آخری نشانی
بس اڈے پر لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری تھا، کوئی گلے مل کر خوش ہو رہا تھا تو کسی کی آنکھیں اپنوں کو الوداع کہہ کر نم ہو رہیں تھیں۔ گاڑیوں کے ہارن کی آوازیں کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھیں عورتوں، بچوں اور جوانوں کی ملی جلی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
”یہ لال بس کا ٹکٹ دے دیں کھڑکی سے جھانکتے ہوئے اسلم نے کہا“
”سر آپ نے جانا کہاں ہے؟“ ایک نسوانی آواز نے دریافت کیا۔
”جہاں یہ بس جا رہی ہے“ اپنی دائیں جانب کھڑی لال بس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے کہا۔
”جی سر بارہ سو پچاس روپے دے دیں“
”بارہ سو پچاس“ اسلم نے زیر لب دہرایا اور کارڈ نکال کر آگے بڑھایا۔
”سر کارڈ میں بارہ سو روپے بیلنس ہے اور ٹکٹ بارہ سو پچاس کی ہے“ لڑکی نے کارڈ کھڑکی سے باہر کرتے ہوئے کہا۔
اسلم نے جیبوں کو ٹٹولنا شروع کر دیا مشکل سے بیس روپے نکلے ”ان سے کام چل سکتا ہے؟“ کھڑکی سے بیس روپے اندر کرتے ہوئے اس نے کہا۔
”سر میں معذرت چاہتی ہوں لیکن آپ کو پچاس روپے ہی دینے ہوں گے“ خاتون نے مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہا۔
”آپ سر کو ٹکٹ دیں میں آپ کو پچاس روپے دیتا ہوں“ پاس کھڑے ایک نوجوان لڑکے نے آگے بڑھتے ہوئے کہا۔
اسلم نے لڑکے کی طرف دیکھا اتنے میں خاتون نے ٹکٹ باہر نکالا اسلم نے ٹکٹ لیا اور خاموشی سے بس کی طرف بڑھنے لگا نوجوان لڑکا بھی اسلم کے پیچھے پیچھے بس میں داخل ہوا اور اسلم کی ساتھ والی نشست پر بیٹھ گیا۔
بس کے اندر خاموشی تھی ماحول بھی باہر کے مقابلے میں ٹھنڈا تھا، لڑکا اسلم میں دلچسپی لے رہا تھا کبھی اس کے پاؤں کی طرف دیکھتا، کبھی کپڑوں کی طرف دیکھ کر کچھ جاننے کی سعی کرتا تو کبھی آنکھیں پڑھنے کی کوشش کرتا کبھی بے تاثر چہرے کی طرف دیکھ کر کچھ اخذ کرنا چاہتا۔ کہا جاتا ہے چہرہ کھلی کتاب ہے لیکن اسلم کی کتاب بے لفظ معلوم ہو رہی تھی۔
اس کی آنکھیں ایسی تھیں جن میں گہرائی تھی، جن میں خوف، غم اور غصے کے ملے جلے تاثرات تھے جو دیکھنے میں لال تھی لیکن بالکل بے رنگ معلوم ہوتی تھی۔
”السلام علیکم! میرا نام علی ہے“ لڑکے نے ہاتھ آگے بڑھا کر گفتگو شروع کرنے کی کوشش کی۔
اسلم نے چند لمحے لڑکے کے ہاتھ کو دیکھا پھر اپنا ہاتھ آگے بڑھا لیا اور ہاتھ ملا کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔
علی اس کے سرد جذبات بھانپ گیا اور اپنی گود میں پڑا بیگ سیدھا کرنے لگا، اب علی کی دلچسپی میں مزید اضافہ ہو رہا تھا وہ کن اکھیوں سے ایک بار پھر اس کے چہرے کا جائزہ لینے لگا۔
