ڈاکٹر کبیر اطہر کا تصور مسیحائی

مسیحائی کا دائرہ کار جسمانی اور روحانی عوارض کو محیط ہے۔ دونوں عوارض انسانی ذات سے متعلق ہیں۔ کچھ عوارض کا تعلق فرد کے بجائے سماج سے ہوتا ہے۔ یہ عوارض براہِ راست لوگوں کی زندگیوں پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔ سماجی، مذہبی، سیاسی اور اخلاقی اعتبار سے ان عوارض کے لیے ایک مسیحا کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کبیر اطہر معروف آرتھوپیڈک سرجن ہیں۔ اُن کی شاعری میں جابجا انفرادی اور اجتماعی عوارض کی جانب اشارہ ملتا ہے۔ اس مضمون میں اُن کے تصورِ مسیحائی کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی تصورات پر نقد و بحث کی گنجائش ہے۔ جدید شاعری میں شاعر کے منہا کرنے کا جواز ڈھونڈنے کی کوشش کے باوجود اُردو شاعری ہنوز شاعر کو منہا کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارا نظامِ زندگی ہے۔ مغرب میں فرد کو اکائی کی حیثیت سے تسلیم کر لیا گیا ہے۔ جب اُس کی ذات میں مداخلت کی گنجائش نہیں ہے۔ ہمارے ہاں فرد کو اجتماعی دائرہ کار میں دیکھا جاتا ہے۔ یعنی اُس کے ذاتی معاملات کو سماجی سطح پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ سماج کے ضابطے اور اخلاقیات اُسے خاص دائرے میں رکھتے ہیں۔ سوچ، عمل اور اظہار میں سماج مانع ہوتا ہے۔ عوارض کی تمام تر صورتیں جسمانی، روحانی، انفرادی اور اجتماعی نوعیت کی ہوتی ہے۔ جہاں ایک کارِ خیر کا آغاز ہوتا ہے۔ شاعر جب اپنی ذات سے باہر نکل کر دیکھنے لگتا ہے تو ایک مسیحا جنم لیتا ہے۔ افسوس ہمارے اکثر شعرا تمام زندگی ذات میں رہ کر گزار دیتے ہیں اور اُنھیں باہر نکل کر دیکھنے کی توفیق نہیں ہوتی ہے۔
بہت پہلے ڈاکٹر کبیر اطہر کی ایک غزل میرے مطالعے میں آئی تھی۔ دو شعر ملاحظہ کیجیے :
بس اتنا دخل تھا میرا خدا کے کاموں میں
میں مرتے لوگوں کی جانیں بچایا کرتا تھا
مرے سپرد کفالت تھی بے زبانوں کی
میں رزق اِس لیے وافر کمایا کرتا تھا
ان اشعار نے مجھے اس مضمون کا موضوع ڈھونڈنے میں مدد دی ہے۔ یوں میں نے اِس آئینے میں ڈاکٹر کبیر اطہر کی شاعری کو دیکھنا شروع کیا تو ایک جہان حیرت کو اپنا منتظر پایا۔
پہلے رومانی سطح پر مسیحائی کا انداز دیکھیے۔ محبت میں مسیحائی کا یہ پہلو حد درجہ ندرت کا حامل ہے۔ میرا خیال ہے کہ بہت کم شعراء نے اس منطقے کو دریافت کیا ہے۔ شعر ملاحظہ ہوں :
تجھے اے خوش بند! ٹیسیں نہیں میں لطف دوں گا
مجھے کیکر نہیں شمشاد سے توڑا گیا ہے
ابھی تو ٹوٹے ہوئے دل پہ کام جاری ہے
بحال چشم تمنا کا بھی بھرم کریں گے
یہ ہے شراب کی بوتل، یہ آبِ زم زم کی
جسے جہاں سے ملے گی خوشی بہم کریں گے
ذاتی سطح پر مسیحائی کا تجربہ کم ملتا ہے۔ میں ڈاکٹر کبیر اطہر کے یہ شعر پڑھ کر سرشار ہو گیا ہوں۔ اس کیفیت کا اظہار ذاتی تجربے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ دو شعر دیکھیے :
رونے کے ساتھ جس پہ بہت ہنس رہا ہوں میں
اس حادثے میں لطف کا پہلو زیادہ ہے
وہ تُو ہے مجھ میں، جس کی حفاظت کے واسطے
باہر سے خاردار بنایا گیا مجھے
نہیں ہے میرے دکھوں کا مرے سوا کوئی
خیال اس لیے رکھنا ہے مجھ خریں کا مجھے
کیا مسیحائی کے تصور میں پشیمانی کا تصور بھی ممکن ہے؟ مجھے ایک شعر ایسا بھی ملا ہے جو بیک وقت دونوں کیفیات کی غمازی کرتا ہے۔
رشتوں میں احساسِ تحفظ اور اس تحفظ میں کوتاہی کا یہ زاویہ بھی اُردو شاعری کی زینت بن گیا ہے۔ یہاں ترجیحات کے بجائے میلانات کو دخل حاصل ہے۔ ہم معاملات میں اکثر اوقات اس غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں۔
