948 میں قائم کر دی تھیں ) شاعری پر خوب لکھتے ہیں مگر صرف نئی نظم کی حد تک۔ اس میں وہ بڑی دور اور اندر تک کی عمیق خبریں لاتے ہیں۔ لیکن ادھر غزل کی بات آئی اور ادھر وہ ہتھے سے اکھڑے۔ غزل سے ان کی ناراضی کسی گہرے اور تنقیدِ غزل کے کسی نئے رخ یا نادر نکتۂ اعتراض کا پتہ نہیں دیتی۔ کوہ کنی پہ آئیں تو جوش کی ”یادوں کی بارات“ میں بھی فکشن کے گوہر تراش نکالتے ہیں اور نہ ماننے پہ آئیں تو بانو قدسیہ کو تو چھوڑیے قرۃ العین کو بھی گھاس نہیں ڈالتے۔

ان کے لیے کوئی ایک فقرہ اگر کہا جا سکے تو بس یہ کہ وہ جدیدیت (ماڈرنزم) کی روایت کے نقاد تھے۔ یعنی جدیدیت بطور فن کی خدائی! اس میں وہ ٹی ایس ایلیٹ کے مقلد تھے۔ مگر پورے ایلیٹ کے نہیں ورنہ انہیں ادب کی تہذیبی سماجیات و مابعد الطبیعیات کی کڑوی گولی بھی نگلنا پڑتی۔ اس گولی سے وہ بدکتے ہیں اور خصوصاً ہندوستان اور بالعموم پاکستان کے اکثر اردو نقادوں کی طرح اس آسمان سے تونسہ شریف کے کبوتروں کی طرح یک پَر بہ پُشت ہو کر اپنا آپ ڈھانپتے ہوئے گزرتے تھے۔

ان کی جولانیوں کے عروج کے زمانے میں ماڈرنٹی کی اصطلاح شاید ابھی اردو میں عام نہیں ہوئی تھی۔ گمانِ غالب ہے کہ اگر وہ اس بارے میں لکھتے تو شاید اس کے لتے بھی خوب لیتے۔ مگر یہ راقم کا گمان ہی ہے جو مبنی پر حسنِ ظن ہے۔ وگرنہ ان کا کتابچہ ”حالی مقدمہ اور ہم“ اگر دیکھا جائے تو اس ظن کا زن بچہ کولھو پِلتا نظر آتا ہے۔ کیونکہ تحریک تنویر کی جَنی جدیدیت کے جلو میں جس ہیومنزم اور سیکولر ازم کو فروغ ملا یک رخے طور پر اس کے اثر میں آیا ہوا ذہن وراء (beyond) کو خاطر میں لانے کا قائل اور ادب اور جمالیات میں اس کے عکوس و ظلال دیکھنے اور محسوس کرنے کا اہل کم ہی رہتا ہے۔

جدیدیت اپنی تمام خوبیوں اور تمام تر خامیوں کے ساتھ وارث علوی کے ہاں موجود ملتی ہے۔ وہ قصہ زمین برسر زمین چلانے اور نپٹانے کے قائل تھے۔ تہذیب و ثقافت کے بالائے زمینی عناصر کے مسائل کے حوالے سے ان کے ہاں سکوت یا پھر ان سے اِبا ملتا ہے۔ گرد و پیش کی زندگی اور معاشرے کو سیاست اور سرمائے کے گٹھ جوڑ نے جس طرح اپنے جھپیٹ میں لے کر یرغمال بنا رکھا ہے اس میں وہ فن کی خود مختاری و بالادستی کے انتھک وکیل تھے فکشن کے فن کے جملہ رموز پر فنکارانہ نظر اور مہارت رکھتے تھے۔ پونجی واد سماج کی ترغیب و تحریص کے ان دیکھے مگر خطرناک ہتھکنڈوں سے فنکار کے بچانے اور نقاد کو نظریے عقیدے و آئیڈیالوجی کے چنگل سے نا وابستہ و آزاد رکھنے کے وہ باقاعدہ مہم کار تھے۔ فنکار کو تو وہ پھر بھی معاف کر دیتے تھے مگر نقاد سے ان کا چھتیس کا آنکڑا تھا۔ جیسی خبر انہوں نے نقادوں اور تنقید کی لی ہے ویسی افسانہ اور ناول نگاروں کی نہیں۔ وہ فنکار کو تیسرے درجے کا مسافر اور نقاد کو ضیق النفس والا بھونپو کہا کرتے تھے۔ (یاد رہے کہ اوپر میں نے وارث علوی کو جدیدیت کا نقاد کہا ہے تو اس سے مراد ہمارے ہاں ہمارے ہاں کی 1960 والی خالص ادب کے زعم میں مبتلا، گرد و پیش کے مسائل سے گریزاں، ابہام و تجرید کی ماری جدیدیت نہیں ہے! )

