مشتاق شیدا: قراۃ العین حیدر کے شیدائی کی آٹھویں برسی
مشتاق شیدا صاحب کو میں 1982 سے مختلف تقریبات میں باقاعدگی سے شرکت کرتے دیکھتا تھا۔ ان کے ساتھ سرسری ملاقاتیں بھی ہوئیں لیکن یہ محض سلام دعا تک محدود رہیں۔ وہ بنیادی طور پر وکالت کے پیشے کے ساتھ منسلک تھے اور ان کے پاس بہت ساری کہانیاں تھیں، بہت سی باتیں تھیں جو بعد کے دنوں میں ان کے ساتھ ملاقاتوں میں زیر بحث آتی تھیں۔ مشتاق شیدا صاحب کے ساتھ میری باقاعدہ ملاقاتوں کا سلسلہ اس زمانے میں شروع ہوا جب میں روزنامہ جنگ کے ساتھ وابستہ تھا۔ اور جنگ ملتان کا ادبی صفحہ ترتیب دیتا تھا۔ 21 اگست 2007 کو نامور افسانہ نگار اور ناول نگار قراۃ العین حیدر کا انتقال ہوا تو میں نے ان کی یاد میں جنگ کا خصوصی ایڈیشن تیار کیا اور اس ایڈیشن کی تیاری کے لیے مجھے مشتاق شیدا صاحب کی مدد کی ضرورت تھی۔ میں جانتا تھا کہ اس شہر میں قراۃ العین حیدر کا سب سے بڑے شیدائی مشتاق شیدا صاحب ہیں جن کی نہ صرف ان کے ساتھ خط و کتابت رہی بلکہ وہ انہیں ملنے کے لیے بھارت کا بارہا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر عامر سہیل نے مجھے خاص طور پر بتایا تھا کہ اس ایڈیشن کی تیاری میں تمہیں مشتاق صاحب سے بہت کچھ مل جائے گا۔ مشتاق صاحب کے پاس قراۃ العین حیدر کی تصاویر بھی تھیں ان کے یادگار خطوط بھی۔ وہ قراۃ العین حیدر کے بڑے پرستار تھے۔
مشتاق شیدا صاحب کے ساتھ ابتدائی ملاقات تو یہی تھی جو بعد ازاں دوستی میں تبدیل ہو گئی۔ پھر یہ ہوا کہ میں نے مختلف اوقات میں ان کے پاس جانا شروع کر دیا۔ کبھی خود ان کا مجھے فون آ جاتا تھا۔ وہ طویل گفتگو کرتے تھے صبح صبح ابھی میں نیند میں ہوتا تھا تو ان کا مجھے فون آ جاتا تھا۔ پھر وہ ایک طویل گفتگو کرتے اور آخر میں مجھے خود کہتے کہ یار تم تو ابھی نیند میں ہو میں پھر ٹیلی فون کروں گا۔ اس کے بعد میں نے ان کے گھر جانا شروع کیا ان کے پاس بیٹھنا شروع کیا۔ ان کے ڈرائنگ روم میں بہت دیر ان کے ساتھ گفتگو رہتی تھی اور چائے کا دور چلتا تھا۔ ان کے پاس بہت سی کہانیاں تھیں سنانے کے لیے۔ سو میرا ان کے ساتھ ایک محبت کا سلسلہ قائم ہوا جو اس وقت تک جاری رہا جب تک وہ ملتان میں رہے۔ وہ ایک بہت محبت کرنے والے انسان تھے ایک مسکراتے ہوئے، قہقہے لگاتے زندہ دل انسان۔ شیدا صاحب محفل کے آدمی تھے اور جب وہ کسی محفل میں ہوتے تھے پھر توجہ کا مرکز بھی وہی رہتے تھے۔
موسیقی اور فلموں سے بھی انہیں بہت شغف تھا۔ کئی فلم سازوں اور موسیقاروں سے ان کی ملاقاتیں رہیں جن میں نوشاد اور انل بسواس کے نام قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری مختلف شہروں میں رہے ساہیوال میں وقت گزارا، سندھ میں بھی تعینات رہے۔ مشتاق صاحب کی کتاب ”میرا کار جہاں“ 2016 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کی تیاری بھی انہوں نے میرے ذمے لگائی۔ کتاب کا نام بھی انہوں نے قراۃ العین حیدر کی کتاب کے نام سے اخذ کیا۔ وہ بہت خوبصورت خاکے لکھتے تھے۔ خاص طور پر زوار حسین اور خالد سعید کے بارے میں ان کے خاکے شاہکار کا درجہ رکھتے ہیں۔ مشتاق شیدا کی اس کتاب کو اگر ہم ”مشتاق شیدا کا کار جہاں“ قرار دیں تو بے جا نہ ہو گا کہ اس کتاب میں انہوں نے وہ سب کچھ جمع کر دیا ہے جو ان کی زندگی کا حاصل ہے۔ اس میں خاکے بھی ہیں، سفرنامے اور خطوط بھی، شاعری بھی ہے اور بہت سے دوستوں کا تذکرہ بھی وہ دوست جو ان کے قریب رہے۔ شیدا صاحب نے بہت متحرک زندگی گزاری۔ وہ وکالت کے شعبے کے ساتھ منسلک رہے لیکن ادب، شاعری اور فنونِ لطیفہ کے ساتھ ان کی بے پناہ وابستگی بھی برقرار رہی۔
انہوں نے مختلف ممالک کے سفر کیے، موسیقاروں، اداکاروں، فلمسازوں، مصوروں اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والی دیگر شخصیات کے ساتھ ان کے ذاتی مراسم رہے۔ قرة العین حیدر کو اگر مشتاق شیدا کے جیون کا محور قراردیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ انہیں اس عظیم ناول نگار اور افسانہ نگار کے ساتھ والہانہ محبت بھی تھی اور عقیدت بھی۔ اور اس کا اظہار انہوں نے اپنی تحریروں میں جابجا واشگاف انداز میں کیا ہے۔ مشتاق صاحب معروف ماہر تعلیم، افسانہ نگار اور محقق ڈاکٹر صباحت مشتاق کے والد تھے 19 اکتوبر 2016 کو وہ اسلام آباد میں انتقال کر گئے جمعرات مورخہ 20 اکتوبر کو مرکزی عید گاہ شمس آباد ملتان میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔
وہ 1970 میں ملتان آئے اور کم و بیش نصف صدی اسی شہر میں گزار دی۔ ان کی وفات کے بعد بس ایک بار ہم نے ادبی بیٹھک میں انہیں یاد کیا تھا لیکن پھر انہیں بھی اسی طرح فراموش کر دیا گیا جیسے ہم نے عرش صدیقی سمیت ایسی اور بہت سی شخصیات کو فراموش کیا جو اس شہر کا اثاثہ تھیں۔


