الوداع، ڈاکٹر ذاکر نائیک


muhammad salim gujranwala

بچپن ہی سے سنتے آئے ہیں کہ جو شخص جتنا زیادہ بولے گا اتنی ہی غلطیاں کرے گا اور وہ اتنا ہی متنازعہ ہو گا۔ یہ مقولہ 5 اکتوبر 2024 کو حکومت پاکستان کی دعوت پر پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ڈاکٹر ذاکر نائیک پر خوب صادق آتا ہے۔ اس دورے کا ایک ہی مقصد نظر آتا ہے کہ حکومت کو ذاکر نائیک اور ذاکر نائیک کو حکومت پاکستان کی ضرورت تھی اس لیے وہ اپنی اور حکومت پاکستان دونوں کی ضرورت کو پورا کرنے آئے ہیں۔

59 سالہ ذاکر نائیک کا پورا نام ذاکر عبدالکریم نائیک ہے، 18 اکتوبر 1965 کو بھارت دہلی کے علاقہ دو نگری میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ایم بی بی ایس کی طبی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دعوت و تبلیغ اور تقابل ادیان کو اپنا عملی میدان بنایا اور جنوبی افریقہ کے مشہور مبلغ احمد دیدات کے شاگرد ہو گئے۔ اس سے قبل ڈاکٹر ذاکر نائیک 1991 میں ایک نجی دورے پر پاکستان آئے اور لاہور میں ڈاکٹر اسرار احمد سے ملاقات کی تھی جس کے بعد انہوں نے دعوت و تبلیغ کو اپنا کل وقتی میدان عمل بنا لیا۔ ذاکر نائیک نے 1991 میں جنوبی افریقہ کے علاقے جوانی کی ایک جامعہ مسجد میں اپنا پہلا خطبہ دیا۔

2007 تک ذاکر نائیک نے بہت محنت سے ہندوستان میں اپنا کام کیا اور اسلامی تحقیقی تنظیم اور پیس ٹی وی قائم کیا جس سے ان کو عالمگیر شہرت ملی۔ 2011 تک ذاکر نائیک کی تنظیم کو مختلف اسلامی ممالک کی جانب سے پندرہ کروڑ روپے کے عطیات موصول ہوئے جس کے باعث حکومت ہند نے ان کے خلاف تحقیقات شروع کر دیں اور ان کی تنظیم اور پیس ٹی وی پر پابندی لگا دی۔ حکومت ہند نے ان پر رقم کی غیر قانونی ترسیل اور نفرت انگیز تقاریر کے الزامات عائد کئیے جس کے باعث انہوں نے 2016 میں ملائیشیا نقل مکانی کر لی۔ اب حکومت ہند بین الاقوامی پولیس کے ذریعے حکومت ملائیشیا سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ بنگلہ دیش میں بھی ان کی تنظیم اور پیس ٹی وی پر پابندی عائد ہے۔ بنگلہ دیش میں ہونے والے شدت پسند ہنگامے کرنے والے ایک مجرم نے اعتراف کیا تھا کہ وہ ذاکر نائیک کی تقاریر سے متاثر ہوا تھا۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک کے اس مختصر پس منظر کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے دورہ پاکستان کا مقصد واضح ہو جاتا ہے۔ ہندوستان میں اپنے خطبات میں انہوں نے کئی بار پاکستان مخالف بیانات دیے اور تقسیم ہند کو غلط قرار دیا۔ اب وہ ملائشیا اور دیگر اسلامی ممالک کا تقابل کر رہے ہیں۔ اب پاکستان میں آ کر وہ فرما رہے ہیں کہ پاکستان میں رہ کر جنت جانے کے امکانات امریکہ میں رہ کر جانے سے زیادہ ہیں، لیکن وہ یہ بھول گئے کہ تقریباً ہر پاکستانی جنت میں بآسانی جانے کی بجائے یہ ملک چھوڑ کر امریکہ میں بس کر جنت میں جانا چاہتا ہے، ویسے ایک عالم و فاضل کے منہ سے ایسی احمقانہ بات زیب نہیں دیتی ہے۔ اب پتا نہیں اتنے برس کے بعد ان کے دل میں پاکستان کی محبت کیسے جاگ گئی ہے۔

پاکستان آنے سے قبل ہی ذاکر نائیک کی شہرت ایک متنازعہ اور نفرت انگیز مبلغ کے طور پر ہو چکی تھی۔ انہوں نے اپنا پہلا اعتراض ہی پاکستان ائر لائن کے منتظم کے متعلق کر دیا ہے کہ اس نے ان سے ان کے ایک ہزار کلوگرام وزن کا کرایہ کیوں وصول کیا ہے حالانکہ وہ حکومت پاکستان کے سرکاری مہمان ہیں۔ ان کا یہ اعتراض کسی قانونی، اخلاقی اور مذہبی پہلو سے بھی درست نہیں تھا۔ پاکستان ائر لائن سے ناراض ہو کر ذاکر نائیک نے ائر سیال کے کپتان اور غیر محرم فضائی میزبانوں کے ساتھ تصاویر بنا کر ایکس پر لگا دیں۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک اپنے پہناوے کو خود ہی جوکروں جیسا قرار دیتے ہیں۔ سر پر ٹوپی پہنی ہے اور ساتھ پینٹ کوٹ پہنا ہوا، ٹائی لگائی اور پینٹ کو ٹخنوں سے اوپر کیا ہوا ہے۔ ذاکر نائیک سمجھتے ہیں کہ قمیص شلوار پہن کر شاید ان کی بات نہ سنی جائے۔ جو شخص لباس کے متعلق تذبذب کا شکار ہے وہ کیا اشکال حل کرے گا۔ اس سے بہتر پروفیسر رفیق احمد اختر ہیں، لباس بھی پورا انگریزی ہے، داڑھی بھی نہیں ہے۔ سمجھاتے ہیں لیکن فتویٰ نہیں دیتے ہیں۔

ذاکر نائیک کو کوئی محقق کہتا ہے تو کوئی مذہبی دانشور۔ قرآن و حدیث کے زبانی حوالے تو بہت سے غیر مسلم بھی دیتے ہیں۔ کیا ایک شخص جس نے انگریزی میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہو وہ طب کی کتابیں پڑھ کر مستند ڈاکٹر بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نے کس مدرسے اور استاد کی نگرانی میں اسلامی علوم پڑھے ہیں۔ جب آپ خطاب کرتے ہیں تو سامعین کو ہر سوال کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ آپ سوال کو پیدا ہونے سے نہیں روک سکتے ہیں۔ طبی محاضرات میں جتنا مرضی احمقانہ سوال کریں، اسے سراہا بھی جاتا ہے اور جواب بھی دیا جاتا ہے۔ یہ کوئی فوجی اور سیاسی پریس کانفرنس نہیں ہوتی جس میں سوال پہلے سے دیے گئے ہوں۔ اگر آپ محقق ہیں تو آپ کو ہر سوال کا جواب دینا پڑے گا۔ جواب نہیں آتا ہے تو کھلے دل سے اپنی لا علمی کا اظہار کر دیں۔ پاکستان میں امرد پرستی ہوتی ہے اور اسے درخور اعتنا نہیں سمجھا جاتا ہے۔

سوال جنسی ہو یا غیر جنسی، مذہبی ہو یا غیر مذہبی، کھلا ہو یا چھپا ہوا، معاشرتی ہو یا خانگی و عائلی، وہ جواب مانگتا ہے اور جواب دینا ہی مفتیوں، علما، محققین اور دانشوروں کا فرض ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک جب ہر ایک پر تنقید کر سکتے ہیں تو پھر وہ تنقید سے بالا تر کیسے ہو سکتے ہیں۔ اگر وہ صرف محقق ہیں تو پھر فتویٰ نہ دیں۔ ان کے محقق ہونے کا دعویٰ بھی تاریخ کربلا سے نابلد ہونے نے کافور کر دیا ہے۔ ویسے بھی وہ اتنے برسوں کے بعد پاکستان صرف یہ کہنے آئے ہیں کہ ”وہ“ امت مسلمہ کے سر کا تاج ہیں۔ کون سی امت مسلمہ اور سر کا تاج جو صرف 80 لاکھ یہودیوں سے نبرد آزما نہیں ہو سکتی ہے۔ بیت اللہ اور مساجد کے اندر دعاؤں میں دن رات اسرائیل کی تباہی و غارت گری کی دعائیں مانگی جاتی ہیں، ڈاکٹر ذاکر نائیک بتائیں کہ کشمیر اور فلسطین کی آزادی کی دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں اور اسرائیل تباہ کیوں نہیں ہو رہا ہے۔

