ہوچی منہ: ایک انقلابی درویش
ہوچی منہ کی ویتنام کی سیاست میں دلچسپی نے فرانسیسی حکومت کے کان کھڑے کر دیے اور بعد ازاں پولیس کو چوکس کر دیا گیا۔ ہوچی منہ کے فرضی نام اختیار کرنے کی وجہ سے پولیس ان کی اصل شناخت سے بے خبر تھی۔
فرانس میں قیام کے دوران فرانسیسی سوشلسٹوں نے ہوچی منہ پر سیاسی کم علمی کا الزام عائد کیا جس پر انہوں نے اپنے علم میں اضافے کے لیے کلاسیکل لٹریچر کا مطالعہ شروع کر دیا۔ ان کی پہلی کوشش کال مارکس کی داس کیپیٹل تھی لیکن وہ کال مارکس کے جدلیاتی فکر کو پوری طرح جذب کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
مارکس کے بعد انہوں نے لینن کا مطالعہ شروع کیا لینن کے افکار نے ان پر ایک نئی سوچ اور سیاسی تفکر کے دروازے کھول دیے۔ وہ اپنی خوشگوار حیرت کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں ”امڈے ہوئے جذبات، آگے بڑھنے کی لگن اور یقین کامل نے میرے اندر شہد کی مٹھاس گھول دی اور میں خوشی سے آبدیدہ ہو گیا“ ۔ آخر کار انہیں اپنا رہنما اور مثالی کردار لینن کی شکل میں مل گیا انہوں نے محسوس کیا کہ یہی تو وہ سب کچھ ہے جس کے ہم متلاشی ہیں اور ہماری آزادی کا یہی راستہ ہے۔ اس واقعے کے بعد ہوچی منہ تمام عمر لینن کے تدبر کے اسیر رہے۔
ہوچی منہ اپنی سیاسی جدوجہد میں ہر صورت عوام سے قریب رہے اگرچہ انہوں نے سوشلسٹ مکتبہ فکر کے کلاسیکل لٹریچر کا مطالعہ کر رکھا تھا لیکن وہ فرانسیسی دانشوروں کے ساتھ مجلسی گفت و شنید سے دامن بچاتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس قسم کا بحث و مباحثہ دانشوری کا اظہار محض ہے جو دانشوروں کو عام انسانوں کے قریب آنے سے روکتا ہے۔
ہوچی منہ بنیادی طور پر ایک باعمل انسان تھے وہ پند و نصائح کی بجائے کچھ کر گزرنے پر یقین رکھتے تھے اور لسانی سحر پر طرازیوں کی بجائے مقصد کے حصول کے لیے جائز قربانی دینے کو ترجیح دیتے تھے۔ وہ ہمیشہ انسانوں سے جڑے رہے اور عوام سے وفاداری کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ ان کے سادہ، سچے اور خیر خواہی کے طرز عمل نے ان کی عزت کو چار چاند لگا دیے۔ وہ نہ صرف اپنے چاہنے اور ماننے والوں کی نظر میں محترم ٹھہرے بلکہ ان کے دشمن اور نقاد بھی ان کی خوبیوں کے معترف ہوئے۔
چھوٹے چھوٹے مضامین لکھنے کے بعد انہوں نے The Oppressed کے نام سے ایک قابل قدر کتاب تصنیف کی جس میں انہوں نے ویتنامی عوام پر فرانسیسی جابرانہ حکومت کے مظالم کی تصویر کشی کی، پیش آمدہ مشکلات کی نشاندہی کی اور انڈو چائنا میں فرنچ پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے عوام کی سیاسی اور معاشی فلاح و بہبود کے لیے اپنے لائحہ عمل کی وضاحت کی۔ ان کی شہرت کے پھیلنے کے ساتھ ساتھ ان کے کام میں پھرتی اور چابکدستی پیدا ہوتی چلی گئی۔ بالآخر ہوچی منہ کی زندگی میں ایک ایسا وقت بھی آیا کہ فرنچ پولیس یہ جاننے میں کامیاب ہو گئی کہ ہوچی منہ مختلف نام رکھتے ہیں۔ اس کے بعد ہوچی منہ کو ایک شرپسند شخص قرار دے دیا گیا۔