وارث علوی کی تنقید کی ایک اور سب سے بڑی انفرادیت یہ ہے کہ ان کے زمانے میں اگرچہ یونیورسٹیوں میں انسانیات لسانیات و ادبیات کے شعبوں میں ایک مخصوص قسم کی مصطلحاتی تنقید کے پنجے پوری طرح گڑ چکے تھے، جس کا ادب اور آرٹ کی جمالیات اور تربیت ذوق سے رشتہ کم تھا جو استعماریات و پس نوآبادیات کے پیدا کردہ میکانکی معنیات سے زیادہ جڑی ہوئی تھی، جو نت نئی تھیوریوں کے روزن سے تخلیق کو پرکھنے والی فیشن میں آئی سرگرمیوں ( دیگر بہت سے اہداف کے ساتھ ساتھ جن کا مقصد ڈگری کا حصول ہوتا ہے ) سے اصل شغف رکھتی تھی۔ ایسے میں علوی کی تنقید کا اسلوب اور لب لہجہ ساختیات، رد تشکیلیات کے مشینی پن سے پوری طرح الگ رہتے ہوئے اردو کے ان ثقہ نقادوں کے قریب تھا جن کے ہاں فن اور اس کی جمالیات کا تعلق روز مرہ کے جانے پہچانے انسانی عناصر سے رہا۔ وہ آئیڈیالوجی، کمٹمنٹ، پروپیگنڈے، نقادوں اور نظریہ بازوں حق میں نہایت کڑے مگر فنکاروں کی طرف قدرے نرمی اور مہر کا رویہ رکھتے تھے۔ آئیڈیالوجی، نظریہ پرستی اور کمٹمنٹ والوں کی طرح صرف ہیئت زبان اور اسلوب کو ادبی جمالیات پر حاکم جاننے والوں کے سامنے وہ شمشیر براں اور برق تپاں بنے رہتے تھے۔ ایک انٹرویو میں مابعد جدید تنقید کے حوالے سے گلزار جاوید کے کسی سوال کے جواب میں انہوں نے جو کچھ کہا وہ اگر ہما شما کی زبان سے نکلتا تو جھٹ سے ”سازشی تھیوری“ کے مؤید ہونے کا طعنہ سننا پڑتا مگر دیکھیے ہمارے یہ روشن فکر نقاد خود کیا کہہ رہے ہیں :

”ہر معاشرے میں بڑھتے ہوئے بائیں بازو کے اثرات کے ازالے کے طور پر دریدا کو امریکہ بلایا گیا اور پھر سے یہ کوشش کی گئی کہ ادب کو صرف زبان بیانیہ اور ہیئت تک محدود کر دیا جائے انہی وجوہات کی بنا پر مابعد جدیدیت میں میری دلچسپی نہیں رہی میں نے دیکھا کہ اس تصور سے ادبی معاملات پر کوئی نئی روشنی نہیں پڑتی“ [انٹرویو کار: گلزار جاوید مشمولہ ”چہار سو“ (راولپنڈی) ، جنوری فروری 2013، ص، 20 ]