پاکستان کے شہروں میں ان کے خطبات کے دوران ان کی مختلف حرکتیں واضح ہوئی ہیں۔ کبھی وہ سوال کرنے والے کو شرمندہ کرتے ہیں، کبھی اس کے مائیک کو بند کروا دیتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں یہ کوئی سوال کرنے والا ہے۔ اگر وہ اسلامی دانشور اور محقق ہیں تو سوال کرنے والوں کو واضح بتائیں کہ امرد پرستی کیوں ہوتی ہے، عورت ایک وقت میں ایک سے زائد شادی کیوں نہیں کر سکتی ہے۔ مردوں کو چار شادیاں کب اور کن حالات میں کرنے کی ضرورت ہے۔

کبھی وہ یو ٹیوب کی کمائی کو حرام کہتے ہیں، کیوں حرام ہے یہ نہیں بتاتے۔ حالانکہ ان کی شہرت میں زیادہ ہاتھ اس یو ٹیوب کا ہی ہے۔ اسلام آباد میں بیت المال پاکستان کی جانب سے منعقدہ تقریب میں بچیوں کو اس وجہ سے انعام نہیں دیے کہ وہ غیر محرم تھیں اور ایر سیال کی غیر محرم فضائی میزبانوں کے ساتھ تصاویر بنا لی۔ ایک نامحرم ٹی وی میزبان سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بالمشافہ گفتگو کرلی اور اس میں ایک اور درفنطنی چھوڑ دی کہ اگر سجی سنوری خاتون سے بات چیت کر کے مرد کے دل و دماغ میں کوئی ہلچل پیدا نہیں ہوتی ہے تو اسے اپنی مردانگی کا علاج کروانے کے لیے کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنی میزبان حکومت پاکستان کو بھی یہ کہہ کر آڑے ہاتھوں لیا ہے کہ پاکستان اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے یہودیوں کے قائم کردہ آئی ایم ایف سے قرض لیتا ہے جو جائز نہیں اور اگر اس ملک میں اسلامی شریعت نافذ ہو جائے تو وہ اس کی شہریت بخوشی لے لیں گے۔ افسوس کہ مستقبل قریب میں تو ان دونوں خواہشات کے پورے ہونے کے امکانات بالکل ہی نہیں ہیں۔

ذاکر نائیک کو تقابل ادیان اور بین المذاہب ہم آہنگی کا ماہر جانا جاتا ہے لیکن وہ تو مسلمانوں کے لیے بین المسالک ہم آہنگی کا ذریعہ بھی نہیں بن سکے ہیں۔ وہ عقیدے کے اعتبار سے غیر مقلد ہیں۔ اہل تشیع کے سخت مخالف ہیں۔ پاک و ہند کے دیو بند مکتب فکر نے ان کے بیانات سننے کو حرام قرار دیا ہے اور کسی بھی مذہبی اور فقہی مسئلے میں ان کا فتویٰ رد کرنے کا کہا ہے۔ ذاکر نائیک نے ایک اور درقطنی چھوڑی ہے کہ ان کے خطبات ریکارڈ کرنے والے کیمروں کی قیمت نو کروڑ روپے ہے، حالانکہ دنیا بھر میں اتنا قیمتی کیمرہ ہے ہی نہیں اور کیا وہ کم قیمت کیمروں کے سامنے اپنا خطاب ریکارڈ نہیں کر سکتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے رائے ونڈ میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف سے ملاقات کر کے اپنے دورے کے مقصد کو کافی حد تک واضح کر دیا ہے۔ اس کے بعد ذاکر نائیک کا پاکستان سے چلے جانا ہی بنتا ہے کیوں کہ ہمارے ہاں ان سے زیادہ قابل مفتیان کرام، علماء کرام، محققین، مذہبی دانشور اور مبلغین موجود ہیں اور اس میدان میں ہم خود کفیل ہیں۔

Facebook Comments HS