اتنے میں اسلم نے جیب سے سنہرے رنگ کی چمکتی ہوئی صلیب نکالی اور دونوں ہاتھوں میں عقیدت کے ساتھ پکڑ کر دیکھنے لگا۔
اچھا تب ہی سلام کا جواب نہیں دیا علی نے دل میں سوچا۔
”آپ عیسائی ہیں؟“
اسلم نے صلیب سے نظر ہٹا کر علی کی طرف دیکھتے ہوئے سر نفی میں ہلایا۔
”پھر یہ صلیب؟“ علی کا تعجب مزید بڑھ گیا وہ سوالیہ نظروں سے کبھی صلیب کو دیکھتا کبھی اس کے چہرے کو اسلم نے صلیب کو چوم کر آنکھوں کے ساتھ لگایا جیسے کوئی باپ اپنے پہلے بچے کی پیدائش پر اسے چومتا ہے پھر آنکھوں کے ساتھ لگا کر جیسے پیار کر رہا ہو۔
”اس صلیب کے بارے میں جاننا چاہتے ہو؟“ اسلم نے خاموشی کو توڑا، علی تو جیسے یہی جملہ سننے کے لیے بے تاب تھا۔
”بالکل ضرور“
”آج سے دو ماہ پہلے کی بات ہے میں نے مریم سے جب شادی کی تھی مریم عیسائی تھی لیکن ہم دونوں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے تھے گھر والوں کی رضا مندی کے خلاف میں نے اس سے شادی کر لی۔ گھر والوں کے مطابق اس کا مذہب الگ تھا اس لیے ہم شادی نہیں کر سکتے تھے لیکن محبت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اس بے مذہب محبت میں مریم اور میں اپنا مذہب بھی نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔
اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے اپنے مذہب کو آگے لے جائیں گے مریم بہت پیاری تھی لانبی اور بانکی گوری اور سنہری لیکن میں تو اس کی آنکھوں پر مرتا تھا۔ ”
”ایسا کیا تھا اس کی آنکھوں میں؟ علی نے اچانک سوال کیا۔“
اسلم اس اچانک سوال پر ہلکا سا مسکرایا ”ویسے کوئی خاص بات تو نہیں تھی موٹی اور کالی سیاہ تھیں لیکن بس میں ان پر مرتا تھا وہ آنکھیں باتیں کرتی تھیں بس مجھے وہ بے حد پسند تھیں مجھے نہیں پتا کیوں۔“
پھر وہ چپ ہو گیا ایک بار پھر سناٹا چھا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ بولا ”اچھا جب ہم نے شادی کر لی تو ہمارے گھر والوں نے ہمیں قبول نہیں کیا۔ مجھے والد صاحب نے کہا“ یا اس لڑکی کو چھوڑ دو یا ہمیں۔ ”
”مریم کو میں اب کیسے چھوڑ سکتا تھا اس سے میں نے زندگی بھر ساتھ رہنے کا وعدہ کیا تھا، ابھی ہم نے پہاڑ کی چوٹی پر چودھویں کے چاند کے نیچے بیٹھ کر باتیں کرنی تھیں، ابھی ہم نے ندیوں کے پانیوں کے ساتھ بہنا تھا۔ میں اسے کیسے چھوڑ سکتا تھا؟
اس لیے میں نے اور مریم نے لاہور آنے کا فیصلہ کیا میں نے اسے کہا تھا میں تمہیں دور لے جاؤں گا جہاں صرف میں اور تم ایک دوسرے کو جانتے ہوں گے باقی سب اجنبی ہوں گے کسی کو معلوم نہیں ہو گا ہمارے مذہب الگ ہیں۔ ”
اسلم پھر خاموش ہو گیا۔
”تم نے محبت کی ہے؟“
علی نے سر کو جنبش دے کر جلدی سے نفی میں جواب دیا۔
”اچھا ہم اس دن لاہور پہنچے تھے ابھی بس سے اترے تھے میں مریم کے لیے پانی لینے سامنے دکان پر گیا تو، پیچھے ایک زور دار دھماکے کی آواز آئی۔ دھماکہ عین اسی جگہ ہوا تھا جہاں مریم بیٹھی تھی۔ ہر طرف دھواں اور شور تھاَ۔
لیکن مجھے لگ رہا تھا سب کچھ خاموش ہو گیا ہے۔ پرندے اڑتے اڑتے گر گئے ہیں سورج جلدی سے ڈوبنے کی کوشش کرر ہا ہے پھولوں کی پتیاں خشک ہو گئی ہیں۔ میرے لیے جیسے ساری کائنات اس دھماکے میں ختم ہو گئی تھی۔ ”
میں وہاں گیا میں نے مریم کا بازو دیکھا میں نے دیکھا اس کا دوپٹا۔ ”“
اسلم بچوں کی طرح رونے لگا۔
”اس رات بس میں جب مریم سو گئی تو اس کے ہاتھ میں یہ صلیب تھی اسلم نے پھر صلیب نکالی اور عقیدت سے چومنے لگا اور روتے ہوئے بولا میں نے اس کے ہاتھوں سے یہ صلیب لے لی تھی، یہ میرے پاس میری مریم کی آخری نشانی ہے۔“
اسلم بلکنے لگا علی کی آنکھوں سے بھی کچھ قطرے گر کر اس کے بیگ پر آ گئے اس کے بعد دونوں خاموش ہو گئے۔
بس جب اڈے پر پہنچ گئی تو علی نے پوچھا ”آپ نے کہاں جانا ہے؟“
اسلم خاموش رہا۔ وہ بس سے اترا اور کسی نا معلوم منزل کی طرف چل پڑا۔ ایک پل کے نیچے جہاں ایک پارک بنا تھا اسلم وہاں بیٹھ گیا۔ اسلم کے پاس صرف ایک آخری نشانی تھی اور دو دن سے اس کا پیٹ خالی تھا۔ جب بھوک سے حال بے حال ہونے لگا تو اسے یوں لگا جیسے اس کے پیٹ میں انتڑیاں آپس میں گڈ مڈ ہو کر ایک گچھا بن گئی ہیں جو پیٹ کے کبھی ایک سرے کے ساتھ ٹکراتی ہیں کبھی دوسرے کے ساتھ۔
اسلم اٹھا اور باہر ایک ریڑھی والے کے آگے جا کر کھڑا ہو گیا اور شیشے کے پیچھے لگے گول گپوں کی طرف للچائی نظروں سے دیکھنے لگا۔
ریڑھی والے نے پہلے اشارے سے پوچھا پھر کہا ”سامنے سے ہٹ جاؤ گاہک آنے والے ہیں نشئی کہیں کا۔“
اسلم تھوڑا آگے چلا تو اس کی نتھنوں میں گوشت کی خوشبو گئی۔ جیسے اس خوشبو میں کوئی طاقت تھی جو اسے اپنے طرف کھینچنے لگی وہ اس طرف بھاگا اور ایک ہوٹل کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔
”جی میاں کیا چاہیے؟ ایک موٹا سا شخص جو بڑے سے دیگچے کے پیچھے بیٹھا تھا پوچھنے لگا۔“
اس نے گوشت کی طرف اشارہ کیا۔
”پیسے ہیں؟“ اسلم بغیر کچھ بولے مسلسل گوشے سے اٹھنے والے دھویں کی طرف دیکھتا رہا۔
”اس بھنگی کو باہر نکالو کام کرتے ہیں نہیں اور مفت کی روٹی چاہیے“ ایک لڑکے نے اسلم کو دھکے دے کر ہوٹل سے باہر نکال دیا۔
اسلم کو سخت بھوک لگی تھی اور گوشت کی خوشبو اسے پاگل کر رہی تھی۔ ہوٹل کے سامنے سنار کی دکان تھی۔ اسلم نے جیب سے آخری نشانی وہ سونے کی صلیب نکالی اور سنار کی دکان کی طرف دیکھنے لگا۔