گم صم ہوں بیوی بچوں کی جانیں بچا کے میں
ماں کی طرف تو دھیان گیا ہی نہیں مرا
ڈاکٹر کبیر اطہر کے تصور مسیحائی میں روح اور جذبے کا ایسا امتزاج بھی ملتا ہے۔ جسے تخلیقی سطح پر بیان کرنا نہایت فنکارانہ صلاحیتوں کا مظہر ہوتا ہے۔ وہ عام ذہن کے تمام ممکنہ زاویوں سے الگ ایک نئے زاویے کی جستجو میں رہتے ہیں اور اُسے ڈھونڈنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ میں حد درجہ اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ ڈاکٹر کبیر اطہر نے اپنے مجموعہ کلام ”نم“ کے عنوان کا انتخاب اِس شعر سے کیا ہے :
تکلیف میں ہوں پیاسے پرندوں کے غم سے میں
کچھ کو بچا بھی سکتا تھا آنکھوں کے نم سے میں
آنکھوں کے نم سے پرندوں کی پیاس بجھانے کا تصور میرے مطالعے میں پہلی بار آیا ہے۔ ویسے بڑی تعداد میں ایسے شعر موجود ہیں جو اپنی ترتیب و تزئین میں پہلی بار دیکھنے میں آئے ہیں۔
کبیر اطہر اپنے کارِ مسیحائی میں آخری حد تک جا سکتے ہیں البتہ وہ اپنی ہمت اور حوصلے کی راہ میں تھکن سے انکاری نہیں ہیں۔ اس کے باوجود اُمید کا دیا بجھنے نہیں دیتے ہیں۔ اس شعر کے کئی زاویے قاری کی توجہ کھینچتے ہیں۔
پہنچوں گا ان دلوں میں بھی جن تک نہیں گیا
میں شعر کہتے کہتے اگر تھک نہیں گیا
کر دیا میں نے ہواؤں کے حوالے ورنہ
غم کو خوشبو میں بدلنے کی روایت کم ہے
تعمیر میں تخریب کا تصور تو عام پایا جاتا ہے مگر کیا اس میں کوئی خاص قرینہ ایسا ہو سکتا ہے کہ تخریب کی جانب دھیان ہی نہ جائے اور تعمیر دل و دماغ پر غالب آ جائے؟ اس نوع کی واردات ہرگز عمومی نہیں ہوتی ہے۔ ایسا شعر خیال کی ترتیب سے زیادہ جذبے کی سچائی سے عبارت ہوتی ہے۔
تب تک اُجاڑتا رہا میں باغ شہر کے
پھولوں سے جب تک وہ مکاں ڈھک نہیں گیا
اجتماعی سطح پر کار مسیحائی کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ میں نے ابتدا میں کہا تھا کہ اُردو شاعری شاعر کو منہا کر کے تخلیق کو دیکھنا افورڈ نہیں کرتی ہے۔ ایک آرتھوپیڈک ڈاکٹر اور شاعر کو منہا کر کے دیکھنے سے اس شعر کا حسن غارت ہو جائے گا۔ ملاحظہ کیجیے :
اپاہجوں کے لیے رونق حیات ہوں میں
کس کا پاؤں ہوں میں اور کسی کا ہاتھ ہوں میں
دوسروں کے لیے رونق حیات بننے والا شاعر اپنی زندگی کی پروا نہیں کرتا ہے۔ یہی سچے شاعر کا منصب ہے کہ وہ صرف شعر نہ کہے بلکہ جب کبھی کچھ کر گزرنے کا موقع آئے تو سینہ تان کر کھڑا ہو جائے۔ گو درج ذیل شعر صرف مشاہدے کا مرہون منت ہے۔ اس کے باوجود اس صداقت سے انکار ممکن نہیں ہے۔
جان گنوا بیٹھا ہوں میں اُوروں کے جھگڑے میں
ہمت کی تھی خوابوں کو تعبیر دلانے کی
کارِخیر اور کارِ مسیحائی ایک ہی پودے کے دو مختلف پھول ہیں۔ کبھی کبھی یہ دونوں ایک ہی شاخ پر اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اس طرح ان کی قدر مزید بڑھ جاتی ہے۔ وہ راست فکر شاعر ہیں اور اس نوعیت کے درجنوں مضامین ”نم“ میں ملتے ہیں۔
ٹوٹے دلوں کو جوڑتا رہتا ہوں اس لیے
جھگڑے محبتوں کے نہ پہنچیں وکیل تک
رکھتا ہے پیش پیش بھی ہر کارِ خیر میں
اور خود کو آشکار بھی کرنا نہیں مجھے
یہ ڈاکٹر کبیر اطہر کے تصور مسیحائی کا مختصر جائزہ ہے۔ ان کے دیگر موضوعات پر الگ الگ جائزے اپنے نقاد کے منتظر ہیں۔ میں مضمون کا اختتام کتاب میں شامل نعت کے اس شعر سے کرتا ہوں :
یہ میری آنکھ کھلے آپ ﷺ کے زمانے میں
میں سو کے اُٹھوں تو ناممکنات سا کچھ ہو

