صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 24 : اعتماد
”وہ اپنی بہتیری لچک دار باتوں سے اُسے بہکا لیتی ہے، اپنے لبوں کی چاپلوسی سے اُسے گمراہ کر دیتی ہے۔ وہ فوراً اُس کے پیچھے ہو لیتا ہے، جیسے کوئی بَیل ذبح ہونے جاتا ہے، اور جیسے کوئی ہرن جال میں پھنسنے کے لئے قدم بڑھاتا ہے۔“ امثال 7 : 21۔ 22
میں مریم کو خدا حافظ کہہ کر باہر نکلا تو انکل شاہد چائے پر میرا انتظار کر رہے تھے۔ آنٹی حسب معمول کوئی سوئٹر بُن رہی تھیں۔ جینی باورچی خانے میں چائے بنا رہی تھی۔ انکل اور آنٹی کو اندازہ ہو گیا تھا کہ مریم نے مجھے بتا دیا ہے کہ اس نے دانی ایل کی پیش کش کو رد کر دیا ہے۔
” تو مریم نے آپ کو بتا دیا؟“ انکل شاہد نے پوچھا۔
”جی،“ اس سے زیادہ میں اور کیا کہتا۔
”ہمیں بہت افسوس ہوا۔“
” چھوڑیں، آپ کیوں خود کو پریشان کرتے ہیں؟“ آنٹی نے ادھ بُنے سوئٹر کو اون کے گولے کے گرد لپیٹ کر اپنے برابر والی کرسی پر رکھتے ہوئے کہا۔
” آنٹی صحیح کہہ رہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ فیصلہ کرنا مریم کا حق ہے۔“
” میرے لیے تو دانی ایل لاکھوں میں ایک ہے۔ ہمارے بچے بھی اسے ہماری فیملی کا حصہ سمجھتے ہیں۔“
”میرا خیال ہے کہ مریم ابھی شادی کے لیے تیار نہیں ہے۔ جب تیار ہوگی تو وہ خود ہی دانی ایل کو پیش کش کردے گی۔“
” مگر اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ اس وقت تک دانی ایل کی شادی نہیں ہو چکی ہوگی؟“ انکل شاہد نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
” مریم کو یہ خطرہ تو مول لینا ہی پڑے گا۔“
” آج کل کے بچے میری سمجھ میں تو نہیں آتے،“ آنٹی نے کہا، ”دانی ایل ایمان دار لڑکا ہے، محنتی بھی ہے اور سب سے بڑی محبت سے ملتا ہے۔ رشتے کے لیے لڑکوں میں یہی باتیں دیکھی جاتی ہیں۔“
” آنٹی، آپ کا زمانہ اور تھا،“ میں نے کہا، ”بس خدا سے بھلائی کی امید رکھیں۔ “
اتنے میں جینی چائے لے کر آ گئی۔ آنٹی نے ایک چسکی لی تو بولیں، ”بیٹی، آپ نے اس میں چینی ڈال دی۔“
آنٹی کی بیماریوں کی فہرست میں ذیابیطس بھی شامل تھی چناں چہ انہوں نے کئی سال پہلے چائے میں چینی ڈالنا چھوڑ دی تھی اور انکل شاہد نے بھی اُن کا ساتھ دیا تھا۔
”معلوم ہوتا ہے کہ سر کی چائے آپ کے پاس پہنچ گئی،“ جینی نے آنٹی کے ہاتھ سے چائے کی پیالی لیتے ہوئے کہا، ”میں آپ کے لیے دوسری چائے بنا لاتی ہوں اور سر آپ کے لیے چینی لے کر آتی ہوں۔ “
”جینی، تم یہ پیالی مجھے دے دو۔ دوسری پیالی بنانے کی ضرورت نہیں ہے،“ میں نے جینی کو اپنی پیالی دیتے ہوئے کہا۔
” ارے نہیں سر، میں نے اس میں سے ایک گھونٹ لے لیا ہے،“ آنٹی نے کہا۔
”آنٹی، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں اپنی والدہ کا بچا ہوا پانی بھی پی لیتا ہوں،“ میں نے کہا۔ آنٹی صرف مسکرا کر رہ گئیں۔
