2اپنے پرائے کی جستجو: نیپال کی سیر۔

کماری کا گھر دیکھنے پہنچے۔ کماری کون ہوتی ہے نیپالی کلچر میں؟ دلچسپ مگر تکلیف دہ قصہ ہے۔ صدیوں پہلے بادشاہوں، خداؤں اور دیویوں کے جھگڑے کے نتیجے میں کئی نسلوں تک لڑکیاں خدائی راستے میں قربان ہوتی رہی ہیں۔ ہم یہاں بچوں کی ذہنی صحت کی کانفرنس میں مدعو تھے اور پوری دنیا سے لوگ بچوں کی ذہنی صحت پر دو روز مقالے پڑھتے رہے تھے۔ کسی نے مگر بغل میں ہوتی اس رسم کا نہ سوچا جو مقامی بچوں کی ذہنی صحت، قیمتی وقت اور شخصیت کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔
کماری وہ بابرکت بچی ہوتی جسے پانچ برس کی عمر میں چنا جاتا ہے اور وہ قرب و جوار کے لوگوں کی روحانی پیشوا بن جاتی ہے اور تب تک رہتی جب تک اس کو پہلی ماہواری نہیں آجاتی۔ پہلی ماہواری آنے کا مطلب کہ بھگوان جسم کو چھوڑ کر کوچ کر گئے ہیں اور اب اس کو بھی کماری ہاؤس اور اس منصب سے کوچ کر کے عام ناری کی زندگی بتانی ہوگی۔ والدین کو پیسے بھی ملتے ہیں اور اہمیت بھی سو سب تیار ہوتے کہ ان کی کنیا، کماری بنے مگر یہ معاملہ بہت مشکل ہے۔ ٹف کمپیٹیشن ہوتا ہے۔ بچی پہ کوئی داغ نہ ہو، کٹ نہ ہو؛ وہ ہر طرح سے مکمل ہو۔ کچھ کہتے کہ پانچ سال کی بچی کو اندھیرے کمرے میں ماسک لگے آدمیوں کے درمیان چھوڑتے ہیں، جو کنیا نہ ڈرے وہ ہی کماری بنتی ہے۔ جس طرح ہم مریضوں کو سمجھاتے کہ ٹھیک کرنا، ٹھیک رکھنے سے آسان ہوتا ہے ؛ اسی طرح کا قصہ یہاں بھی، کماری بننا کماری بنے رہنے سے آسان ہے۔ گھر بار، ماں باپ بہن بھائی اور سب سے بڑھ کر انسانی لمس چھوڑنا پڑتا ہے۔ کوئی آپ کو چھو نہیں سکتا ہے۔ آپ مسکرا نہیں سکتی ہیں۔ خدا یا خدا کا نائب بننا خالہ جی کا گھر نہیں ہوتا ہے۔ بچپن تیاگنا پڑے گا؛ تب ہی آپ لوگوں کی زندگیوں میں روحانی کمی پوری کر پائیں گے۔ مذہبی تناظر میں جانور ذبح کرنا ہو یا جانور ذبح کرنے والے کو ذبح کرنا ہو، سب جائز ٹھہر جاتا ہے اگر خدا کا حکم ٹھہرا دیا جائے۔ پھر یہاں بچوں کا بچپن برباد ہوتا ہو تو کیا جاتا ہے۔ خدا اور اس کی خدائی چلانے پہ مامور ٹھیکیدار خوش، کماری کے ماں باپ خوش اور مرادیں مانگنے والے بھی خوش۔ کماری کا بچپن بغیر لمس کے گزرے، بغیر مسکراہٹ کے گزرے اور اس کی شخصیت متاثر ہو تو کسی کا کیا جاتا ہے۔ بچوں کے حقوق کی تنظیمیں بھی یہاں خاموش رہتی ہیں کہ خدا کا معاملہ ہے۔
