میرؔ تقی میر: صاحب دیوان کی دیوانگی


ڈنمارک کے وجودی فلسفی سورن کرکیگارڈ نے ایک جگہ لکھا ہے، ”شاعر ایک ایسا دکھی انسان ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے داخلی کرب کا اظہار کرتا ہے تو اس کے درد و غم شعر و نغمہ میں ڈھل جاتے ہیں“ ۔

میر تقی میرؔ کا شعر ہے
خوش ہوں دیوانگیِ میرؔ سے سب
کیا جنوں کر گیا شعور میں وہ!

جب ہم میرؔ تقی میرؔ کی داستان حیات کا نفسیات کے آئینے میں مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ان کی ذات، شخصیت اور طرزِ زندگی میں فن اور پاگل پن، شاعری اور دیوانگی بڑے پراسرار طریقے سے گھل مل گئے تھے۔ جہاں تک فن اور پاگل پن کے گنجلک رشتے کی تفہیم کی کوشش ہے ماہرینِ ادب اور ماہرینِ نفسیات میں مختلف ادوار میں مختلف نظریات مقبول رہے ہیں۔

یونانی دیومالا کی تاریخ میں ہمیں الہامی دیوانگی کا تصور ملتا ہے۔ یونانیوں کا ایمان تھا کہ فنونِ لطیفہ دیوتاؤں، دیویوں اور فرشتوں کی دین ہے۔ انہوں نے مختلف خداؤں کو مختلف صفات دے رکھی تھیں۔ اپولو مستقبل کے علم کا خدا تھا،

ایروس محبت کا دیوتا تھا اور میوس شاعری کی دیوی تھی جو شاعروں کو شعر و نغمہ کے تحفے لا کر دیتی تھی۔ ان کا خیال تھا شاعر کی زبان سے خدا بولتا ہے۔ فارسی اور اردو شاعری میں بھی ان خیالات اور تصورات کی گونج سنائی دیتی ہے

شاعری جزو ایست از پیغمبری

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالبؔ صریرِ خامہ نوائے سروش ہے

سقراط کا خیال تھا کہ کسی شخص کا زبان اور علمِ عروض سے واقف ہونا اعلیٰ شاعری کے لیے کافی نہیں۔ اس کے لیے مزاج کا موزوں ہونا اور دیوانگی میں مبتلا ہونا بہت ضروری ہے۔ افلاطون پوچھا کرتا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ وہ لوگ جو شاعری کی معراج تک پہنچتے ہیں مالیخولیا کا شکار ہو جاتے ہیں۔

پچھلی چند صدیوں میں طب، سائنس اور نفسیات کی تحقیق کے ساتھ ساتھ فن اور پاگل پن کے بارے میں ہمارے نظریات میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔ اب ہم بہت سے ایسے نفسیاتی مسائل اور ذہنی بیماریوں کی تشخیص بھی کر سکتے ہیں اور علاج بھی جو تشخیص اور علاج میرؔ تقی میر کے دور میں ممکن نہ تھا۔

پاگل پن کا دورہ

میرؔ تقی میر کو نوجوانی میں ہی اتنی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ اپنی زندگی کا توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے۔ انہیں عنفوانِ شباب میں ہی پاگل پن کے شدید دورے کا سامنا کرنا پڑا۔ جمیل جالبی لکھتے ہیں

”میر سترہ سو انتالیس میں دلی آئے اور کچھ عرصہ بعد جنون کے مرض میں مبتلا ہو کر ’زندانی و زنجیری‘ ہو گئے“ ۔

اس وقت میرؔ کی عمر صرف اٹھارہ برس تھی۔ اپنی بیماری کا حال میرؔ نے اپنی مثنوی، خواب و خیال، میں تفصیل سے رقم کیا ہے۔ اس مثنوی کے مندرجہ ذیل اشعار غور طلب ہیں

