ہوچی منہ: ایک انقلابی درویش


وہ آزادی کی قربان گاہ پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کو تیار تھے لیکن ایک امن پسند رہنما تھے۔ ہوچی منہ نے اختلاف کو محور بنانے کے بجائے مماثلت اور یک جہتی کو اپنا نقطہ نظر بنایا تھا وہ یہ دیکھ کر اکثر مضطرب رہتے تھے کہ لینن اور ماؤ کے ماننے والے آپس میں برسر پیکار ہیں وہ بار بار اپنے کمیونسٹ ساتھیوں کو یاد دہانی کرواتے کہ جب ہمارا مقصد دنیا کے کناروں تک سوشلسٹ انقلاب کو پہنچانا ہے تو فروعی جھگڑوں میں ملوث ہو کر ہمیں اپنے مقصد اولین سے پہلو تہی نہیں کرنی چاہیے۔

ہوچی منہ چاہتے تھے کہ ہمیں اپنے اختلافات آبرو مندانہ طریقے سے خود ہی حل کرنے لینے چاۂیں وہ ہمیشہ متضاد خیالات رکھنے والے افراد، اداروں اور گروہوں کے مابین رابطے کے پل بنانے میں پیش پیش رہتے تھے حتیٰ کہ مسلح اور پرتشدد جدوجہد کرنے والے گروہوں کے مابین بھی مصالحانہ کردار ادا کرتے رہتے تھے۔

ہوچی منہ وقتاً فوقتاً یورپ، روس اور چین میں رہائش پذیر رہے اور اکثر ان ممالک کے مابین سفر بھی کرتے رہے۔ اس دوران ان کی کوشش یہی رہی کہ وہ کسی طور ویت نام واپس لوٹ جائیں لیکن پولیس کی کڑی نگرانی کی وجہ سے وہ سرحد کے پار جانے میں ناکام رہے۔ آخر کار وہ اپنے ساتھیوں کو ایک پرچم تلے اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے اپنی تنظیم کا نام ویت نام کمیونسٹ پارٹی تجویز کیا جسے ان کے ساتھیوں نے بخوشی قبول کر لیا۔ ہوچی منہ کا یہ پہلا قدم ایک بڑی کامیابی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ اپنی پارٹی کی تشکیل اور تنظیم کے بعد انہوں نے دوسری سوشلسٹ اور کمیونسٹ پارٹیوں سے روابط قائم کیے۔ ان پارٹیوں نے نہ صرف انہیں کھلے دل کے ساتھ خوش آمدید کہا بلکہ ہر ممکن امداد بہم پہنچانے کا وعدہ بھی کیا۔ ہوچی منہ جس زمانے میں ویتنام میں انقلاب کے لیے کام کر رہے تھے اسی زمانے میں ماؤزے تنگ چین میں کلچرل انقلاب برپا کرنے کے لیے تیاریوں میں مصروف تھے تاکہ چیانگ کائی شیک کی سامراجی حکومت سے چھٹکارا حاصل کر سکیں۔

ویتنام کمیونسٹ پارٹی میں ایسے افراد کی خاصی تعداد موجود تھی جو ہمہ وقت ہتھیار اٹھانے پر تیار رہتے تھے تاکہ ویتنام کی آزادی کے لیے انقلاب کا راستہ ہموار کیا جائے لیکن ہوچی منہ انہیں انتظار کا مشورہ دیتے تھے ان کا خیال تھا کہ جب تک ویت نام کے عوام انقلاب کے لیے تیار نہ ہوں اس وقت تک کسی مہم جوئی کے نتیجے میں عوام کے جانی نقصان کا احتمال موجود رہے گا۔ ہوچی منہ گوریلا جنگ اور مسلح جدوجہد کو انقلاب کے حصول کا پہلا زینہ سمجھنے کے باوجود تشدد کو آخری حربے کے طور پر استعمال کرنے کے حق میں تھے۔ وہ آخری وقت تک مصالحت اور گفت و شنید کے ذریعے مسائل حل کرنا چاہتے تھے۔ وہ مسلح جدوجہد کو سیاسی کامیابی کے حصول کا آخری حل نہیں بلکہ محض ایک وسیلہ سمجھتے تھے۔

1930 ء میں برطانوی پولیس نے ہوچی منہ کو ہانگ کانگ سے گرفتار کر لیا اور کئی ماہ انہیں جیل کی اذیت ناک سختیاں برداشت کرنی پڑیں۔ فرانسیسی حکومت بھی ان کی تلاش میں تھی۔ ہوچی منہ کو ہانگ کانگ سے ملک بدری کے احکامات ملے تو انہیں یقین ہو گیا کہ جیسے ہی برطانوی حکومت اس جہاز پر بٹھائے گی اس وقت ان کی موت کے پروانے پر دستخط ہو جائیں گے۔ چنانچہ انہوں نے مقامی طور پر کچھ قانونی مدد حاصل کی اور انتہائی پراسرار طریقے سے غائب ہو گئے۔ پولیس سے آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے موت انہیں چھو کر گزر گئی تھی۔ بالآخر کسی طرح وہ روس پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جہاں ایک بار پھر انہیں مشتبہ قرار دے دیا گیا۔

1930 ء میں روس میں قیام کے دوران انہوں نے بارہا اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان کی صرف ایک تمنا ہے کہ جیسے بھی ممکن ہو وہ جلد سے جلد اپنے آبائی وطن پہنچ جائیں 1938 ء میں وہ چین چلے گئے اور پی، سی لائن کے فرضی قلمی نام سے فرانسیسی زبان میں مضامین لکھتے رہے۔ جب 1939 ء میں دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہوا اس وقت وہ چین میں تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جنگ فرانس کو کمزور کر دے گی اور یہ کمزوری ان کے مقصد کو مضبوط کرے گی۔

1941 ء میں ہوچی منہ نے گوریلا جنگ کی شروعات کی اور ماؤزے تنگ کے نقش قدم پر چل نکلے۔ وہ دوسرے انقلابیوں سے اس لحاظ سے منفرد تھے کہ انہوں نے اپنی جدوجہد میں خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کے لیے بڑھاوا دیا۔ انہوں نے اپنی ایک نظم ”ویتنام کی خواتین“ میں خواتین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا۔

وطن عزیز کی بقاء اور اپنی نسل کو زندہ جاوید بنانے کے لیے
انہوں نے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا

1942 ء میں جب وہ ایک پریس رپورٹر کا روپ دھارے ہوچی منہ کے نام سے چین کا خفیہ دورہ کر رہے تھے تو یہ نام ان کی بے مثال شخصیت کا حصہ بن گیا اور اسی نام سے تمام عالم میں شہرت پائی۔ اکثر ان کی وفات کی جھوٹی خبریں گشت کرتی رہتیں۔ اس تمام بے سروسامانی کے باوجود ہوچی منہ نے کبھی حوصلہ نہیں ہارا۔ جیل میں بند وہ اپنی ایک نظم میں رقمطراز ہیں۔

جیل میں علالت بہت جان لیوا ہے
شاید میں رو پڑوں لیکن نہیں میں گانے کو ترجیح دوں گا

جب امریکہ دوسری جنگ عظیم میں شامل ہوا تو ہوچی منہ اس بدلتی صورتحال کا بغور مطالعہ کرتے رہے کہ شاید اتنے بڑے پیمانے پر فوجوں کی نقل و حمل سے ان کے مقصد کو کوئی فائدہ پہنچ جائے۔

انہیں امید تھی کہ امریکہ جو آمریت اور استبدادی حکومتوں کے خلاف کھوکھلے نعرے لگاتا رہتا ہے شاید ویتنام کی آزادی کے لیے کوئی مثبت رول ادا کرے ایک موقع پر انہوں نے امریکن حکام سے اندریں بارہ ملاقات بھی کی۔ انہوں نے امریکیوں کو پیشکش کی کہ وہ اپنے انتہائی ماہر ایک ہزار گوریلا جنگ جو جاپان کے خلاف لڑنے کے لیے پیش کریں گے بشرطیکہ وہ آزادی کی جنگ میں اس کی حمایت کریں۔ امریکن اس بارے میں کوئی وعدہ کرنے سے ہچکچاتے رہے۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد ان کا خیال تھا کہ شاید امریکہ فرانس اور انقلابیوں کے مابین رابطہ کا پل بن جائیں اور کوئی پرامن سمجھوتے کی راہ نکل آئے۔

ہو چی منہ اگرچہ خود کو ایک قومیت پسند رہنما کے طور پر دیکھتے تھے لیکن فرانسیسی انہیں ایک انتہا پسند کمیونسٹ قرار دیتے تھے اور امریکہ ویتنام میں کسی کمیونسٹ حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرنے کے حق میں نہیں تھا۔ امریکہ کی طرف سے مایوس ہونے کے بعد ہوچی منہ نے روس اور چین سے رابطہ قائم کیا جنہوں نے فراخ دلی کے ساتھ ویتنام کی مدد کرنے کی حامی بھری تاکہ سوشلزم کے قیام کا خواب پورا ہو سکے اور دنیا کے دوسرے ممالک بھی ویتنام کے تجربے سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔

فرانسیسی ہوچی منہ کی آزادی کی کوششوں کو ثبوتاژ کرنے کے لیے ویتنام میں ایک کٹھ پتلی حکومت کے قیام کے بارے میں سوچ رہے تھے ان کا خیال تھا کہ ایک غیر معروف پرانے بادشاہ کو از سر نو بحال کر دیا جائے۔

بالآخر جب جنگ ناگزیر ہو گئی تو فرانسیسی حکومت نے جینوا میں ایک معاہدے کے تحت ویتنام کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا عندیہ دیا۔ شمالی ویتنام کا علاقہ ہوچی منہ کی علمبرداری میں دے دیا گیا اور جنوبی ویتنام پر ایک عیاش اور سیاسی سمجھ بوجھ سے عاری بادشاہ کو کٹھ پتلی حکومت کا سربراہ بنا دیا گیا۔ معاہدے کی ایک شق کے مطابق یہ طے پایا کہ سال بھر بعد ویت نام میں الیکشن کا انعقاد کیا جائے گا اور ویتنامیوں کو یہ حق ہو گا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کریں کہ انہیں ایک ویتنام قبول ہے یا دو۔ ہوچی منہ کو مقدور بھر امید تھی کے تمام رکن ممالک معاہدے کا احترام کریں گے۔

اس معاہدے کی رو سے ہوچی منہ شمالی ویتنام کے وزیراعلیٰ قرار پائے۔ یہ بے اندازہ مسرت و انبساط کا مقام تھا اب غریب ویتنامی عوام کو ایک بہتر مستقبل کے خواب کی تعبیر وقوع پذیر ہوتی نظر آ رہی تھی لیکن شومئی قسمت یہ خوشی زیادہ دیرپا ثابت نہیں ہوئی کیونکہ فرانس امریکہ کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گیا کہ کمیونسٹوں کے خلاف مسلح پیشقدمی اس لیے ضروری ہے کہ اگر ایک بار ویتنام میں کمیونزم کے قدم جم گئے تو پڑوسی ممالک کا اس تبدیلی سے متاثر ہونا لازمی امر بن جائے گا چنانچہ معاہدے کے تحت منعقد ہونے والے الیکشن غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے گئے۔

فرانس نے امریکہ کو یہ بھی یقین دلایا کہ ایک سخت گیر محدود جنگ کمیونسٹوں کا قلع قمع کر دے گی۔ فرانس ہوچی منہ کے استقلال اور مقصد کے ساتھ وفاداری کے ساتھ ساتھ گوریلا جنگ لڑنے والوں کی طاقت جانثاری اور حوصلے کو پوری طرح سمجھ نہیں پایا۔

امریکہ جب پوری طرح جنگ میں کود پڑا تو ہوچی منہ اور اس کے ساتھیوں نے جنگلوں اور پہاڑی علاقوں میں پناہ لے لی اور ایک لمبی گوریلا جنگ کا آغاز کر دیا امریکی سپاہی اس قسم کی جنگ لڑنے کے عادی نہیں تھے۔

امریکی افواج نے ہوچی منہ کو جان سے مارنے ڈالنے کی متعدد بار کوشش کی لیکن انہیں ہر بار ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ ہوچی منہ 1969 ء میں 79 سال کی عمر میں جنگ کے اختتام سے قریبا چھ سال قبل طبعی طور پر وفات پا گئے۔ بالآخر ویتنام کے عوام اس جنگ میں فتح مند ہوئے اور انہیں آزادی کا سانس لینا نصیب ہوا۔ ویت نام کے ہر طبقے فکر نے اس حقیقت کا برملا اظہار کیا کہ اگر انہیں ہوچی منہ کی ولولہ انگیز قیادت میسر نہ ہوتی تو شاید انہیں آزادی کا سورج دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔

آج بھی ہوچی منہ سٹی اور اس کی گزرگاہیں اس انقلابی راہب کی یاد تازہ کرتی ہیں جس نے نہ صرف ویتنام بلکہ پوری دنیا کی تاریخ کا پانسہ پلٹ دیا انہوں نے انصاف آزادی اور امن کے قیام کے لیے زندگی کی آخری سانسوں تک بے لوث جدوجہد کی۔ ہو چی منہ نے آخری وصیت کے طور پر کہا کہ ان کی میت کو جلا دیا جائے اور ان کی راکھ ویتنام کے تینوں حصوں میں دفن کر دی جائے تاکہ یہ تینوں حصے ایک دن اکٹھا ہو کر ایک قوم اور ایک وطن کے خواب کو پورا کر سکیں۔ ایک دفعہ تقریر کے بعد سامعین میں سے کسی نے مرنے کے بعد ان کا مقبرہ تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی جس پر ہوچی منہ کہنے لگے کہ مقبرہ کے بجائے اگر بچوں کا اسکول تعمیر کیا تو زیادہ مستحسن ہو گا۔

انقلاب کی کامیابی کے بعد ان کے بہت سے پیروکار جو کٹر کمیونسٹ خیالات کے لوگ تھے بدلے کی سیاست پر اتر آئے اور انہوں نے کئی ہزار جاگیرداروں کو بے رحمی سے قتل کر دیا اس واقعے سے ہوچی منہ بہت دل برداشتہ ہوئے۔ اپنی ایک تقریر میں انہوں نے رقت آمیز آواز میں اپنے پیروکاروں سے درخواست کی اس قسم کے قتل عام سے باز آئیں۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے دشمن بھی ان کا احترام کرتے تھے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ان کا نام آنے والی کئی نسلوں تک نہایت عزت و احترام سے لیا جاتا رہے گا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail