بابائے جمہوریت نواب زادہ نصر اللہ خان


muhammad salim gujranwala

ان کے والد کا نام سیف اللہ الرحمٰن تھا، جو انگریزوں کے حامی تھے لیکن نوابزادہ نصر اللہ نے انگریز مخالف سیاست میں حصہ لیا۔ نواب زادہ نصر اللہ کے والد کو انگریزی حکومت نے گیارہ گاؤں دیے تھے اور انہیں نواب کا لقب بھی عطا کیا تھا۔

ان کے آبا و اجداد اٹھارہویں صدی عیسوی میں مظفرگڑھ میں آباد ہوئے۔ مظفر گڑھ سے بیس کلومیٹر دور خان گڑھ کے قصبہ میں نوابزادہ نصراللہ خان 13 نومبر 1916 کو پیدا ہوئے۔ ان کی آبائی رہائش گاہ اور زرعی اراضی خان گڑھ میں ہی واقع ہے۔

نوابزادہ نصر اللہ خان نے اپنی سیاست کا آغاز جماعت احرار میں شمولیت سے کیا۔ ان کا دور سیاست 55 برس پر مشتمل تھا۔ ان کی اپنی سیاسی جماعت کا نام پاکستان جمہوری جماعت تھا۔ نکلسن روڈ لاہور میں ایک کرائے کی عمارت میں ان کی رہائش گاہ اور جماعت کا دفتر تھا۔ ان کے سیاسی دفتر میں تمام ملکی سیاسی شخصیات کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ خصوصاً جو سیاستدان حکومت سے نکلتا وہ آپ کے آستانے پر ضرور حاضر ہوتا۔

نوابزادہ نصر اللہ اپنے آبائی حلقے سے دو بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے 1956 کے دستور کی تیاری میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ 1954 ء کی تحریک ختم نبوت اور قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دلانے میں ان کا خصوصی کردار تھا۔ نوابزادہ نصر اللہ ہر مارشل لاء کے دوران جمہوریت کے لیے تگ و دو کرتے اور جمہوریت میں ہر حکومت کو گرانے کی تگ و دو کرتے رہتے۔ جب کسی حکومت کے آخری دن نظر آ رہے ہوتے تو وہ یوں تبصرہ کرتے، جی کا جانا ٹھہر گیا صبح گیا شام گیا۔ مختلف الخیال سیاستدانوں کو ایک ساتھ بٹھا کر تحریک چلانا یا کوئی سیاسی اتحاد بنانا ان کا خاص مشغلہ تھا۔ بھٹو کے خلاف پی این اے اور ضیاء الحق کے خلاف ایم آر ڈی کی تحاریک فیصلہ کن رہیں۔ وہ عوام میں تو ایک مقبول سیاسی رہنما نہ بن سکے، لیکن رہنماؤں کے رہنما ضرور بن گئے۔ حسین سہروردی، مجیب الرحمن، پیر صاحب پگاڑا، ولی خان، ذوالفقار علی بھٹو، ابو الاعلیٰ مودودی، شاہ احمد نورانی، عبدالستار نیازی، شیر باز مزاری، نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو اور دوسرے اہم سیاسی رہنماؤں سے ان کے خصوصی تعلقات تھے۔

نوابزادہ شرافت، متانت، امانت اور وضعداری کا حسین مرقع تھے۔ صوم و صلوٰۃ کے خصوصی پابند، بڑی شستہ اور نفیس اردو زبان میں گفتگو کرتے۔ انہوں نے سیاست کو کبھی مالی منفعت کے لیے استعمال نہ کیا۔ ان کا دستر خوان بہت وسیع تھا جہاں صبح چائے سے لے کر دوپہر اور شام تک کے کھانے میسر ہوتے۔ ہر سال تمام سیاسی رہنماؤں کو آموں کی پیٹیاں بطور خاص تحفہ بھجواتے اور تا دم حیات ان کا یہ ہی معمول رہا۔ انہوں نے اپنی جائیداد اور نوابی کو سیاست میں خرچ کر دیا۔ بے نظیر بھٹو نے انہیں کشمیر خارجہ کمیٹی کا سربراہ لگایا تو شاید ہی اس کے سرکاری بجٹ سے کچھ اپنے لیے لیتے تھے۔

نوابزادہ نصر اللہ ایک مرنجاں مرنج اور وضع دار شخصیت تھے۔ سفید شلوار قمیض کے اوپر اچکن یا ویسٹ کوٹ میں ملبوس ہوتے۔ سر پر پھندنے والی سرخ ترکی ٹوپی ان کی پہچان بن گئی تھی۔ جہاں جاتے ان کا حقہ ان کے ہمراہ ہوتا۔ لذیذ کھانے کھانا، اخبارات و رسائل کا مطالعہ کرنا اور ٹی وی دیکھنا ان کے خاص مشاغل تھے۔

نوابزادہ نصراللہ خان ایک اچھے اور منجھے ہوئے سیاست دان تھے۔ وہ ایک اچھے شاعر بھی تھے اور ناصر تخلص استعمال کرتے تھے۔ اکثر مشاعروں میں کلام پڑھتے تھے۔ آمر ضیاء الحق آیا تو ایک غزل کہہ دی۔

کتنے بے درد ہیں صَرصَر کو صبا کہتے ہیں
کیسے ظالم ہیں کہ ظلمت کو ضیا کہتے ہیں
جبر کو میرے گناہوں کی سزا کہتے ہیں
میری مجبوری کو تسلیم و رضا کہتے ہیں
غم نہیں گر لبِ اظہار پر پابندی ہے
خامشی کو بھی تو اِک طرزِ نوا کہتے ہیں
کل بھی حق بات جو کہنی تھی سرِ دار کہی
آج بھی پیشِ بتاں نامِ خدا کہتے ہیں
یوں تو محفل سے تری اُٹھ گئے سب دل والے
ایک دیوانہ تھا وہ بھی نہ رہا کہتے ہیں
یہ مسیحائی بھی کیا خوب مسیحائی ہے
چارہ گر موت کو تکمیلِ شِفا کہتے ہیں
بزمِ زنداں میں ہوا شورِ سلاسل برپا
دہر والے اسے پائل کی صدا کہتے ہیں
آندھیاں میرے نشیمن کو اڑانے اٹھیں
میرے گھر آئے گا طوفانِ بلا کہتے ہیں
میری فریاد کو اِس عہد ہوس میں ناصر
ایک مجذوب کی بے وقت صدا کہتے ہیں

ان کی ایک اور غزل بہت مشہور و معروف ہے جو انہوں نے اپنی آواز میں تحت الفظ پڑھی اور اکثر سوشل میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہے۔ یہ غزل انہوں نے جمہوریت پسندوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہی تھی۔ یہ غزل اہالیان پاکستان کے موجود حالات کی بھی عکاس ہے۔

پِھر شورِ سلاسل میں سُرورِ ازلی ہے
پِھر پیشِ نظر سُنتِ سجادِ ولی ہے
غارت گری اہلِ سِتم بھی کوئی دیکھے
گُلشن میں کوئی پُھول نہ غُنچہ نہ کلی ہے
اِک برقِ بلا کوند گئی سارے چمن پر
تُم خوش کہ میری شاخِ نشیمن ہی جلی ہے
کب اشک بہانے سے کٹی ہے شبِ ہِجراں
کب کوئی بلا صِرف دُعاؤں سے ٹلی ہے
دو حق و صداقت کی شہادت سر مقتل
اٹھو کہ یہ ہی وقت کا فرمان جلی ہے
ہم راہ روِ دشتِ بلا روزِ ازل سے
اور قافلہ سالار حُسین اِبنِ علی ہے

زندگی کے آخری ایام میں وہ اپنے 55 سالہ سیاسی سفر کی یادداشتیں لکھنا چاہتے تھے لیکن اس کی مہلت نہ مل سکی۔

پاکستان کی تلاطم خیز سیاست میں ان جیسے وضع دار اور بے لوث سیاستدان کی آج اشد ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ نواب زادہ نصر اللہ خان 27 ستمبر 2003 کو 87 برس کی عمر میں اسلام آباد میں حرکت قلب بند ہونے کے باعث اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ ان کے دو بیٹے ہیں ایک کا نام نواب زادہ منصور علی خان ہے اور دوسرے کا نام نواب زادہ افتخار علی خان ہے۔ ان دونوں کا تعلق سیاست سے ہے اور دونوں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔

Facebook Comments HS