چلا اکبر آباد سے جس گھڑی
در و بام پر چشمِ حسرت پڑی
پس از قطعِ رہ لائے دلی میں بخت
بہت کھینچے یاں میں نے آزار سخت
جگر جور گردوں سے خوں ہو گیا
مجھے رکتے رکتے جنوں ہو گیا
ہوا ضبط سے مجھ کو ربطِ تمام
لگی رہنے وحشت مجھے صبح و شام
کبھو کف بلب مست رہنے لگا
کبھو سنگ در دست رہنے لگا

میرؔ نے اپنی ذہنی بیماری کا حال اپنی آپ بیتی میں ان الفاظ میں رقم کیا ہے

”میرا دکھا ہوا دل اور بھی زخمی ہو گیا اور میں پاگل ہو گیا۔ مزاج میں وحشت پیدا ہو گئی۔ جس کوٹھڑی میں رہتا تھا اس کا دروازہ بند کر لیتا اور اس ہجومِ افکار میں تنہا بیٹھ جاتا۔ چاند نکلتا تو میرے لیے قیامت ہوتی تھی۔ لوگ مجھ سے دور بھاگتے تھے۔ چاند رات میں ایک حسیں پیکر اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ کرہِ قمر سے میری طرف آتا اور مجھے بے خود کر دیتا۔ چار مہینے تک وہ گلِ شب افروز نت نئے انداز دکھاتا اور اپنے فتنہِ خرام سے قیامت ڈھاتا رہا۔“

میرؔ کی دیوانگی کا یہ دورہ چند ماہ تک قائم رہا اور پھر ان کی صحت بہتر ہونے لگی۔ اگر میرؔ آج کے دور میں زندہ ہوتے اور کسی ماہرِ نفسیات سے مشورہ کرتے تو وہ ان کی تشخیص PSYCHOTIC DEPRESSION کرتے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے عوامل تھے جنہوں نے میرؔ کی ذہنی صحت کو تباہ اور ان کی شخصیت کو پارہ پارہ کر دیا۔ میرؔ کی سوانح اور دیگر مشاہیر کی تصانیف سے جو صورت سامنے آتی ہے اس میں مندرجہ ذیل عوامل اہم دکھائی دیتے ہیں۔

1۔ موروثی اثرات

علی سردارؔ جعفری میر کے بارے میں لکھتے ہیں ”ذہنی ورثے میں ان کو تصوف کے بعض خیالات اور چچا کا پاگل پن ملا جس نے آگے چل کر گل کھلایا اور جوانی کی ابتدائی بہاریں دیوانگی کی نذر ہو گئیں۔“

میرؔ خود اپنی سوانح میں لکھتے ہیں ”میرے دادا کے دو لڑکے تھے۔ بڑے کے دماغ میں خلل تھا۔ یہ جوانی میں ہی مر گئے۔ انہوں نے اپنی کوئی اولاد نہیں چھوڑی۔ چھوٹے میرے والد تھے۔ انہوں نے فقر و درویشی اختیار کی“

اکیسویں صدی کے محققین کی رائے میں پاگل پن میں موروثی اثرات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے پاگل پن کے شکار ہونے کے ایک فیصد امکانات ہوتے ہیں لیکن اگر کسی بچے کا باپ، ماں، چچا، ماموں، خالہ یا پھوپھی پاگل پن کا شکار ہو چکے ہوں تو اس کے ذہنی مریض ہونے کے امکانات دس گنا بڑھ جاتے ہیں۔

2۔ نامساعد حالات

میرؔ کو بچپن سے ہی نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے والد کی دو بیویاں تھیں جس کی وجہ سے خاندان میں بہت سے تضادات پیدا ہو گئے تھے۔ میرؔ چودہ برس کے ہی تھے کہ ان کے والد شدید بیمار ہوئے اور اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ مرنے سے پہلے انہوں نے وصیت کی کہ جب تک ان کا قرض نہ اتارا جائے، جنازہ نہ اٹھایا جائے۔ اس چھوٹی سی عمر میں نہ صرف باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا بلکہ ساری ذمہ داریوں کا بوجھ ان کے کمزور کندھوں پر آن پڑا۔ اس نازک موڑ پر سوتیلے بھائی نے برادرانَ یوسف کا سا سلوک کیا جس سے میر بہت رنجیدہ ہوئے۔ علی سردار جعفری لکھتے ہیں