ایک گلی میں گھر کے باہر دو مجسمے ایستادہ تھے۔ دروازے سے داخل ہوئے تو صحن میں مینڈیلا اور مندر تھے۔ اک کونے میں دروازہ اور اس کے اوپر کماری کی تصویر ایستادہ تھی۔ گھنٹی بجانے پر کماری کی کیئر ٹیکر نے آ کر سکوت توڑا کہ کتنے لوگ ہیں درشن کے واسطے۔ سکوت کیا توڑا ہمارے بت توڑے۔ گمان تھا کہ کماری کا استھان سٹیٹ آف دا آرٹ ہو گا۔ خوبصورت گھر اور ڈھیروں سہولیات ہوں گی مگر یہ کیا ہوا۔ انتہائی عام گھر میں تنگ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچے تو پہلے کمرے میں وائیٹ بورڈ پہ کیمسٹری کی آدھ مٹی آدھ لکھی ایکیوشنز تھیں اور بوسیدگی کی بو۔ اگلے کمرے میں سامنے سجی کرسی پہ بیٹھی سپاٹ چہرہ لئے کماری۔ سامنے ایک باؤل پڑا تھا جس میں چند روپے تھے۔ ایک کونے میں چاکلیٹیں اور ڈونٹ کی ٹرے اور ایک کونے میں پھل دھرے تھے۔ کمرے میں ہلکی سی روشنی اور حبس تھا۔ لال اور سنہری بروکیڈ کے لباس میں کماری شاہی کرسی پر براجمان تھی۔ اینٹوں کا فرش اور دیواریں جن پر سستی ململ کے لال اور نارنجی کپڑے پڑے تھے۔ جگہ جگہ دیے جلے ہوئے تھے۔ ماتھے پہ چوڑا لال ٹیکہ لگائے چھ برس کی کماری ایستادہ تھی۔ آگے لال قالین کے ٹکڑے پر بیٹھ کر ہم نے پہلے تلک لگوایا اور پھر سو روپے کی بھینٹ چڑھائی۔ تین اور لوگ بیٹھے تسبیحوں پر کچھ پڑھنے میں مشغول تھے اور کماری سے تلک لگوانے کے عمل کی روحانیت کو پوری طرح محسوس کر رہے تھے۔ یہ سوچے بغیر کہ ان کے روحانی راستے میں ایک لڑکی کا بچپن رگڑا گیا ہے۔ نکلتے ہوئے ہم نے کماری کی کیئر ٹیکر سے کماری کا نام پوچھا تو بولی کہ یہاں کوئی اسے نام سے نہیں پکارتا بلکہ کماری کہتے ہیں۔ عمر چھ سال بتائی اور کماری کے سٹیٹس کی عمر ایک سال تھی۔ کیئر ٹیکر سے پوچھا کہ وہ بھی ایکس کماری تو نہیں؟ جواب ملا کہ نہیں۔ ہم نے کہا کہ کماری کے منصب سے اترنے کے بعد یہ کیا کرے گی؟ جواب ملا کہ باقیوں کی طرح نارمل زندگی گزارے گی۔ ہمارا سوال بے ساختہ تھا، اوہ رئیلی؟
کماری کے درشن کے بعد اگلا پڑاؤ بسوسناہ مندر تھا۔ دریا کو یہ مندر مقدس بناتا یا مندر اس دریا کو خاص بناتا ہے۔ کوئی معمہ سا معمہ ہے۔ مندر سے پہلے گھنے درخت تھے اور پھر دریا کنارے قطار اندر قطار بیٹھے پروہت ماحول کو مذہبی رنگ دے رہے تھے۔ پتے، چاول، رنگ، اشلوک کی کتابیں اور اپنی بے چینیوں کا حل ڈھونڈتے عام لوگ سب ماحول میں رچے ہوئے تھے۔ کچھ دریا میں استیاں بہاتے ہوئے تو کچھ پنڈتوں کو مسئلے سناتے ہوئے۔ سامنے شمشان تھا اور کچھ فاصلے پر چبوترے سے بنے ہوئے تھے جہاں مردے جلائے جا رہے تھے۔ ہمارے ہوتے ہوئے کچھ جنازے وہاں لائے گئے تھے۔ کچھ پرانی تعلیمات دماغ کے نہاں خانوں سے مخاطب ہوئیں۔ فرض کفایہ ہے۔ ادا تو کرنا ہے تو ہم بگل کی آواز کے ساتھ کلمہ شہادت پڑھ کر شریک ہوا کیے ۔ مردہ، لکڑیوں کے ڈھیر پر اور پھر اس کے گرد کچھ چکر اور پھر آگ کا کھیل شروع۔ پیچھے رہ جانے والوں کی بے چینی کم ہو گئی۔ دریا اور مندر کے امتزاج پر اس شمشان کو دیکھنا بھی الگ ہی تجربہ تھا۔ پانی زندگی کی علامت ہے، مندر ادھر اور ادھر کی زندگی کو جوڑتا ہوا اور شمشان اک راستہ ہے شاید۔ فنا کا یا بقا کا؟