انقلاب کے بارے میں ہوچی منہ کی جب بھی روسی اور چینی دانشوروں سے گفتگو ہوئی تو انہیں یہی تاثر دیا گیا کہ غیر ترقی یافتہ ممالک میں فوری انقلاب برپا ہونا ممکن نہیں ہے۔ روایتی کمیونسٹوں کے نزدیک افریقہ اور ایشیا کے ممالک انقلاب کی فضیلتوں سے فی الحال بہرا مند نہیں ہو سکتے کیونکہ وہاں کے معروضی حالات ان شرائط کو کما حقہ پورا نہیں کرتے جو انقلاب کا لازم و ملزوم ہیں ان کے خیال میں سوشلسٹ انقلاب کے لیے ضروری ہے کہ ملک کامیاب صنعتی انقلاب سے گزر چکا ہو۔ ہوچی منہ بھی لاطینی امریکہ سے تعلق رکھنے والے چی گویرا کی طرح اس تجزیے سے متفق نہیں تھے جو یورپ کے سوشلسٹ سکالرز کا نقطہ نظر تھا۔ انہیں یقین تھا کہ اگر انہیں ایسے چند جانثار اور سچے انقلابی مل جائیں اور انقلاب کی جدوجہد میں وہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ فرانسیسی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ کر دیا جائے ہوچی منہ کے یورپین کامریڈز انہیں ایک کمزور اور تصوراتی شخص سمجھتے تھے جو سوشلسٹ انقلاب کی سیاسی فکر کو پوری طرح سمجھ نہیں پایا تھا۔ ہوچی منہ چونکہ انقلاب کی فلسفیانہ بحث میں الجھنا نہیں چاہتے تھے اس لیے وہ کنفیوشس اسکالرز اور راہبوں کی طرح مسکرا دیتے اور خاموش رہتے۔
ہوچی منہ نے اپنی آواز کو عوام تک پہنچانے کے لیے مقامی ویت نامی کمیونٹی کے لیے ایک اخبار کا اجرا کیا۔ جیسے ہی یہ اخبار منصہ شہود پر آیا پولیس کے کان کھڑے ہو گئے۔ ایسا بھی ہوا کہ ہوچی منہ پولیس کے ہتھے چڑھ گئے اور اس کی خاصی دھلائی ہوئی لیکن اس مار پیٹ نے انقلاب کے لیے جلتی پر تیل کا کام کیا اور ان کے عزم کو مزید پختہ کر دیا۔ ہوچی منہ کو احساس ہو گیا کہ اب ان کا فرانس میں مزید رہنا خطرے سے خالی نہیں ہے کیونکہ فرانسیسی پولیس انہیں ایک خطرناک انقلابی کے روپ میں دیکھ رہی تھی۔ کئی بار ایسا ہوا کہ انہیں مختلف حکومتی اداروں کی طرف سے پوچھ گچھ کے لیے بلایا جاتا۔ 1922 ء میں انہیں منسٹری آف کالونیز کی طرف سے بلایا گیا دوران تفتیش ہوچی منہ نے اپنے مافی الضمیر کا برملا اظہار کیا وہ مطلقہ افسران سے کہنے لگے کہ میں سب سے زیادہ اپنے ہم وطن ساتھیوں کے لیے آزادی کا خواہش بند ہوں کیا اب میں جا سکتا ہوں۔
فرانسیسی حکومتی اہلکاروں کے لیے وہ ایک پراسرار شخص تھے۔ انہیں حیرت ہوتی تھی کہ وہ ایک ایسے عجیب سر پھرے شخص تھے جو کسی قسم کی پولیس اور حکومتی اہلکاروں سے مرعوب نہیں ہوتے تھے بلکہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار نظر آتے تھے۔ وہ پولیس کے ہتھکنڈوں، سزا اور جیل جانے سے بالکل خوفزدہ نہیں تھے۔ پیرس میں اپنے گرد پولیس کا گھیرا تنگ ہوتے ہوئے دیکھ کر ہوچی منہ نے ایک فرضی نام چینگ وینگ سے روس جانے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے ایک چینی تاجر کی حیثیت میں ویزہ حاصل کر لیا۔ پولیس کو غچہ دینے کے لیے انہوں نے ہر جاننے والے کو یہی بتایا کہ وہ مختصر تعطیلات پر پیرس سے باہر جا رہے ہیں۔