”میر نے اپنی ماں کے بارے میں کچھ نہیں لکھا لیکن اپنے سوتیلے بھائی محمد حسن کا ذکر جس انداز سے کیا ہے وہ اس پر شاہد ہے کہ یہ گھرانا خوش و خرم نہیں ہو سکتا تھا۔ جب ان کے باپ کا انتقال ہوا تو وہ تین سو روپے کے مقروض تھے اور انہوں نے اپنے ترکے میں چند سو کتابوں کے سوا کچھ نہیں چھوڑا اور ان کتابوں پر میر کے سوتیلے بھائی نے قبضہ کر لیا اور میرؔ نے اپنے باپ کے ایک مرید کی بھیجی ہوئی پانچ سو روپے کی ہنڈی سے قرض ادا کر کے لاش دفن کی۔“

میرؔ خود اپنی سوانح میں اپنے والد کی وفات کے بارے میں لکھتے ہیں

”درویش نے آنکھیں موندیں تو سارا عالم میری نظروں میں تاریک ہو گیا۔ بڑا حادثہ رونما ہوا۔ آسمان مجھ پر ٹوٹ پڑا آٹھ آٹھ آنسو روتا تھا۔ صبر و شکیب جاتا رہا۔ دیواروں سے سر پھوڑتا تھا۔ خاک پر لوٹتا تھا۔ بڑا ہنگامہ بپا ہوا۔ گویا قیامت نمودار ہوئی۔ میرے بڑے بھائی نے انسانیت بالائے طاق رکھ کر طوطا چشمی اختیار کر لی۔“

میرؔ اگلے تین سال تک ملازمت اور روزگار کی تلاش میں سرگرداں رہے لیکن خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی۔ اسی دوران میرؔ ایک دخترِ خوش گل، ایک مہ رخ حسینہ کے عشق میں گرفتار ہو گئے اور رسوائے زمانہ ہوئے۔ حالات اتنے ابتر ہوئے کہ انہیں شہر چھوڑ کر دہلی جانا پڑا۔ سردار جعفری لکھتے ہیں

”میر پر کسی پری چہرہ معشوق نے جادو کر دیا تھا۔ ان کا نام آج بھی پردے میں ہے لیکن اتنا کہا جا سکتا کہ عشق کی آگ دونوں دلوں میں لگی اور محبت کی پینگیں بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ گئیں کہ رسوائی اور بدنامی ہونے لگی۔ دیواریں درمیان میں حائل ہوئیں اور وصل کی شامیں ہجر کی راتوں میں ڈھل گئیں اور میرؔ کو اپنا عزیز وطن ترک کرنے پر مجبور ہونا پڑا“

جیسے حسرت لئے جاتا ہے جہاں سے کوئی
آہ یوں کوچہِ دلبر سے سفر ہم نے کیا

میرؔ دہلی جا کر اپنے سوتیلے ماموں سراج الدین علی خان آرزو کے ہاں ٹھہرے۔ کچھ عرصہ تو حالات اچھے رہے لیکن پھر ان کے سوتیلے بھائی نے ایک زہر بھرا خط ماموں کو بھیجا جس کے پڑھنے کے بعد آرزو بھی ان کے دشمن ہو گئے۔ میرؔ کے لیے حالات کی ستم ظریفی ناقابلِ برداشت ہو گئی اور وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے۔

علاج

اگر میر آج کے دور میں زندہ ہوتے تو ان کا علاج ادویہ اور سائیکوتھراپی سے کیا جاتا لیکن اٹھارہویں صدی میں حکیموں، طبیبوں کے گنڈا تعویزوں سے علاج کیا جاتا تھا۔ میرؔ کے چند کرم فرماؤں نے ان کا خیال رکھا اور وہ چند ماہ بعد بہتر ہو گئے۔ میر اپنی نگاہ میں تو صحتیاب ہو گئے لیکن ان کی شخصیت اور بقیہ زندگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی ذہنی بیماری نے ان کی شخصیت کو بری طرح متاثر کیا جس کی وجہ سے وہ عمر بھر نفسیاتی مسائل کا شکار رہے۔ علی سردار جعفری لکھتے ہیں، چند ماہ میں میرؔ اس مرض سے اچھے ہو گئے لیکن یہ دیوانگی ایک خوبصورت پرچھائیں کی طرح ان کی شاعری پر منڈلاتی رہی۔

میرؔ کی دیوانگی سے صحتیابی میں ادب نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ میرؔ کو سید سعادت علی نے غزل لکھنے کی ترغیب دی جس سے انہیں نفسیاتی طور پر بہت فائدہ ہوا۔ دیوانگی کی وجہ سے میرؔ میں جو احساسِ کمتری پیدا ہو رہا تھا شاعری نے اسے سہارا دیا۔ آج کے دور میں ہم اسے آرٹ تھراپی کہتے ہیں۔ میں بھی اپنے کریٹیو سائیکو تھراپی کلینک میں اپنے مریضوں کو فنی اظہار کی ترغیب دیتا ہوں جو ان کی صحتیابی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

میر کی شخصیت

میر کے نفسیاتی مطالعہ میں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر میرؔ کی دیوانگی اور ناسازگار حالات نے کس طرح ان کی شخصیت کو متاثر کیا۔

میرؔ کے بارے میں جتنے بھی مضامین اور کتابیں چھپی ہیں ان سب میں ان کی بد دماغی کا ذکر ہے۔ وہ خود اپنے اشعار میں اس کا اعتراف کرتے ہیں
صحبت کسی سے رکھنے کا اس کو نہ تھا دماغ
تھا میرِؔ بے دماغ کو بھی کیا ملا دماغ

میرؔ حد سے زیادہ حساس اور زود رنج تھے۔ وہ خود اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں ”جب خان نے مجھے ڈوم کے لڑکے کو ریختہ کے اشعار یاد کرانے کو کہا تو میں نوکری چھوڑ کر آ گیا۔ خان نے کئی دفعہ بلایا لیکن نہ گیا“ ۔

میرؔ خود دار اور غیرت مند بھی تھے۔ محمد حسین آزاد، آبِ حیات، میں لکھتے ہیں ”جب نواب نے میرؔ سے غزل سنتے ہوئے توجہ نہ دی اور اپنی چھڑی سے مچھلیوں سے کھیلتے رہے تو میرؔ اتنے برہم ہوئے کہ غزل جیب میں ڈالی اور گھر لوٹ آئے اور پھر نواب کے پاس جانا چھوڑ دیا“

اگر میرؔ کی بد دماغی بادشاہوں اور نوابوں تک رہتی تو ہم اس کو درویشی اور قلندری کا نام دے سکتے تھے لیکن میرؔ کی بد دماغی سے عام لوگ بھی محفوظ نہ تھے۔ آزاد نے میرؔ کے بارے میں مشہور واقعہ لکھا ہے کہ لکھنؤ جاتے ہوئے میرؔ نے اپنے ہمسفر سے بات چیت نہ کی کہ اس سے ان کی زبان خراب ہونے کا اندیشہ تھا۔ یہ واقعہ زبان کی صحت سے محبت کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت کے تکبر اور غرور کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔

میر کے بارے میں یہ واقعہ بھی مشہور ہے کہ کسی نے پوچھا کہ لکھنؤ میں کتنے شاعر ہیں تو کہنے لگے ایک سودا دوسرا میں اور آدھا میر دردؔ۔ کسی نے کہا سوزؔ بھی تو ہیں نواب آصف الدولہ کے استاد ہیں۔ کہنے لگے تو چلو پونے تین سہی۔

میرؔ کو اپنی زبان اور شاعری پر اتنا فخر تھا کہ وہ دعویٰ کرتے تھے
کس کس ادا سے ریختے میں کہے ولے
سمجھا نہ کوئی میری زبان اس دیار میں

زندگی کے آخری دن

میر زندگی کے آخری چند سال لکھنؤ میں رہے اور آہستہ آہستہ محفلوں سے کٹتے چلے گئے۔ انہوں نے خاموشی، اداسی اور تنہائی کو گلے لگا لیا۔ ان کی زندگی میں تین سالوں میں ان کے بیٹے، ان کی بیٹی اور اہلیہ کی موت نے بھی ان کی کمر توڑ دی۔ کلیاتِ میرؔ کے دیباچے میں درج ہے ”تین برس ان کے لیے تین حشر آفریں ہنگامے تھے جن کی تاب نہ لا سکے۔ ان حوادث سے وہ نہایت پست ہمت اور دل شکستہ ہو گئے اور ان کے ہوش و حواس میں ایک وارفتگی سی آ گئی اور ایک حد تک گوشہ نشین ہو گئے“

میرؔ نے اٹھارہ سو دس میں نوے برس کی عمر میں وفات پائی۔ عین ممکن ہے کہ میر موت سے پہلے بھی ڈپریشن کا شکار رہے ہوں۔ ان کے آخری دنوں کا شعر ہے

ساز پسیج آمادہ ہے سب قافلے کی تیاری کا
مجنوں ہم سے پہلے گیا ہے اب کے ہماری باری ہے

نفسیاتی حوالے سے یہ محض اتفاق نہیں کہ موت سے پہلے میر نے جس تاریخی کردار سے ذہنی و قلبی تعلق محسوس کیا وہ مجنوں تھا۔

اختتامیہ

جب ہم میر کی زندگی پر پیدائش سے موت تک نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ میرؔ کو بچپن میں خاندانی تضادات کا، لڑکپن میں والد کی وفات اور سوتیلے بھائی کے حاسدانہ سلوک کا، نوجوانی میں ناکام عشق اور پاگل پن کا، ادھیڑ عمر میں دلی سے جدائی کا اور بڑھاپے میں بچوں اور اہلیہ کی جدائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان واقعات سانحات اور حادثات نے جہاں میرؔ کو یہ کہنے پر مجبور کیا

مجھ کو شاعر نہ کہو میرؔ کہ صاحب ہم نے
درد و غم کتنے کیے جمع سو دیوان کیا

تو دوسری طرف یہ کہنے پر اکسایا
سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا

میرؔ کی زندگی ہم پر یہ واضح کرتی ہے کہ جہاں انہوں نے فن کی بلندیوں کو چھوا وہیں وہ غم و اندوہ کی گہرائیوں میں بھی اترے۔ جہاں انہوں نے شاعری کی عظمت کو گلے لگایا وہیں انہوں نے دیوانگی کے کرب کو بھی برداشت کیا اور پھر اس کرب کا تخلیقی اظہار کیا۔

میر کی زندگی اور ان کی شاعری ماہرینِ ادبیات اور ماہرینِ نفسیات دونوں کو دعوتِ فکر دیتی ہے۔ مجھے میر تقی میر پر مضمون لکھتے ہوئے اپنے شاعر چچا عارفؔ عبدالمتین کا ایک شعر یاد آ رہا ہے، فرماتے ہیں

میری عظمت کا نشان، میری تباہی کی دلیل
میں نے حالات کے سانچوں میں نہ ڈھالا خود کو

حوالہ جات

1 کلیاتَ میر۔ میر تقی میر۔ سنگِ میل پبلشرز لاہور
2۔ میر کی آپ بیتی۔ میر تقی میر۔ مکتبہ برہان دہلی
3۔ آبِ حیات۔ محمد حسین آزاد۔ سنگِ میل پبلشرز لاہور
4۔ میر تقی میر۔ جمیل جالبی۔ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی
5۔ ادبی معرکے۔ یعقوب عامر۔ ترقی اردو بیورو۔ دہلی
6۔ پیغمبرانِ سخن۔ علی سردار جعفری۔ جعفری ایڈ شاٹ پبلی کیشنز بمبئی
7۔ نقوش میر تقی میر۔ محمد طفیل۔ اردو فروغ اردو۔ لاہور

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail