علمی عدم اطمینان کے نفسیاتی اثرات
علمی عدم اطمینان کے لئے نفسیات کی زبان میں کوگنیٹو ڈسونینس ( Dissonance) کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔
یہ ایک ایسی ذہنی کیفیت کا نام ہے جس میں کسی فرد کو اس بات پر احساس ہونے لگتا ہے کہ اس کے حاصل کردہ علوم، ذاتی تجربات کی بنیاد پر قائم خیالات، مذہبی عقائد، ایمان، سیاسی نظریات اور سماجی روایات اس کے عملی کردار سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ اور وہ شک میں مبتلا ہوتا ہے کہ آیا اس کے ظاہری رویے درست ہیں یا وہ علم جو اس نے حاصل کیا یا اسے جن علوم اور عقائد کا پابند بنایا گیا تھا وہ درست ہیں۔ یہ احساس کبھی اسے خود ہوتا ہے اور کبھی دوسرے اسے اس بات کا احساس دلاتے ہیں۔
اگرچہ ذہنی نشو و نما اور علمی ارتقا کے لئے اس تشکیکی کیفیت کو مثبت سمجھا جاتا ہے کیونکہ باشعور افراد ہی سوال کرتے ہیں اور ان کی بنیاد پر اپنے علمی اور عملی معاملات کی جانچ پڑتال کر کے اپنی زندگی کی سمتوں کا تعین کرتے ہیں۔
لیکن اس کے منفی امکان سے بھی پہلو تہی نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ عدم اطمینان کسی انسان کی اندرونی اور بیرونی دنیا میں ایک جنگ کی سی صورت پیدا کر سکتا ہے اور وہ شدید بے چینی، اضطراب، ندامت، اور احساس جرم میں مبتلا ہو کر مزید ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر مختلف ذہنی بیماریوں کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ مثلاً سٹریس، فرسٹریشن، ڈپریشن، اینزائٹی کے علاوہ سماجی تنہائی سے نمٹتے ہوئے اس نہج پر بھی پہنچ سکتا ہے کہ معاملات خود کشی جیسے سنگین اقدامات تک منتج ہو جائیں۔
کوگنیٹو ڈسونینس زندگی کے معاملات میں زیادہ شدت کے ساتھ ان مختلف شکلوں میں پیدا ہو سکتا ہے :
مذہبی معاملات میں ؛ جب ایک فرد کے پیدائشی عقائد اور روایات کا اس کی جدید سائنسی تعلیم سے حاصل شدہ نظریات سے ٹکراؤ ہوتا ہے ؛
مثلاً سائنس کے معروضی اور ٹھوس تقاضوں کے سامنے خدا کے وجود اور منظم مذاہب پر تشکیک کا سوال اٹھتا ہے اور فرد ہر وقت ایک بے چین کردینے والی صورتحال سے گزرتا رہتا ہے۔ بہت سوچ بچار کرنے والے اس بے چینی سے یا تو نکلنے کی جسارت کر کے خدا اور منظم مذاہب کے وجود اور سے انکار کر کے سائنس کے ہو رہتے ہیں اور کچھ لوگ مکمل مذہب اور خدا کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ لیکن جدید دور کے سائنسی، معاشی تقاضے اور روایتی اقدار ان کے پاؤں کی بیڑیاں بنی رہتی ہیں۔
یہ آر یا پار والے فیصلے زندگی کے ہر پہلو پر محیط ہو سکتے ہیں۔ بصورت دیگر منافقت اور دہرے معیارات اپنانے پر مجبور رہتے ہیں۔ مثلاً مذہبی ماحول اور روایتی ممالک سے ہجرت کر کے آزاد ممالک میں بسنے والے افراد اسی دہرے معیارات کی بھینٹ اس طرح چڑھتے ہیں کہ وہ خود تو عدم اطمینان کا شکار رہتے ہی ہیں لیکن ان کی نسلیں جو یہاں پروان چڑھتی ہیں وہ ان ممالک میں رہتے ہوئے بھی اپنی اولادوں کو زبردستی اپنی پرانی مذہبی اور ثقافتی روایات پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے ہیں جس کا نتیجہ والدین اور اولاد میں شدید اختلافات اور نتیجتاً اولاد کی بغاوت کی صورت میں نکلتا ہے اور بچے گھر چھوڑ کر مکمل آزاد ہو جاتے ہیں اور والدین تنہا رہ جاتے ہیں۔
