افسانوں کا مجموعہ : خاموش دستک


حبیب شیخ کے 46 افسانوں پر مبنی کتاب ”خاموش دستک“ رواں سال پاکستان سے شائع ہوئی ہے۔ میں حبیب شیخ صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے گزشتہ ماہ یہ کتاب مجھے بطور خاص اپنے آٹو گراف کے ساتھ ٹورانٹو سے کیلگری بھجوائی۔ کتاب کا تعارف ’پیش در پیش‘ کے عنوان سے مصنف نے خود تحریر کیا ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے اپنے تخلیقی سفر کی کہانی بہت دلچسپ اور خوبصورت پیرائے میں بیان کی ہے۔ یہ کہانی نصف صدی پر محیط ہے۔ بقول حفیظ جالندھری​:

شکیل و تکمیلِ فن میں جو بھی حفیظ کا حصہ ہے
نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں

اگرچہ حبیب شیخ کا تخلیقی حمل چار پانچ دہائیوں پر محیط ہے مگر اس کی تخلیقی زچگی ایک ماہر طبیب ڈاکٹر خالد سہیل کے ہاتھوں خوش اسلوبی اور محبت سے سر انجام پاتی۔ اپنی تخلیقات کے پس منظر کے حوالے سے حبیب شیخ کتاب کے تعارف میں ایک جگہ رقمطراز ہیں : ”میرے لکھنے کی ایک وجہ طبیعت کی حساسیت بھی ہے۔ رابعہ الرباء نے ’درویشوں کا ڈیرہ‘ نامی کتاب میں ایک جگہ لکھا ہے :“ یہ حساس ہونا بھی کتنا حسین مرض ہے۔ ”اس مرض کی وجہ سے میں نے انفرادی رنج کو نظر انداز کر کے مشترکہ رنج اپنا لیا ہے۔ میں ظلم و نا انصافی کے خلاف آواز اٹھانا ایک انسانی، اخلاقی اور مذہبی فریضہ سمجھتا ہوں اور اس مقصد کے لیے قلم سے لہو ٹپکا کر کاغذ پر کچھ رنگ بکھیر دیتا ہوں۔ “

کتاب کا ’پیش لفظ‘ نامور طبیب، ادیب اور شاعر ڈاکٹر خالد سہیل نے ’میرے ادبی دوست حبیب شیخ‘ کے عنوان سے لکھا ہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل مصنف اور ان کی تخلیقات کے حوالے سے لکھتے ہیں : ”جب ہم حبیب شیخ کی تخلیقات کا سنجیدگی سے مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بھی اپنے عہد کے حساس باشعور اور با ضمیر شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں کی طرح ایک ہمدرد دل رکھتے ہیں۔ جو دنیا کے مختلف معاشروں کے مظلوموں اور مجبوروں کے مظالم دیکھ کر زور زور سے دھڑکتا ہے۔ اور انہیں اس جبر، تشدد اور استحصال کے خلاف لکھنے پر اکساتا ہے۔ حبیب شیخ رنگ، نسل، مذہب، زبان اور قومیت سے بالا تر ہو کر ساری انسانیت کے بارے میں چند خواب دیکھتے ہیں۔ وہ خواب ؛ امن کے خواب ہیں، آشتی کے خواب ہیں، برابری کے خواب ہیں اور انسان دوستی کے خواب ہیں۔“

حبیب شیخ کے موضوعات زندگی کی تلخ حقیقتوں سے لبریز ہیں۔ ان میں مذہبی جبر، سماجی جبر اور جنگ کی تباہ کاریاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انسانی نفسیات، انسانی کمزوریوں اور جذبات کی اچھے سے ترجمانی کرنے والے افسانے موجود ہیں۔ جبر و اکراہ، ظلم، استحصال اور تشدد، مذہبی شکل میں ہو، معاشرتی صورت میں ہو یا پھر سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے کمزور اقوام پر جنگیں مسلط کرنے کی صورت میں ہو، کسی صورت میں بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔ ”خاموش دستک“ میں موجود حبیب شیخ کے افسانے پڑھ کر جب ہم ان سے ملاقات کرتے ہیں تو معاشرے کے کمزور طبقات، مظلوموں اور مجبوروں کے لیے ان کے سینے میں پنہاں درد محسوس کر سکتے ہیں۔ ان کا افسانہ ”چوُڑے کو پھانسی دو“ مذہبی انتہا پسندی کی عمدہ مثال ہے۔ توہینِ مذہب کے حوالے سے پاکستانی معاشرے کو مذہب کے بیوپاریوں نے اس قدر تشدد پسند بنا دیا ہے کہ اس کا شکار بننے والے اسی فیصد افراد کسی قانون کا سامنا کرنے سے پہلے ہی مذہبی جتھوں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔

یہ جتھے خود ہی مدعی، خود ہی وکیل، خود ہی گواہ اور خود ہی منصف بن کر ملزمان کو پتھروں سے، لاٹھیوں سے یا گولیاں مار کر ہلاک کرنے کے بعد سرِ عام نذرِ آتش کر دیتے ہیں۔ اس پر ستم یہ ہے کہ ان مذہبی جتھوں کے سامنے قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس اور حکومتیں خاموش تماشائی نظر آتی ہیں۔ اور اس سے بڑا ستم یہ ہے کہ توہینِ مذہب کا سفاکانہ قانون بھی ان جتھوں کی پشت پناہی کرتا ہے۔ ’چوُڑے کو پھانسی دو‘ میں سہیل مسیح نامی شخص پر توہینِ مذہب کا مقدمہ پندرہ سال چلتا ہے بالآخر جرم ثابت نہ ہونے پر عدالتِ عظمیٰ، سہیل مسیح کو با عزت بری کر دیتی ہے۔ مگر پندرہ سال قیدِ ناحق کاٹ کر جیل سے باہر آنے پر مذہبی جتھے اس کا گھیراؤ کر لیتے ہیں۔ سہیل مسیح بھاگ کر دوبارہ مقامی تھانے میں پہنچتا ہے اور پولیس والوں سے فریاد کرتا ہے کہ اس کو دوبارہ جیل بھیج دیا جائے۔ ’گدھ اور گُڑیا‘ ’زنجیر‘ اور ’مذہبی کارڈ‘ ، مذہب کو استعمال کر کے لوگوں کو قابو میں رکھنے اور مالی مفادات حاصل کرنے جیسے موضوعات پر شاہکار افسانے ہیں۔

افسانہ ’شرمیلی کا جسم‘ سماجی جبر کی کہانی پیش کرتا ہے۔ جس میں ایک جاگیردار کا بیٹا ایک غریب مزارع کی بیٹی کی عزت دن دیہاڑے تار تار کر کے ہمارے دیس کے بارسوخ امراء کے فرمان بردار قانون کے ہاتھوں سے صاف بچ نکلتا ہے اور دندناتا پھرتا ہے۔ افسانہ، ’اب تم میری بیٹی نہیں رہی!‘ ، ’اچھوت مسلمان‘ ، ’میری کھڈیاں کہاں گئیں‘ ، ’ہجر کی سہانی شام‘ ’دلُرباء‘ ، پھول والی لڑکی ’اور‘ پروانہ ’معاشرتی و ثقافتی جبر کی بہت باریک بینی سے کھینچی گئی تصویریں ہیں۔

جنگ و جدل کسی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ جنگیں تو ہمیشہ سے انسانیت کا بہت بڑا المیہ رہی ہیں۔ حبیب شیخ کی کہانیاں پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جنگ اور اس کے نتیجے میں انسانوں کے لیے پیدا ہونے والے دُکھ، درد اور المیے ان کو بہت بے چین رکھتے ہیں۔ ”افسانہ، ’داعش کی بیٹی‘ جنگ کی مصیبت کا شکار لڑکی لیلیٰ کہ کہانی ہے جو شام کے شہر ’رقہ‘ سے بھاگ کر عراق کے شہر ’سلیمانیہ‘ پہنچ جاتی ہے۔ داعش کے مجاہدینِ اسلام جنگ کے دوران مالِ غنیمت میں آئی ہوئی خواتین کو جنسی غلام بنا لیتے ہیں اور جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ قید میں آئی عورتیں بعض اوقات حاملہ بھی ہو جاتی ہیں۔ لیلیٰ بھی ان بدنصیب عورتوں میں سے ہے۔ جو داعش کی قید میں داعش کے مجاہدینِ اسلام سے اپنی آبرو ریزی کرواتے ہوئے حاملہ ہو جاتی ہے۔ اور قید خانے میں ہی ایک بچی کو جنم دیتی ہے۔ مگر تین سال بعد کسی نہ کسی طریقے سے داعش کے چنگل سے نکل کر اپنے آبائی شہر ’سلیمانیہ‘ پہنچ جاتی ہے مگر اس کے ساتھ اب اس کی دو سالہ بیٹی بھی ہے۔ لیلیٰ کے والدین اس کی بیٹی کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ مگر لیلیٰ بیٹی کے باپ کو ڈھونڈ نکالتی ہے جو اپنی بیٹی کو مجاہدہ بنانے کی شرط پر قبول کر لیتا ہے۔ اس پر اپنی بیٹی کی خاطر لیلیٰ دوبارہ داعش کے درندہ صفت مجاہدین میں شامل ہونے کا فیصلہ کرتی ہے۔ ’عراقی بچے کا سایہ‘ ، ’دوسری محبت‘ ’جنگجُو کے آخری لمحات‘ ’ایک پتھر‘ غلیل کی قوت“ اندر کا انڈین ’اور‘ موذی تحفہ ’جنگ کی تباہ کاریوں پر مبنی دلسوز اور فکر انگیز افسانے ہیں۔

محبت کے موضوعات پر لکھا گیا شاید واحد افسانہ ’ایک میٹر کے سمندر‘ ایک خوبصورت افسانہ ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار ایک لڑکی سے محبت کرتا تھا مگر ان کی شادی نہ ہو پائی اور دونوں محبت کرنے والوں کی شادیاں ماں باپ کی مرضی سے ہو گئیں۔ مرکزی کردار کی بیوی جب فوت ہو جاتی ہے تو اس کے دل میں اپنی بچپن کی محبوبہ کی سوئی ہوئی محبت دوبارہ بیدار جاتی ہے۔ وہ اپنی محبوبہ سے ملنے اس کے شہر میں پہنچ جاتا ہے اور اس کو ڈھونڈ نکالتا ہے۔ ملاقات میں وہ بتاتی ہے کہ وہ اپنی شادی سے اس لیے خوش نہیں کیونکہ اس کے اور اس کے شوہر کے درمیان ایک تیسرا فرد بھی ہے جو کہ اس کی سوکن ہے۔ مختصر یہ کہ محبوبہ طلاق لے کر مرکزی کردار سے شادی کر لیتی ہے۔ مگر شادی کے بعد وہ محبوبہ پر یہ انکشاف کرتا ہے کہ یہاں بھی ایک تیسرا فرد موجود ہے اور وہ اس کی مرحوم بیوی کی محبت ہے۔

اس کے علاوہ ٹائٹل افسانہ ’خاموش دستک‘ جو ترتیب کے اعتبار سے کتاب کے آخر میں رکھا گیا ہے، زندگی کی بے ثباتی کے موضوع پر ہے۔ جس کا لب لباب یہ ہے کہ ’موت‘ ہماری زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے جو ہمیشہ دستک دیے بغیر آتی ہے۔

حبیب شیخ کے افسانوں کی خُوبصورتی ان کا اختصار، سادہ اسلوب اور عام فہم زبان ہے۔ افسانوں کا خیال بیانیہ اور بُنت خوبصورت ہے۔ اگرچہ کہیں کہیں کچھ کہانیوں کے عروج پر پہنچتے وقت محسوس ہوتا ہے کہ اختتامیہ کرتے ہوئے کچھ تشنگی سی رہ گئی ہے۔ بہرحال یہ مصنف کا اسلوب اور انداز بیان ہے جو مزید کہانیاں لکھنے کے بعد مزید نکھر کر سامنے آئے گا۔ یہ حبیب شیخ کے افسانوں کی اولین کتاب ہے۔ اس اعتبار سے لائقِ تحسین تخلیق ہے۔ میں ان کو تخلیق کاروں کی صف میں خوش آمدید کہتا ہوں اور اردو ادب کو افسانوں کا مجموعہ ’خاموش دستک‘ عطا کرنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

Facebook Comments HS