یوں تو ان کا انداز تنقید سراسر تجزیاتی و وضاحتی اور ہر طرح کی تجرید و ابہام سے خالی ہوتا ہے مگر مرصع کاری و رنگین بیانی کے گل بوٹے کھلانا بھی خوب جانتے ہیں لیکن خدا کا شکر کہ یہ عیب ان کے کل تحریری سرمائے میں نمک در آٹا برابر ہے۔ اردو تنقید میں چہچہاتی زندگی، کٹ کٹاتی نثر اور میٹھے درد والی چٹکیاں لیتی زبان اگر پڑھنی ہو تو عسکری اور سلیم احمد کے بعد وارث علوی کی تنقید پڑھنی چاہیے۔ ورلڈ ویو کے اعتبار سے تو شاید شمس الرحمن فاروقی ’عسکری واڑے‘ سے زیادہ قریب ہیں مگر ان کے تنقیدی نقطہ نظر کی طرح ان کے اسلوب نثر کو بھی مکتب عسکری سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ اپنے اسلوب میں حالی کی طرح متین سنجیدہ ثقہ و مقطع رہنے اور ہنسنے مسکرانے سے قدرے پرہیز والے نقاد ہیں۔ ان کے برعکس وارث علوی اگرچہ عسکری کے ورلڈ ویو سے کلیتاً مختلف تصور کائنات کے حامل ہیں مگر فن کی ارضی جمالیاتی سطح، اپنی زندہ فکشنی نثر اور کٹیلی مرچیلی زبان کے اعتبار سے عسکری کٹم قبیلے کے معلوم ہوتے ہیں۔

اپنے بعض ادبی تصورات اہداف اور طریقِ کار کے اعتبار سے وارث علوی ہندوستان میں مظفر علی سید کا بروز کہے جا سکتے ہیں اس فرق کے ساتھ کہ یہ ہندوستانی سید جہاں ٹی ایس ایلیٹ کے بہت قائل تھے وہاں پاکستانی سید ڈی ایچ لارنس اور ایف آر لیوئس کو بڑا مانتے تھے۔ دونوں سیدوں کا ایک اور بڑا اشتراک یہ بھی تھا کہ دونوں کلیتاً کسی کے بھی قائل نہیں تھے۔ اثبات کے مقابلے میں نفی کا تاثر ان کے ہاں زیادہ ہوتا ہے : فلاں شے، چیز، خیال، منہاج اچھا تو ہے مگر! یعنی ایک بڑا سا ”مگر“ ان ’سید وڑائے‘ والوں کا مشترک اثاثہ اور روزمرہ تھا۔ مظفر علی سید کے سامنے جب بھی سید وارث حسین علوی کا ذکر ہوتا وہ کھلکھلا اٹھتے تھے۔ مظفر صاحب نے اگرچہ اتنی جارحانہ نثر نہیں لکھی مگر 1989 میں میرے ہاتھ میں جب انہوں نے ”تیسرے درجے کا مسافر“ کتاب دیکھی تو وارث علوی کے چبھتے اسلوب، نڈر پن اور قدرے ”بد لحاظی“ کے باوجود ان کے تنقیدی بصیرت کی بہت تعریف کی۔ وہ ان کے بہت قائل تھے۔ مظفر صاحب کے ملنے والے میری اس بات کی تصدیق کریں گے کہ عسکری کے حد درجہ احترام کے ساتھ ساتھ کسی معاصر نقاد کو اگر انہوں نے دل سے مانا تھا تو وہ سید وارث علوی تھے۔

کب اقتدا ہو مجھ سے کسو کی سوائے میرؔ
بندہ ہوں دل سے میں اسی سید امام کا

اردو فارسی عربی اور انگریزی زبان و ادب کے یہ پارکھ اور افسانہ ناول تنقید اور غالی نظریہ بازی کے مخالفانہ اکھاڑوں میں چومکھی لڑنے والے سید واڑہ، احمد آباد گجرات کے یہ بلوان نقاد احمد آباد گجرات کے ایک کالج میں انگریزی کے استاد کے طور 1955 میں وابستہ ہوئے زندگی وہیں گزار کر 1988 میں ریٹائر ہوئے اور جنوری 2014 میں 85 سال کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ وہ ان معدود چند ادیبوں اور نقادوں میں سے تھے جو کھمبیوں کی طرح اگنے والی ادبی کانفرنسوں کے دور اور سوشل میڈیا کے عام ہونے کے بعد بھی ادبی محافل اور رونمائی تقریبات میں کم ہی دیکھے گئے۔ اب جبکہ ادیبوں نقادوں اور شاعروں کے لیے دوسرے ملکوں میں ادبی میلوں کے بہانے سیر سپاٹے کے دروازے کھل گئے ہیں کبھی نہیں سنا کہ وارث علوی پاکستان بھی آئے ہوں گے۔