” انکل شاہد، میرا فائنل کا رزلٹ آنے والا ہے۔ اس کے بعد ملازمت تلاش کروں گا اور نوکری ملنے کے بعد یہ ٹیوشن جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ مریم سے میری بات ہو گئی ہے۔ وہ میری جگہ بہن بھائیوں کو پڑھایا کرے گی۔“
” اِس کا مطلب ہے کہ اب آپ سے ملاقات نہیں ہوا کرے گی؟“ انکل شاہد نے اپنی خالی پیالی میز پر رکھتے ہوئے پوچھا۔
”نہیں، ایسی بات نہیں، مجھے جب بھی موقع ملے گا، چائے پینے کے لیے آ جایا کروں گا،“ میں نے کہا۔
”سر، آپ نے ہماری فیملی کو جو محبت دی ہے، اس کی وجہ سے ہم آپ کو اپنی فیملی کا ہی حصہ سمجھتے ہیں،“ آنٹی نے کہا۔
” آنٹی، مجھے بھی آپ سب سے جو محبت ملی ہے، میں خود کو بھی اِس فیملی کا حصہ سمجھتا ہوں۔“
” آپ نے بچوں کو بتا دیا ہے؟“ انکل شاہد نے پوچھا۔
” ابھی نہیں۔ کم از کم اِس ماہ کے آخر تک تو میں رہوں گا۔“
” تو پھر آپ ہی بچوں کو بتائیے گا۔“
”میں انہیں بتا دوں گا اور یہ بھی بتاؤں گا کہ جب وہ بڑے ہوں گے تو شادیاں بھی کریں گے اور اپنے بچوں کی پرورش اسی طرح کریں گے جس طرح آپ دونوں نے ان کی پرورش کی ہے،“ میں نے کہا، ”اور جہاں انہیں ملازمتیں ملیں گی وہاں منتقل ہوجائیں گے مگر یہ یاد رکھیں گے کہ ان کی جڑیں ان کی فیملی میں ہی ہیں جس میں ان کے والدین اور بہن بھائی شامل ہیں۔“
” شکریہ، بڑا اچھا پیغام ہو گا۔“
” یہ مریم کیوں کمرے سے نہیں نکل رہی؟“ آنٹی نے کہا۔
” رہنے دیں، آنٹی،“ میں نے اٹھتے ہوئے کہا، ”وہ ابھی جذباتی ہو رہی ہے۔ جب تیار ہوگی تو نکل آئے گی۔ اب مجھے اجازت دیں۔“
” کل تو آپ آئیں گے نا؟“ انکل شاہد نے پوچھا۔
” ہاں، ابھی تو میں اس ماہ کے آخر تک بچوں کو پڑھاتا رہوں گا۔“
میں انکل شاہد کے گھر سے نکلا تو میرے دماغ میں چکّی سی چل رہی تھی۔ مریم سے باتیں کر کے میرا موڈ خراب ہو گیا تھا۔ باہر نکل کر میں نے سوچا کہ مجھے موڈ خراب کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کیوں کہ مجھے کیا پڑی کہ وہ کس سے محبت کرتی ہے اور کس سے شادی کرتی ہے مگر پھر مجھے دانی ایل کی افسردگی کا خیال آیا۔ وہ میرے بچپن کا دوست تھا۔ نہ معلوم کیا سوچ رہا ہو گا۔ ”خیر، رات کو ملاقات ہوگی تو اس کے آنسو پونچھ لوں گا،“ میں نے سوچا۔
میرے دماغ میں سوالات کا جمگھٹ تھا۔ مریم کی منطق میری سمجھ سے بالا تر تھی۔ اگر وہ دانی ایل سے محبت کرتی ہے تو اس سے شادی کیوں نہیں کر سکتی؟ اس کے رویے کو دیکھ کر تو یہی کہا جاسکتا تھا کہ وہ مردوں کو اپنی طرف متوجہ کر کے انہیں اپنے ساتھ جذباتی طور پر مشغول رکھتی ہے، جب کہ خود کسی قسم کی ذمہ داری قبول نہیں کرتی۔ میرے ساتھ بھی اس کی پہلی ملاقات میں مجھے احساس ہوا تھا کہ وہ میرے ساتھ فلرٹ کر رہی ہے اور اس نے قبول بھی کیا تھا۔ کیا اسے قربت کا خوف ہے جس کی بنا پر وہ کسی مرد سے گہرے جذباتی رشتے میں منسلک ہونے سے پہلے ہی اسے مسترد کر کے خود کو جذباتی خطرات سے بچانا چاہتی ہے؟
میں نے سوچا کہ یہ مریم کا دفاعی طریقہ کار بھی ہو سکتا ہے کہ وہ مردوں کو یقین دلاتی رہے کہ وہ ان سے محبت کرتی ہے مگر حفظ ما تقدم کے طور پر ان کے ساتھ طویل مدّت کا معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہ طریقہ کار اس کے کنٹرول کو برقرار رکھتا ہے اور زخمی ہونے سے بچاتا ہے۔ تعلقات کو سطحی حد تک رکھ کر وہ اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ وہ کنٹرول میں رہے اور کبھی جذباتی طور پر بے نقاب نہ ہو۔ یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ اگر اس کے جذبات کا نقاب اٹھ گیا تو کیا وہ بھیگی بلّی بن جائے گی یا چوٹ کھائی ہوئی ناگن؟
میں نے سوچا کہ کیا وہ مردوں کے ساتھ میٹھی میٹھی باتیں کر کے اپنی مقبولیت کی تصدیق چاہتی ہے؟ توثیق کی یہ ضرورت کسی گہرے احساس کمتری سے بھی پیدا ہو سکتی ہے، یا پھر اس کی کم زوری کی وجہ ماضی کی ناکام محبت ہو سکتی ہے اور ایک مرتبہ چوٹ کھانے کے بعد وہ دوبارہ خطرہ مول لینا نہیں چاہتی۔
***
کیفے جارج میں ہماری مخصوص میز خالی تھی۔ جوں ہی میں کرسی کھینچ کر بیٹھا، ویٹر ظریف نے مجھے ایک پرچہ تھماتے ہوئے کہا، ”دانی ایل صاحب شام کو آئے تھے اور آپ کے لیے یہ پیغام چھوڑ گئے تھے۔“
دانی ایل نے لکھا تھا کہ شاید اسے دیر ہو جائے یا نہ آ سکے کیوں کہ ریڈیو پاکستان میں اس کا ریکارڈنگ سیشن تھا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ وہاں سے کب تک فراغت ہو۔ اس زمانے میں شوقین طلبہ کا ایک گروپ ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوتا تھا جن میں سے کچھ گاتے تھے، کچھ ڈراموں کے اسکرپٹ لکھتے تھے اور کچھ صداکاری کرتے تھے۔ ہر کام کا معاوضہ دس روپے ہوتا تھا خواہ آپ ایک مکالمہ بولیں یا ڈرامے میں آپ کا مرکزی کردار ہو۔ دانی ایل گانا گاتا تھا اور ریڈیو آرٹسٹ کی حیثیت سے مشہور تھا۔ وہ مہدی حسن کے گلوں میں رنگ بھرے سے احمد رشدی کے کوکو کورینا تک یکساں مہارت سے گاتا تھا۔
گھڑی دیکھی تو سوا دس بج رہے تھے۔ میں سوچ ہی رہا تھا کہ ظریف کو چائے کا آرڈر دے دوں کہ سامنے کے دروازے سے دانی ایل داخل ہوا۔ وہ خلافِ توقع بڑے اچھے موڈ میں تھا۔ سفید پتلون اور نیلی ٹی شرٹ میں ملبوس تھا اور گردن کے گرد سفید اسکارف لپیٹا ہوا تھا۔
”کیوں بھئی، معلوم ہوتا ہے کہ کوئی جشن منانے کی تیاری ہو رہی ہے،“ میں نے کہا۔
”سوری یار مجھے دیر ہو گئی، سیدھا ریڈیو پاکستان سے چلا آ رہا ہوں،“ اس نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔
”میں تو سمجھ رہا تھا کہ تجھ پر ماتمی کیفیت طاری ہوگی۔“
”اچھا، تو تجھے مریم نے بتا دیا؟“
”ہاں، لیکن اس کی منطق میری سمجھ میں نہیں آئی۔“
”منطق تو میری سمجھ میں بھی نہیں آئی لیکن وہ اپنی مرضی کی مالک ہے۔“
”ویسے وہ اپنے فیصلے سے خوش نہیں لگتی۔“
”وہ خوش ہو یا نہ ہو، یہ اس کا فیصلہ ہے۔“
”مگر یار، مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ تو نے اس کے انکار کا دل پر اثر نہیں لیا۔“
”اس لیے کہ ایک دن وہ آئے گی میرے ہی پاس،“ اس نے قہقہہ لگا کر کہا۔
میں نے اس کے اعتماد کی وجہ نہیں پوچھی۔

