ایک ہندی اسطورہ: عقل و دانش کا دیوتا، گنیش


آپ نے شری گنیش کو دیکھا ہے؟
آپ کہیں گے بھلا ہم کیوں دیکھیں اور ہمارا بتوں سے کیا واسطہ۔ ہے ناں؟

بالکل ٹھیک۔ اچھا خدا جانتا ہے ویسے تو یہ ذکر یاد تک نا آتا لیکن محترم المقام نے خود ہی اتنی محنت کر دی ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی یاد آ گیا ہے۔

گزرے برسوں کی بات ہے ہم شاید کالج میں تھے پوری دو دہائیاں قبل۔ پیس ٹی وی پر ایک بہت بڑے آڈیٹوریم کی لائیو کوریج چل رہی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا۔

تم دیکھو ایک بت ہے جس کی تم لوگ پوجا کرتا ہے، ہاتھی کا سر ہے اور انسان کا دھڑ ہے تم بولو ایسا کوئی مخلوق ہو سکتا ہے کیا؟ بولو ہو سکتا ہے۔ ؟ نہیں نا

پھر یہ کتنی کم عقلی کی بات ہے کہ خود ہی ایک ہاتھی بنا کر اسے پوجنا شروع کر دیا ہے۔ اور پھر الحمدللہ وہ بھائی صاحب مسلمان ہو گئے۔

یہ منظر میرے لیے حیرت انگیز ہوا کرتا تھا اور اب بھی ہے۔ خدا نخواستہ ایسا نہیں ہے کہ لوگوں کو مسلمان ہوتا دیکھ کر خوشی نہیں ہوتی لیکن پورے بیس برس کے بعد علم کی گرہیں ایسی کھلی ہیں اور نہ جانے کس کی دعا سے کھلیں ہیں۔

دعا تو میں آج بھی وہی پڑھتی ہوں رب شرح لی صدری ویسرلی امری۔
لیکن آج کہانیوں کا مفہوم اور بات کہنے کے طریقے میں فرق محسوس کرنا آ گیا ہے۔

یہ واقعہ جو میں آپ کو سنانے لگی ہوں ویدک اسٹڈیز کی ماہر سے ہی سنا ہے ورنہ مجھے یہاں ایسا ہندو بھی نا ملتا۔ جو اسے ڈی کوڈ کر پاتا کہ اقلیت کے حقوق کبھی انسانی حقوق نہیں بن سکے اس لیے اقلیتیں تعلیم سمیت ہمیشہ ہر چیز میں پیچھے رکھی جاتی ہیں۔

آپ سوچیے کہ انسان کے بدن سے اتنی میل اتر سکتی ہے جس سے مٹی کا پتلا بنایا جا سکے؟ نہیں نا؟

آپ نہاتے ہوں گے، روزانہ نہاتے ہوں گے لیکن فرض کریں کہ کوئی انسان مہینوں بعد یا پھر برسوں کے بعد نہائے تو بھی اس کے بدن سے اتنی میل اترے گی جس سے ایک بچے کا پتلا بن سکے؟

نہیں نا؟ بالکل ٹھیک

تو یہ ایک کہانی ہے مکمل فکشن۔ ممکن ہے پاروتی جی فکشنری فگر نا ہوں۔ وہ اصل میں کسی زمانے میں ہوں گی۔ قرین قیاس یہی ہے کہ تھیں۔ لیکن ان سے منسوب قصہ فرضی ہے اور اسے نیچر/پراکرتی کا تال میل سمجھانے کے لیے رشیوں نے بنُا تھا۔

ایک مرتبہ شیو جی لمبے عرصے کے لیے تپسیا کرنے چلے گئے۔ وہ کیلاش پربت سے ہمالیہ کی چوٹیوں پر مراقبہ کرنے جاتے تھے۔ اس بار یہ عرصہ طویل سے طویل تر ہوتا گیا۔ ماتا پاروتی کے دو بچے پہلے ہی ان کے ساتھ نہیں تھے۔ ایک تو کارتک مہاراج، دوسری کنیا تھی۔ کارتک، راکھشسوں سے جنگ کرنے گیا ہوا تھا اور کنیا تپسیا کرنے کسی غار میں بیٹھی تھی۔ وہ تپ جپ کر کے اپنی ماں جیسی مقدس طاقتیں حاصل کرنا چاہتی تھی۔ تنہائی سے اکتا کر ایک دن پاروتی نہانے گئیں تو انہوں نے سوچا۔ ان سب کے آتے نجانے اور کتنا وقت لگے مجھے ایک بچہ چاہیے جو میری تنہائی بانٹ سکے۔ لہذا نہاتے سمے بدن کی میل اترتی رہی وہ اسے اکٹھا کرتی رہیں اور پھر اس سے ایک خوبصورت بچے کا پتلا بنایا اور پران پھونک دیے۔

اتنے میں نندی ( شیو کی سواری بیل) خبر لایا کہ بھولے بابا واپس آ رہے ہیں، ماتا کو ان کے استقبال کی تیاری کرنی چاہیے۔ لہذا پاروتی نے اس بچے کو جس کا نام انہوں نے ونایک رکھا تھا۔ حکم دیا کہ میں اندر تیار ہونے جا رہی ہوں۔ جب تک میں سج سنور کے اور دیگر تیاریاں مکمل کر کے باہر نہ نکلوں تم نے اس غار کے دہانے پر کھڑے رہ کر پہرا دینا ہے اور کسی کو اندر نہیں آنے دینا۔ لہذا ونایک وہاں کھڑا ہوجاتا ہے۔

شیو شنکر کی واپسی کا سن کر تمام دیوتا ان کے استقبال کے لیے کیلاش پہنچ جاتے ہیں۔ شیو جی آتے ساتھ ہی غار میں جانا چاہتے ہیں مگر ونایک انھیں اندر جانے سے روک دیتا ہے۔ وہ اس سے تعارف پوچھتے ہیں تو ونایک کہتا ہے میں پاروتی پتر ونایک ہوں۔

شیو جی اسے پیار سے سمجھانے لگتے ہیں، میں تمہارا پتا ہوں۔ لیکن وہ بہت بدتمیزی کے ساتھ ان سے پیش آتا ہے اور کہتا ہے کہ میری ماں کی اجازت نہیں ہے اس لیے میں کسی کو بھی اندر نہیں جانے دوں گا۔ وہ تمام دیوتاؤں کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے نہایت اکڑ اور غرور میں اپنی ماں کی دی گئی شکتیوں کا استعمال کر کے برہما، وشنو اور شیو سمیت تمام دیوتاؤں کو پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ یہ سب تماشا بالآخر شیو جی کی برداشت سے باہر ہوجاتا ہے۔ وہ اپنا ترشول پھینک کر اس کا سر، دھڑ سے الگ کر دیتے ہیں۔

ونایک کی چیخ سن کر پاروتی دوڑتی ہوئی باہر آتی ہے اور غصے میں درگا اور پھر کالی کا روپ دھر لیتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ میں شکتی ہوں اس لیے چاہوں تو اس پوری دھرتی کا وناش کردوں، مجھے یا تو میرا بیٹا واپس چاہیے یا پھر۔ میں اس پوری گلیکسی کو ہی تباہ کروں گی۔

شیو شنکر اپنی پتنی کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ اپنا غصہ ختم کردے تو وہ ابھی ونایک کو زندہ کر دیں گے۔ پاروتی اپنے اصل روپ میں واپس آجاتی ہیں۔

شیو جی دیوتاؤں سے کہتے ہیں کہ جسے میں اپنے ہاتھوں سے مار دوں وہ اسی حالت میں دوبارہ زندہ نہیں ہو سکتا چونکہ میرے ترشول سے جاتک ( بچے ) کا سر بھسم ہو چکا ہے لہذا اسے ایک نیا سر لگانا ہو گا۔

وہ دیوتاؤں کو حکم دیتے ہیں کہ اتر (شمال) کی دشا (سمت) میں چلتے جائیں اور ایک ایسے بچے کا سر اتار لائیں جس کی ماں اس کی جانب سے منہ موڑ کر سو رہی ہو۔ دیوتا جاتے ہیں تو انھیں سب سے پہلا ایسا جاندار ہاتھی ملتا ہے۔ وہاں وشنو دیوتاؤں سے کہتے ہیں کہ اگر ہاتھی کا بچہ ملا ہے تو اس میں کوئی نا کوئی حکمت ہوگی۔ انھیں اسی بچے کا سر لے جانا چاہیے۔

یوں وہ سر وہاں پہنچتا ہے اور دنیا کے پہلے آیورویدک فزیشنز اس بچے کے سر کو سرجری کے ذریعے ہاتھی کا سر لگا دیتے ہیں۔

اور اس کایا کلپ کے بعد ونایک کو نام دیا جاتا ہے گنیش۔ گن پتی
_________________________________

یہ کہانی ہمیں کیا پیغام دے رہی ہے؟ شیو یہاں پرمیشور ہے اور پاروتی اس پرمیشور کی شکتی ( طاقت) ہے۔ پاروتی اس کائنات کی ظاہری تجسیم بھی ہے یعنی پاروتی بمثل مادہ ہے۔ پراکرتی یعنی نیچر ہے۔

آپ جانتے ہی ہیں کہ زمین کی میل سے ونایک ( یعنی آدمی /انسان کا پتلا) بنایا گیا تھا۔ اور چونکہ آدمی کا بدن مادے سے بنا ہے جو مثل غرور و تکبر ہے کہ یہ مادی خصوصیات ہوتی ہیں۔

اس لیے جب انسان دھرتی پر آنے کے بعد علم اور مختلف طاقتیں حاصل کر چکا تو اہنکار میں پڑ گیا۔ مغرور ہو گیا۔ اتنا مغرور کہ اسے اپنے باپ ( پرمیشور /شیو) کی بھی پہچان نا رہی۔ اسی شیطانی /راکھشسی وصف تکبر کی وجہ سے اس نے دیگر مخلوقات کو بھی ہیچ سمجھا تو پھر خدا نے اس کے سر یعنی غرور کو توڑ کر بھسم کر دیا۔

پھر اسے جان بوجھ کر ایک ایسا سر لگایا گیا جس کی ناک اتنی لمبی ہو کہ منہ کے دہانے کو ڈھانپ لے تاکہ وہ کم بولے، گفتگو کم کرے، کان بڑے بڑے ہوں تاکہ سننے پر توجہ دے، آنکھیں گول اور چھوٹی ہوں تاکہ وہ دور بین ہو۔ اس کے دانت بھی اس ساخت کے ہوں جس سے وہ اپنی خوبصورتی پر ناز کرنے سے پہلے سوچے۔ اور سونڈ۔ ناف پر گرتی ہوئی سونڈ سولر پلیکس چکرا کو بیلنس کرتی رہے تاکہ اس کے اندر شانتی رہے۔

یہ کہانی انسان کو فطرت کی دانش اور سماجی رہن سہن کا طریقہ سکھانے کے لیے بنائی گئی تھی لیکن دو سے تین ہزار سال قبل تانترک علوم کا چرچا ہندوستان میں پھیلنے لگا۔ انھیں مینفیسٹیشن سمجھ آئی۔ تو کچھ ایسی اقوام نے انھیں اس جانب راغب کیا جن کا ماننا تھا کہ مینفیسٹیشن کے لیے ضروری ہے کہ ظاہری جسم ہو جسے دیکھ کر اور سوچ کر اس کہانی میں چھپے ہوئے روحانی معنوں کو انسانی زندگی کا حصہ بنایا جا سکے اور اس طرح گنیش کہانی سے دیوتا بن گئے اور آج گن پتی ہندوستان میں پوجے جاتے ہیں۔

گنیش کی سونڈ اور سولر پلیکس چکرا میں بھی ایک تعلق ہے وہ کسی اور قسط میں بیان کریں گے

Facebook Comments HS