ایک زمانے میں راقم نے یوٹیوب پر ان کی ٹوہ لگانے کی بہت کوشش کی۔ تلاش بسیار کے بعد ان کی مجلس زندگی کی جھلکیاں صرف ایک ہی ویڈیو میں نظر آئیں جو ”منٹو پر وارث علوی کا کلیدی خطبہ“ کے عنوان سے ہے۔ لیکن حیرت اور آمیز مسرت کی بات یہ ہے کہ وہاں وہ کوئی تحریری خطبہ نہیں پڑھ رہے بلکہ بے تکلف چٹکلوں والے انداز میں منٹوں کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔ راقم کو وارث علوی کی تحریریں پڑھتے ہوئے 35 سال کا عرصہ ہو گیا ہے مگر ان کی آواز سننے کا وہ پہلا موقع تھا۔ پتہ چلا کہ وہ کسی طرح بھی ایک علمناک پروفیسر کی طرح گاڑھی بے رس گفتگو نہیں کرتے بلکہ اپنی تازہ کار تحریروں کی طرح پھل جھڑیاں چھوڑتی اور رنگ بکھیرتی باتیں کرنے والے ہیں۔ جس طرح ان کی تحریر کی ایک بڑی خوبی اس کی بے پناہ خوانا پذیری (ریڈیبلٹی) ہے اسی طرح ان کی گفتگو بھی ”وہ کہیں اور سنا کرے کوئی“ کی اعلیٰ مثال تھی۔ وارث علوی کی کتابوں پر ان کی تصویر تو اکثر دیکھی تھی مگر ان کا پورے سراپے کا اندازہ اس ویڈیو ہی سے ہوا۔ ان کا بھرواں جسم اور پہلوانہ ڈیل ڈول دیکھ کر ضمیر جعفری یاد آئے۔ کچھ ایسا ہی تاثر پہلی دفعہ مشل فوکو کو ایک ویڈیو میں لمبے بازو لہرا لہرا کر گفتگو کرتے دیکھ کر ہوا تھا کہ انگریزی سمجھنے اور جاننے کے باوجود نوم چومسکی کے ساتھ اپنی وطنی فرانسیسی میں گفتگو کرنے اور اپنی زندگی میں ہی ایک داستان بن جانے والا یہ شخص فلسفی اور دانشور کم باکسر زیادہ لگتا ہے۔ مغرب کی نئی تہذیب کے ساتھ سچ پوچھیے تو فوکو نے سلوک بھی کچھ مکا بازوں والا ہی کیا ہے۔ کیا وارث علوی نے بھی اپنے زمانے کی تنقید اور نقادوں کے ساتھ یہی کچھ روا نہیں رکھا تھا؟

اردو تنقید کے اس امام بخش ناسخ پہلوان کا ڈیل ڈول دیکھ کر شمیم حنفی کا سنایا ہوا وہ واقعہ خوب یاد آیا جب 1965 میں ان کی وارث علوی سے علی گڑھ میں پہلی ملاقات ہوئی تھی اگلے دن ناشتے کے بعد انہوں نے شمیم حنفی سے کہا تھا کہ بھئی ”چار انڈوں اور آٹھ ٹوسٹ سے کم پر ان کا گزارا نہیں“! پوری بات شمیم حنفی سے سننا لطف سے خالی نہیں ہو گا:

”وارث کے ہاؤ بھاؤ پر ہاکی فٹ بال کے کھلاڑی کا گمان ہوتا تھا۔ کسرتی بدن، لا پروائی سے بھری ہوئی مستانہ چال اور لباس کے نام پر گہری نیلی تنگ پتلون اور اسی رنگ کی کسی ہوئی ٹی شرٹ۔ مجھے پہلی نظر میں وارث عین مین پابلو پیکاسو دکھائی دیے، اپنی تمام تر سنجیدگی کے باوجود خوش باش، کھلنڈرے اور تکلفات سے یکسر عاری۔ اگلے ہی دن وارث نے شکایت کی۔ سنو! یہاں میں جب سے آیا ہوں بھوکا ہوں؟!