اس کی بھیانک شکل اس صورت میں نظر آتی ہے جب والدین اپنے مذہبی عقائد کے تحت اپنی بیٹیوں کو پردے اور مخصوص ڈریس کوڈ کا پابند کرتے ہیں۔ ایسی بہت سی لڑکیاں گھروں سے حجاب اور باپردہ نکلتی ہیں لیکن تعلیمی اداروں میں جاتے ہی تمام پردے اور حجاب اتار پھینکتی ہیں۔ لیکن یہ رویے لڑکیوں کو ایک احساس جرم اور خوف میں مبتلا کرتے ہیں۔ ایسی لڑکیوں کو اپنے اس دہرے معیار اور دوغلے پن پر خود ہی افسوس ہوتا ہے۔ اس تذبذب میں مبتلا رہتی ہیں کہ وہ حجاب اور پردے پر عمل کرتی ہیں تو تعلیمی اداروں میں انہیں اپنا آپ دقیانوس لگتا ہے۔
وہ دوست بنانے اور سوشلائز کرنے میں جھجک محسوس کرتی ہیں۔ اور وہ ماں باپ سے اوجھل ہوتے ہی پردہ اتار کر باہر کی دنیا کا انداز اپنا لیتی ہیں۔ او انجوائے کرتی ہیں۔ لیکن گھر جانے سے پہلے انہیں وہ لبادہ دوبارہ اوڑھنا پڑتا ہے۔ اس طرح وہ والدین سے شرمندہ ہوتے ہوئے خوف زدہ رہتی ہیں اور یوں اولاد اور بچوں کے درمیان دوستی اور محبت کی بجائے خوف کا رشتہ انہیں ڈپریشن، احساس جرم، اینگزائٹی میں مبتلا کرتا ہے۔ خاص طور پر جب انہیں یہ احساس ہونے لگے کہ ان کے گھر سے باہر کے روئیے اور کردار منافقت کے زمرے میں آتے ہیں تو عدم اطمینان شدت سے گھیرتا ہے۔ ایسی صورت میں والدین کے ساتھ اختلاف رائے کھل کر سامنے آتا ہے اور والدین اس کو اولاد کی گمراہی پر اور اولاد والدین کو شدت پسند داروغہ گردانتی ہے۔
کلینیکل کیس ہسٹریاں ایسے بہت سے نوجوان لڑکے لڑکیوں کی نشاندہی کرتی ہیں جن میں نوجوان خاص طور پر لڑکیاں ڈپریشن، اینگزائٹی اور دیگر ذہنی امراض میں مبتلا نظر آتی ہیں۔ بہت سی صورتوں میں جب لڑکے لڑکیاں اپنی پسند سے دوسرے مذہب، کلچر اور عقیدے سے جڑے بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ سے شادی کی مخالفت سے دلبرداشتہ ہو کر خود کشی تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان کا علم، شعور اور جدید ماحول انہیں اپنی مرضی کرنے کی اجازت دیتا ہے مگر روایتی اقدار سے جڑے والدین انہیں گمراہ اور گناہ گار قرار دے کر انہیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا۔
نتیجہ کوگنیٹو ڈسونینس ہے۔ بغاوت کی صورت میں دو ٹوک فیصلے اور ان کے نتیجے میں خاندان کو چھوڑ کر تنہائی اور محبتوں سے محرومی کی سزا ان کا مقدر بنتی ہے یا بصورت دیگر روایات سے جڑے رہنے پر زبردستی کی شادیاں اور منافقت کے ساتھ نباہتے رہنا یا طلاق پر منتج ہونا وغیرہ جس میں ہر صورت حال ایک نفسیاتی انتشار ہے۔
بچوں میں کوگنیٹو ڈسونینس اس صورت میں سامنے آتی ہے جب ان کے والدین میں علیحدگی یا طلاق ہونے کی صورت میں انہیں زبردستی یا اپنے فیصلے کی بنیاد پر دونوں والدین میں سے ایک کے ساتھ رہنا ہوتا ہے اور دوسرے کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ اس پس منظر میں کوگنیٹو ڈسونینس ایک زخم کی طرح ساری عمر ساتھ رہتی ہے اور بچہ نفسیاتی طور پر ایک کرب میں مبتلا رہتا ہے۔ اس کو ایموشنل ریپ کہنا بے جا نہ ہو گا۔ اور دونوں والدین میں سے جس کی کسٹڈی میں بچہ ہوتا ہے وہ بچے کی فکری اور جذباتی کیفیت سے فائدہ اٹھا کر دوسرے شریک حیات کے بارے میں سوچنے، یاد کرنے اور محبت کا اظہار کرنے پر بھی پابندی لگا کر بچے کو ایک ذہنی بحران میں مبتلا رکھتا ہے۔ شاید اس سے بڑا ظلم کسی انسان پر نہ ہو۔