کھٹمنڈو ہوائی اڈے کی ڈومیسٹک ائرپورٹ سائیڈ سے پوکھارا کا سفر ایک بھیانک تجربہ تھا۔ ہوائی اڈے پہ مکمل مینوئل نظام رائج تھا۔ بے تحاشا رش اور افراتفری کا عالم تھا۔ کاغذ کے ٹکڑے پر جہازوں کی پرواز کی تفصیلات آویزاں تھیں۔ گندگی بے تحاشا تھی اور کرسیاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ گورے جو پہاڑوں کے لالچ میں آئے تھے، خوار زمین پر پڑے ہوئے تھے۔ ہم بھی ایک کونے میں لیٹ گئے۔ سوچا بورڈنگ پاس لے کر اندر جائیں گے تو ماحول ٹھیک ہو گا۔ سامان کی بکنگ بھی مینوئل تھی۔ ایک گھنٹہ تاخیر کے بعد اندر گئے تو رہے سہے طوطے بھی اڑ گئے۔ چھتیں ٹپک رہی تھیں، جہاز چھ چھ گھنٹے لیٹ تھے۔ ٹوٹل تین دکانیں تھیں۔ بے تحاشا رش تھا اور امیر و غریب یکساں رل رہے تھے۔ ایک ملک جس کی تمام معیشت کا دار و مدار ٹورزم پر ہے، اس کے دارالحکومت کا ہوائی اڈہ ایسا کیوں ہے؟ تاخیر کی وجہ بھی زیادہ ائر ٹریفک اور ائرپورٹ کے محدود ذرائع ہیں۔ جہاز میں بٹھا کر بھی گھنٹہ انتظار کرایا اور پھر پوکھارا کی طرف اڑان بھری۔
تاریخ اور کلچر کے ابواب چھاننے کے بعد اب باری فطری نظاروں کی تھی۔ سارنگ کوٹ میں شاہ خورشید کے طلوع کا منظر دیکھنے کے لئے کمرے سے پانچ بجے روانگی ہوئی۔ اندھیرے میں تنگ پہاڑی سڑک پر پوکھارا سے آدھے گھنٹے میں سارنگ کوٹ ویو پوائنٹ پہنچے۔ بے تحاشا سیڑھیاں چڑھ کر پہلے ٹاور کی بیس تک پہنچے۔ ٹکٹ خرید کر اور مندر کی گھنٹی بجا کر ٹاور کی سیڑھیاں چڑھنا شروع کیں۔ ٹاور کے بیس پر گنپتی کا ایک دیوہیکل مجسمہ بن رہا تھا۔ سیاحت کے نشے میں عقیدے کی شراب گھول لی جائے تو مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ خاص کر ان لوگوں کو جن کو اس کا چسکا ہو۔ اندھیرے کے بادل سے پہاڑوں کی چوٹیاں منہ نکالنے لگیں۔ روشنی ہو رہی تھی پر سورج کی شکل نظر نہیں آ رہی تھی۔ ہمالیہ کی برف پوش چوٹیاں بادلوں اور اندھیروں سے نبرد آزما تھیں۔ کبھی جیت جاتیں تو دکھ جاتیں۔ بادل جیت جاتے تو بلند و بالا اور دیوہیکل چوٹیاں منہ چھپاتی رہ جاتیں۔ ایک طرف قطار میں اناپورنا 1، 2، 3 اور 4 تھیں۔ اناپورنا چوٹی کئی جگہ پر آٹھ ہزار میٹر سے اونچی ہو جاتی ہے۔ فش ٹیل چوٹی سب میں نمایاں تھی۔ نیچے ایک طرف دریا اور ساتھ بنے رنگ برنگے گھر تھے۔ کہیں گھنے جنگل تو کہیں سڑکوں پر گاڑیاں اور ان سب کو تمام دن گھورتی برف پوش چوٹیاں۔ اتنے میں سورج بادلوں کو چیرتا ہوا سیاحوں کے کیمروں میں قید ہونے لگا۔ پہاڑوں کی برف پوش چوٹیوں پر نارنجی رنگ بکھرنے لگا۔ بادلوں نے مہربانی کی اور تمام چوٹیوں کو جلوہ کرانے کی اجازت دے دی۔ جی بھر کر منظر کو کیمرے اور ذہن کے خانوں میں محفوظ کیا اور نیچے کی راہ لی۔
امریکہ میں سیٹل ایک بنگالی جوان ملا جو ہنزہ اور نیلم آنے کا مشتاق تھا۔ خوش تھا کہ آج کل بنگالیوں کے لیے پاکستان کا ویزہ آن ارائیول ہے۔ کہنے لگا کہ مجھے انڈیا پسند نہیں ہے اور پاکستان میرا پسندیدہ ملک ہے۔ ہوٹل واپس آ کر ناشتہ کیا اور دمپس گاؤں کی راہ لی۔ چار بائی چار کی سکورپیو جیپ دیکھ کر معلوم ہو گیا کہ راہ پرخار ہوگی۔ کٹھمنڈو کی نسبت چھوٹے شہر اور قصبے زیادہ صاف، آرگنائزڈ اور کشادہ ہیں۔ دمپس کے راستے میں شروع میں کشادہ ہائی وے اور پاس کے چھوٹے قصبے تھے۔ اس کے بعد آزمائش شروع ہوئی۔ سٹیپ چڑھائی اور ٹوٹی پھوٹی سڑک بلکہ ٹریک تھا۔ ساتھ ساتھ گھر کھیت اور مکمل زندگی موجود تھی۔ عورتوں خاص کر بوڑھی عورتوں کو فعال دیکھنا اچھا تجربہ تھا۔ گاؤں، سکول اور ہوٹل چھوڑ کر بلندی پر پہنچے تو کچھ عورتیں کھڈیوں پر شالیں بننے میں مصروف تھیں۔ وہاں سے دمپس نیشنل پارک کی سیڑھیاں تھیں جو دراصل اردگرد کے پہاڑوں اور وادی کے نظارے کے اک ویو پوائنٹ کا راستہ تھا۔ ویو پوائنٹ یہاں بے تحاشا کہ بہت کم سیاح ہوتے ہیں جو پہاڑوں کے قریب جا کر انہیں دیکھ پاتے ہیں۔ اس کے لیے بہت سا وقت اور ٹریننگ درکار ہوتی ہے۔ سو زیادہ تر ویو پوائنٹ سے لطف لینے میں ہی عافیت جانتے ہیں۔ پہلے 334 سیڑھیاں چوٹی کے بیس تک اور پھر کنکریٹ کا ٹاور موجود تھا۔ اوپر سے وہی سانس روکنے والے ویوز تھے۔ پہاڑ اور ان کے دامن میں گھر اور چشمے تھے۔ قدرت مشرق پر کتنی مہربان ہے۔ سکائی لائن پہ بیٹھ کر فرزند ارجمند سے اک پیار کا نغمہ ہے، موجوں کی روانی ہے سننا بھی خوب تجربہ تھا۔ واپسی پر ایک لوکل ڈھابے سے چائے پی اور پوکھارا کی راہ لی۔ شام کو پوکھارا جھیل پہ سورج کو وداع کرنا تھا۔
سر شام جھیل کے اک کونے میں بھجن چل رہے تھے۔ تین چبوتروں پر تین نوجوان زرق برق لباس پہنے ہل رہے تھے اور ٹیپ پر بھجن چل رہا تھا۔ آگے کرسیوں پر سننے والے وجد کی کیفیت میں تھے۔ مغرب کی اذان کا وقت تھا، نیچے جھیل اور پہاڑ پہ مندر تھا۔ جھیل کے اوپر اڑتے بادلوں اور پس منظر میں پہاڑوں کا نظارہ دل کو موہ لینے کو کافی تھا۔ مذہب کی چاشنی سے جھیل کے حسن میں فسوں بھی بس گیا تھا۔ رام اور کرشن لگا ابھی کسی کشتی سے اتریں گے اور یہاں ایستادہ لوگوں کو ہیئر اور ہئیر آفٹر میں کامیابی کی نوید دیں گے۔ دور سے نظر آتا پیس آف پگوڑا کا بدھا بھی ہنستا ہو گا کہ مجھے یہاں نصب کر کے دنیا والے امن کے کتنے داعی ہیں۔ شام کو رات میں بدلتے جھیل کنارے دیکھا اور پوکھارا کی پہاڑیوں پر الوداعی نظر ڈالی۔ صبح کے لیے سوال بے حد گمبھیر تھے کہ دبئی سے ٹکٹ آگے کرائیں، یہاں سے سڑکوں و سڑک جائیں یا فلائیٹ جلدی کی کرائیں؟ طوفانی بارش اور یہاں پھنسے رہ جانے کا خوف جان کو جکڑے ہوئے تھے۔ سب نے منع کیا کہ یہاں لینڈ سلائیڈ بہت زیادہ ہوتی سو سڑک پہ دس گھنٹے بیس بھی ہوسکتے ہیں۔ پہلے ہی کئی جگہوں پر سیلابی صورتحال ہے۔ خیر فلائٹ پانچ بجے شام سے 9 بجے صبح شفٹ کرائی اور بستر نشین ہوئے۔ پوکھارا ہوائی اڈہ کٹھمنڈو کی نسبت بہتر اور جدید تھا۔ چائنہ کی مہربانی ہے۔ یٹی ائرلائن کے جہاز میں پہلے سبز پہاڑیاں اور دامن میں گھر ملے۔ جہاز اور بلند ہوا تو برف پوش چوٹیاں دکھنے لگیں۔ پہاڑ بھی کتنی بڑی اور اٹل حقیقت ہوتے ہیں۔ عقیدے کے نفاذ میں بھی مدد دیتے ہین اور قدرت کو ماننا آسان کرتے ہیں۔ آسان لگتا یہ کہنا کہ کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے اور ان پہاڑوں کو بھی اسی نے بنایا ہے۔ کتنا مشکل ہے کھوجنا کہ کائنات میں کیا عوامل جو اس تنوع کا باعث ہیں۔
کٹھمنڈو میں دسہری کے تہوار کی وجہ سے بے تحاشا رش تھا۔ یہاں دفتر اور سکول بھی دس بجے لگتے ہیں کہ اطمینان سے اٹھو اور دن شروع کرو۔ ہفتہ وار تعطیل ہفتہ کے روز، یعنی ان کا منڈے سنڈے کو ہوتا ہے۔ للتپور میں قدرے پوش ایریا میں فلیٹ میں کچھ دیر قیام کیا۔ میزبان فارن سروس میں اور یہاں سارک کے دفتر میں ڈائریکٹر ہیں۔ کچھ دیر پیدل علاقے کا دورہ کیا۔ ایک ملٹری کا دفتر دیکھا جس کے اندر باہر سنتری ایستادہ تھے۔ سامنے ایک تھراپی سنٹر تھا اور فوڈ منڈو کے موٹر سائیکل سڑک پر رواں دواں تھے۔ پوش علاقے میں بھی کچھ درمیانے درجے کے گھر موجود تھے۔ کچھ کی ایک ایک دیوار پلستر اور پینٹ سے عاری تھی۔ یہاں کراچی والی وائب ملی۔ اگلی منزل بودھا ناتھ کا مندر تھی۔ مندر کہیں یا سٹوپا کہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں بدھا کی کچھ باقیات تھیں جس پر یہ سٹوپا نما مندر تعمیر کیا گیا ہے۔ سینکڑوں سال بعد بھی لوگ ان باقیات اور سٹوپے کو مقدس گردانتے ہیں۔ ہائے رے مذہبی قصے۔ بہت سے غیر بدھسٹ بھی اس جگہ کو مقدس مانتے ہیں۔ کتنے ہندو یہاں سجدہ کرتے اور لال رنگ کے چکر ویو کو گھما کر خدا سے تعلق جوڑتے ہیں۔ دنیاوی خواہشات کے واسطے اور بخشش کے لالچ کے لیے ۔ سٹوپا کی آنکھیں اس کا سب سے نمایاں پہلو ہیں۔ نیلے مارجن اور کالی پتلیاں ہر جگہ آپ کو دیکھ رہی ہوتی ہیں۔ چاروں طرف نگاہ رہتی ہے، بودھا ناتھ کی۔ ان مونکس کو بھی دیکھ رہی جو ہوٹلنگ کر رہے ہیں۔ دنیا تیاگیوں کو ہوٹل میں بیٹھ کر کافی پیتے دیکھنا بھی عجیب تجربہ تھا۔ جب اپنی سیلف ایسٹیم بہتر کر لی آخرت میں جنت میں گھر پکا کر کے تو دنیا کی نعمتیں تو ہم جیسوں کے لیے چھوڑ دو۔
لائبم مال پاٹن میں نیپالی فلم دیکھنے کی کوشش بھی کی مگر وقت نہ مل پایا۔ مال بھی کراچی کے کسی مال کی طرح کا تھا۔ شاید سب ترقی پذیر ممالک کے مال ایسے ہی ہوتے ہیں۔ بیرون ملک برانڈز کی بہتات لئے ہوئے۔ شاپنگ مال سے پاپیادہ میزبان کے گھر کی راہ لی۔ للتپور کے پوش علاقے کی وائب بھی لی۔ بنگلہ دیش اور نیپال دونوں کے بڑے شہروں کے پوش علاقوں میں بہرحال کم پوش جگہوں کی آمیزش ضرور ہوتی ہے۔ وہ ٹچ جو ہمارے ہاں اسلام آباد، ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن میں آتا ہے وہ ان ملکوں کی ہمارے سے مضبوط معیشت ہونے کے باوجود ناپید ہے۔ سڑکوں، گلیوں دکانوں، انسانوں کہیں سے بھی اجنبیت کا احساس نہیں تھا۔
کٹھمنڈو، پوکھارا اور للتپور کی گلیاں، گھر، دکانیں، لوگ، گاڑیاں، لباس، کھانے، چائے، عبادت گاہیں، شاپنگ مال وغیرہ سب کس قدر شناسا تھے۔ زندگی کہیں، کلچر کہیں، اجتماعی لاشعور کہیں، تاریخ و جغرافیے کا تال میل کہیں ؛ سب ہماری زندگی کے ساتھ ریزونیٹ کرتے محسوس ہوئے۔ ایک چیز جو شاید ہمارے نزدیک گلو یا جیل کا کام کرتی ہے اور جس کی وجہ سے ہم نیپال کی ہر دوسری شے سے خود کو کونیکٹ کر پاتے ہیں وہ زبان ہے۔ اس دنیا میں انسانوں کی تعداد اتنی بڑھ چکی ہے کہ شاید ان کو مختلف خانوں میں رکھے بغیر کائنات کا سسٹم چل نہیں سکتا۔ سرحدیں ناگزیر ہو چکی ہیں۔ گروپوں میں تقسیم ہونا انسان کا مقدر ٹھہر چکا ہے۔ اس ضمن میں ارتقاء بھی ہو رہا ہے۔ مختلف اوقات میں مختلف طرح سے گروپ بندی کر کے سرحدوں کو بنایا بھی گیا ہے اور ہولناک جنگیں لڑ کر مٹنے سے بچایا بھی گیا ہے۔ کائنات یا خدا کے مقرر کردہ ٹھیکیدار مذہب، زبان، قومیت، معیشت اور نجانے کتنے پیمانوں پر مدتوں سے لکیریں کھینچ بھی رہے ہیں اور مٹا بھی رہے ہیں۔ اس خطے کا جب آگے مقدر لکھا جائے تو کتنا اچھا ہو کہ عام آدمی کی جڑت کا خیال رکھا جائے۔ نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر والا خواب سچ نہ بھی ہو پائے تو لاہور سے کٹھمنڈو تک سرحدیں رکھ کر بھی سیاحت، معیشت اور زندگی جوڑ لی جائے، بلکہ شاید پہلے سے جڑی ہوئی زندگی میں جو دراڑ آ گئی ہے اسے بھر لیا جائے۔