’کیوں؟‘

’صبح کے ناشتے میں مجھے چار انڈے اور آٹھ ٹوسٹ چاہئیں! ‘ ظاہر ہے کہ وہاں جو روزینہ ڈائننگ ہال میں مقرر تھا، وارث کے حساب سے بہت کم تھا ”[شمیم حنفی مشمولہ نیا ورق مارچ 2014، ص 11 ]

لگتا ہے مہدی حسن جس طرح گائیکی میں سانس پر قابو رکھنے کے لیے پہلوانی ڈنڈ بیٹھک کو ضروری سمجھتے تھے اسی طرح وارث علوی تگڑی تنقید کے لیے خوش خوراکی کو لازم جانتے تھے۔ ظاہر ہے ان جیسا تنقید شکن اور نقاد مار جملہ بھوکے پیٹوں تو لکھا نہیں جا سکتا!

یہ بات کم معلوم ہے کہ بہت سے جاسوسی ڈراؤنے اور مہم جویانہ ناولوں کے بے بہا مترجم مظہر الحق علوی بھی وارث علوی کے بھائی تھے۔ راقم نے بچپن میں جب الیگزینڈر ڈوما بریم اسٹوکر اور رائڈر ہیگرڈ کے ناولوں کے مظہر الحق العلوی کے کیے تراجم ”ظل ہما“ ، ”ڈراکیولا“ اور ”گنج سلیماں“ پڑھے اور ان کی خطر پسندی مہم جوئی پراسراریت اور دہشت انگیز فضا پوری طرح حواس پر چھائی ہوتی تب بھی مظہر الحق علوی کی زبان، فضا بندی اور نثر اپنے ذائقے کا احساس الگ سے دلائے رکھتی تھی۔ اردو کا یہ اپنی مثال آپ مترجم بھی ابن صفی کی طرح ثقہ اردو نقادوں کی توجہ سے محروم ہی رہا ہے۔ سنجیدہ تنقیدی مباحث میں ابن صفی تو اب قدرے پھر بھی زیر بحث آنے لگا ہے مگر مظہر الحق علوی اب بھی محروم تماشا ہے۔ اردو تنقید کی طرف سے یہ فریضہ بھی وارث علوی نے ادا کیا ہے۔ انہوں نے مظہر علوی پر جو خوبصورت خاکہ نما مضمون لکھا ہے وہ پڑھنے کی شے ہے۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ اس مضمون میں وارث نے اپنے رشتہ داری نبھائی ہے۔ نہیں وارث علوی سے یہ توقع رکھنا ہی حماقت ہے۔ مترجم مظہر علوی کے فن کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے ان کی کمزوریوں اور خوبیوں (کمزوریوں کا کم خوبیوں کا زیادہ) دونوں کا ذکر ہی نہیں کیا ہے بلکہ اردو کے عام نقادوں نے مظہر الحق علوی کو جس طرح نظر انداز کیا اس کا کفارہ بھی ادا کر دیا ہے اور مقبول عام و تفریحی ناولوں کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے بڑے بڑے سنجیدہ نقادوں کے ذوق کی آبیاری میں ان ناولوں کے کردار کی اہمیت پر بھی بات کی ہے۔ اپنے پسندیدہ مترجم مظہرالحق علوی پر جب وارث علوی کا یہ مضمون میں نے پڑھا تو سچ پوچھیے بے حد خوشی ہوئی تھی۔

عسکری اور وارث علوی کا اسلوب نثر اور تنقیدی طریق کار ایک دوسرے کے مقابل جب بھی رکھ کے دیکھا دو شعر بے ساختہ زبان پر آئے۔ عسکری کے سڈول اسلوب اور مؤجز زبان پڑھ کر ہمیشہ نظیری کا یہ شعر یاد آیا

ہم چو سپند پیش تو اے مختصر پسند
در نالۂ تمام کنم ماجرائے دل
جبکہ وارث علوی کی طول بیانی اور نت نئے انداز سے بات کہنے کا رنگ میر انیس کی یاد دلاتا ہے
گل دستۂ معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوں
اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں

یہ الگ بات ہے کہ وہ پھول کے مضمون کو بھی سرزنشِ خار کی کسک دے دے کر لذت یاب رہتے ہیں۔ کسی کہنے والے نے صحیح ہی کہا، اور خود انہوں نے بھی اسے دہرایا ہے، کہ

”میں وہ ہوں جو سر کاٹ کے دستار باندھتا ہے“

Facebook Comments HS