ٹین ایج کے مسائل میں کوگنیٹو ڈسونینس کی نفسیاتی کیفیت کا بہت عمل دخل ہوتا ہے جب نوجوانوں کا شعور اور فکری صلاحیتیں انہیں مذہب، روایات اور پرانی فکری روش پر غور کرنے اور تشکیک میں مبتلا کرتی ہیں۔ ایسے میں بہت سے نوجوان یا تو درمیانی راستے میں بھٹکتے رہتے ہیں یا جذبات کی رو میں آ کر کوئی حتمی فیصلہ کرتے ہیں جو ان کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ لیکن باشعور نوجوان بہت چوکس ہو کر اپنی شعوری کاوش سے اپنی زندگی کے صحتمند فکری فیصلے کرتے ہیں جو ان کی زندگیوں کو بہترین ارتقا کی جانب گامزن ہونے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ بصورت دیگر شدید نفسیاتی بحران خودکشی جیسے واقعات کو بھی جنم دے سکتا ہے۔
کوگنیٹو ڈسونینس اجتماعی طور پر بھی ایک معاشرے کی عمومی بے چینی کا باعث بنتا ہے جس میں خاندان، ماحول اور پوری سوسائٹی میں تعصب، عدم برداشت، اور عدم رواداری، تشدد اور افراتفری اور انفرادی اور اجتماعی شناخت کے کھو جانے جیسے روئیے سامنے آتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کوگنیٹو ڈسونینس کی نفسیاتی کیفیت کو صحتمند طریقے سے کارآمد بنانے کے کون سے آسان اور رہنما اصول ہیں کہ اس نفسیاتی کیفیت کو کارآمد بنا کر فرد اور معاشرے کے ارتقا کے عمل کو رواں بنایا جا سکے۔
1۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس کو تسلیم کیا جائے اور سیکولر فضا قائم کی جائے۔ ضروری ہے کہ والدین اس کا ادراک کریں اور اپنے بچوں کو اس کیفیت سے نکالنے میں مدد گار ہو سکیں گے۔ اس کے لئے والدین، اساتذہ اور دیگر متعلقہ افراد صحتمند اور غیر متعصبانہ مکالمے کو فروغ دیں۔ بچوں کو بلا تعصب ان کی فکری آزادی کی صحتمند رہنمائی کی جائے۔
2۔ خاندان کو فکری کلٹ بنانے سے گریز کیا جائے اور زبردستی نظریات اور عقائد کو نہ مسلط کیا جائے۔ اور گھر کو پرامن اور سیکولر جنت بنایا جائے۔
والدین لڑائی جھگڑوں سے گریز کریں اور ایک پیج پر رہ کر بچوں کی فکری انفرادیت کو تسلیم کریں۔
4۔ تعلیمی اداروں میں مباحثے، ورکشاپ اور مطالعہ کا فروغ، ادبی اور تخلیقی سرگرمیوں کو مروج کیا جائے۔
5۔ اختلاف رائے کو تسلیم کرنے کے سکلز سکھائے جائیں۔ اور دوسروں کی رائے اور فکری اختلاف کو بلا تعصب پنپنے کا موقع ملے ورنہ دیکھا گیا ہے کہ محض گھروں میں ہی اختلاف رائے اتنا بڑھ جاتا ہے کہ ایک الگ فکری سوچ رکھنے والے بری طرح متاثر ہو کر آؤٹ کاسٹ ہو جاتے ہیں۔ اور وہ بات کرنے، مکالمہ کرنے اور اپنا نکتہ نظر اور مافی الضمیر بیان کرنے سے کترانے لگتے ہیں اور خاموشی سادھ لیتے ہیں جو غیر صحتمندانہ کنٹرول کا نتیجہ ہے۔
والدین اور افراد خاندان کو اپنے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور ان کے فکری اختلافات کی حوصلہ افزائی اور قدر کرنی چاہیے اور رواداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے ورنہ انفرادی اور اجتماعی طور پر ایک پر تشدد معاشرہ جنم لیتا ہے جہاں قتل غارت اور بد امنی کی فضا ہر وقت قائم رہتی ہے۔
اگر والدین یہ فریضہ انجام دینے سے قاصر ہوں تو سکول، درس گاہیں، اساتذہ، ماہرین نفسیات اور کونسلنگ تھراپسٹ فرد کو اس عدم اطمینان کے منفی پہلوؤں سے نبرد آزما ہونے کے طریقے سکھا سکتے ہیں اور فرد اور معاشرہ ذہنی بے چینی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی نفسیاتی اور معاشرتی بیماریوں سے بچ کر شفاف سوچ پر مبنی معاشرہ بن سکتا ہے۔