روس پہنچنے پر انہیں امیگریشن حکام نے چند ہفتوں کے لیے روک لیا ان کا خیال تھا کہ ہوچی منہ کے سفری کاغذات میں کچھ گڑبڑ ہے۔ امیگریشن والے ان کے خلاف کچھ بھی مشتبہ ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ وہاں سے چھٹکارا ملنے پر انہوں نے نئے دوست بنائے اور روسی زبان سیکھنے اور سوشلسٹ معیشت اور سیاست میں جانکاری حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ روس میں رہتے ہوئے انہیں بس یہی ایک دکھ تھا کہ وہ اپنے محبوب رہنما لینن سے بالمشافہ نہیں مل سکے۔ 1924 ء میں لینن کی وفات پر وہ ان کے جنازے میں شامل ہونے کے لیے کئی میل شدید سردی میں پیدل چلتے رہے۔ روسی سوشلسٹ ہوچی منہ کی مستقل مزاجی اور روسی کلچر اور انقلاب میں ان کی دلچسپی سے خاص حیران ہوتے تھے۔ ہوچی منہ نے سوشلسٹ پارٹی کے کئی اجلاسوں میں شرکت کی اور غلام ممالک کی حالت زار کو کھول کر بیان کیا۔ انہوں نے روس کی حکومت سے درخواست کی وہ ویتنام کی آزادی میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ ویت نامی عوام بھی معاشی اور سماجی آزادی سے بہرہ مند ہو سکیں۔
سوشلزم کے بارے میں سیر حاصل مطالعہ کرنے اور روس میں کئی نئے دوستانہ رشتے استوار کرنے کے بعد ہوچی منہ نے فیصلہ کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایشیا واپس لوٹ کر انڈو چائنا میں انقلاب کی تحریک شروع کی جائے۔ ہوچی منہ نے مناسب سمجھا کہ ویتنام لوٹ جانے سے پہلے چائنا کا دورہ کیا جائے تاکہ پہلے سے موجود سیاسی اور نظریاتی تعلق کو مزید ٹھوس بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔ ہوچی منہ کے فرانس، روس اور چائنا کے کامیاب دورے مسلح انقلابی جدوجہد کو منّظم کرنے میں سنگ میل ثابت ہوئے۔
ہو چی منہ اپنے آبائی وطن کے خوش آئند مستقبل کے لیے ایک اہم کردار ادا کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ انہوں نے بالآخر آزادی کی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔ ان کے بعض دوستوں نے ان کو مشورہ دیا کے موہن داس گاندھی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمیں ایک پرامن اور غیر متشدد جدوجہد کو اپنانا چاہیے۔ ہوچی منہ نے اپنے دوستوں کے گوش گزار کیا کہ ان کے دل میں موہن داس گاندھی کے لیے بے حد احترام موجود ہے لیکن ان کے خیال میں گاندھی ایک انقلابی نہیں بلکہ مصلح تھا۔
ہوچی منہ کے بعض کمیونسٹ دوست ان کی ملکی آزادی کی تحریک کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ ان کے خیال میں سوشلزم آفاقی اور اجتماعی تحریک ہے جس میں ملکی جدوجہد کے لیے گنجائش نکالنا مشکل ہے جبکہ ہوچی منہ کا کہنا تھا کہ وہ تمام مظلوم انسانوں کا ہمدرد ہے چاہے یہ ظلم اقلیت کے پردے میں ہو رہا ہو یا کسی خاص فرقے، نسل یا گروہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہو۔ ہوچی منہ اپنے قوم پرست جذبات کی وجہ سے بین الاقوامی سوشلسٹوں کی تنقید کا نشانہ بن رہے تھے جبکہ ہو چی منہ کا کہنا تھا کہ انہیں مقامی اور بین الاقوامی تحریک میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ وہ بین الاقوامی سوچ کا مالک ہوتے ہوئے مقامی طور پر فعال کردار ادا کرنا چاہتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی شہرت اور انہیں لیڈر ماننے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا حتیٰ کہ ویتنام میں اور ویتنام سے باہر لوگ انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ ہوچی منہ بہت حد تک شہرت سے دور اپنی ذات میں مگن انسان تھے۔ اپنی کمزوریوں کا تمام الزام دشمن کے سر ڈالنے کے بجائے وہ اپنے ساتھیوں سے اکثر پوچھا کرتے تھے کہ آخر وہ کیا وجہ تھی کہ فرانس ہمیں غلام بنانے میں کامیاب ہو سکا۔
ویت نام پہنچنے پر ہوچی منہ نے ایک گوریلا فوج کی تربیت شروع کی اور انہیں قدم با قدم آزادی کی راہ پر چلنا سکھایا۔ ہو چی منہ نے انہیں بتایا کہ یہ راہ پرخطر اور ہزاروں دیکھی ان دیکھی رکاوٹوں سے پر ہے۔ وہ ان آزادی کے متوالوں کے ساتھ جبر کی اس سیاہ رات میں اس وقت تک کام کرنے کے لیے تیار تھے جب تک آزادی کا سورج طلوع نہ ہو جائے۔ گزرتے سالوں کے ساتھ کئی اور لوگ بھی آزادی کی اس جدوجہد میں ہوچی منہ کے ساتھ شریک ہوتے چلے گئے جو ان کی شخصیت اور لیڈرشپ سے متاثر ہوئے۔ ہوچی منہ کی سوچ اگرچہ انقلابی تھی لیکن اس کی نرم روی اور متانت اس کے صوفی منش ہونے پر دلالت کرتی تھی اور شخصیت کا ایسا روپ کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔
وہ چاہتے تھے کہ دوستانہ اور پرامن ماحول میں آزادی کا حصول ممکن ہو جائے لیکن اگر ضرورت پڑے تو وہ آزادی کو پانے کے لیے ایک طویل ترین جنگ بھی لڑنے کے لیے تیار تھے۔ انہوں نے لینن اور کنفیوشس کی تعلیمات کا بغور مطالعہ کیا اور ان دونوں کے حسن و قبح کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی زندگی کا لائحہ عمل ترتیب دے لیا۔ اپنی جدوجہد کے دوران وہ ماؤزے تنگ کی سیاسی اور گوریلا حکمت عملی سے بھی بہت متاثر ہوئے۔ ہوچی منہ نے انقلاب کی صبح نو کے بارے میں اپنے تاثرات اپنی کتاب ریولیشنری پاتھ میں قلمبند کیے ہیں۔
کئی سالوں تک ہوچی منہ پولیس سے آنکھ مچولی کھیلتے رہے لیکن پولیس انہیں گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی کیونکہ وہ ایک سیاسی خانہ بدوش کی زندگی گزار رہے تھے۔ روز جاتے ہوئے انہوں نے اپنی شناخت تبدیل کر لی تھی اور بعد میں بھی کئی بار گرفتاری سے بچنے کے لیے وہ اپنا نام تبدیل کرتے رہے اور یہ تبدیلیاں ان کے لیے بارآور ثابت ہوئیں۔
ان تبدیل شدہ شناختوں اور فرضی ناموں سے جہاں وہ کئی بار مشکلات میں پھنسے وہیں ان کی وجہ سے ان کی گلو خلاصی بھی ہوتی رہی۔ وہ کئی بار سرحد پر گرفتار ہوئے اور جیل کی ہوا کھائی جہاں انہیں تکلیف دہ مار پیٹ سے گزرنا پڑا کیونکہ انہیں ایک خطرناک ملزم قرار دیا جا چکا تھا۔ ان حالات کے باوجود ان کا اپنے مقصد پر یقین غیر متزلزل تھا اور وہ آزادی کے لیے کوئی بھی قربانی دینے کو تیار تھے۔ وہ اپنے مقصد کو دل و جان سے چاہتے تھے اور انقلاب کے لیے ان کے دل کی دھڑکنیں تیز تر ہو جاتی تھیں ایک زمانہ یہ بھی تھا کہ پولیس ان کا ہر جگہ پیچھا کرتی تھی جبکہ کمیونسٹ ہوتے ہوئے وہ ایک عیسائی پادری کا روپ دھارے فادر چن کے نام سے گھومتے پھرتے تھے۔ یہ سب پینترے اپنی اصل شناخت کو چھپانے اور گرفتاری سے بچنے کے لیے تھے۔ کتابیں اور مضامین لکھنے کے ساتھ ساتھ ہوچی منہ نے انقلابی شاعری کو بھی ذریعہ اظہار بنایا ایسی ہی ایک نظم میں وہ کہتے ہیں
جو کوئی بھی ہمیں غلامی میں جکڑنا چاہے گا
اسے آخری ویتنامی کی لاش پر سے گزرنا ہو گا

