نہتے بہاریوں پر گزری قیامت کون بیان کرے گا؟


کہتے ہیں کہ ناموں کا انسانوں کی زندگی پر اثر ہوتا ہے۔ شاید مقامات کے ناموں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو۔ سنا ہے کہ اسلام آباد کا اصل نام راج شاہی تھا۔ ایک راج شاہی ہمارے سابقہ مشرقی پاکستان اور حالیہ بنگلہ دیش میں بھی ہے۔ وہاں کے کیڈٹ کالج سے کئی نامور حضرات کا تعلق ہے جن میں ایک توحید حسین بھی ہیں۔ وہ اس وقت ڈاکٹر محمد یونس کے چیف ایڈوائزر ہیں۔ انہوں نے 1981 میں بنگلہ دیش کی خارجہ سروس میں شمولیت اختیار کی۔ پاکستان سے بخوبی واقف ہیں اور آتے جاتے رہے ہیں۔ پہلی اکتوبر 2024 کو ان کی ایک میڈیا بریفنگ نے میری توجہ مبذول کی۔ انھوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت نے پاکستان کو کوئی ایسا تاثر نہیں دیا کہ بنگلہ دیش 1971 کے معاملے کو چھوڑ کر اچھے تعلقات بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پھر انھوں نے اپنے ذاتی خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاکستان کی طرف سے کوئی بیان نہیں سنا۔ ان کی رائے ہے کہ تعلقات آسان ہو جائیں گے اگر وہ (پاکستان کی حکومت) 1971 میں جو کچھ ہوا اس کا ذکر کرنے کی ہمت دکھائیں اور مخلصانہ معافی مانگیں۔

توحید صاحب نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش چاہتا ہے کہ پاکستان 1971 میں نہتے بنگالیوں پر کیے گئے مظالم کے لیے عوامی سطح پر ایک رسمی اعلان کے ساتھ معافی مانگے۔ انھوں نے جاپان کا بھی ذکر کیا کہ ”جاپان نے دوسری جنگ عظیم میں اپنے اعمال کے لیے معافی مانگی ہے۔ لیکن میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر پاکستان کی کوئی حکومت ایسا حوصلہ دکھا سکے اور ایسا بیان دے سکے، تو تعلقات کی نرمی بہت آسان ہو جائے گی۔“

اس بیان اور بیانیے کا تجزیہ تو شاید ہمارے فارن آفس اور میڈیا میں چھائے ہوئے ”فارن“ تعلقات اور خاص طور پر بنگالیوں کے بارے میں حساس صحافیوں اور ٹاک شو اینکروں نے کر لیا ہو گا، لیکن انھیں ایک نپے تلے انداز میں ہی پبلک کیا جاتا ہے اور وہ بھی شاذ و نادر۔ اور ہمیشہ کی طرح پاکستان کی محبت میں مٹنے والے بہاریوں کا کوئی ذکر نہیں ہوتا۔

میں نے جب بھی سابقہ مشرقی پاکستان میں متحدہ پاکستان کے حامی غیر بنگالی اردو سپیکنگ لوگوں، (جن میں پنجابی، پٹھان، پشتون، یو پی، سی پی کے لوگ بھی شامل ہیں لیکن سب سے بڑی تعداد بہار سے ہجرت کرنے والے بہاری مسلمانوں کی تھی) کے حوالے سے کوئی مضمون لکھا ہے، پوڈکاسٹ کیا ہے، یا سوشل میڈیا پر کوئی تبصرہ کیا ہے تو مجھے دو طرح کے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے : ایک تو سردمہری اور خاموشی ہے، جیسے کسی نے کچھ سنا ہی نہیں، پڑھا ہی نہیں، یا دیکھا ہی نہیں۔ فیمنسٹ اور انسانی حقوق کے چیمپئن بننے والے پاکستانی بھی خاموش رہتے ہیں۔ دوسرا رخ یہ ہے کہ بنا شناخت یا تعارف کے بظاہر بنگالی بن کر نفرت اور توہین آمیز پیغامات موصول ہوتے ہیں۔ کیونکہ ایسی ای میلز میں شناخت نہیں ہوتی، اس لیے یہ مناسب نہیں کہ اسے کسی بنگالی سے منسوب کیا جائے۔ تاہم، ایک بات جو ان تمام نفرت ناموں میں مشترک ہے وہ بہاریوں کے خلاف یہ الزام ہے کہ سابقہ مشرقی پاکستان کے بہاریوں نے بنگالیوں کو حقیر جانا تھا اور برا سلوک کیا تھا۔

میں نے اس بارے میں پینسٹھ اور اس سے زیادہ عمر کے بہاری لوگوں سے جاننا چاہا کہ اس الزام یا دعوے میں کتنی حقیقت ہے؟ کچھ بہاری بزرگوں کا خیال ہے کہ مشرقی پاکستان کے بہاری بنگالیوں کو اپنے آپ سے کمتر سمجھتے تھے۔ لیکن اکثریت ایسا نہیں سمجھتی اور اس کا ثبوت ان کی بنگالی خاندانوں میں شادیاں اور ان کا بنگلہ زبان پر عبور ہے۔ بہاری کمیونٹی نے تو گھر لٹنے، جیون جلنے جیسی قیامت سے گزرنے کے باوجود ان بنگالیوں کا شکریہ ادا کرنا کبھی نہیں بھولا جنہوں نے کسی طرح زندہ بچ جانے والوں کی مکتی باہنی کے بلووں اور بربریت سے بچنے میں مدد دی۔ اس تلخ حقیقت کہ باوجود بھی میں سمجھتی ہوں کہ اگر ہمارے بزرگوں کے کسی رویے نے، جس کا تعلق مغربی پاکستان سے محبت بھی ہو سکتا ہے، بنگالیوں کو ناراض کیا ہو تو ہمیں اس پر ندامت ظاہر کرنے میں تردد نہیں کرنا چاہیے۔

ہمارے بزرگوں نے جو بھی کیا، پاکستان کی محبت میں کیا۔ اس پر بنگالیوں کا ردعمل یعنی نہتے بہاریوں کا سفاکانہ قتل عام، ان کی جائیداد کی لوٹ مار، ان کی عورتوں کی تذلیل /ریپ، اور پوری کمیونٹی کی بے گھری بہت غیر متوازن اور غیر انسانی جواب تھا اور کسی طرح بھی جائز نہیں مانا جا سکتا۔ لیکن زخم کو بھرنا ہو گا، میں آغاز کرتی ہوں معافی مانگ کر اس جرم کی جو میں نے نہیں کیا۔

معافی تلافی کے بغیر ممکن نہیں۔ بہاری کمیونٹی کی تذلیل، توہین اور تتر بتر ہونے کا کیس کوئی نہیں لڑتا۔ ہمارے لیے نہ کوئی ملکی اور نہ ہی عالمی اسٹیبلشمنٹ میں سوچنے والا یا درد رکھنے والا ہے۔ ہم نے پھر بھی پاکستان سے غیر مشروط محبت کی اور کبھی جھنڈا نہیں جلایا۔ ہمارے پاس نہ کوئی ایمن مزاری ہے، نہ ماہ رنگ بلوچ، نہ حامد میر، نہ محمد حنیف۔ ہمارے اپنے لوگ بھی اپنی مفاد پرست سیاست کے قیدی ہیں۔

وہ بہاری اچھے رہے جو پاکستان سے بھی چلے گئے یعنی انہوں نے 1971 سے سیکھا اور امریکہ، کینیڈا وغیرہ کو اپنا نیا گھر بنا لیا۔ مجھ سمیت کئی بیوقوف اب بھی اس امید میں ہیں کہ ہماری بپتا بھی سن لی جائے، ہمیں بھی عزت دی جائے، اور ہمارے لوگوں کو وطن واپس بلا لیا جائے۔ یہ دیوانے کا خواب ہے جو میں شاید اپنی آخری سانس تک دیکھوں گی۔

رہی بات توحید صاحب کی سرکاری اور غیر سرکاری آرزو کی تو میں آپ اور آپ جیسے لوگوں کی خدمت میں یہی عرض کر سکتی ہوں کہ میرے مرحوم باپ نے ایک گھر بنایا تھا جو ڈھاکہ میں ہے۔ ابو جان نے میرے جھولے اور اپنی سب سے قیمتی متاع یعنی کتابوں کے ذخیرے کے ساتھ بھرا ہوا گھر چھوڑ دیا۔ پتہ ہے : 69 /C، ایوب گیٹ، محمد پور، ڈھاکہ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ ایوب گیٹ کا نیا نام اسد ایونیو ہے، جو عوامی لیگ کے کارکن کے نام پر ہے۔ ہم نے کبھی کلیم نہیں کیا۔ اسی طرح ہزاروں بہاری خاندان ہیں جنہوں نے بسے ہوئے گھر، کاروبار، نوکریاں اور پیاروں کے لاشے چھوڑ دیے۔ جو جنگی جرائم مکتی باہنی نے نہتے بہاریوں پر کیے، اسے آپ آزادی کی جدوجہد قرار دیتے ہیں۔

کیا آپ معافی مانگیں گے؟

Facebook Comments HS

One thought on “نہتے بہاریوں پر گزری قیامت کون بیان کرے گا؟

  • 07/10/2024 at 3:50 شام
    Permalink

    بہت خوب۔ اب یکطرفہ پروپیگنڈے کا جواب دینے کا وقت آگیا ہے۔ اب سوال تو اٹھے گا کہ اگر بہاری بنگالیوں کو کمتر سمجھتے تھے تو بنگالیوں نے جواب میں کیا کیا تھا؟ کیا بنگالیوں نے جو جواب دیا وہ ان کے اپنے اخلاقی اور قانونی اقدار کے مطابق تھا؟ تو کیا بنگالی اپنی حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ وہ مظلوم بہاریوں سے معافی مانگیں؟

Comments are closed.