برصغیر کا نوبل ایوارڈ یافتہ عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور: قسط ( 5)


رمضان میں یونیورسٹی بند ہونے اور عید پر گھر جانے کا پوچھنے پر میں نے فوراً کہا تھا۔ ”ارے نہیں آپا عید اپنی کلاس فیلو کے ساتھ باریسال منانے جاؤں گی۔ اپنے دیس کے اِس حصے کے رمضان کی رونقیں اور عید کو بھی تو دیکھوں۔“

باتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ عظیم اور لافانی شخصیت جن کی شاعری، مصوری، افسانہ، ناول، ڈرامہ، موسیقی، مقالہ نویسی غرض کہ کون سی صنف ایسی تھی جس کے وہ شہسوار نہ تھے۔ قلم اُن کا وہ ساتھی تھا جو کبھی اُن سے جدا نہ ہوا اور زندگی کا وہ کون سا ایسا گوشہ تھا جس پر انہوں نے نہ لکھا۔ ادب، فلسفہ، تاریخ، تصوف، مذہب، سیاست، اخلاقیات، سماجیات جسے پکڑا اُس کے اندر یوں اُترے کہ وہ تحریر جاوداں ہو گئی۔ جو لفظ چنا اُسے معتبر کر دیا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اچھی شاعری کی بنیاد شدید قسم کی جذبایت اور تیز حسیات کی مرہون منت ہوتی ہے۔ تخیل کی رنگینی اور زبان کی سادگی جس شاعر کے ہاں ملے گی وہی حقیقی اور سچا شاعر کہلائے گا۔ ہم دیکھتے ہیں ٹیگور کے ہاں خیالات کی جدّت ہے۔ تیز رفتار تخیل کی جولانیاں ہیں۔ رنگینی ہے، جذبات کی شدت اور احساسات کا تیز بہاؤ ہے۔ خیالات میں گہرائی اور گنگناتی ہوئی سادہ زبان۔ اُس کے انہی اوصاف نے اُسے ایک عظیم شاعر بنا دیا۔

یہ حقیقت ہے کہ جب اُن کی شہرہ آفاق تصنیف گیتانجلی کا انگریزی ترجمہ یورپ میں پڑھا گیا تو ایک تہلکہ مچ گیا۔ دنیا نے اُسے کِس کِس انداز میں تعظیم دی۔ کِسی نے کہا۔ ٹیگور شاعر کائنات ہے۔ کِسی نے کہا وہ بیسویں صدی کے عظیم ترین شعرا کی قطار میں سب سے آگے ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس کی شاعری نے نئی نئی جہتوں کو نئے نئے انداز میں دریافت کیا اور وہ نئے نئے راستوں پر چلی۔ شاعری کی مروجہ پرانی ریت و روایتیں اور تنگ راستے سبھی سے اُس نے اپنا تعلق واسطہ نہ رکھا۔ الیگزینڈر سرگیووچ پشکن (Alexander Sergeyvich Pushkin) کی طرح جس نے روسی زبان کو اپنی بے مثال شاعری سے مالامال کیا اور یورپی زبانوں کے مقابل لا کھڑا کیا۔ ٹیگور نے بنگلہ زبان کو وہی درجہ دیا کہ وہ ٹیگور کی شاعری کی بدولت ارتقا کی بلندیوں کو چھونے لگی۔ انگریزی ترجمے نے اُس کی شہرت چار وانگ پہنچا دی تھی۔

”آپا یہ ترجمہ کس نے کیا تھا؟“ ارے کسی نے بھی نہیں اُس نے خود کیا تھا۔ دیکھو تو ذرا پتہ نہیں وہ کیوں اس احساس کمتری میں مبتلا تھا کہ اُس کی انگریزی اچھی نہیں۔ ہمت ہی نہیں کرتا تھا۔ ایک دن عجیب سی بات ہوئی۔ ”

یہ چیت کے دن تھے۔ آموں کے بور کی خوشبو نتھنوں میں گھس کر عجیب سی کیف آور مستی کے جذبات پیدا کر رہی تھی۔ عطر بیز ہوائیں دل کے تار جھنجھوڑے جا رہی تھیں۔ جب اُس نے گیتانجلی (بہار کا گیت) اٹھائی۔ کاپی قلم پکڑا اور ترجمہ کرنا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ کاپی ختم ہو گئی تو اُسے جیب میں ڈالی اور لندن جانے کے لئے بحری جہاز میں سوار ہو گیا۔ جہاز میں دوسری کاپی بھی بھر گئی۔ یہ اتفاق ہی تھا کہ جہاز میں روٹسٹائن بھی سوار تھا۔ اس نے بصد اصرار ترجمہ دیکھنے کی خواہش کی۔ پڑھ کر تو وہ حیران رہ گیا۔ یہی کاپیاں اس نے ییٹس yeats کو بجھوا دیں۔ وہ بھی پڑھ کر گنگ سا رہ گیا۔ ییٹس نے گیتانجلی کا پیش لفظ لکھا اور کہیں چھوٹی موٹی اصلاح کی۔ گیتانجلی اُس کی لافانی شاہکار تخلیق ہے۔ ییٹس yeats لکھتا ہے۔

یہ ترجمہ ہر جگہ میرے ساتھ جاتا۔ بسوں، ٹرینوں، ریسٹورنٹوں میں۔ میں ہر جگہ اس کا تذکرہ کرتا اور اسے سراہتا ہوں۔ یہ حقیقت ہے کہ ایک زمانہ وہ آئے گا جب راستہ چلنے والے انہیں راہ میں گنگنائیں گے۔ کشتیوں پر ملاّح انہیں گائیں گے۔ عاشق اپنے معشوق کے انتظار میں، محبوبہ اپنے چاہنے والے کے انتظار میں، خدا سے محبت کرنے والے اس کے حوالے دیں گے۔ ”

ڈبلیو بی ییٹس جیسے انگریزی ادب کے عظیم شاعر کا یہ خراج تحسین یقیناً ٹیگور کے لئے بڑا امتیاز تھا۔ ٹیگور کی یہی سحر کاری اُسے ممتاز کرتی ہے۔ مترنم سادہ سا اسلوب منفرد کرتا ہے۔ سندھا سنگیت (شام کا نغمہ) سے اس کی غنائی شاعری کا آغاز ہوتا ہے۔ آغاز میں یاسیت کا بھی غلبہ رہا۔ مگر یہ وقت جلد گزر گیا۔ پربھات سنگیت (صبح کا نغمہ) میں ذرا دیکھئیے صبح کی رو پہلی دھوپ میں پھیلی ہوئی زندگی اس کے لئے کتنی دل آویز ہے۔

میں اور کچھ نہیں چاہتا
بس اگر چاہتا ہوں تو اتنا سا
اسے دیکھتا رہوں
مسحور رہوں
ہر چیز بھول جاؤں
گم سم رہوں
مانسی (محبوبہ) کو پڑھیں تو شاعر کی فنّی پختگی کا نقطہ کمال محسوس ہوتا ہے۔

”اے بار پھراؤ مورے“ (اس بار مجھے لوٹا دو ) اُس کی ایسی ہی ایک شاہکار نظم ہے۔ اسی طرح ”لامتناہی راستہ“ کا گیت ہے۔ اُس بچی کا گیت جو چھوٹی سی ہے۔ شاعر کہتا ہے۔

میں اشک بار اُس لڑکی کو دیکھتا ہوں
محبت سے لبریز آنکھوں والی بچی
میری کشتی سفر پر چل پڑے گی
اور بچی بھی اپنا کام پورا کرے گی
وہ مجھے نہیں جانتی
میں اُسے نہیں جانتا
مگر میں سوچتا ہوں
وہ کِسی نامعلوم بستی اور نا معلوم اجنبی گھر میں دُلہن بن کر جائے گی
پھر ماں بنے گی
اور پھر سب کچھ ختم ہو جائے گا

ٹیگور کا یہ گیت کتنی سچائی اور کڑی حقیقت پر ہے۔

ٹیگور کے نزدیک انسان خدا کا پرتو ہے۔ ہر ایماندار، نیک اور جفاکش انسان میں خدا پنہاں ہوتا ہے۔ اسے خانقاہوں، مسجدوں اور مندروں میں محسوس کرنے والوں سے وہ کہتا ہے۔

یہ عبادت (بھجن ) یہ تسبیح خوانی چھوڑ
دروازہ بند کر کے خانقاہ کے ویران اُجڑے گوشے میں تو کس کی پوجا کر رہا ہے؟
آنکھیں کھول اور دیکھ خدا تیرے سامنے ہے
وہ کہاں ہے؟
وہاں جہاں کسان سخت زمین میں ہل چلاتا ہے
جہاں سڑک کی تعمیر کرنے والے پتھر کوٹتے ہیں
دھوپ اور بارش میں کام کرتے ہیں
خدا تو اُن کے پاس ہے

گیتانجلی کی زیادہ نظمیں اور گیت حمدیہ اور مناجاتی ہیں۔ اپنی عبادت اور سپردگی کے باعث اس کے ہاں یہ پختہ یقین ہے کہ موت کے بعد جو زندگی ملے گی وہ بہتر اور اچھی ہو گی۔ ذرا دیکھیے۔

اے موت تو میری آخری جائے پناہ ہے
آ مجھ سے سرگوشیاں کر
میں تیرا منتظر ہوں
زندگی کے ولولے اور خوشیاں صرف تیری وجہ سے ہیں
پھول گوندھے جا چکے ہیں
دُلہا کے لئے ہار تیار ہے
شادی کے بعد دلہن اپنے گھر جائے گی
رات کی تنہائی میں اپنے خدائے حقیقی سے ملے گی

ایک اور نظم دیکھیے۔

میرا وقت ختم ہوا
مجھے رخصت کرو
اپنا سر جھکاتا اور الوداع کہتا ہوں
میں اپنے دروازے کی کنجی تمہارے حوالے کرتا ہوں
اپنی تمام چیزوں سے دست بردار ہوتا ہوں
دن ڈھل چکا شمع حیات کی لو مدھم پڑی
بلاوا آ گیا اور میں سفر کے لئے تیار ہوں

جاری ہے۔

Facebook Comments HS