گناہ گار عورتیں
معاف کیجئے گا کہ حاضری میں تاخیر ہوئی۔ لیکن۔ ٹھہریے، یہاں کون سی رول کال لگ رہی ہے کہ آنے جانے کا وقت مختص ہو۔ جہاں گھڑیال اور پڑتال نہ ہو وہاں کیسی جلدی اور کیسی دیری۔ موت کی طرح زندگی میں دیگر حوادث کا بھی ایک وقت مقرر ہے۔ ہمارا آنا اب ہی ٹھہرا تھا۔ معافی واپس کیجئے۔ کسی مناسب موقعے پر لے لیجیے گا۔
اب مدعے پر آئیں؟
کچھ عرصے سے سوشل میڈیا سے دور ہیں لہذا کئی خبریں یا تو ہم تک دیر سے پہنچتی ہیں یا ہم تبصرے سے گریز کرتے ہیں۔ کون نوٹیفیکیشن پڑھے اور جواب دے؟ جانے دیتے ہیں۔ یوں بھی
غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
روئیے زار زار کیا، کیجئے ہائے ہائے کیوں
دنیا میں جتنے منہ ہیں اتنی ہی آراء۔ ہمارا اس امر پر راسخ ایمان ہے کہ آٹھ ارب کی دنیا محض ایک انسان کے تبصرے کے بغیر بھی بخوبی چل سکتی ہے۔ بہرکیف، آج جس موضوع پر آپ سے ہم کلام ہونا چاہتے ہیں اس پر ہمارا بولنا ضروری ہے۔ دل کہتا ہے کہ اس پر بات نہ کی تو شاید دماغ چلاتا رہے گا۔ اس کمبخت کو خاموش کرانے کی نیت ہے۔ بس چند منٹ لیں گے۔
چند دن پہلے ایک ٹویٹ دیکھی جو ہمارے ذہن پر ثبت ہو گئی۔ موصوف کا تبصرہ تھا ایک ویڈیو کلپ جس میں ایک خواتین کی محفل تھی۔ معروف اداکارہ اسماء عباس بھی ان ہی میں شامل تھیں۔ اسماء عباس گا رہی تھیں اور ان کی سہیلیاں ان کا ساتھ دے رہی تھیں۔ بے فکری کا سماں تھا۔ خوشی سب کے چہروں پر عیاں تھی۔ صاحب ٹویٹ کو اس بات کر کڑا اعتراض تھا کہ یہ خواتین معاشرے کی ہمالیہ سے بلند اقدار کو کچل رہی تھیں۔ ہمیں پڑھ کر ذرا غصہ آیا۔
جب انسان سوشل میڈیا کے شور و غوغے سے دور ہو تو اس کے پاس سوچنے کا موقع اور محل دونوں ہوتے ہیں۔ سوچ بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ ان صاحب کا گلہ بجا تھا۔ یہ خواتین یقیناً ہمارے اعلی و ارفع معاشرے کی سب سے اہم قدر کو ملیامیٹ کر رہی تھیں اور وہ قدر ہے۔ بیچارگی، مصیبت، پسماندگی۔
یہاں یہ بھی کہتے چلیں کہ اس بات سے انکار نہیں کہ قربانی، ایثار، اور بیچارگی ہمارے معاشرے کے تاج کے سب سے قیمتی ہیرے ہیں۔ بھلے مرد ہو یا عورت، ہمتی نظر میں بہترین انسان وہی ہے جو اپنا گلا اپنے ہاتھ سے گھونٹ دے۔ خودکشی گناہ ہے لیکن صرف جسم کی۔ اپنی روح کو اپنے ہی ہاتھوں سے اذیت ناک موت دینا ہمارے نزدیک انسانیت کی معراج ہے۔ بھلے وہ کویت میں مزدوری کرنے والا سات بہنوں کا اکلوتا بھائی ہو جو اپنا بچپن اور جوانی ذمہ داریوں کی نظر کر چکا ہو یا جوان بیوہ جس نے اپنی زندگی کے بہترین سال معاشرتی ”اقدار“ کی خاطر تیاگ دیے ہوں۔ بھلے وہ ماں باپ کی خوشی کی خاطر اپنی محبت قربان کر دینے والا بیٹا ہو یا انہی والدین کی ”عزت“ قائم رکھنے کے لیے ان کی مرضی کی شادی کرنے والی بیٹی ہو۔ یہ سب اس معاشرے کے ہیرو ہیں کہ انہوں نے وقت سے ایسی خودکشی کی جو گناہ نہیں بلکہ بھرپور ثواب ہے۔ یہی تو معاشرے کا ایندھن۔ معافی کیجئے گا، ستون ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ بیچارگی ایک ایسی کمال خوبی ہے جس میں وقت کے ساتھ اضافہ ہونا بھی ضروری ہے۔ جیسے بڑھتی عمر کے ساتھ سر میں چاندی بڑھے جاتی ہے، بیچارگی کو بھی اوج کمال حاصل کرنا ہو گا۔ ویڈیو میں موجود ان خواتین کا قصور محض یہ نہیں تھا کہ یہ خوش اور بے فکر تھیں۔ ان کا ایک گناہ ان کی عمر بھی تھا۔ انہوں نے جرات بھی کیسے کی کہ عمر کے اس حصے میں پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں کے لیے سویٹر بننے کی بجائے سہیلیوں میں اٹھلانے لگیں۔ غضب خدا کا، انسان ساٹھ کے پیٹے میں ہو اور ڈاکٹروں کا وظیفہ باندھنے کے برعکس یہاں ہنسی ٹھٹھا اڑائے۔ ان کے چہروں پر ان کی عمر رفتہ کے بخشے آلام کیوں دکھائی نہیں دے رہے؟ یہ گھر بیٹھ کر ایثار کی دیویاں کیوں نہیں بن رہیں؟ بڑی گناہ گار عورتیں ہیں۔
استغفراللہ، یہ وقت دیکھنے سے پہلے ہماری آنکھوں کا نور کیوں نہ رخصت ہوا؟
وہ معافی جو آپ سے واپس لی تھی صاحب ٹویٹ کو سونپنے ہیں۔ سماج کی اس جہنم کے داروغہ اعلی ہونے کے حوالے سے قبلہ کو بھرپور حق ہے کہ جسے چاہیں روایات کو رولنے کا روادار ٹھہرائیں۔ ان خواتین کو کوئی حق نہیں کہ معاشرے میں خوشی جیسے قبیح افعال کی مرتکب ٹھہریں۔ ہمیں کوئی حق نہیں کہ ان صاحب کے اعتراض پر اعتراض اٹھائیں۔
بس سرکار سے ایک حقیر التماس ہے کہ صدارتی تمغہ جات میں ایک نئی کیٹگری متعارف کرائیں۔ صدارتی تمغہ برائے بیچارگی۔ یقیناً مقابلہ سخت ہو گا کہ یہاں ہر کوئی اس کا حقدار ہے۔ لیکن سرکار کے لیے کیا مشکل ہے۔ ہمارا کام تھا اس جانب توجہ مبذول کرانا۔
اب آگے تیری خوشی ہے جو سرفراز کرے
سنئے، آپ بھی اس مانگ پر ہمارا ساتھ دیجئے گا۔ کیا خبر، اس تمغے کے اگلے وصول کنندہ آپ ہی ہوں۔ قوی امکان ہے۔
اپنا خیال رکھیے گا اور راستے میں کسی اجنبی سے لے کر کچھ مت کھائیے گا۔
پاکستان زندہ باد!


